Skip to content
اب آیا زعفرانی اونٹ، سفید پہاڑ کے نیچے
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
ہندوتوانوازوں نےامسال کرسمس کے تہوار کو برباد کرکے جو حماقت کی اس نے پورے یوروپ اور امریکہ کو ہندوستان اور ہندوستا نیوں کا دشمن بنادیا ۔ سرکاری سرپرستی میں پھولنے پھلنے والے ان ہندو شدت پسندوں کی اس کم ظرفی نے پوری دنیا میں ہندووں کے لیے مشکلات کھڑی کردی ۔ اس معاملے کو امریکہ میں ہیوسٹن کی مثال سے سمجھا جاسکتا ہے جہاں ایک زمانے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیر اعظم نریندر مودی کو ’ہاوڈی مودی‘ کہا تھا اور جواب میں جوش میں آکر موصوف نے ’اب کی بار ٹرمپ سرکار‘ کا نعرہ بلند کردیا تھا مگر اب سارے کیے دھرے پر پانی پھر چکا ہے ۔ ریاست ٹیکساس کےاس شہر کے اندر گزشتہ سال اگست میں ہنومان کے 90 فٹ اونچے مجسمے کی نقاب کشائی ہوئی ۔ اس وقت ہندوستانی نژاد کملا ہیرس کے امریکی صدر بننے کاخواب دیکھ رہی تھیں ۔ اسرائیل نواز صدارتی امیدوار کواگر ہنومان مورتی کی رونمائی بلایا جاتا تو وہ وہاں بھگوا لباس پہن کر پہنچ جاتیں اور حالیہ تنازع کو اس سے جوڑکر سیاسی رنگ دے دیا جاتا۔ رامائن کے مطابق رام اور سیتا کو ملانے میں چونکہ ہنومان کااہم کردار تھا اس لیے امریکہ کے تیسرے بلند ترین مجسمے کو اسٹیچو آف یونین کا نام دیا گیا ۔
شوگر لینڈ کے شری اشت لکشمی مندر کے بانی چناجیار سوامی جی کو توقع تھی کہ یہ مورتی کو روحانیت کا مرکز بن کر ذہنی سکون اور روحانی معرفت کامرکز بنے گی اور عیسائیوں کے ساتھ ہندووں میں قربت بڑھائے گی لیکن الٹا ہوگیا ۔ نیویارک ٹائمز نے اسے کامیاب ترین تجربے کی ناکامی قرار دیا ۔ اس میں امریکی سفید فام عیسائیوں کی انتہاپسندی کے علاوہ ہندوتوانوازوں کی چرچ مخالفت نے مساوی کردار ادا کرکے۔امریکہ کی ہندو برادری کو گہرے فکری اور اعتقادی بحران میں مبتلا کردیا۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے قدامت پسند حامیوں نے’’عیسائی قومی شناخت‘‘کے فروغ کی خاطر کی کثیرالثقافتی امریکی پہچان کو مشکوک بناکرہندوؤں، میں عدم تحفظ کے احساس پیداکیا۔ٹیکساس کی ہنومان مورتی پر کشیدگی امریکہ میں مذہبی رواداری، شناخت اور آزادیِ عقیدہ سے متعلق بحث چھیڑ دی ہے ۔ نیویارک ٹائمزنے اس تنازع کو برسوں کے’’امریکن ڈریم‘کا خاتمہ بتاکرامریکہ میں مختلف برادریوں کے مابین باہمی قبولیت کے تصورکی کمزوری پر مہمول کیا۔
ہندووں کے خلاف زیادتی پرصدائے احتجاج بلند کرنا مودی سرکار کی ذمہ داری تو ہے مگر اس کے پاس کا اخلاقی جواز نہیں ہے ۔ امریکی انتظامیہ کی مختلف رپورٹوں میں متعدد مرتبہ ہندوستان کے اندر مذہبی عدم رواداری کی جانب اشارہ کیا گیا مگر اس پر توجہ دے کر مائل بہ اصلاح ہونے کے بجائے نظر انداز کردیاگیا اور ملک میں عیسائیوں پر بڑھنےوالوں پر خاموشی چھائی رہی تو اب سمجھ میں نہیں آرہا کہکس منہ سے مذمت کی جائے ۔ نظریاتی سطح پرونایک دامودر ساورکر کا ہندوتوا مادرِ وطن کے ساتھ پدرِ وطن کی بنیاد پر وہ ہندوستانی مذاہب کو غیر ملکی ادیان سے الگ کرتا ہے اور مکہ مکرمہ یا ویٹیکن سٹی کے سرزمینِ ہند سے باہر نہیں ہونے سبب مسلمانوں اور عیسائیوں کی وفاداری پر شک کرتا ہے۔آر ایس ایس کے گرو گولوالکر نے تو ہندووں کے دشمنوں کی شناخت مسلمان، عیسائی اور اشتراکی کے طور پر کردی ۔ آر ایس ایس کے موجودہ سربراہ موہن بھاگوت ہندوستان کے ہر شہری کو ہندوکہتے ہیں ، اب اگر امریکی وہاں رہنے والا ہر باشندوں کو عیسائی کہنے لگیں تو انہیں کیسا لگے گا؟
سنگھ پریوار کا فی الحال امریکہ میں اپنے جیسے قدامت پسند عیسائیوں سے سابقہ پڑگیا ہے۔ وہ ہنومان کی اس قوی ہیکل مورتی کو “غیر ملکی دیوتا” قرار دے کر تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں اور بعض تو اس کو “شیطان” سے تشبیہ دے رہے ہیں۔ ان انتہا پسندوں کو بھی سنگھ پریوار کی طرح ٹرمپ سرکار کا آشیرواد حاصل ہے یعنی اب آیا ہے زعفرانی اونٹ سفید پہاڑ کے نیچے ۔ مودی سرکار کو جیسےہندوتوا نوازی پر ناز ہے اسی طرح ڈونلڈ ٹرمپ بھی (MAGA) یعنی امریکہ کو پھر سے عظیم بنانے کی خاطر اقتدار میں آئے ہیں ۔ بی جے پی اور ریپبلکن کے درمیان تنگ نظری کے ساتھ خود کو دنیا کی مہذب ترین ثقافت سمجھنے کی بیماری مشترک ہے۔ دونوں اپنےمخالفین کے لیے نہایت توہین آمیز زبان استعمال کرنے پر فخر کرتے ہیں ۔ امریکی انتہاپسندوں کے آن لائن تبصروں میں ہندوؤں کو “کم ذہانت” کا حامل قرار دیا گیا اور ہندوستانی نژاد افراد پر دھوکہ دہی کے ذریعے امریکہ میں جگہ بنانے کا الزام لگایاگیا۔ یہ بیانیہ مذہبی تعصب کے ساتھ نسلی اور ثقافتی نفرت کا بھی عکاس ہے یعنی ہندوتوا کے نفرتی زہر کا علاج اسی سے کیا جارہا ہے ۔
امریکی سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اس رحجان نےہندوستانی نژاد ہندو برادری کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کیا امریکہ واقعی مذہبی آزادی اور تکثریت کا علمبردار ملک ہے۔ بہت سے افراد کے نزدیک، “عیسائی قوم پرستی” کا بڑھتا ہوا رجحان ان اقدار سے متصادم ہے جن کی بنیاد پر لاکھوں تارکینِ وطن نے امریکہ کو اپنا گھر بنایا تھا۔ ہندوستان کے روشن خیال ہندو بھی آر ایس ایس کے نظریات کو سوامی وویکانند کے اس تصور سے متصادم پاتے ہیں جو انہوں نے امریکہ کے شہر شکاگو میں پیش کیا تھا ۔ امریکہ کی موجودہ صورتحال کے مطالعہ کرتے وقت ایسا محسوس ہوتا ہے کہ گویا ہندوستان کی ہی حالت کا بیان ہے۔ ہنومان مورتی کے تنازع کو ماہرین محض ایک مذہبی علامت تک محدود کرنے کے بجائے امریکی سیاست میں بڑھتی ہوئی مذہبی پولرائزیشن کا عکس مانتےہے۔ان کے مطابق اگر اس رجحان کو روکا نہ گیا تو یہ نہ صرف اقلیتی برادریوں کے اعتماد کو مجروح کرے گا بلکہ عالمی سطح پر امریکہ کی کثیرالثقافتی جمہوریت کے دعوے کو بھی کمزور کردے گا۔ یعنی دنیا کی سب سے وسیع جمہوریت (ہندوستان ) نے جو اعزاز حاصل کرلیا ہےاس سے بہت جلد قدیم ترین جمہوریت(امریکہ ) کو بھی نوازدیا جائے گا۔
ایک سال کے اندر ہنومان کی مورتی یعنی ’اسٹیچو آف یونین‘ کے ساتھ وہی ہوگیا جو وطن عزیز میں تنازع بابری مسجد سے لے کر کاشی ،متھرا، سنبھل یہاں تک کہ خواجہ غریب نواز اجمیری تک کی درگاہ تک برپا کرنے کی کوشش کی گئی ۔ ہیوسٹن کے شری اشٹ لکشمی مندر میں نصب یہ شمالی امریکہ کی سب سے بلند ہنومان مورتی کے متعلق امسال ستمبر میں وہاں پر ری پبلکن پارٹی کے کسی گری راج سنگھ جیسے بدزبان رہنما الیگزینڈر ڈنکن نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک ویڈیو شیئر کرکے سوال کیا کہ ، "ہم ٹیکساس میں ایک جھوٹی مورتی کی اجازت کیوں دے رہے ہیں؟ ہم ایک عیسائی قوم ہیں۔”ٹیکساس سے امریکی سینیٹ کے ری پبلکن امیدوار ڈنکن کے اس ، "ہم ایک عیسائی قوم ہیں”، کوامریکہ میں مذہبی آزادی کے اصولوں کے منافی سمجھا گیا۔اس تنازع نے امریکہ میں مذہبی رواداری اور تنوع کی اہمیت پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے بیانات معاشرے میں تقسیم اور اختلاف کو فروغ دیتے ہیں لیکن ہندوستان میں رہنے والوں کو ایسا نہیں لگتا کیوں کہ مودی کے نئےہندوستان میں اس طرح نفرت انگیزی معمول یعنی ’نیو نارمل‘ بن چکی ہے۔
امریکہ میں رہنے بسنے والی ہندو برادری نے تو سنیٹرڈنکن کے ا س بیان کو بجا طور پر توہین آمیز قرار دیا مگرموصوف نے اپنے بیان پر عوامی معافی مانگنے کی زحمت نہیں کی ۔ اس بات کا امکان کم ہے کہ ٹیکساس ری پبلکن پارٹی اس معاملے میں کوئی قدم اٹھائے ۔امریکہ میں سنگھ کے پروردہ ہندو امریکن فاؤنڈیشن (HAF) نے ڈنکن کے خلاف سخت ردِعمل ظاہر کیا۔ فاؤنڈیشن نے اسے ’’ہندو مخالف اور اشتعال انگیز‘‘ قرار دیتے ہوئے ٹیکساس ری پبلکن پارٹی سے کارروائی کا مطالبہ کردیا کیونکہ اس کو دائیں بازو کی جماعت کا حامی سمجھا جاتا ہے۔ ایچ اے ایف نے اپنے سرکاری ٹوئٹر ہینڈل پر ٹیکساس GOP کو ٹیگ کرتے ہوئے سوال کیا، "کیا آپ اپنے سینیٹ امیدوار کے خلاف کارروائی کریں گے، جنہوں نے امتیاز کے خلاف پارٹی پالیسیوں کی کھلے عام خلاف ورزی کی ہے؟”ان ناگپوری سنتروں کو اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھنا چاہیے کہ ہندوستان میں بی جے پی کے رہنما کیا کچھ نہیں کہتے؟ وطن عزیز میں ایسے لوگوں کو نوازہ جاتا ہے۔
وطن عزیز میں بسوا سرما، یوگی ادیتیہ ناتھ ،کپل مشرا ، نشی کانت دوبے اور بھدوڑی جیسے کئی بی جے پی رہنما نفرت انگیزی کی مدد سے سیاست کو چمکا کر اقتدار میں حصے دار بنے ہیں ۔کولکاتہ کا سویندو ادھیکاری بنگلہ دیش کو غزہ بنانے کا اعلان کرتا ہے ۔ ہیمنتا بسوا سرما خیالی بنگلہ دیشیوں کا ڈر دِکھا کر نفرت پھیلاتا ہے۔ بجرنگ دل کارشبھ ٹھاکر اپنے غنڈوں کے ساتھ سالگرہ پارٹی میں مسلمانوں کی موجودگی کو لوجہاد قرار دے کر مارپیٹ کرتاہے اور پنکی چودھری ملاوں کو کاٹنے کے لیے گھر گھر جاکر تلوار بانٹتا ہے۔ یتی نرسنگھا نند پنکی چودھری کی پیٹھ تھپتھپا کر اسے مہلک ہتھیار تقسیم کرنے اورداعش کے طرز پر خودکش دستے تیار کرنے کی کھلے عام ترغیب دیتا ہے اور صفر برداشت کا نعرہ لگانے والی یوگی سرکار خاموش تماشائی بنی رہتی ہے۔ ایسے میں ایچ اے ایف کی مذمت پر کون کان دھرتے۔ ہنومان مورتی کا تنازع اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ ہندوستان کی طرح امریکہ میں بھی مذہبی تنوع اور رواداری کا تحفظ ایک مسلسل چیلنج بنتا جارہا ہے ، اور اس سے نمٹنا معاشرے کے تمام طبقات کی متحدہ اور مشترکہ کوششوں کا تقاضہ کرتا ہے ۔ سرزمین َہندپر بھی اس کی شدید ضرورت ہے کاش کہ سنگھ پریوار کو بھی اس کا احساس ہوتا ؟
Like this:
Like Loading...