Skip to content
معصومیت ، بناوٹ سے پاک انسان کی اصل پہنچان ۔
از قلم: طٰہٰ نلاّمندو
معاون معلّمہ پونے مہانگر پالیکا
بلاشبہ عصرِ حاضر کا معاشرہ ہنگامہ، تصنّع اور فریب کی گرد میں اس قدر لپٹ چکا ہے کہ اصل قدریں رفتہ رفتہ اوجھل ہوتی جا رہی ہیں۔ ہر چہرہ کسی نہ کسی مصنوعی نقاب میں پوشیدہ ہے اور ہر رویّہ کسی نہ کسی مصلحت کا اسیر دکھائی دیتا ہے۔ ایسے پُر آشوب اور بےیقینی کے ماحول میں معصومیت ایک نایاب جوہر بن کر سامنے آتی ہے ایسا جوہر جو نہ صرف کمیاب ہے بلکہ رفتہ رفتہ ناپید بھی ہوتا جا رہا ہے۔ معصومیت نہ کوئی عارضی کیفیت ہے اور نہ ہی کسی سکھائی گئی مشق کا نتیجہ؛ یہ تو روح کی وہ ازلی اور فطری طہارت ہے جو انسان کی سرشت میں ودیعت کی گئی ہے۔ یہ وہ حسن ہے جو نہ بناوٹ کا محتاج ہے، نہ تصنّع کا، بلکہ اپنی سادگی ہی میں کامل، باوقار اور دلوں کو مسخر کر لینے والا ہے۔
وقت کے ساتھ ساتھ معاشرتی شعور اس قدر مسخ ہو چکا ہے کہ سادگی کو کم فہمی اور معصومیت کو نادانی یا کمزوری سے تعبیر کیا جانے لگا ہے، حالانکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ دراصل معصوم انسان سب سے زیادہ بیدار مغز، حساس اور باشعور ہوتا ہے، کیونکہ وہ خود فریبی کے فریب میں مبتلا نہیں ہوتا۔ وہ اپنی اصل سے انحراف نہیں کرتا، نہ حالات کے دباؤ میں آ کر اپنا چہرہ بدلتا ہے، بلکہ جیسا ہے، ویسا ہی رہنے کا حوصلہ اور اخلاقی جرأت رکھتا ہے۔ اس کی شخصیت مصنوعی رنگوں، وقتی ملمع کاری اور نمائشی رویّوں سے نہیں، بلکہ صداقت، خلوص اور فطری سادگی سے نکھر کر سامنے آتی ہے۔اخلاقی انحطاط کے اس دور میں جہاں مفاد پرستی کو ذہانت، موقع پرستی کو حکمت اور چالاکی کو فہم کا درجہ دے دیا گیا ہے معصومیت ایک خاموش مگر بامعنی احتجاج کی حیثیت اختیار کر لیتی ہے۔ یہ احتجاج کسی نعرے یا اعلان کا محتاج نہیں، بلکہ اپنے وجود ہی سے یہ پیغام دیتا ہے کہ انسان آج بھی اپنی اصل پہچان، اپنی فطری اقدار اور اپنے باطن کی سچائی پر قائم رہ سکتا ہے۔ سادہ، بےساختہ اور خالص ہونا کوئی آسان راستہ نہیں؛ اس کے لیے مضبوط کردار، صاف نیت، دل کی سچائی اور غیر متزلزل اخلاقی استقامت درکار ہوتی ہے۔
معصوم انسان دوسروں کو متاثر کرنے، خوش کرنے یا محض قبولیت حاصل کرنے کے لیے اپنا رنگ و روپ تبدیل نہیں کرتا۔ اسے نہ تعریف کی ہوس ہوتی ہے اور نہ شہرت یا مقبولیت کی اندھی طلب۔ اس کے رویّوں میں ٹھہراؤ، اس کی گفتار میں شفافیت اور اس کے اعمال میں خلوص صاف جھلکتا ہے۔ وہ بخوبی جانتا ہے کہ وقتی چمک دمک، بناوٹی مسکراہٹیں اور کھوکھلے دعوے آنکھوں کو تو مرعوب کر سکتے ہیں، مگر دل ہمیشہ سچ، اخلاص اور نیت کی پاکیزگی ہی کو پہچانتا ہے۔یہ ضروری نہیں کہ معصومیت ہر ذوق اور ہر مزاج کو بھا جائے، کیونکہ ہر آنکھ میں سچ دیکھنے کی تاب نہیں ہوتی۔ تاہم جو دل صداقت کی قدر جانتا ہے، جو روح خلوص کی پہچان رکھتی ہے، وہ اس وصف کی عظمت کو ضرور محسوس کرتی ہے۔ جو انسان آپ کو آپ کے اصل وجود کے ساتھ بغیر کسی تصنّع، بناوٹ یا مصلحت کے،قبول کر لے وہی آپ کی سادگی میں دنیا کی سب سے حسین، مستند اور پائیدار حقیقت دیکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
بالآخر یہی کہا جا سکتا ہے کہ معصومیت انسان کا وہ بیش قیمت اثاثہ ہے جو وقت کی گرد سے ماند نہیں پڑتا، بلکہ ہر آزمائش، ہر تلخی اور ہر تجربے کے ساتھ مزید نکھر کر سامنے آتا ہے۔ اگر معاشرہ اس جوہر کو کمزوری کے بجائے قوت، اور سادگی کو پسماندگی کے بجائے شعور کی علامت تسلیم کر لے، تو بے شمار اخلاقی اور سماجی پیچیدگیاں ازخود سلجھ سکتی ہیں، اور انسانی رشتوں میں کھوئی ہوئی صداقت اعتماد اور خلوص ایک بار پھر پوری آب و تاب کے ساتھ زندہ ہو سکتے ہیں۔
Like this:
Like Loading...