Skip to content
سہارا اخبار کا اچانک بند ہونا اردو صحافت کے لیے ناقابلِ تلافی نقصان: ڈاکٹر عمار رضوی
معاشرے کی آواز بننے والی صحافت کا اچانک تعطل
لکھنؤ13 جنوری (پریس ریلیز/ابوشحمہ انصاری)اترپردیش کے سابق کارگزار وزیر اعلیٰ اور آل انڈیا مائنارٹیز فورم فار ڈیمو کریسی کے صدر ڈاکٹر عمار رضوی نے روزنامہ راشٹریہ سہارا کی اچانک اشاعت بند ہونے پر گہرے رنج و افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اردو صحافت کے لیے ایک ایسا نقصان ہے جس کی تلافی آسان نہیں۔
ڈاکٹر عمار رضوی نے اپنے بیان میں کہا کہ تقریباً تین دہائیوں سے زائد عرصے تک مسلسل شائع ہونے والا روزنامہ راشٹریہ سہارا محض ایک اخبار نہیں تھا، بلکہ اردو صحافت کے وقار، سنجیدگی اور ذمہ دارانہ طرزِ صحافت کی ایک مضبوط علامت تھا۔ اس اخبار کا بند ہونا اردو زبان، اردو صحافت اور اردو داں طبقے کے لیے ایک بڑا صدمہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ راشٹریہ سہارا نے ہمیشہ معاشرے کی آواز کو مضبوطی سے بلند کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ یہ اخبار دبے کچلے، محروم اور نظرانداز کیے گئے طبقات کے مسائل کو جرات، دیانت داری اور سچائی کے ساتھ سامنے لاتا رہا۔ ملک و بیرونِ ملک کی اہم خبروں سے قارئین کو باخبر رکھنا، حقائق پر مبنی رپورٹنگ کرنا اور عوامی مسائل کو ترجیح دینا اس اخبار کی نمایاں پہچان رہی ہے۔
ڈاکٹر عمار رضوی نے مزید کہا کہ سیاست، کھیل، ادب، اسلامیات، خواتین اور سماجی موضوعات پر معیاری اور خصوصی مواد شائع کر کے راشٹریہ سہارا نے اردو قارئین کے دلوں میں اپنی ایک منفرد اور معتبر شناخت قائم کی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے بند ہونے سے اردو صحافت کے ایک درخشاں دور کے اختتام کا احساس شدت سے ہو رہا ہے۔
انہوں نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ اخبار کی اچانک بندش کے نتیجے میں سینکڑوں صحافی، آپریٹر اور دیگر صحافتی کارکن بے روزگار ہو گئے ہیں، جبکہ وہ افراد بھی متاثر ہوئے ہیں جو پہلے ہی روزگار سے محروم تھے۔ یہ صورتحال نہ صرف متاثرہ خاندانوں کے لیے بلکہ مجموعی طور پر اردو صحافت کے مستقبل کے لیے بھی فکرمندی کا باعث ہے۔
ڈاکٹر عمار رضوی نے حکومتِ ہند اور حکومتِ اترپردیش سے اپیل کی کہ وہ ان تمام صحافیوں اور کارکنوں کے لیے فوری، مؤثر اور مناسب مالی و سماجی امداد کے اقدامات کریں، تاکہ اس مشکل وقت میں انہیں سہارا مل سکے اور ان کا مستقبل محفوظ رہ سکے۔
اس کے ساتھ ہی انہوں نے اردو نیشنل جرنلسٹ ٹرسٹ کے قیام کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے ایک منظم اور غیر سیاسی ٹرسٹ کے ذریعے بے روزگار صحافیوں کو وقتی مدد فراہم کی جا سکتی ہے، جو آگے چل کر ان کے لیے مستقل سہارا بنے گی اور اردو صحافت کو مضبوط بنیاد فراہم کرے گی۔
ڈاکٹر عمار رضوی نے سہارا گروپ کے بانی سبرت رائے کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اردو اور اقلیتی طبقات کی آواز کو قومی سطح پر پہنچانے کے لیے ایک مضبوط پلیٹ فارم فراہم کیا۔ ساتھ ہی انہوں نے گروپ ایڈیٹر عبدالماجد نظامی کی ادارت، صحافتی بصیرت اور وقار کو بھی سراہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ روزنامہ سہارا کے بند ہونے سے جو خلا پیدا ہوٸی ہے، اسے پُر کرنے کی ذمہ داری اب انقلاب، صحافت، آگ، اودھ نامہ، قومی تنظیم، قومی خبریں، لوہیا نامہ، سماج نیوز،اعتماد،سیاست،منصف، قومی بھارت، ساٸبان،خبریں جنتا،مصالحت،تاثیر، زمینی سچ،ممبٸی اردو نیوز،اردو ٹاٸمز،سیاسی تقدیر،ہمارا سماج،میرا وطن،ڈیلی حالات نیوز،سیاسی افق،انوار قوم، جمہوریت ٹائمز، سیاسی پیغام،ایک قوم،ہمارا نعرہ،سنگم،سری نگر جنگ،روز نامہ اردو، ورقِ تازہ، الحیات، سالار، قومی صحافت،فجر خبر، روشنی،آزاد ہندوستان، ہماری آواز، میزائل ایکسپریس، اردو ایکشن، قومی میزان، سچ کی آواز،کامل یقین، شان سدھارتھ، عالمی درپن جیسے دیگر اردو اخبارات پر عائد ہوتی ہے۔ ہمیں امید ہے کہ یہ اخبارات اس خلا کو پُر کرنے میں مؤثر کردار ادا کریں گے اور معاشرے کی آواز کو پوری قوت کے ساتھ بلند کرتے رہیں گے۔
آخر میں ڈاکٹر رضوی نے کہا کہ اردو صحافت صرف اظہار کا ذریعہ نہیں بلکہ تہذیب، شعور اور ہزاروں خاندانوں کے روزگار کا سہارا بھی ہے، اس لیے اس کی بقا اور مضبوطی ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
یہ اطلاع آل انڈیا مائنارٹیز فورم فار ڈیمو کریسی کے شعبۂ نشر و اشاعت کے سکریٹری ابوشحمہ انصاری نے فراہم کی۔
Like this:
Like Loading...