Skip to content
ٹرمپِ استبداد جمہوی قبا میں پائے کوب
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ میں رتیّ برابر عقل ہوتی تو وہ افغانستان میں امریکہ کی ذلت آمیز شکست کو یاد کرکے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو اغوا کرنے کی حماقت نہیں کرتے ۔ آج دنیا جان گئی کہ افغانستان کون سا لوہے کا چنا ہے جس کوچبانے کی کوشش میں امریکہ کے دانت ٹوٹ گئے مگر وہ اسامہ بن لادن کو یرغمال بنا کراپنے ساتھ امریکہ لے جانے میں کامیاب نہیں ہوا ۔ سابق صدر براک اوبامہ نے دوبارہ منتخب ہونے کی خاطر اسامہ کے قتل کا جو ڈرامہ کیا تھا اگروہ حقیقت ہوتا تو مقتول کی لاش کو دریا برد کرکے سارے ثبوت مٹانے کے بجائے ڈی این اے ٹسٹ کرکے یہ ثابت کیا جاتا کہ امریکہ اپنے ہدف کو نشانہ بنانے میں کامیاب ہوگیا ہے۔ وینزویلا کے صدر کو اغوا کرکے دنیا کی سب قدیم جمہوریت کے سربراہ نےاپنا استبدادی چہرا ساری دنیا کے سامنے بے نقاب کردیا ۔ اس کے باوجود جو عقل کے اندھے اس نیلم پری پر فریفتہ ہیں ان کے لیے علامہ اقبال نے کیا خوب کہا تھا؎
دیو استبداد جمہوری قبا میں پائے کوب
تُو سمجھتا ہے یہ آزادی کی ہے نیلم پری
جمہوری نظام اگر واقعی آزادی کی نیلم پری ہوتی تو مادورو کو ان کی زوجہ سمیت اس طرح اغوا نہیں کیا جاتا ۔ ساری دنیا کو حیرت زدہ کرنے والی یہ واردات خود مادورو کے لیے غیر متوقع نہیں ہے۔ انہوں نے ماہِ اگست میں ٹیلی ویژن پر کہہ دیا تھا: ’آؤ اور مجھے گرفتار کرو، میں یہیں فلوریس (صدارتی محل) میں تمہارا انتظار کروں گا۔ دیر مت کرنا، بزدلو۔‘ ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر چار ماہ قبل نکولس مادورو نے ایسی عجیب و غریب بات کیوں کہی تھی ؟ یہ دراصل مادورو کے مرشد سابق صدر ہوگو چاویز کے ایک تاریخی پیشنگوئی تھی جس انکشاف انہوں نے ایک انٹرویو میں کیا تھا۔ اس کرشماتی رہنما کی بیان کردہ سازش کوٹرمپ نے نے من عن عملی جامہ پہنایا۔ اس کے حکم پر، امریکی افواج نے ہوگو کے اندیشوں کو سچ ثابت کرتے ہوئے منشیات اسمگلنگ کے بہانے وینزویلا کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی اور صدر نکولس مادورو کو ان کی اہلیہ سیلیا فلورس سمیت اغوا کرکے نیویارک کی عدالت میں پیش کرکے بے بنیاد الزامات عائد کردیئے ۔
وینزوویلا کے سابق صدر ہوگو چاویز نے اپنی وفات سے پہلے امریکہ کے ایک منصوبے کا پردہ فاش کرتے ہوئے کہا تھا کہ واشنگٹن ان پر منشیات اسمگلنگ کا الزام لگا کر ‘کمانڈوز’ کی مدد سے انہیں گرفتار کرنے کی سازش رچ رہا ہے۔ موصوف نے امریکہ کے جاپان پر ایٹمی حملے اور سابق امریکی صدر جارج بش کے دور میں پاناما پر قبضے کا حوالہ دے کر کہا تھا کہ : "انسانی تاریخ کے سب سے جارح ملک نے غیر مسلح شہروں ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹم بم گرائے۔ چاویز نے پاناما کے سابق صدر مانوئل نوریگا کا حوالہ دیا تھا جنھیں 1989 میں امریکی حملے کے بعد اغوا کرکے امریکہ منتقل کرکے منشیات کی اسمگلنگ کے الزام میں قید کر دیا گیا۔ چاویز نے کہا تھا کہ پاناما پر قبضہ کے بعد ہزاروں افراد کو بمباری کرکے قتل کیا گیا، محلے کے محلے جلا کر راکھ کر دیئے گئےتاکہ نوریگا کو گرفتار کر کے ان پر منشیات کی اسمگلنگ کا الزام لگا یا جاسکے۔چاویز کو ان کے اتحادیوں اور دیگر ذرائع نے بھی پنٹاگون کے آپریشن کی اطلاع دی تھی ۔ اس سازش کی تفصیل میں انھوں نے کہا تھا: "یہ ایک طویل مدتی آپریشن کئی سالوں سے جاری ہے۔ سالوں پہلے کسی نے مجھ سے کہا تھا کہ وہ آخرکار تم پر، ـ یعنی ذاتی طور پر ہوگو چاویز پر، ـ منشیات اسمگلنگ کا الزام لگائیں گے؛ یہ نہیں کہ حکومت اس کی حمایت کرتی ہے یا اجازت دیتی ہے، نہیں۔ وہ نوریگا والا فارمولا تم پر اپنانے کی کوشش کریں گے۔”
چاویز کْْْْے مطابق منشیات کی اسمگلنگ سے جوڑنے کے بعد ان کے خلاف سب کچھ جائز ہو جائے گا۔انہوں نے امریکہ کا طریقہ کار یہ بتایا تھا کہ ’’ امریکی کمانڈوز آئیں گے اور ا اٹھا کر لے جائیں گے۔ "چاویز نے امریکہ کے عراق پر حملے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا: "انہوں نے عراق پر تباہ کن ہتھیار رکھنے کے بہانے قبضہ کیا۔ کچھ نہیں ملا، کیونکہ وہاں کبھی تھا ہی نہیں۔ لیکن پھر بھی صدر صدام حسین کو پھانسی دے دی گئی۔” کیوبا کے انقلابی رہنما فیدل کاسترو کےحوالے سے چاویز نے کہا تھا: "فیدل نے ایک بار مجھ سے کہا تھا: چاویز! اگر یہ میرے یا تمہارے ساتھ ہوا، اگر انہوں نے ہمارے ملک پر قبضہ کیا، تو تمہیں لڑتے ہوئے مرنا چاہئے۔ چنانچہ میں محاذ پریہی کروں گا، میں بھاگوں گا نہیں۔ ایک محبِ وطن وینزویلن کی طرح میں محاذ پر مروں گا۔ ” امریکی افواج کا وینزویلا پر چڑھائی کر کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو گرفتار کرنے پر عالمی سطح پر شدید ردِعمل سامنے آیا ہے۔ ابتداء میں ہی روس، چین، ایران اور کیوبا سمیت بے شمار ممالک نے اسے ایک آزاد ریاست کی خودمختاری پر مجرمانہ حملہ قرار دیا ہے لیکن افسوس کے نام نہاد وشوگرو کی زبان پر قفل لگا ہوا ہے۔
لال آنکھ والے مودی جی امریکہ سے ہزاروں کلومیٹر کے فاصلے پر وہ بھی نہیں کہہ سکے جو ہندوستانی نژاد امریکی خاتون سیاستداں کملا ہیرس نے بول دیا۔ امریکی کارروائی پر امریکہ کی سابق نائب صدر کملا ہیرس نے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اپنے بیان میں کہا کہ یہ اقدام غیر قانونی، خطرناک اور قومی مفاد کے بجائے سیاسی عزائم سے متاثر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کارروائی سے خطے میں عدم استحکام بڑھے گا اور امریکی عوام کی جان و مال کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ ٹرمپ کی اس کارروائی سے امریکہ نہ تو زیادہ محفوظ ہوگا، نہ مضبوط اور نہ ہی سستا۔ انہوں نے لکھا کہ اگرچہ مادورو ایک آمر ہیں، لیکن اس طرح کا قدم سراسر بے وقوفانہ اور قانون کے خلاف ہے۔ کملا ہیرس کے مطابق اقتدار کی تبدیلی یا تیل کے لیے لڑی جانے والی جنگیں اکثر طاقت سے شروع ہو کربالآخر افراتفری میں بدل جاتی ہیں، جس کی قیمت امریکی خاندانوں کو چکانی پڑتی ہے۔انہوں نے الزام لگایا کہ یہ آپریشن نہ تو منشیات کے خلاف جنگ کے لیے ہے اور نہ ہی جمہوریت کے تحفظ کے لیے، بلکہ اس کے پیچھے تیل اور ٹرمپ کی طاقت دکھانے کی سیاست کارفرما ہے۔
ہیرس نے کہا اگر صدر ٹرمپ کو اگرواقعی قانون اور انصاف کی فکر ہوتی تو وہ مجرم منشیات اسمگلروں کو معاف نہ کرتے اور مادورو کے قریبی لوگوں سے سودے بازی کرتے ہوئے وینزویلا کے اپوزیشن کو نظرانداز بھی نہیں کرتے۔سابق نائب صدر نے خبردار کیا کہ اس طرح کے فیصلے امریکی فوجیوں کو خطرے میں ڈال رہے ہیں، اربوں ڈالر خرچ کرکے ایک پورا خطہ عدم استحکام کی طرف دھکیلا جا رہا ہے، جس سے امریکہ کو کوئی حقیقی فائدہ نہیں ہوگا۔ ان کے مطابق ملک کو ایسےرہنما کی ضرورت ہے جو خاندانوں کے اخراجات کم کرے، قانون کی حکمرانی کو مضبوط بنائے، اتحادیوں کے ساتھ تعلقات بہتر کرے اور سب سے پہلے امریکی عوام کو ترجیح دے۔ امریکہ کے اندر عوام نے بھی سڑکوں پر اتر کر وینزویلا کے خلاف امریکی فوجی اقدام اور صدر نکولس مادورو کے اغوا کو آئین، بین الاقوامی قانون اور عالمی امن کے منافی قرار دیا۔وینزویلا پر حملوں اور صدر مادورو کے اغوا کے خلاف امریکی ریاست الینوائے کے شہر راکفورڈ میں عوام کی بڑی تعداد نے ٹرمپ کی فوجی کارروائی کےخلاف احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے وینزویلا کے خلاف جنگ نامنظور کے نعرے لگاتے ہوئے امریکی حکومت کی مداخلت پسندانہ پالیسیوں کی شدید مذمت کی۔ان کا کہنا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ کا یہ اقدام امریکی آئین کی کھلی خلاف ورزی اور غیر قانونی بیرونی مداخلت کی عکاسی کرتا ہے ۔ اس سے امریکی شہریوں کی جانوں کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے ۔
نیویارک شہر کے میئر ظہران ممدانی نے بھی کھل کر وینزویلا کے صدر مادورو کی گرفتاری کی مذمت کی ۔ انہوں نے کہا کہ وینزویلا ایک خودمختار ملک ہے اور امریکی حملہ جنگی اقدام ہے۔ مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلورس اس وقت نیویارک کے جنوبی ضلع میں قید ہیں۔ ممدانی نے اس اقدام کی کھل کرمخالفت کی ۔اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوٹیرس نے وینزویلا اور اس کے صدر نکولس مادورو کے خلاف امریکی اقدامات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس پیش رفت نے "خطرناک مثال” قائم کی ہے۔ ایسے میں مودی جی کی خاموشی اور وزارتِ خارجہ کے پھسپھسے ردعمل کی وجہ یہ بیان کی جارہی ہے کہ کہیں ٹرمپ کے فوجی اڈانی کو ہندوستان سے اٹھاکر نہ لے جائیں کیونکہ ان کے خلاف وارنٹ ہے جسے مودی سرکار پہنچا تک نہیں رہی ہے ۔ اس سرکاری رویہ سے ناراض ہو کر اگر ٹرمپ نے مودی جی کو بھی اغوا کرنے کا فیصلہ کرلیا تو بیچارے سنگھ پریوار کی صد سالہ تقریبات میں صفِ ماتم بچھ جائے گی اور بعید نہیں کہ ساورکر اتباع میں بھاگوت بھی اپنا معافی نامہ تحریر فرماکر اعلان کردیں کہ ان کا مودی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ناتھو رام گوڈسے کے آخری دنوں میں اس کےساتھ ساوکر اور سنگھ نے یہی کیا تھا۔ ان کے خوف کی نفسیات کا شکار مودی سے آخر کیا توقع کی جائے؟
Like this:
Like Loading...