Skip to content
جمعہ نامہ:لمبی ہے غم کی شام مگر شام ہی تو ہے
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
ارشادِ ربانی ہے: ’’ ( اے نبیؐ ) ہم اس قرآن کو آ پ کی طرف وحی کرکے ایک بڑااچھا قصہ بیان کرتے ہیں اگرچہ اس سے قبل آپ ( اس سے ) بے خبر تھے‘‘۔ یہ احسن القصص کی تمہید ہے جس میں حضرت یوسف ؑ کے واقعات بیان ہوئے ہیں۔ یہ سرگزشت ان آزمائشوں کی روداد ہے جن میں سےگزار کر رب کائنات نے اپنے پیغمبر کو ہر بار سرخرو کرکے نکالا ۔ حضرت یوسف ؑ کوسب سے پہلے اپنے حاسد بھائیوں کی گھناونی سازش سے سابقہ پیش آیا اور پھر نہ صرف اندھے کنوئیں میں پھینک دئیے گئے بلکہ ایک معمولی غلام کے طور پر بازارِ یوسف میں فروخت ہوگئے لیکن اس کے ذریعہ ان کی کنعان سے نکل کر عزیز مصر کے گھررسائی ممکن بنا دی گئی ۔ ارشادِ قرآنی ہے:’’ اور مصر کے جس شخص نے اسے خریدا تھا (اس کا نام قطفیر تھا اور وہ بادشاہِ مصر ریان بن ولید کا وزیر خزانہ تھا اسے عرف عام میں عزیزِ مصر کہتے تھے) ۔اس نے اپنی بیوی (زلیخا) سے کہا: اسے عزت و اکرام سے ٹھہراؤ! شاید یہ ہمیں نفع پہنچائے یا ہم اسے بیٹا بنا لیں‘‘۔اس کے بعد تو گویا حضرت یوسف ؑ پر رحمتوں کا دروازہ کھول دیا گیا ۔ اس کا بیان یوں ہے :’’ ہم نے یوسف ؑکو سر زمین (مصر) میں استحکام بخشا اور یہ اس لئے کہ ہم اسے باتوں کے انجام تک پہنچنا سکھائیں، اور اﷲ اپنے کام پر غالب ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے، اور جب وہ اپنے کمالِ شباب کو پہنچ گیا (تو) ہم نے اسے حکمِ (نبوت) اور علمِ (تعبیر) عطا فرمایا، اور اسی طرح ہم نیکوکاروں کو صلہ بخشا کرتے ہیں‘‘۔ حضرت یوسف کے درجات کی بلندی اس شعر کی مصداق ہے؎
تندیٔ بادِ مخالف سے نہ گھبرا اسے عقاب
یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کے لیے
عزیز مصر کے محل میں عزت و توقیر کے بعد بھی حضرت یوسف ؑ کی آزمائشوں کا سلسلہ ختم نہیں ہوا بلکہ وہ ایک قیدوبند کی صعوبت گزارے گئے یہی وجہ ہے کہ بے قصورلوگوں کو کارِ خیر کے عوض جیل بھیجے جانے کو سنتِ یوسفی سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ عمر خالد ، شرجیل امام اور ان کے ساتھیوں پر بھی جھوٹا الزام لگایا گیا ۔ فرمانِ ربانی ہے:’’ اس عورت (زلیخا) نے جس کے گھر وہ (یوسفؑ)رہتے تھے آپ سے آپ کی ذات کی شدید خواہش کی اور دروازے (بھی) بند کرکے کہنے لگی: جلدی آجاؤ (میں تم سے کہتی ہوں)۔ یوسف ؑنے کہا: اﷲ کی پناہ! بیشک وہ (تمہارا شوہر ) میرا مربّی ہے اس نے مجھے بڑی عزت سے رکھا ہے۔ بیشک ظالم لوگ فلاح نہیں پائیں گے‘‘۔زلیخان جب حضرت یوسف ؑ کو رجھانے میں ناکام ہونے کے بعد عزیز مصر کے سامنے پکڑی گئی تو اس نے اپنی غلطی کا اعتراف کرکے مائل بہ اصلاح ہونے کے بجائے الٹا الزام لگاتے ہوئے اپنے شوہر سے کہا :’’اس شخص کی سزا جو تمہاری بیوی کے ساتھ برائی کا ارادہ کرے اور کیا ہو سکتی ہے کہ وہ قید کر دیا جائے یا (اسے) درد ناک عذاب (دیا جائے)‘‘۔ دہلی فساد کے بعد بھی یہی ہوا کہ فسادی کپل مشرا کو بچانے کے لیے بے قصور شرجیل امام ، عمرخالد ،گلفشاں فاطمہ، میران حیدر، شفا اُلرحمٰن، محمد سلیم خان اور شاداب احمد وغیرہ کو جیل بھیج دیا گیا۔
عزیز مصر پیچھے سے پھٹا کرتا دیکھ کر حقیقت کی جڑ تک پہنچ گیا اور اعترافِ حقیقت کرتے ہوئے بولا :’’اے یوسف! تم اس بات سے درگزر کرو اور (اے زلیخا!) تو اپنے گناہ کی معافی مانگ، بیشک تو ہی خطاکاروں میں سے تھی‘‘۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ موجودہ جمہوری حکمراں زلیخا کی قبیل لوگ ہیں جو خوداپنے جرائم کی سزا اس کا شکار ہونے والوں کو دیتے ہیں ۔ ان کے اندر عزیز مصر کا ظرف تو سپریم کورٹ میں بھی نہیں ہے کہ انصاف کے تقاضوں کو پوار کرے۔ اس کا معاملہ تو زلیخا کی طرح ڈھٹائی سے عمر خالد اور شرجیل امام کی ضمانت دینے سے زلیخا کی مانند انکار کردیتی ہے جس نےحضرتِ یوسف ؑ کے بارے میں زنان مصر سے کہا تھا :’’ یہی وہ (پیکرِ نور) ہے جس کے بارے میں تم مجھے ملامت کرتی تھیں اور بیشک میں نے ہی اسے پھسلانے کی کوشش کی مگر وہ سراپا عصمت ہی رہا، اور اگر (اب بھی) اس نے وہ نہ کیا جو میں اسے کہتی ہوں تو وہ ضرور قید کیا جائے گا اور وہ یقینًا بے آبرو کیا جائے گا‘‘۔
عدالتِ عظمیٰ کا ایک ہی الزام میں پانچ لوگوں کو ضمانت دینے کے بعد شرجیل امام اور عمر خالد جیل میں رکھناطریقۂ زلیخا کی پیروی ہے۔ مگر سلام ہے شرجیل امام کو جس نےضمانت سے محرومی کے باوجود نہایت ایمان افروز بیان دے کر جہد کاروں کوخوش کردیا۔ اس نے لکھا“مجھے بے حد خوشی ہے کہ دیگر افراد کو ضمانت مل گئی، اگرچہ میں اس طویل عرصے تک اُن کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کی شدید مذمت کرتا ہوں۔ جہاں تک ہمارا تعلق ہے، میرا پختہ یقین ہے کہ عمر اور مجھے اس بات کی سزا دی جا رہی ہے کہ ہم نے حالیہ ہندوستانی تاریخ کے شاید سب سے اہم عوامی احتجاج کو منظم کرکے اس کی قیادت کی۔ یہ فیصلہ منظم احتجاج کو جرم قرار دیتا ہے اور مزاحمت کو دہشت گردانہ عمل کے طور پر پیش کرتا ہے۔ اس سے دہشت گردی اور جمہوری احتجاج و اختلافِ رائے کے درمیان فرق مزید دھندلا جاتا ہے۔‘‘ راہِ عزیمت کے مسافروں کو قیدو بند کی صعوبت نے کبھی نہیں روکا بلکہ حضرت یوسفؑ تودعا فرماتے ہیں :’’ اے میرے رب! مجھے قید خانہ اس کام سے کہیں زیادہ محبوب ہے جس کی طرف یہ مجھے بلاتی ہیں اور اگر تو نے ان کے مکر کو مجھ سے نہ پھیرا تو میں ان کی (باتوں کی) طرف مائل ہو جاؤں گا اور میں نادانوں میں سے ہو جاؤں گا‘‘۔ان سخت حالات میں بھی شرجیل کا یہ موقف قابلِ تعریف ہے کہ :’’ میں اس مقدمے کے بارے میں پُرامید ہوں اور یقین رکھتا ہوں کہ بالآخر سچ کی فتح ہوگی۔ ان شاء اللہ، ہم کامیاب ہوں گے۔‘‘ اور اس کے بعد فیض احمد فیض کے اس شعر کی یاد دلانا ان کے بلندعزم و حوصلے کی جانب اشارہ کرتا ہے:
دل نااُمید تو نہیں، ناکام ہی تو ہے
لمبی ہے غم کی شام مگر شام ہی تو ہے
Like this:
Like Loading...