Skip to content
سفر معراج
از نوائے قلم محمد پالن پوری
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ رات جسے ربِّ کائنات نے اپنی تسبیح سے آغاز عطا کیا، جس لمحے کو قرآن نے تقدیس کا لباس پہنایا اور جس سفر کو عبدیت کی مہر کے بغیر قبول ہی نہ کیا وہ شب شب معراج تھی۔ جس میں زمین نے اپنی وسعت سمیٹ دی اور آسمانوں نے اپنی بلندی جھکا دی۔ سبحان الذی اسریٰ بعبدہ لیلا کی صدا نے اعلان کر دیا کہ یہ سفر نہ خواب ہے نہ تمثیل بلکہ حقیقتِ محض ہے۔۔۔۔۔۔
مکہ کی گلیاں خاموش تھیں، بیت اللہ کے سائے گہرے تھے، ستارے جیسے ادب سے جھکے کھڑے تھے، جبرئیل امین نزول فرما ہوئے، نور کی ایک ہیبت فضا میں پھیل گئی، براق ایسی سواری جو قدرت کی علامت تھی حاضر ہوئی۔حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ أُتیتُ بالبراق یضع حافرہ عند منتھی طرفہ (میرے پاس براق لایا گیا وہ اپنا قدم وہاں رکھتا تھا جہاں نظر کی آخری حد ہوتی ہے) اور یوں زمین نے فاصلے سمیٹ دیے، وقت نے اپنی رفتار کھو دی اور مکہ سے بیت المقدس تک کا سفر پلک جھپکنے سے پہلے مکمل ہو گیا۔ بیت المقدس وہ سرزمین جہاں انبیاء کی دعائیں اب بھی فضا میں معلق ہیں، جہاں محرابیں تاریخ بولتی ہیں وہاں میرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام انبیاء کی امامت فرمائی۔ یہ اعلانِ قیادت تھا، یہ پیغام تھا کہ سلسلۂ نبوت اپنی معراج کو پہنچ چکا ہے۔۔۔۔۔
پھر آسمانوں کی طرف عروج شروع ہوا۔ پہلا آسمان کھلا آدم علیہ السلام نے خوش آمدید کہا گویا انسانیت نے اپنے کامل ترین نمائندے کو پہچان لیا۔ دوسرے آسمان پر یحییٰ اور عیسیٰ علیہما السلام۔ تیسرے پر یوسف علیہ السلام جن کا حسن دنیا میں مثال تھا مگر یہاں حسن بھی ادب میں تھا۔ چوتھے پر ادریس علیہ السلام، پانچویں پر ہارون علیہ السلام، چھٹے پر موسیٰ علیہ السلام جن کی گفتگو میں امت کی فکر جھلک رہی تھی اور ساتویں پر ابراہیم خلیل اللہ بیت المعمور کے سائے میں ٹیک لگائے۔ یہ سب ملاقاتیں تاریخ کا خلاصہ تھیں۔ نبوت کا شجر اپنی جڑ سے شاخ تک سامنے تھا۔۔۔۔۔۔
پھر وہ مقام آیا جہاں الفاظ خاموش ہو جاتے ہیں یعنی سدرة المنتہیٰ۔ جہاں قرآن نے بس اتنا کہا أذ یغشی السدرۃ ما یغشی۔ وہاں نور ایسا تھا کہ بیان شکست کھا جائے۔ وہاں جبریل رک گئے اور کہا اگر ایک قدم اور بڑھا تو میں جل جاؤں گا اور یہاں سے آقائے مدنی تنہا آگے بڑھے۔
اور پھر وہ لمحہ آیا جہاں لفظ اپنے معنی ہار بیٹھتے ہیں اور خاموشی خود کلام بن جاتی ہے، جہاں نہ سمت باقی رہتی ہے نہ فاصلے، نہ اوپر نہ نیچے بس قرب ہی قرب۔ قرآن نے اشارہ کیا اور خاموش ہو گیا ثم دنا فتدلی (پھر وہ قریب ہوا اور اور بھی قریب آ گیا) یہ وہ گھڑی تھی جب عبد اپنے رب کے سامنے تھا، نہ آنکھ نے گستاخی کی نہ دل نے سوال کیا ما زاغ البصر وما طغی (نگاہ نہ بہکی اور نہ حد سے آگے بڑھی) گویا نظر نے بھی سجدہ کر لیا، وقت ٹھہر گیا، مکان تحلیل ہو گیا، عرش نے اپنی بلندی بھلا دی، قرب نے اپنی چادر پھیلا دی، نہ الفاظ کی اجازت تھی نہ سوال کی ضرورت بس عطا ہی عطا تھی، حکم ہی حکم تھا۔ اسی مقام پر نماز عطا ہوئی جیسے قرب کی خوشبو کو زمین تک پہنچانے کا وسیلہ بنا دیا گیا ہو، جیسے معراج کی روشنی کو امت کے سجدوں میں رکھ دیا گیا ہو پھر پردے سمٹنے لگے، نور آہستہ آہستہ فاصلہ بن گیا، قرب نے رخصت لی مگر نشان چھوڑ گیا اور واپسی کا سفر شروع ہوا اور ہاں یہ واپسی ایسی تھی جیسے آسمان اپنے راز زمین کے سپرد کر رہا ہو، جیسے عرش اپنی امانت مٹی کو دے رہا ہو۔ جب قدم زمین پر پڑا تو مکہ وہی تھا مگر فضا بدل چکی تھی، خاموش گلیاں گواہ تھیں کہ کوئی تو لوٹا ہے جو آسمانوں کی خوشبو ساتھ لایا ہے۔ یہ واپسی دراصل بجائے جدائی کے ایک ذمہ داری تھی یعنی رب سے قرب کا تحفہ لے کر بندوں تک پہنچانے کی امانت۔ایسے یہ واپسی یقین و انکار کی کسوٹی بن گئی۔ مکہ کے لوگ سننے لگے۔ کوئی ہنسا کوئی ٹھٹھا کرنے لگا مگر ابو بکر نے تو بلا توقف کہہ دیا کہ اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے تو سچ فرمایا ہے اور یوں صدیقیت کو دوام ملا۔ قرآن نے اس سفر کی غایت خود بیان کر دی لنریہ من آیاتنا (تاکہ ہم اپنے بندے کو اپنی نشانیاں دکھائیں) اور یوں معراج مکمل تو ہوئی مگر ختم نہیں ہوئی کیونکہ وہ قرب اب بھی ہر سجدے میں زندہ ہے، ہر نماز میں سانس لیتا ہے اور ہر اس دل میں اتر آتا ہے جو عبد بن کر درِ رب پر جھک جاتا ہے۔
Like this:
Like Loading...