Skip to content
2025 : سفارتی اور سماجی ناکامی پر انتخابی کامیابی کی ملمع سازی
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
سال 2025 قومی و عالمی سطح پر ایک نہایت یادگار سال تھا۔ اس کی آپ بیتی کو تاریخی دستاویز کے طور پر کتب خانوں میں محفوظ کرلیا جانا چاہیے۔ وطن عزیز میں اس کی ابتداء مشرقی اتر پردیش کے اندر کمبھ میلے سے ہوئی اور خاتمہ صوبے کے مغربی حصے میں تلواروں کی تقسیم پر ہوا۔ یہ دونوں واقعات سیاسی مقاصد کے حصول کی خاطر مذہب کے غلط ا ستعمال کی علامت ہیں ۔ مذہبی سیاست اور مذہب کاسیاسی مفاد کی خاطر استحصال مختلف چیزیں ہیں اس لیے ان کے اثرات بھی متضاد ہوتے ہیں ۔ اول الذکر مذہب کے تقدس میں اضافہ کرتی ہے اور دوسرے میں مذہبی اقدار پامال ہوتے ہیں ۔ کمبھ میلے کے ذریعہ دنیا بھر میں ناموری حاصل کرنے کی کوشش کے عوض زبردست بدنامی ہاتھ آئی کیونکہ نیت میں کھوٹ تھا۔ ملک بھر میں بڑے بینرس پر مودی اور یوگی کی تصاویر لگا کر ہندوعقیدت مندوں کو شرکت کی دعوت دی گئی۔ ان سے جھوٹ کہا گیا کہ چالیس کروڈ لوگوں کا انتظام ہے کیونکہ حکومت کو خود توقع نہیں رہی ہوگی کہ اتنے لوگ اس میلے کا رخ کریں گےمگرجب مفت ریل گاڑیاں چلانے کا اعلان کیا گیا تو پھر کیا تھا لوگ ٹوٹ پڑے اور انتظامیہ کے تمام دعووں کی قلعی کھل گئی ۔
پریاگ راج کے کمبھ میلے میں ایک سے زیادہ مرتبہ عام لوگ کچل کر موت کے گھاٹ اتر گئے مگر یوگی سرکارا ن سے بے نیاز وی آئی پی لوگوں کو خصوصی سہولیات فراہم کرنے میں مصروف رہی ۔ امیروں کے گنگا اسنان کے انتظام کا ویڈیو بناکر مشتہر کرنے والی بی جے پی نے غریب عقیدتمندوں کی لاشوں کو بلڈوزر سے ڈھکیل کر گنگا میں بہا دیا۔ بدانتظامی کا یہ حال تھا کہ لوگ ریل گاڑی میں موٹرمین کی بوگی کے اندر گھس گئے اور جب پولیس نے مداخلت کرکے انہیں نکالا تب جاکر گاڑی چلی ۔ اس سلسلے کا ایک حادثہ دہلی میں بھی پیش آیا وہاں بھی لوگوں کے کچلے جانے کو سرکار نے رفع دفع کیا اور میڈیا نے پردہ داری کی۔ آگے چل کر دہلی کے انتخابات میں دارالخلافہ کے رائے دہندگان نے بی جے پی کے سارے پاپ جمنا بہا کر اسے اقتدارپر فائز کردیا۔ عوامی فلاح و بہبود والی کیجریوال سرکار کا اس تباہی و بربادی اور بدانتظامی و ناکامی کے بعد بری طرح ہار جانا تعجب خیز تھا مگر یہ بعد میں پتہ چلا کہ وہ ’ووٹ چوری‘ کا کمال تھا۔
2025میں 3؍اوراس 2024کے اندر 2ریاستی انتخابات بی جے پی نے جیتے۔پارلیمانی انتخاب کے مہاراشٹر و ہریانہ کا انتخاب جیت کر جو سلسلہ شروع کیا گیا تھا وہ بالآخر بہار تک جاپہنچا ۔ پارلیمانی انتخاب میں چار سو پار کا خواب دیکھنے والی بی جے پی کو بیساکھی پر لانے کا کام اترپردیش کے ساتھ مہاراشٹر نے کیا تھا ۔ وہاں بی جے پی ایک ہندسے تک محدود ہوگئی تھی جبکہ کانگریس نے اس سے ڈیڑھ گنا زیادہ نشستوں پر فتح کا پرچم لہرایا تھا ۔ اسی طرح یوپی میں بھی سماجوادی پارٹی نے بی جے پی کو دوسرے نمبر پر ڈھکیل دیاتھا۔ کانگریس کے ارکان پارلیمان کی تعداد بھی ایک سے بڑھ کر ۶؍ تک پہنچ گئی تھی۔ رام مندر کی تعمیر کے باوجود خود ایودھیا میں بی جے پی کے امیدوار کا ہار جانے سے زعفرانیوں کی ساکھ داوں پر لگ گئی تھی۔ مہاراشٹر میں شکست نے آر ایس ایس کے ماتھے پر وہ کلنک لگا دیا تھا کہ اگر جو اپنی جنم بھومی اورمرکزی دفتروالی ریاست ہی نہیں جیت سکتے تو ملک بھر کو کیسے فتح کریں گے؟ ابن الوقتی کے سبب اس کا دامن تھامنے والوں کا اعتماد متزلزل ہونے لگا تھا ۔ وہ لوگ اِدھر اُدھر دیکھنے لگے تھے ایسے میں اپنی ناقابلِ تسخیر والی شبیہ کو بحال کرنا بی جے پی کے لیے سب سے بڑا چیلنج تھا۔
امسال مہاراشٹر کے ساتھ ہریانہ کا انتخاب بی جے پی کی سب سے بڑی اگنی پریکشا(آزمائش ) تھی۔ ہریانہ کسانوں ، جوانوں اور پہلوانوں کا صوبہ ہے ۔ کسان تحریک کے ساتھ دھوکہ کے سبب وہاں کا کسان ناراض تھا۔ اگنی ویر اسکیم نے فوجی جوان اور ان کے خاندان کو ناراض کررکھا تھا ۔ عالمی شہرت یافتہ ہریانوی خاتون پہلوانوں کے ساتھ برج بھوشن سرن سنگھ کی زیادتی کے سبب خواتین اور پہلوان بھی خلاف تھے۔ یہی وجہ ہے کہ گودی میڈیاکے بیشتر چینلس نے بی جے پی کی شکست کامژدہ سنا دیاتھا۔ ایسے میں اگر بی جے پی وہ دونوں صوبے ہار جاتی تو پورے ملک میں اس کی ہوا اکھڑ جاتی اس لیے بڑے پیمانے پر دھاندلی کرکے ان ریاستوں میں کامیابی درج کرائی گئی۔ مہاراشٹر میں تو حیرت انگیز طور پر 2014کی مودی لہر سے زیادہ مقامات پر بی جے پی جیت گئی۔ اسی جیت کے سلسلے کو 2025 میں جاری رکھا گیا اور دہلی کے ساتھ بہار میں آر جے ڈی کو بھی الیکشن کمیشن نےبلڈوزر سے روند دیا۔ اس معاملے میں جموں کشمیر استثنیٰ ہےجہاں جموں نے توبی جے پی کا خوب ساتھ دیا مگر وادیٔ کشمیر میں ایک کے علاوہ سارے مقامات پر کمل چھاپ امیدواروں کی ضمانتیں ضبط ہوگئیں اور چوری چکاری کے باوجود وہ انتخاب نہیں جیت سکے ۔
وطن عزیز میں فی الحال وادیٔ کشمیر واحد مسلم اکثریتی صوبہ ہے اور وہاں بی جے کی شکست گواہ ہے کہ وہ مسلمان ہی جو فسطائیت کے جھانسے میں نہیں آتا اور تمام تر دباو کے باوجود بلا خوف و طمع زعفرانیوں کے وجئے رتھ(فتح کی سواری) کو روک سکتا ہے۔ 2025 میں بہار جیتنا بی جے پی کے لیے سب سے بڑا چیلنج تھا۔ اس لیے کہ تیجسوی یادو کی مقبولیت آسمان کو چھورہی تھی۔ گودی میڈیا بھی اس حقیقت کا اعتراف کررہا تھا کہ تیجسوی کے سامنے نتیش کمار اور پرشانت کشور سمیت سارے ریاستی رہنما بونے ہیں۔ ان کی جلسوں میں عوام کا جمِ غفیر اور نوجوانوں کی جوشیلی شرکت کامیابی کی دلیل بن گیا تھا۔ ایسے میں پہلگام کا سانحہ ہوگیا ۔ یہ کہنا تو مشکل ہے کہ بہار کی خاطر یہ دہشت گردی کی واردات کروائی گئی مگر اس میں کوئی شک نہیں کہ مودی جی نے خود اپنے قول ’آپدا میں اوسر‘ (مشکل میں موقع) کا بھرپور استعمال کرنے کی کوشش کی۔ وزیر اعظم نریندر مودی اس وقت سعودی عرب کے دورے پر تھے ۔ وہ درمیان میں لوٹ کرتو آئےپہلگام جانے کے بجائے بہار پہنچ گئے اور وہاں انگریزی جھاڑنے لگے ۔
پہلگام معاملے میں بی جے پی کو لینے کے دینے پڑ گئے کیونکہ لوگوں نے پوچھنا شروع کردیا کہ اول تو دہشت گرد آئے کیسے ؟ اور دوسرے پکڑے کیوں نہیں گئے؟ حزب اختلاف نے وزیر داخلہ اور ان کے تحت چلنے والے حفاظتی نظام پر سوالات کیے اور خصوصی پارلیمانی اجلاس کا مطالبہ کردیا تو مودی و شاہ گھبرا گئے۔ اس کی رہی سہی کسر ہندوتوا نواز غنڈوں نے سڑکوں پر مارپیٹ کرکے پوری کردی ۔ وہ لوگ بے قصور کشمیریوں کے ساتھ مسلمانوں کو نشانہ بناھ لگے ۔ انہوں آجہانی فوجی نروال کی اہلیہ تک کو اسے ہندو مسلم بنانے سے منع کرنے پر نہ صرف برا بھلا کہابلکہ کردار کشی بھی کی ۔ اس دوران ایک مسلمان گھوڑے بان سلمان شاہ نے دہشت گردی کے خلاف لڑتے ہوئے جان گنوا کر ناموری بھی کمائی ۔ چہار جانب سے پڑنے والے اس دباو کے دوران بی جے پی نے بہار کے اندر ذات پات کی مردم شماری کا اعلان کیا مگر اس کا کریڈٹ راہل گاندھی کوملنے لگا تو اسے ٹھنڈے بستے کی نذر کردیا گیا۔
اس صورتحال میں مرتا کیا نہ کرتا کی مصداق آپریشن سندور کے نام پر پاکستان کے اندرجاکر بمباری کردی گئی۔ ہندوستانی وزارت خارجہ نے ابتداء میں یہ واضح کیا کہ وہ جنگ نہیں چاہتا ۔ اس کا ارادہ صرف دہشت گردانہ ٹھکانوں کو تباہ کرنا ہے ۔ حکومتِ ہند نے روس کی مانند پاکستان پر حملہ تو کردیا مگر بھول گیا کہ وہ یوکرین کی مانند کوئی نرم چارہ نہیں بلکہ ایک ایٹمی طاقت ہے۔ ہندوستان کے اعلان نے پاکستان کو حملے سے خبردار کردیا اور اس کامقابلہ کرنے لیے تیار ہوگیا ۔ اس نے چین کی مدد سے ہندوستانی طیاروں کو گرانا شروع کردیا اور ساری دنیا کے سامنے اپنی برتری ثابت کردی ۔ اس کے بعد گودی میڈیا ہندوستانی عوام کو تو پہلانے پھسلانے میں کسی نہ کسی حد تک کامیاب رہا مگر دنیا بھر کے سامنے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوگیا۔ اس موقع کافائدہ اٹھا کر چین نے بھی ساری دنیا میں اسلحہ کے خریداروں کےآگے اپنی برتری کا لوہا منوا لیا ۔
اس دوران مودی جی نے سندھ طاس معاہدے کے خاتمے کا اعلان کرکے پاکستان پر ایک نادانستہ احسان کردیا ۔ پاکستان نے اس کے بہانے شملہ معاہدے سے پیچھا چھڑا کر کشمیر کے مسئلہ کو بین الاقوامی فورم میں پہنچانے کی آزادی حاصل کرلی ۔ اس طرح مودی سرکار سندھ کے پانی کو تو نہیں روک سکے مگر کشمیر کی رکاوٹ کو دور کردیا۔ سچ تو یہ مودی جی نے ’خون اور پانی ایک ساتھ نہیں بہہ سکتا ‘یہ نعرہ لگا کراندرا گاندھی کے ذریعہ پاکستان پر حاصل کردہ ایک بہت بڑی کامیابی پر پانی پھیر دیا۔ اس لیے کہا جاسکتا ہے کہ مودی سرکار کی خاطر 2025 ایک بڑی تباہی و بربادی کا سال تھا مگر اس نے ووٹ چوری کرکے یکے بعد دیگرے دو انتخاب جیت کر اپنی سماجی، سفارتی اور حربی ناکامیوں پر پردہ ڈال دیا۔
(۰۰۰۰۰جاری)
Like this:
Like Loading...