Skip to content
ظریفانہ:الوداع تلوار چھاپ 2025
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
للن مشرا سے کلن سنگھ نے پوچھا پنڈت جی سال کا آخری دن کیسا لگ رہا ہے؟
یار کلن یہی سوال میں نے صبح جمن سے پوچھ لیا تھا ۔
اچھا تو اس مسخرے نے کیا جواب دیا ؟ ویسے وہ بولتا بہت تیکھا ہے ۔
ارے بھائی اس نے احمد فراز کا ایک شعر سنا کر دل خوش کردیا ۔
اچھا تو آپ ہمیں سنا کر ہمارا بھی دل خوش کردیں ۔ ارشاد۰۰۰۰۰عطا ہو ۔
بھیا شعر تھا :’ نہ شب و روز ہی بدلے ہیں نہ حال اچھا ہے کس برہمن نے کہا تھا کہ یہ سال اچھا ہے‘؟
یار بھتیجے نے تو چچا کی بساط الٹ دی ۔غالب نے تو کہا تھا کہ ’اک برہمن نے کہا تھا کہ یہ سال اچھا ہے‘۔
جی ہاں بھائی آج کل بھتیجے چچا کے کان کاٹ لیتے ہیں ۔ راہل گاندھی کو دیکھ لو ۔ اس نے اپنے پردھان جی کا کیا حال کررکھا ہے؟
کیوں ؟ وہ پپو ہمارے مہامانو (عظیم شخصیت) کا کیا بگاڑ لے گا ؟
للن بولا اب وہ پپو نہیں رہا۔ اس نے توسال 2025 کو ’ووٹ چور گدی ّ چھوڑ‘ جیسا مقبول ترین نعرہ دیا ۔ آج بچہ بچہ ۰۰۰
کلن بیچ میں کود گیا لیکن اس سے کیا فرق پڑتا ہے آخر ہم بہار کا الیکشن تو جیت ہی گئے نا؟
ہاں یار لیکن میرے خیال میں ہم بہار کا الیکشن ہار جاتے تو اچھا تھا ۔
یہ کیسی باتیں کررہے ہو پنڈت جی ۔ایک عظیم الشان جیت کی بابت یہ کیا کہہ رہے ہیں ؟
دیکھو کلن ایک آدھ صوبے میں ہماری سرکار نہ ہو تو کوئی فرق نہیں پڑتامگر یہ ووٹ چوری کا الزام تو غلط ثابت ہوجاتا ۔
ہاں بھائی چوری چھپے ٹھیک تھا مگر جب سےیہ ’کھلا کھیل فرخ آبادی ‘ شروع ہواہے غیرتو غیر اپنے بھی ہمیں چور سمجھنے لگے ہیں ۔
للن بولا جی ہاں اب توہم یہ کہنے پر مجبور ہوگئے ہیں ’چور تو چور کیا فرق پڑتا ہے؟ تم سےجو بن پڑتا ہے کرلو ہم تو چوری کریں گے‘۔
اچھا بھائی یہ مایوسی کی باتیں چھوڑیں یہ کیا کم ہے کہ ہم نے اس سال کو وندے ماترم سے جوڑدیا ؟
کیا خاک جوڑ دیا ۔ ہماری پارٹی کا ترجمان ٹیلی ویژن پر اس کی دو سطریں نہیں پڑھ سکا ۔ ایسی غضب بے عزتی تو سوسال میں کبھی نہیں ہوئی تھی ۔
ارے بھائی نہ ہم اسے پڑھتے ہیں اورنہ اپنی شاکھا میں وہ پڑھایا جاتاہے ۔ اس لیے کیسے یاد ہوگا؟
ٹھیک ہے لیکن جب اس پر بحث کے لیے جاو تو یاد کر لو یا کم ازکم انٹرنیٹ سے ڈاون لوڈ کرلو ۔ یہ تو لٹیا ہی ڈبو دی ۔
یہ اپنے نوین کمار کی نہیں بلکہ جس اینکرکوکھلا پلا کر بڑا کیاتھا اس اینکر کی غلطی ہے۔ اس نے ترانہ پڑھنے کی فر مائش کیوں کی؟
اس کی نہیں نوین کمار کی غلطی ہے جوو یاد کرکے نہیں گیا لیکن وہ سوال تو مسلم پرسنل لا بورڈ کے ترجمان نے کیا تھا ۔
تب تو غلط سلط پڑھنے کے بجائے جواب ہی نہیں دینا چاہیے تھا ۔ قسم سے سنگھ کی صدسالہ تقریبات کا مزہ کرکرا کردیا ۔
للن بولا بھیا وہ تو اچھا ہوا کہ یہ سوال اپنے پردھان یا شاہ یا یوگی سے نہیں کیا گیا ورنہ بھاگوت سمیت سارے اس امتحان میں فیل ہوجاتے ۔
اچھا پنڈت جی یہ بتائیں کہ اس جمن والےشعرمیں برہمن کا کیا چکر ہے ؟ اپنی برہمن بنیا سرکار میں تو تم برہمنوں کی موج ہی موج ہے۔
للن بولا کیا خاک موج ہے؟ اگر ایسا ہے تولکھنو کے اندر 52؍ برہمنوں کو پارٹی لائن سے اٹھ کر مل بیٹھنے کی ضرورت کیوں پیش آتی؟
ہاں یار آپ لوگوں نے تو یہ تماشا کرکے یوگی کو بدنام کردیا۔ وزیر اعلیٰ کے ساتھ بند کمرے میں بیٹھ کر بات کرتےتویہ بدنامی نہیں ہوتی؟
بھیا یوگی ٹھاکر صرف راجپوتوں کی سنتے ہیں اسی لیے یہ کرنا پڑاویسے وہاں ہونے والی باتیں وزیر اعلیٰ کے ساتھ ممکن نہیں تھیں ۔
کیا بکواس کرتے ہو ۔ ہندو سماج کا ایسا کون سا مسئلہ ہے جس کو یوگی جی حل نہیں کرسکتے ؟ وہ اگلے وزیر اعظم ہیں بھائی ۔
برہمنوں نے یوگی کی ٹھاکر برادری کے ہاتھوں ظلم اور بے عزتی کا رونا رویا ۔ اب وزیر اعلیٰ اپنے لوگوں کو کیسے ناراض کرسکتے ہیں بھلا؟
وہ بھی ٹھیک ہے مگر بات چیت سے کوئی مفاہمت ہوسکتی تھی ۔
بھیابرہمنوں نے آبادی کے لحاظ سے نمائندگی کا مطالبہ کیا اور برہمن چہرے کی کمی کو پورا کرنے پر زور دیا گیا ۔ یہ یوگی کے بس سے باہر ہے۔
کلن نے تعجب سے کہا یار میں تو اسےجمن کے مسائل سمجھ رہا تھا لیکن یہ تو للن کے نکل آئے حیرت ہے۔
حیرت نہیں حقیقت ہے۔ کانگریس نے پنت ، ترپاٹھی اور بہوگنا جیسے برہمنوں کو وزیر اعلیٰ بنایا مگر بی جے پی نے کلیان، راجناتھ،یوگی کواب تم خود بولو؟
یار یہ احساسِ محرومی بجا مگر اب انتخاب سے قبل پسماندہ طبقات کی تعداد گھٹائی جائے تو وہ اکھلیش کے چلے جائیں گے۔ پارٹی کی مجبوری کو تو سمجھو ۔
اسی مجبوری کا فائدہ اٹھانے کی خاطر یہ اجلاس ہوا ۔ ہم کب تک حاشیے پر ڈھکیلے جائیں گے؟ اقتدار کی ملائی ٹھاکر کھائیں اور بدنامی ہماری ہو آخرکب تک؟
اچھا !ہمارے یوگی ٹھاکر کی برائی چھوڑو اور یہ بتاو کہ کیا اگر وہ وزیر اعلیٰ نہیں ہوتے تو نوئیڈا میں اس طرح کھلمّ کھلاّ تلواریں تقسیم ہوتیں اور ویڈیو پھیلتی ؟
بھیا سچ بتاوں ان تلواروں کی تقسیم اورا س کی ویڈیو سے اپنے سنگھ پریوار کی جو بے عزتی ہوئی ہےویسی پچھلے سو سالوں میں کبھی نہیں ہوئی ۔
کلن نے پوچھا وہ کیسے ؟
للن بولا اچھا یہ بتاو کہ ایک صدی قبل آر ایس ایس کس لیے بنی تھی ؟
ہندو سماج کو منظم کر کے طاقتور بنانے کی خاطر اور کس لیے؟
بالکل صحیح اور اس کے لیے کون سا راستہ اختیار کیا گیا ؟
اس کے لیے مسلمانوں کی ناز برداری کرنے والی کانگریس کو ہٹا کر اپنا اقتدار قائم کرنے کی جدوجہد کی گئی۔
بالکل درست ! اب یہ بتاو کہ ہم اس میں کامیاب ہوئے یا ناکام ؟
ارے بھائی نیویارک ٹائمز نے بھی لکھ دیا کہ ہم اس میں کامیاب ہوگئے ۔ دہلی میں مودی ، یوپی میں مودی اور کیا چاہیے؟
چلو مان لیا ۔ اب اگر ہم ہندو سماج کو منظم کرکے طاقتور بنانے میں کامیاب ہوگئے تو پھر تلواریں بانٹنے کی کیا ضرورت؟
ارے بھائی مسلمان جہادیوں کے خطرے سے نمٹے کے لیے ۔
یار کمال ہے ۔ 80 فیصد ہندو وں کو 14 فیصد مسلمانوں سے اتنا خطرہ ہے کہ تلواربانٹنےکی نوبت آگئی ۔
ارے بھائی یہ بنگلہ دیش کا ردعمل ہے ۔ وہاں ہندو اقلیت مصیبت میں ہے۔
اچھا تو وہاں جاکر تلوار بانٹو ۔ یہاں ہم اقلیت میں نہیں اکثریت میں ہیں ۔ اس لیے ہمیں کیا ضرورت؟
ارے بھیا اندر کی بات بتاوں یہ اپنے ملک کے اندر مسلمانوں کو ڈرانے کی ترکیب ہے ۔
اچھا تو میں نے جب یہ ویڈیو جمن کو دکھائی تو وہ کیا بولا جانتے ہو ؟
کلن بولا اس نے تم سے کہا تومیں کیسے جان سکتا ہوں ۔ اچھا مجھے بتاو کہ اس مسخرے نے کیا کہا ؟
وہ بولا بھیا ہمارے آبا و اجداد تو سبھاش چندر بوس کی آزاد ہندفوج میں کمانڈر تھے انہوں نے ساورکر کی طرح ڈر کر معافی نہیں مانگی ۔ ہم نہیں ڈرتے ۔
یارجمن کو چھوڑو اور یہ بتاو کہ اپنی حفاظت کے لیے تلوار رکھنے میں آخر حرج ہی کیا ہے؟
اچھا یہ بتاو کہ شہریوں کی حفاظت کرنا کس کی ذمہ داری ہے؟ پولیس ، فوج اور ہماری اپنی ڈبل انجن سرکار کے ہوتے ہمیں تلوار کی ضرورت کیوں ؟
ارے بھائی وہ اپنا کام کریں گے لیکن ہمیں تو اپنا انتظام کرنا ہوگا ؟
اچھا اگریہ سرکار ہماری حفاظت کرنے سے قاصر ہے تو کیوں نہ پردھان جی کو ہٹا کرکیوں نہ پنکی چودھری کے ہندو رکشا دل کو اقتدار سونپ دیا جائے؟
کلن بگڑ کر بولا کیا بکواس کرتے ہو ۔ پنکی چودھری نے ہندو خواتین کی حفاظت کے لیے تلواریں تقسیم کی ہیں۔ کیا سمجھے؟
تب تو ٹھیک ہے ۔ ہماری سرکار آسارام، رام رحیم اور سینگر جیسے خواتین دشمنوں کی حفاظت کرتی ہے ان سے اپنی عورتوں کو بچانے کے لیے تلوار چاہیے
کلن نے کہا یار تم نے تو اسے اپنے ہی لوگوں کی جانب موڑ دیا غضب بے عزتی ہے۔ اسی لیے سرکار پنکی کے پیچھے پڑگئی اور اس بیچارے کو فرار ہونا پڑا۔
للن ہنس کر بولا دیکھو کلن یہ مہا بھارت نہیں نیا بھارت ہے۔ فی الحال تلوارکا نہیں بندوق کا زمانہ ہے، پستول کے سامنے تلوار کس کام آئے گی ؟
کلن نے موضوع بدلنے کی خاطر یوٹیوب پر بنگلہ دیش کی ویڈیو چلا دی اور بولا اچھا یہ دیکھو۔ وہاں کیا ہورہا ہے؟
للن نےکہا اچھا اس میں نیا کیا ہے؟ یہ تو ہمارے یہاں بھی ہوتاہے ؟
جی ہاں مگر یہاں مسلمان مرتا جبکہ پچھلے دو ہفتوں میں بنگلہ دیش اندر تین ہندووں کی ہجومی تشدد میں موت ہوگئی ۔
اچھا تین لوگ تویہاں بھی مارے گئے لیکن ہم نے ایک مسلمان کے ساتھ دو ہندووں کو بنگلہ دیشی یا چینی کہہ کر موت کے گھاٹ اتار دیا ۔
کلن زچ ہوکر بولا یار تم تو بات کا بتنگڑ بنا دیتے ہو ۔ چلو کل نئے سال کی بات کریں گے۔
Like this:
Like Loading...