Skip to content
اسلامی تعلیم و تربیت دنیا و آخرت کی کامیابی
✍🏻بقلم محمد عادل ارریاوی
____________
محترم قارئین تعلیم و تربیت انسانی زندگی کی تعمیر و تشکیل میں بنیادی حیثیت رکھتی ہے کسی بھی قوم کی فکری اخلاقی اور تہذیبی ترقی کا دار و مدار اس کے نظامِ تعلیم پر ہوتا ہے اگر تعلیم صحیح اقدار اور مضبوط اخلاقی بنیادوں پر قائم ہو تو معاشرہ ترقی کے ساتھ ساتھ کردار کی بلندی بھی حاصل کرتا ہے لیکن اگر تعلیم محض مادی فائدے تک محدود ہو جائے تو اس کے منفی اثرات ظاہر ہونے لگتے ہیں زیرِ نظر مضمون میں تعلیم و تربیت کی اہمیت دینی و دنیوی تعلیم کا فرق اور اسلامی نقطۂ نظر سے علم کی افادیت کو واضح کیا گیا ہے۔ تعلیم و تربیت کی اہمیت کو ہر قوم اور ہر معاشرہ تسلیم کرتا ہے خواہ وہ دینی تعلیم ہو یا دنیوی بلاشبہ تعلیم کسی بھی حال میں فائدے سے خالی نہیں ہوتی لیکن دنیوی تعلیم کے ثمرات عموماً اسی دنیا تک محدود رہتے ہیں آج کے دور میں یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ محض دنیوی تعلیم حاصل کرنے والے افراد مختلف قسم کی اخلاقی برائیوں میں مبتلا نظر آتے ہیں یوں محسوس ہوتا ہے کہ جس رفتار سے دنیاوی ترقی ہو رہی ہے اسی تیزی سے اخلاقی زوال بھی بڑھ رہا ہے بلکہ بعض اوقات ان برائیوں کو ہی ترقی کا نام دے دیا جاتا ہے علامہ اقبال رحمتہ اللہ علیہ نے بہت پہلے مغربی طرزِ تعلیم کے نقصانات کی نشاندہی کرتے ہوئے اپنے اسفار کے دوران قوم کے نوجوانوں کو اس سے خبردار کیا تھا۔
انسانی معاشرے میں فرد کو عزت وقار اور بلند مرتبہ عطا کرنے میں نظامِ تعلیم و تربیت کا کردار ہمیشہ بنیادی رہا ہے تاریخ کے مختلف ادوار میں یہ نظام مختلف صورتوں اور اندازوں کے ساتھ انسانی اجتماعیت اور تمدن کا حصہ بنتا رہا ہے یہی وجہ ہے کہ جو لوگ علم کی قدر و منزلت سے واقف ہوتے ہیں وہ اس بات کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہتے ہیں کہ ان کے گھرانے اور معاشرے کے افراد علم سے وابستہ ہوں تہذیبی و ثقافتی سرگرمیوں میں حصہ لیں اور اخلاقی و سماجی تعلیمات سے بھرپور فائدہ اٹھائیں تاکہ وہ اپنے ذاتی معاملات معاشرتی زندگی اور حتیٰ کہ عالمی سطح پر بھی اپنی ذمہ داریوں کو بخوبی نبھا سکیں یہ حقیقت ناقابلِ انکار ہے کہ ایک صالح اور مثالی انسانی معاشرہ صرف علم ہی کے ذریعے تشکیل پا سکتا ہے علم ہی دلوں کو اخلاقی خوبیوں سے آراستہ کرتا ہے برائیوں سے پاک کرتا ہے اور زندگی کو حسنِ اخلاق سے سنوارتا ہے یہی علم انسانی اقدار کی حفاظت کرتا اور ان کی قدر و قیمت میں اضافہ کرتا ہے اسلامی طرزِ زندگی کی بلند عمارت بھی ابتدا ہی سے علم کی مضبوط بنیادوں پر قائم ہے اخلاق و کردار اور اسلامی سیرت و سلوک کا اصل سرچشمہ بھی علم ہی ہے یہی علم ایک ایسا جامع اور ممتاز نظامِ حیات تشکیل دیتا ہے جس کے اثرات ہر سمت پھیلے ہوئے ہیں جس کی برکتیں عام ہیں اور جو انسانیت کے باغ کو اپنے شیریں چشمے سے ہمیشہ سرسبز و شاداب رکھتا ہے یہ چشمہ کبھی خشک ہونے والا نہیں اور نہ ہی اس کے فیض میں کمی آنے والی ہے
اسلام نے علم کی مختلف صورتوں کو انسان کی پوشیدہ صلاحیتوں کو بیدار کرنے انہیں نکھارنے اور تعمیر و ترقی کی راہ پر لگانے کا ذریعہ قرار دیا ہے تاکہ ایمان و یقین کے سائے میں ایک نئی تہذیب اور ثقافت کی تعمیر ممکن ہو سکے اسلامی تہذیب و ثقافت زندگی کے مادی اور معنوی تمام تقاضوں کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے اور انسان کی فکری نفسیاتی اور اعتقادی ضروریات کی مکمل کفالت کرتی ہے یہ تہذیب اپنی بے پایاں رحمتوں کے ذریعے زندگی کو بامقصد بناتی ہے جس کا محور انسان کی تعمیر اور دنیا کی فلاح و خوشحالی کے لیے جدوجہد ہے اسلامی زندگی کا اولین مقصد ہر زمانے اور ہر خطے میں ایمان امن بھائی چارے محبت اور اخوت کے جذبات کو فروغ دینا اور ایسی فضا قائم کرنا ہے جہاں انسانی اقدار کو بالادستی حاصل ہو محبت و الفت کے نغمے گونجیں اور انسان دوستی و امن پسندی کو فروغ ملے۔ علم زندگی بھر حاصل کرو غور کیجیے ایک جگہ حضرت مولانا سعید الرحمن اعظمی مدظلہ العالی نے نہایت فصیح و بلیغ انداز میں اسلامی نظریۂ تعلیم و تربیت کو واضح فرمایا ہے اب تعلیم و تربیت کے متعلق احادیثِ مبارکہ پیش خدمت ہیں نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ ہر مسلمان پر علم حاصل کرنا فرض ہے یہاں علم سے مراد بنیادی طور پر دینی علم ہے نہ کہ صرف عصری علوم دینی علم کے ذریعے اخلاقی اقدار بلند ہوتی ہیں معاشرے میں اصلاح آتی ہے اور ملک میں امن و سکون قائم ہوتا ہے۔ ماں کی گود سے لے کر قبر تک علم حاصل کرو اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کی پیدائش کے ساتھ ہی علم کا سفر شروع ہو جاتا ہے اور زندگی کے آخری لمحے تک جاری رہتا ہے بدقسمتی سے آج یہ تصور عام ہو چکا ہے کہ علم حاصل کرنا صرف بچوں کا کام ہے حالانکہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم میں ایسے بے شمار افراد تھے جنہوں نے مختلف عمروں میں نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے علم حاصل کیا ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم مسجدِ نبوی میں تشریف لے گئے تو وہاں دو حلقے قائم تھے ایک حلقہ علم سیکھنے اور سکھانے والوں کا تھا اور دوسرا حلقہ ذکر و اذکار اور تلاوت میں مشغول افراد کا آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے دونوں کی تحسین فرمائی مگر خود علم کے حلقے میں تشریف فرما ہوئے اور فرمایا اِنَّمَا بُعِثْتُ مُعَلِّمًا یعنی مجھے معلم بنا کر بھیجا گیا ہے۔ اس سے علم کی عظمت اور اس کی اہمیت واضح ہوتی ہے اسی طرح اولاد کی درست تربیت بھی نہایت ضروری ہے کوئی باپ اپنی اولاد کو اچھے اخلاق سے بہتر کوئی تحفہ نہیں دے سکتا لہٰذا ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ خود بھی دینی علم حاصل کریں اور اپنی اولاد کی اسلامی تعلیم و تربیت پر خصوصی توجہ دیں اللہ ربّ العزت ہمیں اپنے احکام پر خلوص کے ساتھ عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین یارب العالمین
Like this:
Like Loading...