Skip to content
ایس آئی آر کے تناظر میں اتر پردیش کا انتخابی منظرنامہ
ایک تجزیاتی و معلوماتی مطالعہ
مضمون نگار:محمد اعجاز الدین احمد
رابطہ:9700389755
ایس آئی آر کے سلسلے میں مسلسل معلومات کی فراہمی کا مقصد عوام الناس کو اس عمل کی نوعیت اور اس کے تقاضوں سے آگاہ کرنا ہے، تاکہ وہ علاقے بالخصوص تلنگانہ جہاں یہ عمل ابھی نافذ نہیں ہوا، وہاں کے شہری پیشگی طور پر ذہنی اور دستاویزی تیاری کر سکیں۔ حالیہ عرصے میں ہندوستان کے مایہ ناز بلے باز محمد سمیع اور نوبل انعام یافتہ ماہرِ معاشیات امریتہ سین کو الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کیے گئے نوٹس اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اس پورے عمل میں ہر شہری کے لیے باخبر، باشعور اور محتاط رہنا کس قدر ضروری ہے۔
جمہوری نظام کی بنیاد اس اصول پر قائم ہوتی ہے کہ حقِ رائے دہی صرف اہل شہریوں کو حاصل ہو اور انتخابی عمل شفاف، منصفانہ اور اعتماد کے قابل ہو۔ اسی اصول کو سامنے رکھتے ہوئے ۔ سپریم کورٹ میں ایس آئی آر کے متعلق ہورہی سماعتوں کے دوران الیکشن کمیشن نے اس بات کو وثوق کے ساتھ کہا کہ فہرستِ رائے دہندگان (ووٹر لسٹ) میں غیر ملکیوں کی شمولیت آئینی تقاضوں کے مطابق نہیں، اور اسی مقصد کے حصول کے لیے انتخابی فہرستوں کی خصوصی جامع نظرِ ثانی کا آغاز کیا گیا۔ یہ مؤقف آئین ِ ہند کے دفعہ ۳۲۴سے ہم آہنگ نظر آتا ہے، جو الیکشن کمیشن کو انتخابی فہرستوں کی تیاری، نظرِ ثانی اور نگرانی کے اختیارات فراہم کرتا ہے۔ تاہم، ان اختیارات کے ساتھ یہ ذمہ داری بھی وابستہ ہے کہ انتخابی عمل میں عوامی اعتماد برقرار رہے اور کسی اہل شہری کا حقِ رائے دہی غیر ارادی طور پر متاثر نہ ہو۔ انتخابی اصلاحات میں یہی توازن جمہوری نظام کے استحکام کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔خصوصی جامع نظرثانی کے ابتدائی نتائج کے مطابق، جن ریاستوں اور مرکزی زیرِ انتظام علاقوں میں یہ عمل نافذ کیا گیا، وہاں مجموعی طور پر ووٹر فہرستوں میں قابلِ ذکر تبدیلیاں سامنے آئی ہیں۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق تقریباً ۱۳ فیصد ووٹروں کے نام فہرستوں سے خارج ہوئے ہیں۔ یہ تبدیلی انتخابی فہرستوں کی ساخت میں ایک نمایاں فرق کی نشاندہی کرتی ہے، جس کے اثرات کا جائزہ لینا ضروری ہو جاتا ہے۔
اس سلسلے میں اتر پردیش سب سے نمایاں مثال کے طور پر سامنے آتا ہے۔ حال ہی جاری مسودہ فہرست رائے دہندگان کے مطابق، ریاست میں ووٹروں کی تعداد میں تقریباً ۱۸.۷۰ فیصدکمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ نظرِ ثانی سے قبل ووٹروں کی تعداد تقریباً ۱۵.۴۴ کروڑ تھی، جو اب کم ہو کر لگ بھگ ۱۲.۵۵ کروڑرہ گئی ہے۔ اس طرح قریب ۲.۸۹ کروڑ نام فہرستوں میں شامل نہیں رہے۔ دیگر ریاستوں میں بھی اسی نوعیت کی تبدیلیاں دیکھی گئی ہیں، جو اس عمل کے وسیع اثرات کی عکاسی کرتی ہیں۔ اتر پردیش میں حذف کیے گئے ناموں کی تعداد عدد کے لحاظ سے اب تک کسی بھی ریاست یا مرکز کے زیرِ انتظام علاقے میں سب سے زیادہ ہے جہاں ایس آئی آر کا عمل مکمل کیا گیا۔ صرف انڈمان و نکوبار جزائر، جو ایک مرکز کے زیرِ انتظام علاقہ ہے، میں فیصد کے اعتبار سے اتر پردیش سے زیادہ اخراج ریکارڈ کیا گیا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق، حذف کیے گئے نام زیادہ تر ایسے افراد سے متعلق ہیں جو انتقال کر چکے تھے، مستقل طور پر دوسری جگہ منتقل ہو گئے تھے یا جن کے نام دہرا اندراج کے زمرے میں آتے تھے۔ انتخابی فہرستوں کی درستی کے لیے اس طرح کی جانچ پڑتال کو ضروری سمجھا جاتا ہے، تاہم یہ بھی اہم ہے کہ یہ عمل اس انداز میں ہو کہ اہل شہریوں کی شمولیت برقرار رہے۔
۱۵.۴۴ کروڑ: نظرِ ثانی سے قبل ووٹر
۲.۸۹ کروڑ: ایس آئی آر کے دوران خارج کیے گئے
۴۶.۲۳ لاکھ: انتقال کر جانے والے ووٹر
۲.۱۷ کروڑ: مستقل نقل مکانی یا تصدیق کے وقت غیر حاضر ووٹر
۲۵.۴۷ لاکھ: دوہری رجسٹریشن والے ووٹر
۱۲.۵۵ کروڑ: حتمی ووٹر تعداد (۶ جنوری ۲۰۲۶ تک)
اتر پردیش کے چیف الیکٹورل آفیسر کے مطابق، سابقہ فہرست میں شامل ۱۵.۴۴ کروڑ ووٹروں میں سے ۱۲.۵۵ کروڑ یعنی ۸۱.۳ فیصد نام مسودہ فہرست میں برقرار رکھے گئے ہیں۔باقی ۱۸.۷ فیصد، یعنی تقریباً ۲.۸۹ کروڑووٹر، مختلف وجوہات کی بنا پر مسودہ فہرست میں شامل نہیں کیے جا سکے، جن میں وفات، مستقل نقل مکانی یا ایک سے زائد جگہوں پر رجسٹریشن شامل ہے۔
نام خارج کرنے کی وجوہات:
۴۶.۲۳ لاکھ ووٹر (۲.۹۹ فیصد) وفات پاچکے
۲.۱۷ کروڑ ووٹر (۱۴.۰۶ فیصد)مستقل طور پر منتقل ہو چکے تھے یا تصدیقی عمل کے دوران دستیاب نہیں تھے
۲۵.۴۷ لاکھ ووٹر (۱.۶۵ فیصد) ایک سے زیادہ مقامات پر رجسٹرڈ پائے گئے
خصوصی جامع نظرِ ثانی کے بنیادی تصور پر عمومی اتفاق پایا جاتا ہے، تاہم اس کے عملی نفاذ کے طریقے پر مختلف آرا سامنے آئی ہیں۔ مبصرین کے مطابق، اس مرحلے میں ووٹر کو اپنی تفصیلات کی تصدیق کے لیے نسبتاً زیادہ ذاتی ذمہ داری ادا کرنا پڑی۔ موجودہ عمل میں ووٹر کو خود فارم پُر کرنے، دستاویزات فراہم کرنے اور مقررہ مدت میں کارروائی مکمل کرنے کی ہدایت دی گئی۔ماضی کی نظرِ ثانیوں میں انتخابی عملہ ابتدائی فہرستوں کی بنیاد پر گھروں تک پہنچ کر تصدیق اور درستی کا عمل انجام دیتا رہا ہے، جس سے شہریوں پر انتظامی دباؤ کم رہتا تھا۔ موجودہ طریقۂ کار میں بعض ووٹروں کے لیے یہ عمل نسبتاً زیادہ محنت طلب ثابت ہوا، خاص طور پر ان افراد کے لیے جو طریقۂ کار سے پوری طرح واقف نہیں تھے یا مقررہ وقت میں کارروائی مکمل نہ کر سکے۔ ابتدائی مرحلے میں شناختی دستاویزات کے حوالے سے بھی کچھ ابہام دیکھنے میں آیا، جس کی وجہ سے بعض طبقات کو اضافی مشکلات پیش آئیں۔ بعد کے مراحل میں ان امور میں سہولت فراہم کی گئی، تاہم اس وقت تک فہرستوں میں تبدیلیاں عمل میں آ چکی تھیں۔
خصوصی جامع نظرِ ثانی کے اثرات سماجی اور جغرافیائی لحاظ سے مختلف انداز میں سامنے آئے۔ جن علاقوں میں اندرونی یا بیرونی ہجرت کی شرح زیادہ ہے، وہاں ووٹر فہرستوں میں تبدیلی کا تناسب بھی نسبتاً زیادہ رہا۔ ایسے افراد جو روزگار یا دیگر وجوہات کی بنا پر عارضی طور پر دوسرے شہروں میں مقیم ہیں، بعض صورتوں میں اپنی موجودگی ثابت نہ کر پانے کے باعث فہرستوں سے باہر ہو گئے۔ اعداد و شمار سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ خواتین ووٹروں کو دستاویزی تفصیلات میں فرق یا تبدیلی کے باعث اضافی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا، جس کا اثر فہرستوں میں ان کی نمائندگی پر پڑا۔
اضلاع اور اسمبلی حلقوں کا تجزیہ:اتر پردیش میں ضلع وار تجزیہ یہ بتاتا ہے کہ شہری اور نیم شہری اضلاع میں ووٹر فہرستوں میں کمی نسبتاً زیادہ رہی۔ سب سے زیادہ ووٹر اخراج والے اضلاع میں لکھنؤ سرفہرست ہے، یعنی ریاستی دارالحکومت لکھنؤ میں ووٹر فہرستوں میں سب سے زیادہ کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔مسودہ فہرست کے مطابق:
ووٹر اخراج کی شرح: ۳۰.۰۵ فیصد
نظرِ ثانی سے قبل ووٹر تعداد: ۳۹.۹۴ لاکھ
نظرِ ثانی کے بعد ووٹر تعداد: ۲۷.۹۴ لاکھ
یوں تقریباً ۱۲ لاکھ ووٹروں کے نام فہرستوں سے خارج ہوئے، جو ریاست میں سب سے زیادہ عددی اور تناسبی کمی ہے۔ ریاستی دارالحکومت میں ووٹروں کی تعداد میں ۳۰ فیصد سے زائد کمی درج کی گئی۔
دیگر نمایاں اضلاع میں غازی آباد دوسرے نمبر پر رہا، جہاں ووٹر فہرستوں میں ۲۸.۸۳ فیصد کمی آئی۔ ووٹر تعداد ۲۸ لاکھ سے کم ہو کر ۲۰ لاکھ رہ گئی۔ بلرام پور تیسرے نمبر پر رہا، جہاں ۲۵.۹۸ فیصد کمی درج کی گئی اور ۴ لاکھ سے زائد ووٹروں کے نام خارج ہوئے۔ یہ اضلاع شہری پھیلاؤ، صنعتی سرگرمیوں اور آبادی کی نقل مکانی کے اعتبار سے نمایاں سمجھے جاتے ہیں، جو ووٹر فہرستوں میں تبدیلی کے رجحان کو سمجھنے میں مدد دیتے ہیں۔بعض صنعتی اور شہری اضلاع میں یہ کمی ۲۵ سے ۲۹ فیصدکے درمیان رہی۔ یہ وہ علاقے ہیں جہاں بڑی تعداد میں مہاجر آبادی رہائش پذیر ہے۔ خصوصی نظرِ ثانی کے دوران غیر حاضری اور نقل مکانی جیسے عوامل نے ان اضلاع میں فہرستوں کی ساخت کو زیادہ متاثر کیا۔
مسلم اکثریتی اضلاع میں ووٹر تعداد کی تبدیلی:مسودہ انتخابی فہرستوں کے مطابق، اتر پردیش کے چند ایسے اضلاع جہاں مسلم آبادی کا تناسب تقریباً ۴۰ سے ۵۰ فیصد کے درمیان ہے، وہاں ووٹر فہرستوں میں کمی کی شرح ۱۵ سے ۱۹ فیصد کے درمیان ریکارڈ کی گئی ہے۔ ان اضلاع میں بالخصوص مرادآباد، سہارنپور، مظفرنگر، رامپور اور سنبھل شامل ہیں۔ یہ اضلاع نہ صرف آبادی کے لحاظ سے اہم ہیں بلکہ انتخابی نقطۂ نظر سے بھی نمایاں حیثیت رکھتے ہیں۔ مجموعی طور پر یہ اضلاع ۲۸ اسمبلی حلقوں پر مشتمل ہیں، جس کے باعث یہاں ووٹر فہرستوں میں ہونے والی تبدیلیاں ریاستی انتخابی نقشے پر اثرانداز ہو سکتی ہیں۔
مرادآباد:مرادآباد ضلع میں، جہاں ۶ اسمبلی حلقےواقع ہیں، ووٹر فہرست سے ۳,۸۷,۶۲۸** نام خارج کیے گئے، جو کہ مجموعی ووٹر تعداد میں ۱۵۔۶ فیصد کمی کی نمائندگی کرتا ہے۔
سہارنپور:سہارنپور، جس میں ۷ اسمبلی حلقےشامل ہیں، عددی اعتبار سے سب سے زیادہ کمی والا ضلع رہا۔ یہاں ۴,۳۲,۵۳۹ ووٹروں کے نام حذف ہوئے، جو کہ ۱۶.۳۷ فیصدکمی کے برابر ہے۔
مظفرنگر:مظفرنگر میں، جہاں ۶ اسمبلی حلقے ہیں، ۳,۴۴,۲۲۲ ووٹروں کے نام فہرست سے خارج کیے گئے، جس سے ووٹر تعداد میں ۱۶.۲۹ فیصد کمی واقع ہوئی۔
رامپور:رامپور ضلع میں، جس کے تحت ۵ اسمبلی حلقے آتے ہیں، ووٹر فہرست سے ,۲۱,۵۷۲ نام حذف کیے گئے۔ یہ کمی ۱۸.۲۹ فیصد کے مساوی ہے۔
سنبھل:سنبھل ضلع میں، جہاں ۴ اسمبلی حلقے ہیں، ووٹروں کی تعداد میں ۳,۱۸,۶۱۵ کی کمی درج کی گئی، جو کہ ۱۸.۲۹ فیصد بنتی ہے۔
رجحانات اور ممکنہ عوامل:اتر پردیش میں اسمبلی حلقے ووٹر تعداد کے لحاظ سے حساس اکائیاں ہیں۔ جب کسی شہری یا نیم شہری علاقے میں ووٹر فہرستوں میں نمایاں کمی واقع ہوتی ہے تو اس کے اثرات حلقہ جاتی نمائندگی، شہری ووٹ کے تناسب اور انتخابی نتائج پر مرتب ہو سکتے ہیں۔ اس تناظر میں آئندہ انتخابات میں ووٹر فہرستوں کی حتمی صورت خاص اہمیت اختیار کر جاتی ہے۔اعداد و شمار کا مجموعی جائزہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ جن اضلاع میں ووٹر فہرستوں میں کمی کی شرح زیادہ رہی، وہاں چند مشترکہ عوامل پائے جاتے ہیں، جن میں شہری اور نیم شہری آبادی کا زیادہ ہونا، اندرونی اور بیرونی نقل مکانی کی بلند شرح، عارضی رہائش رکھنے والے ووٹروں کی بڑی تعداد، اور شناختی و رہائشی دستاویزات میں فرق یا عدم مطابقت شامل ہیں۔ یہ عوامل انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظرِ ثانی کے دوران ووٹر تصدیق کے عمل کو نسبتاً پیچیدہ بنا دیتے ہیں، جس کے نتیجے میں ووٹر تعداد میں نمایاں تبدیلی دیکھنے میں آتی ہے۔حتمی فہرست کے اجرا کے بعد ان تبدیلیوں کے اثرات کا مزید جامع تجزیہ ممکن ہو سکے گا۔ ریاست میں ایس آئی آر کا عمل مجموعی طور پر ۶۲ دن جاری رہا اور اس میں تین بار توسیع کی گئی۔ ابتدا میں یہ عمل ۱۱ دسمبر ۲۰۲۵ کو مکمل ہونا تھا، پھر پہلی توسیع کے تحت ۲۶ دسمبر۲۰۲۵ تک، اس کے بعد ۳۱ دسمبر۲۰۲۵ اور آخرکار ۶ جنوری۲۰۲۶ تک مدت بڑھائی گئی۔مسودہ فہرست کے اجرا کے ساتھ ہی ایک ماہ پر مشتمل دعووں اور اعتراضات کی مدت شروع ہو گئی ہے۔ وہ تمام افراد جنہوں نے اندراج کے فارم جمع کرائے ہیں مگر جن کا ربط ۲۰۰۳ کی فہرست سے قائم نہیں ہو سکا، انہیں سماعت کے لیے بلایا جائے گا۔ انہیں شہریت اور رہائش کے ثبوت کے طور پر الیکشن کمیشن کی جانب سے مقرر کردہ ۱۱دستاویزات میں سے کوئی ایک پیش کرنا ہوگا۔الیکشن کمیشن نے حذف شدہ ووٹروں کے لیے اعتراضات اور دعوؤں کا موقع فراہم کیا ہے، جو انتخابی عمل کا ایک اہم مرحلہ ہے۔ تاہم، اس مرحلے کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہے کہ طریقۂ کار کس حد تک آسان، شفاف اور قابلِ رسائی بنایا جاتا ہے۔ یہ بھی اہم ہے کہ اس عمل کے دوران دستیاب معلومات اور اعداد و شمار عوام کے سامنے واضح طور پر پیش کیے جائیں تاکہ اعتماد برقرار رہے۔
خصوصی جامع نظرِ ثانی کا بنیادی مقصد اگر انتخابی فہرستوں کی درستی اور جمہوری نظام کا استحکام ہے، تو اس کے طریقۂ کار میں سہولت، شفافیت اور زمینی حقیقتوں کو ملحوظ رکھنا ناگزیر ہے۔ انتخابی فہرستوں کی تطہیر ایک آئینی تقاضا ہے، اور اسی کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ اہل شہریوں کی شمولیت بلا رکاوٹ برقرار رہے۔ اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ انتخابی اصلاحات اس انداز میں نافذ ہوں کہ وہ شہری اعتماد کو مضبوط کریں اور جمہوری شرکت کو مزید مستحکم بنائیں۔ آنے والا مرحلہ یہ طے کرے گا کہ اعتراضات اور تصحیح کے عمل کے ذریعے اس نظرِ ثانی کو کس حد تک متوازن اور مؤثر بنایا جا سکتا ہے۔ اگر ہر اہل شہری کو بروقت اور سہل طریقے سے اپنی شمولیت کا موقع ملتا ہے، تو یہ عمل جمہوری نظام کے لیے ایک مثبت قدم ثابت ہو سکتا ہے۔
Like this:
Like Loading...