Skip to content
ایک دوسرے سے حسد کرنا زندگی میں سکون و راحت کو ختم کرنے کا ذریعہ
مسجد قبا میں مولانا حافظ طاہر قاسمی کا بیان
حیدرآباد،3جنوری (پریس نوٹ) موجودہ دور میں مسلم معاشرہ کی بہت ساری خرابیوں میں ایک اہم خرابی یہ ہے کہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان بھائی سے حسد کر رہا ہے اس میں خود حسد کرنے والے کا نقصان ہے کہ وہ اپنی زندگی میں سکون راحت سے محروم رہتا ہے ممتاز اور بافیض عالم دین مولانا حافظ طاہر قاسمی بانی و ناظم دارالعلوم سبیل الہدی و مدرسہ نسواں جامعۃ الہدی شاد نگر نے مسجد قبا میں جمعہ کے بیان کے دوران ان خیالات کا اظہار کیا سلسلہ خطاب جاری رکھتے ہوئے مولانا قاسمی نے کہا حسد یہ ہے کہ اگر کوئی شخص مال و دولت علم و ہنر عہدہ و منصب اور دیگر پہلوؤں سے اچھی حالت میں ہو تو اس کے بارے میں یہ آرزو اور تمنا کرنا کہ مجھے یہ نعمتیں ملے یا نہ ملے لیکن اس کے پاس سے بھی ختم ہو جائے حسد جیسی مہلک بیماری سے بچنے کی بہترین صورت اور تدبیر یہ ہے کہ آدمی کو جس سے حسد ہو اس کی ترقی و کامیابی کے لیے خوب دعائیں کرے اور اپنے لیے بھی اللّٰہ تعالی کا فضل مانگتا رہے.
مولانا نے قران مجید کی آیات کے حوالہ سے بتایا کہ اللہ تعالی نے دنیا میں نعمتوں کی تقسیم کا نظام یکساں نہیں رکھا ہے یہاں مالدار غریب صحت مند بیمار خوشحال اور پریشان حال ہر طرح کے لوگ رہتے ہیں اس میں اللہ تعالی کی حکمت یہ ہے کہ لوگ ایک دوسرے کے حقوق پہچانے اور اس کو ادا کرنے کی کوشش کریں مولانا نے کہا سب سے پہلے حسد کا گناہ شیطان نے کیا اس نے حسد میں آ کر حضرت آدم علیہ السلام کو سجدہ کرنے کے لیے اللہ تعالی کے حکم کو نہیں مانا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم ایک دوسرے سے حسد مت کرو اور نہ ایک دوسرے سے دشمنی کرو بلکہ اللہ تعالی کے بندے اور آپس میں بھائی بھائی بن کر رہو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ حسد نیکیوں کو اس طرح ختم کر دیتا ہے جیسے آگ لکڑیوں کو جلا کر ختم کر دیتی ہے
آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ اپنی مجلس میں ایک صحابی کو جنتی فرمایا تو ایک دوسرے صحابی نے ان کے خاص عمل کو جاننے کے لیے ان کے گھر میں تین دن مہمان رہے مگر جب کوئی خاص عمل معلوم نہ ہوا تو انہوں نے ان صحابی سے دریافت کیا کہ آپ کا کیا خاص عمل ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو جنتی فرمایا ان صحابی نے کہا میں اپنے دل میں کسی کے تعلق سے برا جذبہ نہیں رکھتا ہوں اور نہ کسی سے حسد کرتا ہوں مولانا قاسمی نے بیان کے آخر میں زور دے کر کہا آج ہمارے معاشرہ میں نا اتفاقیوں اور دشمنیوں کی و جو ہات میں سے ایک اہم وجہ ایک دوسرے کے سے حسد کرنا ہے ضرورت ہے کہ ہم آپس میں دلوں کو صاف رکھیں اللہ تعالی ہم سب کو عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے.
Like this:
Like Loading...