Skip to content
ٹرمپ : اسے کیوں ہم نے دیا دل جو ہے بے مہری میں کامل
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
وزیر اعظم نریندر مودی نے ہندوستانی سیاست میں کئی نئی روایتوں کے موجد ہیں ۔ ان میں اپنے مخالفین کی تحقیر و تضحیک کرنا مثلاً عوامی جلسوں میں مغربی بنگال کی خاتون وزیر اعلیٰ کو سرِ عام ’دیدی او دیدی‘ کہہ کر پکارنا یا ’۲؍ مئی دیدی گئی‘ کا نعرہ لگا کر ان پر پھبتی کسنا وغیرہ شامل ہے۔ اس معاملے میں مودی نے ایوان پارلیمان کو بھی نہیں بخشا بلکہ وہاں بھی ممکری کرکےذاتی اور پارلیمانی وقار کو پامال کیا مگر کسی نے ان کی مذمت تو دور تنقید بھی نہیں کی۔ وزیر اعظم کے مداح اسے وزیر اعظم کا اپنا منفرد انداز کہہ کر جائز ٹھہراتے رہے ۔ مودی کے نئے ہندوستان میں اسے ’نیو نارمل ‘ کہا جاتا تھا۔ کوئی بھولا بھٹکا ان کا منہ توڑ جواب دینے کی سعی کرتا تو اس کو قوم دشمن قرار دے دیا جاتا اور ملک کی توہین کے زمرے ڈال کر اس کا جینا اجیرن کردیا جاتا۔ اس انتہا کے بعد اب پاپ کا گھڑا پھوٹنے جارہا ہے اور مشیت وہ کارخیر انجام دینے کا کام ان ہی کے چہیتے دوست امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے لے رہی ہے۔ موصوف نے مودی جی قائم کردہ روایت کو امریکہ میں رائج کرتے ہوئے اپنے پارلیمانی یعنی کانگریس کے خطاب میں وزیراعظم نریندر مودی کا مذاق اڑا دیا۔ اس کے بعد مودی جی سے ہمدردی جتانے کے بجائے یار دوستوں نےاس کا موازنہ ان کے کارناموں سے کرکے زخموں پر نمک چھڑکنا شروع کردیا مگر مودی بھگت خاموش ہیں کیونکہ جب صاحب اپنی زبان پر ٹرمپ کا نام لانے کی جرأت نہیں کرتے تو غلاموں کی کیا مجال کہ وہ ایسی ہمت دکھائیں۔
وزیراعظم نریندر مودی مئی 2025 میں آپریشن سندور کے بعد سے اپنے چہیتے دوست ٹرمپ سے دور دور ہیں۔ جی ۷ کی کانفرنس کے بعدسنا ہے ٹرمپ نے کینیڈا سے واپسی میں مودی کو قصر ابیض بلایا بھی تھا مگر وہاں ’یک نہ شد دو شد‘ کی کیفیت تھی یعنی میزبان کے ساتھ جنرل عاصم منیر بھی براجمان تھےاس لیے مودی جی نے معذرت چاہ لی۔ خبر تو یہ بھی ہے کہ اس انکار نے ٹرمپ کی بد ظنی میں اضافہ کردیا۔ وزیر اعظم مودی کا وہ فیصلہ درست تھا کیونکہ اس سے قبل ٹرمپ میڈیا کے سامنے یوکرین کے صدر زیلنسکی کے ساتھ قصر ابیض میں بدسلوکی کرچکے تھے اور جنگ رکوانے کی بابت ہندو امریکہ کے موقف میں اختلاف تھا ۔ ٹرمپ اگر مودی کے سامنے عاصم منیر سے اپنے دعوےٰ کی تصدیق کروا دیتے تو مودی کے لیے بڑا دھرم سنکٹ کھڑاہو جاتا۔ اس کے بعد نہ تو مودی آسیان کانفرنس میں شرکت کے لیے کوالالمپور گئے اور نہ ہی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کو خطاب کرنے کے لیے امریکہ جانے کا قصد کیا۔اس وجہ یہی بتائی گئی کہ وہ ٹرمپ کا سامنا نہیں کرنا چاہتے ۔
اس تناظر میں ٹرمپ کا نہات مضحکہ خیز انداز میں مودی کی نقل کرتے ہوئے یہ انکشاف کرنا کہ’ہندوستانی وزیراعظم مودی مجھ سے ملنے آئے اور کہا جناب، کیا میں آپ سے مل سکتا ہوں؟‘ حیرت انگیز اور تضحیک آمیز ہے۔ امریکی صدر اگر ملاقات کی غرض و غایت نہیں بیان کرتے تو میڈیا کے لیے مختلف قیاس آرائیوں کا موقع نکل آتا۔ گودی میڈیا تو ویسے بھی بات کا بتنگڑ بنانے کے لیے مشہورہے۔ وہ تو یہاں تک کہہ سکتا تھا کہ مودی اسے ڈرانے دھمکانے کے لیے جارہے تھے اور وہ تھر تھر کانپ رہاتھا وغیرہ وغیرہ لیکن ٹرمپ نے وہ سارےدروازے بند کردئیے۔انہوں نے خود مودی کی نقالی کرتے ہوئے گڑگڑانے کی اداکاری کرتے ہوئے کہا کہ ’میں نے ہندوستانی وزیراعظم کے سوال کے جواب میں ہاں کہا‘۔ کاش کہ وہ کہہ دیتے ’آپ کا خیر مقدم ہے‘۔ یہ فقرہ ٹرمپ کے مقصدحقیقی کو بے اثر کرتا تھا اس لیے اس سے گریزکرکے ملاقات کی غرض و غایت یہ بیان کی گئی کہ ’’ مودی بنیادی طور پر وہ مجھے خوش کرنا چاہتے تھے۔ وہ بہت اچھے آدمی اور انسان ہیں۔ وہ جانتے تھے کہ میں خوش نہیں ہوں، اور مجھے خوش کرنا ضروری تھا۔‘‘
ٹرمپ کے خطاب کا آخری فقرہ ایک تضحیک آمیز دھمکی ہے اور وینزویلا کے صدر مادورو کے بزور قوت اغوا کے بعد اس میں کئی نئے پہلو داخل ہوگئے ہیں۔ یار دوست تو اس کو گوتم اڈانی کے خلاف سمن سے جوڑ کر نت نئے امکانات کی پیشنگوئی کرنے لگے ہیں مثلاً کہیں اگلا نمبر مودانی کا تو نہیں ہے؟ ایسے میں کانگریس پارٹی نے مودی سرکار کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے سوال کیا ہے کہ صدر ٹرمپ کے اقتدار میں آنے پر کیا مودی بن بلائے ان سے ملنے چلےگئے تھے ؟ ویسے مودی جی کا اس طرح والہانہ انداز میں صدر ٹرمپ سے ملنے کے لیے جانا کئی معنیٰ میں فطری تھی۔ دونوں میں مسلم دشمنی اور بڑبولے پن کی صفت اور شہرت کی بھوک مشترک ہے۔ نظریاتی اعتبار سے دونوں ’کرونی کیپٹلزم‘ یعنی انتہائی شدت پسند سرمایہ داری کے حامی ہیں،ْ اسی لیے ان میں انسیت ہوگئی اور ہاوڈی مودی ‘ یا نمستے ٹرمپ جیسی تقریبات کا اہتمام کیا گیا۔ کانگریس پارٹی کے مطابق مودی جی کے ’مان نہ مان میں تیرا مہمان ‘ بن جانے کی وجہ سے ہی مودی وہ واحدرہنما ہیں جن کے استقبال کی خاطر صدر ٹرمپ دروازے پر نہیں آئے ورنہ یہ اعزاز تو انہوں نے زیلنسکی تک کو بخشا تھا۔
سوشل میڈیا میں یہ کہا جارہا ہے کہ فرانسیسی صدر میکرون کے بعد ٹرمپ نے ہندوستانی وزیرِ اعظم نریندرمودی کو بھی اُن کی اوقات یاد دلا دی۔ ویسے ٹرمپ جیسا سرپھرا انسان اپنے سامنے کسی سمجھتا بھی کیا ہے ؟ بدقسمتی سے وزیر اعظم نریندر مودی کا اس سے سابقہ پیش آگیا اور وہ نہ جانے ان سے ہندو نظریۂ تناسخ کے مطابق کس جنم کا انتقام لے رہا ہے۔ گرینڈ اولڈ پارٹی یعنی ریپبلکن کے ارکان کی ری ٹریٹ سے خطاب کے دوران مذکورہ بالا ملاقات کی تفصیل بتاتے ہوئے ٹڑمپ نےانکشاف کیا کہ اس وقت امریکا سے ہندوستان 68؍ اپاچی حملہ آور ہیلی کاپٹر خریدنے کا خواہشمند تھا اور اس معاہدے پر ِ بحث ہورہی تھی۔ اس کےلیے ہندوستان نے 5 سال انتظار کرنا پڑا تھا۔یہ عجیب بات ہے کہ دوکاندار کے بجائے خود گاہک درخواست کررہا ہے حالانکہ اس ہیلی کاپٹر کا متبادل روس اور دوسرے ممالک کے پاس موجود ہے۔ اس لیے امریکہ کو مکھن لگانے کی چنداں ضرورت نہیں تھی۔ صدر ٹرمپ نےاپنے اس جارحانہ اقدام کو جائز ٹھہراتے ہوئے یہ دعویٰ بھی کیا کہ امریکا ٹیرف کی بدولت امیر ہو رہا ہے ویسے انہیں اس بات کی پروا کب ہے کہ ان کی بدولت کون کون سے ہندوستان جیسے دوست ممالک غریب ہورہے ہیں؟
مودی بھگتوں کے لیے اطمینان کی بات یہ ہے ٹرمپ کے ذریعہ تضحیک ان کے ’مہا مانو‘ (عظیم انسان) کے مخصوص نہیں ہے بلکہ اس کا شکار تو سفید فام فرانسیسی صدر بھی ہوئے ہیں ۔ فرانس وہی ملک ہے جس نے نیویارک میں لگا مشہور زمانہ آزادی کا مجسمہ امریکہ کو اس کی آزادی کے صد سالہ جشن پرتحفے میں دیا تھا لیکن آج کل کون کسی کا احسانمند ہوتا ہے۔ امریکہ نے بھی دوسری جنگ عظیم میں جرمنی کے عتاب سے فرانس کو بچا کر وہ احسان چکا دیا۔ خیر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ریپبلکن پارٹی کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کا مذاق اڑا تے ہوئے دعویٰ کیا کہ ان کی دھمکی کے بعد ایمانوئل میکرون نے ادویات کی قیمتوں میں 200 فیصد اضافہ قبول کرلیا۔ٹرمپ نے اپنی تقریرکے دوران طنزیہ انداز میں بتایا کہ ’میں نے میکرون سے کہا کہ اگر تم نے پیر تک ہماری تمام شرائط نہ مانیں تو میں فرانس سے آنے والی تمام مصنوعات پر 25 فیصد ٹیرف لگا دوں گا‘۔ اس دباو میں میکرون نے فوراً ہتھیار ڈال دیئے اور کہا ’ڈونلڈ، آپ جو چاہیں گے وہی ہوگا۔ بس عوام کو مت بتانا۔‘
یہ نہایت کم ظرفی کی بات ہے کہ ایک دوست جس بات کو عوام سے پوشیدہ رکھنے کی درخواست کرے اسے جگ ظاہر کردیا جائے؟ لیکن ٹرمپ اور مودی جیسے نرگسیت کا شکار لوگ اپنے سوا کسی کے بارے میں سوچتے ہی کب ہیں ؟ ان کے دانستہ و نادانستہ دوسروں کی دلآزاری سرزد ہوتی رہتی ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آج کل عالمی سطح پر نہایت جارحانہ موقف اپنایا ہواہے ۔ امریکی صدر کےپاس دماغ اگر ہے بھی تو وہ آسمان میں ہے ورنہ کوئی سربراہ کسی عوامی خطاب میں یہ کیسے کہہ سکتا ہے کہ دیگر ممالک نے بھی ابتدا میں انکار کیا تھا لیکن 3 منٹ کے اندر سب نے قیمتیں بڑھانے پر آمادگی ظاہر کردی ۔اس فقرے سے ظاہر ہے کہ کم ظرفی کے معاملے میں ٹرمپ اگر مودی سے آگے نہیں تو پیچھے بھی نہیں ہیں۔ عالمی سطح پر وزیر اعظم نریندر مودی اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان اس میدان ایک مسابقہ چل رہا ہے اور اپنے حالیہ رویہ سے ٹرمپ نے اپنی برتری ثابت کردی ہے۔ ویسے مودی اور میکرون کی ٹرمپ سےدوستی پر مضطر خیرا ٓبادی مشہور غزل کا یہ مطلع صادق آتا ہے؎
اسے کیوں ہم نے دیا دل جو ہے بے مہری میں کامل جسے عادت ہے جفا کی
جسے چڑھ مہر و وفا کی جسے آتا نہیں آنا غم و حسرت کا مٹانا جو ستم میں ہے یگانہ
Like this:
Like Loading...