Skip to content
عمر خالد اور شرجیل امام: ضمانت کے قانون پر اٹھتے سوالات
بھارت میں قانون کی حکمرانی: حقیقت یا محض ایک نعرہ؟
قومی سلامتی کے نام پر شہری آزادیوں کا استحصال
بھارتی نظامِ انصاف: طاقتور کے لیے نرمی، کمزور کے لیے سختی
بقلم : ڈاکٹر محمّد عظیم الدین
———–
بھارت میں قانون کی حکمرانی کا دعویٰ اکثر اس وقت کھوکھلا محسوس ہوتا ہے جب ریاست خود شہری آزادیوں کو قومی سلامتی کے پردے میں دبا دے اور عدلیہ اس جبر کے سامنے ایک محتاط، بلکہ کئی مواقع پر بے حس تماشائی بن جائے۔ عمر خالد اور شرجیل امام کی ضمانت مسترد کرنے کا حالیہ فیصلہ اسی بڑے رجحان کا حصہ دکھائی دیتا ہے، جس میں اختلافِ رائے کو جرم اور طویل قید کو معمول بنا دیا گیا ہے۔ سپریم کورٹ نے جنوری 2026 میں دونوں کی ضمانت کی درخواستیں رد کیں اور یہ مؤقف اختیار کیا کہ ٹرائل میں تاخیر محض اس بنا پر ضمانت کا کوئی خاص ذریعہ نہیں بن سکتی۔ مگر سوال یہ نہیں کہ عدالت نے ایک جملہ کیا کہا؛ سوال یہ ہے کہ ایک آئینی جمہوریت میں پانچ سال سے زائد عرصے تک قید، وہ بھی مؤثر سماعت کے بغیر، کس اصولِ انصاف کے تحت قابلِ قبول بنائی جا رہی ہے۔
یہاں بھارتی حکومت کا کردار محض تفتیشی اداروں کی کارگزاری تک محدود نہیں رہتا، بلکہ ایک بڑے ریاستی بیانیے کی صورت اختیار کر لیتا ہے جس میں احتجاج اور سیاسی اختلاف کو سازش اور دہشت گردی کے خانوں میں ڈال کر انسدادِ دہشت گردی جیسے سخت قانون کے ذریعے غیر معینہ مدت تک قید آسان بنا دی جاتی ہے۔ عمر خالد کو ستمبر 2020 میں گرفتار کیا گیا تھا اور ان پر 2020 دہلی فسادات کے بڑی سازش والے کیس میں سخت دفعات کے تحت الزامات لگائے گئے۔ شرجیل امام بھی اسی تناظر میں گرفتار ہوئے اور ان کی ضمانت کے معاملات برسوں سے عدالتوں میں گھومتے رہے ہیں۔ جب ریاست اس نوع کے مقدمات میں ثبوت کے بجائے بیانیے کو بنیاد بنا کر میل ملاقات اور رابطوں کو جرم کا مترادف بنا دے تو ملزم کے لیے عدالت تک پہنچتے پہنچتے ہی ایک ایسا قانونی جال بن جاتا ہے جس میں ضمانت تقریباً ناممکن ہو جاتی ہے۔
عدلیہ کے بارے میں سب سے بنیادی توقع یہ ہوتی ہے کہ وہ ریاستی طاقت کے سامنے آئینی حقوق کی ڈھال بنے، مگر سخت قوانین کے تحت ضمانت کے معیار کو جس طرح پہلی نظر میں سچائی کے قریب لایا گیا ہے، اس نے عدالت کے کردار کو بھی محدود کر دیا ہے۔ سپریم کورٹ کے فیصلے میں یہ نکتہ ابھرا کہ اگر الزامات پہلی نظر میں بے بنیاد نہ لگیں تو ضمانت مشکل ہے، اور اسی فریم ورک میں عدالت نے عمر خالد و شرجیل امام کو ریلیف نہ دینے کا راستہ اختیار کیا۔ یہیں سے ایک خطرناک نظیر بنتی ہے کہ ریاست محض الزامات کے انبار لگائے، کاغذی حجم بڑھائے، اور پھر اسی حجم کو وجہ بنا کر آزادی سلب رکھنے کا اخلاقی جواز بھی پیدا کر لے۔ اگر انصاف کی سمت یہ ہو کہ پہلے برسوں جیل، پھر کبھی موقع ملے تو ٹرائل، تو پھر بے گناہی کا اصول صرف کتابی رہ جاتا ہے اور جیل سزا بن جاتی ہے، احتیاطی قدم نہیں۔
سپریم کورٹ کی منطق کا ایک پہلو یہ بھی تھا کہ مقدمہ اپنی قدرتی رفتار سے چل رہا ہے اور جلد بازی میں سماعت فریقین کے لیے نقصان دہ ہو سکتی ہے۔ مگر یہ دلیل خود اپنے اندر ایک کڑا سوال رکھتی ہے کہ جب مقدمہ ابھی الزامات طے ہونے اور کارروائی کے ابتدائی مرحلوں میں ہو، اور برسوں گزر چکے ہوں، تو قدرتی رفتار کہنا دراصل نظام کی سستی کو قانونی تقدیر میں بدل دینا ہے۔ برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹنگ کے مطابق عمر خالد اور شرجیل امام نے پانچ سال جیل میں گزار دیے، جبکہ ٹرائل مؤثر طور پر آگے نہیں بڑھ سکا، یہ خود ایک انسانی حقوق کا بحران ہے، محض ایک عدالتی کارروائی نہیں۔ اگر آئین کے تحت زندگی اور آزادی کا حق واقعی بنیادی حق ہے، تو طویل قیدِ بے سماعت کو معمول بنانا اسی حق کی روح سے انحراف کے مترادف دکھائی دیتا ہے۔
ریاستی اور عدالتی رویّوں کے اس تضاد کو سمجھنے کے لیے رام رحیم کا معاملہ ایک آئینہ ہے۔ رام رحیم، جو سنگین جرم میں سزا یافتہ ہے، جنوری 2026 میں پھر 40 دن کی عارضی رہائی پر رہا ہوا۔ اس سے قبل بھی اسے بار بار عارضی رہائی دی جاتی رہی، اور 2017 کے بعد متعدد مرتبہ عارضی رہائی ملنے کا سلسلہ رپورٹ ہوا ہے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق 2017 سے اب تک اسے 15ویں بار عارضی رہائی ملی اور جیل سے باہر گزارا گیا وقت 400 دن کے ہندسے کے قریب پہنچنے کی طرف بتایا گیا۔ یہ سب کچھ ایسے ملک میں ہو رہا ہے جہاں شہری کارکنوں کے لیے جیل ہی زندگی بن جائے اور ایک سزا یافتہ بااثر مذہبی پیشوا کے لیے جیل محض ایک وقفہ دکھائی دے۔
اس تفاوت کی بنیاد محض قانونی ضابطہ نہیں لگتی؛ اس کے پیچھے سیاسی مفادات کا سایہ بھی نظر آتا ہے۔ ہریانہ حکومت کی جانب سے قیدیوں کی عارضی رہائی سے متعلق قواعد میں ترمیم کا حوالہ رپورٹنگ میں آتا ہے، جس کے بعد عارضی رہائی کے امکانات مزید کشادہ ہوئے۔ دوسری طرف، رام رحیم کی بار بار رہائی کے خلاف دائر درخواستوں پر سپریم کورٹ نے ایک مرحلے پر مداخلت سے گریز کرتے ہوئے ایسی درخواستیں مسترد کیں جو متعدد بار عارضی رہائی کے خلاف تھیں۔ یہ وہ مقام ہے جہاں عوامی تاثر مضبوط ہوتا ہے کہ عدلیہ کی سختی کمزوروں کے لیے ہے اور نرمی طاقتوروں کے لیے، اور یہ تاثر کسی ایک فیصلے سے نہیں بلکہ فیصلوں کے مجموعی رجحان سے بنتا ہے۔
حکومت کا دفاع عام طور پر یہ ہوتا ہے کہ عدالتیں آزاد ہیں اور ہر کیس اپنے میرٹ پر ہوتا ہے، مگر میرٹ کی تعریف اگر الزام نامے کا وزن اور بیانیے کی گونج بن جائے تو آزادی محض ایک رسمی لفظ رہ جاتی ہے۔ عمر خالد نے فیصلے کے بعد کہا کہ جیل اب میری زندگی ہے، یہ جملہ ایک فرد کی کیفیت سے بڑھ کر ایک ریاستی و عدالتی ترتیب کی علامت بن چکا ہے، جہاں شہری کی زندگی برسوں کے لیے معطل رکھی جا سکتی ہے۔ یہاں مسئلہ یہ نہیں کہ عدالت نے سزا سنائی؛ مسئلہ یہ ہے کہ سزا جیسی کیفیت ٹرائل سے پہلے نافذ ہو رہی ہے، اور ریاست اسے قانونی عمل کہہ کر معمول بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔
اگر بھارتی عدلیہ واقعی اپنی ساکھ اور آئینی منصب کی حفاظت چاہتی ہے تو اسے محض قانون کی سختی کے اندر پناہ لینے کے بجائے اس سوال کا جواب دینا ہوگا کہ سخت قانون کا مقصد انصاف ہے یا قید کو طول دینا۔ مخصوص قوانین کے تحت ضمانت کے مسئلے پر قانونی تجزیات میں یہ بحث موجود رہی ہے کہ عدالتیں آئینی تحفظات کو مدنظر رکھ کر غیر معمولی حالات میں ریلیف دے سکتی ہیں۔ مگر جب فیصلوں کا غالب رخ یہ ہو کہ تاخیر بھی ضمانت کا سبب نہ بنے اور پہلی نظر ہی آخری نظر بن جائے، تو یہ راستہ ریاستی طاقت کو عملاً بے لگام کر دیتا ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں حکومت اور عدلیہ دونوں پر تنقید لازم ہو جاتی ہے کہ حکومت نے اختلافِ رائے کو قومی سلامتی کے خانوں میں بند کر کے سیاست کی ہے، اور عدلیہ نے آزادی کو استثنا بنا کر جیل کو قاعدہ بنتے دیکھنے دیا ہے۔
Like this:
Like Loading...