Skip to content
توانائی کی عالمی جنگ: وینزویلا کی صورتحال اور بدلتا ہوا عالمی توازن۔
از قلم اسماء جبین فلک
دنیا کے جیو پولیٹیکل منظر نامے میں توانائی کے وسائل پر کنٹرول ہمیشہ سے طاقتور ممالک کی ترجیح رہا ہے، لیکن حالیہ دنوں میں امریکہ کی جانب سے وینزویلا پر براہِ راست حملے نے عالمی سیاست میں ایک نیا ارتعاش پیدا کر دیا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں کی گئی اس کارروائی نے نہ صرف لاطینی امریکہ کے استحکام کو خطرے میں ڈال دیا ہے بلکہ عالمی طاقتوں بالخصوص چین اور روس کے ساتھ امریکہ کے تعلقات کو ایک انتہائی نازک موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔ یہ حملہ محض ایک حکومت کی تبدیلی کی کوشش نہیں، بلکہ عالمی توانائی کی سپلائی لائنز اور معاشی برتری کی ایک ایسی جنگ ہے جس کے اثرات براعظموں کی حدود کو عبور کر رہے ہیں۔
دنیا میں توانائی کے وسائل پر قبضے کی جنگ شروع ہو چکی ہے۔ امریکہ نے وینزویلا پر حملہ کر دیا ہے اور وہاں کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو گرفتار کر کے ملک سے باہر منتقل کر دیا گیا ہے۔ اس کی اطلاع خود ڈونلڈ ٹرمپ نے دی ہے۔ وینزویلا نے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے صدر کی سلامتی کے ثبوت فراہم کیے جائیں۔ حملے کے پیشِ نظر مادورو نے ملک میں ایمرجنسی نافذ کر دی تھی، دارالحکومت کراکس میں دھماکوں اور بمباری کی آوازیں سنی گئیں اور امریکی فضائیہ کے طیارے پرواز کر رہے ہیں۔
یہ حملہ اس وقت ہوا جب چین کے خصوصی وفد وینزویلا میں موجود تھے اور حملے سے محض تین گھنٹے قبل ان کی صدر مادورو سے بات چیت ہوئی تھی۔ ایسا لگتا ہے کہ امریکہ چین کو کوئی سخت پیغام دے رہا ہے، کیونکہ چین اپنی توانائی اور کچے تیل کی ضروریات کا بڑا حصہ وینزویلا سے پورا کرتا ہے۔ اب سب کی نظریں اس بات پر ہیں کہ کیا ٹرمپ چین کو تیل کی سپلائی روک دیں گے اور چین اس کا کیا جواب دے گا۔
چین نے تحمل کی اپیل کی ہے جبکہ روس نے اس حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے وینزویلا کو اپنا دوست قرار دیا ہے۔ ٹرمپ نے اس حملے کو ایک "کامیاب اور جامع اسٹرائیک” قرار دیا ہے۔ دنیا بھر میں اس قدم پر تنقید ہو رہی ہے کہ ٹرمپ دوسروں کو تو عالمی قوانین پر عمل کا درس دیتے ہیں لیکن خود بغیر کسی اشتعال کے ایک ملک پر حملہ کر دیا۔
سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ اگر امریکہ اس طرح مداخلت کرے گا تو کل کو اگر چین، تائیوان پر یا روس، یوکرین کے مزید حصوں پر قبضہ کر لے تو امریکہ کس بنیاد پر مخالفت کرے گا؟ 2002 میں بھی ہیوگو شاویز کے خلاف بغاوت ہوئی تھی لیکن عوام کے شدید احتجاج کے بعد انہیں دوبارہ اقتدار سونپنا پڑا تھا۔ اگر وینزویلا پر امریکہ کا کنٹرول ہو جاتا ہے تو عالمی طاقت کا توازن بدل جائے گا کیونکہ وہاں دنیا کے سب سے بڑے تیل کے ذخائر ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ یہ سب "جمہوریت کی بحالی” کے نام پر کر رہا ہے لیکن اصل مقصد توانائی کے وسائل پر قبضہ ہے۔ ٹرمپ جو خود کو امن کا صدر کہتے تھے اور دوسرے ملکوں میں جنگ نہ کرنے کا وعدہ کر کے آئے تھے، اب وہ بالکل اس کے برعکس کر رہے ہیں۔ امریکہ میں یہ بحث بھی چل رہی ہے کہ اس حملے کو جائز قرار دینے کے لیے منشیات کی اسمگلنگ اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے بہانے تراشے جائیں گے، حالانکہ خود امریکہ میں منشیات سے ہونے والی زیادہ تر اموات اس کیمیکل (فینٹانیل) سے ہوتی ہیں جو چین سے آتا ہے، نہ کہ وینزویلا سے۔
اقوامِ متحدہ اور یورپی یونین کا کردار بھی کمزور دکھائی دے رہا ہے۔ وینزویلا نے سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا ہے لیکن اب ان اداروں کی اہمیت کیا رہ گئی ہے؟ وینزویلا کے دفاعی وزیر کا کہنا ہے کہ وہ غیر ملکی افواج کی موجودگی کی مخالفت کریں گے اور عوام اس جارحیت کے خلاف سڑکوں پر نکل سکتے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ امریکہ نے ماضی میں بھی لاطینی امریکہ کے کئی ممالک میں حکومتیں گرائی ہیں اور اب وینزویلا کے ساتھ بھی وہی کھیل کھیلا جا رہا ہے۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو وینزویلا کی صورتحال عالمی امن اور بین الاقوامی قوانین کی افادیت پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ اگرچہ امریکہ اسے "جمہوریت کی بحالی” اور "منشیات کے خاتمے” کا نام دے رہا ہے، لیکن تاریخ شاہد ہے کہ طاقت کے زور پر مسلط کی گئی تبدیلیاں اکثر دیرپا امن لانے میں ناکام رہتی ہیں۔ اگر عالمی برادری اور اقوامِ متحدہ جیسے ادارے اس جارحیت کو روکنے میں اپنا فعال کردار ادا نہیں کرتے، تو دنیا ایک ایسے جنگل کے قانون کی طرف بڑھ سکتی ہے جہاں بڑے ممالک اپنے مفادات کے لیے کسی بھی خودمختار ریاست کی آزادی سلب کر لیں گے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا وینزویلا کے عوام اپنی خودمختاری کا دفاع کر پائیں گے یا یہ خطہ ایک طویل عرصے کے لیے بڑی طاقتوں کی رسہ کشی کا میدان بنا رہے گا۔
Like this:
Like Loading...