Skip to content
سفر معراج
محب کی طرف سے محبوب کا اعزاز
ازقلم: مفتی عبدالمنعم فاروقی
استاذ فقہ دارالعلوم اشرفیہ
خطیب جامع مسجد اشرفی قلعہ گولکنڈہ حیدرآباد
9849270160
سفر معراج انسانی دنیا کا وہ عظیم ،حیران کن اور بے مثال واقعہ ہے جس کی تاریخ انسانی بلکہ تاریخ دنیا میں کوئی نظیر نہیں مل سکتی ہے ، سفر معراج وہ عظیم اور مہتم بالشان واقعہ ہے جس نے تسخیر کائنات کے مقفل دروازوں کو کھولنے کی ابتداء کی ہے ، اس سفر نے کائنات کے کئی رازوں سے پردے ہٹائے ہیں، خالق کائنات نے سفر معراج کے ذریعہ انسانوں کو اپنی قدرت وطاقت کی ایک ادنیٰ سی جھلک دکھلائی ہے اور اس کے ذریعہ انسانوں کو بتایا کہ اس کی قدرت وطاقت کس قدر عظیم ہے ، وہ ہر چیز پر قادر ہے ،کائنات کی ہر ایک چیز اسی کے قبضہ ٔ قدرت میں ہے ،ہر ایک شئے پر اُسی کا تصرف ہے ، وہ جو چاہئے کر تا ہے اور جب چاہے کرتا رہے گا ، کائنات کا نظام اسی کے زیر نگیں ہے،کائنات کی ہر چیز اسی کے دم سے ہے ، ہر ایک شئے اسی کے حکم کی منتظر رہتی ہے اور اسی کے اشاروں پر کام کرتی ہے ، سفر معراج خالق کائنات کی قدرت کاملہ کی ایک ادنیٰ سی جھلک ہے اور اس کے قدرت کی نشانیوں میں سے ایک عظیم نشانی ہے وہ اس طرح سے کہ اس نے رات کے انتہائی مختصر ترین حصہ میں اپنی قدرت کا جلوہ دکھایا اور اپنے حبیب و محبوب حضرت محمد مصطفیؐ کو تاریخ انسانی کے سب سے انوکھے ،عقل انسانی کو حیرت میں ڈالنے والے اور مسافت کے لحاظ سے سب سے طویل ترین اور دنیوی وقت کے اعتبار سے انتہائی مختر سفر پر بلاکر اس سفر میں اپنے عجائبات قدر ت کی کئی ایک نشانیاں دکھلائی اور رہتی دنیا تک کے تمام انسانوں کو اس انوکھے اور حیران کردینے والے سفر کے ذریعہ یہ پیغام دیا کہ جو میرے تعلق کی خاطر دنیا والوں سے تعلق توڑ لیتا ہے ،میری محبت وچاہت میں دنیا اور عیش دنیا چھوڑ تا ہے اور میری لئے دنیاوالوں سے تکلیفوں کو سہتا ہے اور صبر وثبات کا مجسم بنارہتا ہے تو ایسے شخص کے لئے میری طرف سے ایسا اعزاز واکرام کیا جائے گا اور اسے ایسی بلندیوں سے نوازا جائے گا جس کا دنیا والے تصور بھی نہیں کر پائیں گے اور آخرت میں ایسے بندہ کو اس قدر انعامات سے نوازا جائے گا جس کا اس دنیا میں تصور کرنا محال ہے ۔
سفر معراج دراصل محب یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے محبوب یعنی محمدؐ کا وہ عظیم الشان اعزاز واکرام تھا جس کا کائنات میں بسنے والوں نے تصور بھی نہیں کیا تھا کیونکہ محبوب یعنی محمدؐ نے اپنے محب یعنی اللہ تعالیٰ کی خاطر دنیا کے عارضی، فانی خزانوں ،وقتی عہدوں اور ختم ہونے والے فائدوں کو ٹھوکر مار کر نہ صرف اللہ کی محبت ومعرفت پانے کی کوشش میں لگے ہوئے تھے بلکہ دنیا کے تمام جن وانس کو اپنے معبود ِ حقیقی سے ملانے کا بیڑا اٹھا یا تھا اور اس راہ میں ہر طرح کی تکلیفوں کو برداشت کرتے رہے اور اگر اللہ تعالیٰ کی محبت کی خاطر ان سے دشمنی بھی مول لینی پڑی تو اسے بھی خوشی خوشی قبول کیا ، ان کی طرف سے سخت ترین سختیوں کو بڑے صبر وتحمل کے ساتھ برداشت کیا اور محض اللہ کی خاطر دوست ودشمن ہر ایک کے ساتھ وہ طرز عمل اپنایا جس پر ارض وسماء بلکہ کائنات کی ہر ایک شئے رشک کرنے لگی ، یقینا عروج انہی لوگوں کو حاصل ہوتا ہے جو محض اللہ کی چاہت ومحبت میں دنیا اور سامان دنیا سے منہ موڑ تے ہیں اور قدم قدم پر جان ،مال اور ہر طرح کی قربانیاں پیش کرتے ہیں اور اس کے ذریعہ قرب الٰہی حاصل کرنے کی کوششیں کرتے ہیں ۔
اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب ومحبوبؐ کو بہت سے معجزات سے نوازا ہے ،ان معجزات کو اہل علم نے معجزات النبیؐ کے نام سے کتابیں تحریر کی ہیں ، بلاشبہ سفر معراج رسول اللہ ؐ کے معجزات میںسے ایک عظیم الشان اور مہتم بالشان معجزہ ہے ،جو بجا طور پر ’’بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر‘‘ کا واضح ثبوت ہے، محب یعنی اللہ تعالیٰ نے معراج کے سفر میں اپنے محبوب یعنی محمد ؐ کو اس مقام تک پہنچایا جہاں افضل الملائکہ وسید الملائکہ سیدنا جبریل امینؑ کی بھی رسائی ممکن نہیں ہے یعنی سدرۃ المنتہیٰ ، اس مقام پر پہنچ کر سید الملائکہ سیدنا جبریل امینؑ نے رسول اللہؐ سے عرض کیا کہ اس مقام سے آگے بڑھنا میرے لئے ممکن نہیں ، اگر میں یہاں سے آگے بڑھوں گا تو میرے پَر جل جائیں گے ، حضرت شیخ سعدی شیرازیؒ نے حضرت جبریل امینؑ کے اس جواب کو اپنے ایک شعر میں اس طرح بیان کیا ہے ؎
اگر یک سرِ موے برتر پرم
فروغ تجلی بسوزو پرم
یعنی اگر میں بال برابر بھی آگے جاؤں گا تو تجلیات ربانی سے میرے پَر جل جائیں گے ۔
اورحضرت جبریل امینؑ کے اس جواب کو اردو کے کسی شاعر نے اس طرح بیان کیا ہے ؎
ترا راز محبت کھل گیا معراج کی شب کو
پہنچ جائیں وہاں بے پَر جہاں عاجز ہوں پَر والے
اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب ومحبوب ؐ ؐ کو دوسرے انبیاء ورسل پر جو فضیلت عطا کی ہے اہل علم فرماتے ہیں کہ ان میں دو باتیں فضیلت کا باعث ہیں (۱) دنیا میں معراج (۲) آخرت میں شفاعت،رسول اللہؐ کو یہ دونوں دولتیں تواضع وانکساری کی بدولت حاصل ہوئیں ہیں ،آپؐ نے اپنے رب کے ساتھ تواضع کی تو رب کی جانب سے سفر معراج عطا ہوئی اور آپؐ نے مخلوق کے ساتھ تواضع کیا تو رب کی طرف سے شفاعت کی دولت نصیب ہوئی ،شب معراج میں آپ نے فرمایا سب سے زیادہ پسندیدہ لقب میرے لئے ’’عبد‘‘ کا ہے یعنی تیرا بندہ ہونا ،یقینا صفت عبدیت اللہ تعالیٰ کو اپنے بندوں کی جانب سے سب سے زیادہ محبوب ہے ۔
سفر معراج کے ذریعہ آپ ؐ کو آسمانوں کی سیر کرانے ، وہاں سے عرش معلی پر بلانے ،عجائبات قدرت کا مشاہدہ کرانے اور حق تعالیٰ کی طرف سے خصوصی اعزاز واکرام سے نواز نے کے متعلق بعض سیرت نگاروں نے لکھاہے کہ ’’آپ ؐ کو نبوت ورسالت سے سرفراز ہوئے دس سال سے زائد ہوچکے تھے ، ان دس سالوں میں جن نامساعد اور نہایت صبر آزما حالات کے باوجود آپ ؐ نہایت استقامت کے ساتھ توحید کا پیغام بندوں تک جرأ ت وہمت ، بلندحوصلہ اور جس ثابت قدمی کے ساتھ پہنچا یا کہ جس کی نظیر نہیں ، آپ ؐکو دعوت توحید کے اس سفر میں نہایت دشوار ، خاردار اور آزما ئشوں سے بھر پور راہوں سے گذرنا پڑالیکن آپؐ ہر موڑ پر جبل استقامت بنے رہے اور مشرکین کی جانب سے پہنچائی جانے والی تمام تکلیفوں کو حق تعالیٰ کی محبت میں برداشت کرتے رہے ، دعوت توحید ورسالت کی کرنیں ہر طرف اپنی روشنی بکھیر نے لگی اور لوگ جوق درجوق دعوت حق قبول کرنے لگے یہ دیکھ کر دشمنان اسلام اور کفار و مشرکین چراغ پا ہونے لگے ، چنانچہ مکہ معظمہ کے ہر گھر میں اس کا چرچا ہونے لگا ، سرداران قبائل کی جانب سے راتوں میں منعقد مجالس میں اسی کی باز گشت سنائی دینے لگی ،چنانچہ توحید کے چراغ کو پھونکوں سے مٹانے کے سلسلہ میں مکہ کے بااثر اور صاحب اقتدار لوگوں کی مٹینگیں ہونے لگیں بالآخر متفقہ طور پر سب نے یہ طے کیا کہ آپؐ ،بنو ہاشم اور تمام اہل ایمان کا ہر لحاظ سے بائیکاٹ کیا جائے ،اسی بائے کاٹ کے نتیجہ میں آپؐ ،قبیلہ بنوہاشم اور مسلمان پورے تین سال تک شعب ابی طالب میں محصور رہے ، جس وقت اس ظالمانہ بائیکاٹ کا خاتمہ ہوا تواس کے چند روز بعد ہی آپ ؐ کے جانثار چچا حضرت ابوطالب اورآپ کی غمگسار شریک حیات حضرت خدیجہ ؓ کا یکے بعد دیگرے انتقال ہوگیا ،پھر دعوت وتبلیغ کے تکلیف دہ’’ سفر طائف‘‘ سے واپسی عمل میں آئی،نبوت ورسالت سے سرفرازی اور علانیہ دعوت وتبلیغ کے آغاز سے لے کر مسلسل دس سال تک تکلیفوں اور آزمائشوں کی کوئی نوع ایسی باقی نہ رہی جو آپ ؐ نے برداشت نہ کی ہو ، اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب کو انہیں کلفتوں اور آزمائشوں کے صلہ میں سفر معراج سے مشرف فرمایا ، آپ ؐ کے لئے بُراق کی سواری ، بیت المقدس میں حاضری ،انبیا ء کی امامت ،آسمانوں کی سیر ،انبیاء کا استقبال ،مشاہدات جنت وجہنم ،مقرب فرشتوں سے ملاقات ،عرش تک رسائی ، دیدار الٰہی اور حق تعالیٰ سے شرف ِہم کلامی یہ وہ اعزاز ات واکرامات ہیں جن سے بڑی کوئی چیز نہیں ۔
نبوت ورسالت سے سرفراز کئے جانے کے بعد آپؐ نے اعلاء کلمۃ اللہ اور دعوت دین کو اپنے اور پرائے لوگوں تک پہنچانے کے لئے کمر بستہ ہو کر نکل کھڑے ہوئے ،دعوت دین اور تبلیغ حق کی خاطر گھر گھر پہنچتے رہے ، ہر ایک سے یہی کہتے رہے کہ اللہ کو ایک مانو ،بت پرستی چھوڑ دو اور اسی ذات واحد کی عبادت واطاعت کرو کامیابی تمہارے قدم چومے گی ،اس دعوت کے نتیجہ میں اپنے پرائے ہو گئے ،دوست دشمن ہو گئے اور آپ ؐ سے پیار ومحبت کرنے والے عداوت ودشمنی پر اتر ائے اس کے باوجود آپ ؐ برابر اور نہایت استقامت کے ساتھ دعوت دین کا فریضہ انجام دیتے رہے ، پورا مکہ جانتا تھا کہ آپ ؐ نے کبھی بھی دنیا کی طرف معمولی سا بھی التفات نہیں فرمایا تھا ،اس دعوت کا مقصد بھی دنیا اور اس کی فانی چیزیں نہیں تھی بلکہ گمراہ لوگوں کو راہ ہدایت کی طرف لیجانا اور انہیں آخرت کے عذاب سے بچانا تھا ،آپ ؐ نے بار ہا اس بات کا ان کے سامنے اعلان بھی کرتے تھے رہے تھے کہ میں تم سے اس دعوت وتبلیغ پر کوئی اجر کا طالب نہیں ہوں بلکہ : إِنْ أَجْرِیَ إِلَّا عَلَی اللَّہِ میرا اجر تو اللہ کے سوا کسی کے ذمہ نہیں ہے ،پھر بھی لوگ دشمنی پر اتر آئے تھے اور آپ ؐ جو کچھ تکلیفیں پہنچائی اس کا ذکر سیرت کی کتابوں میں ہزاروں صفحات پر موجود ہے ،ان لوگوں سال دوسال نہیں بلکہ مسلسل ایک دہے سے زائد آپ ؐ اور آپ کے ماننے والوں پر ظلم وستم ڈھاتے رہے مگر آپ ؐ اور آپ کے ماننے والوں کا صبر دیکھئے کہ انہوں نے اف تک نہ کہا اور صبر وثبات کا مجسم بن کر اسے سہتے چلے گئے ،حتی کے ظالم ظلم کرتے کرتے تھک گئے لیکن اللہ کے محبوب ،توحید کے علمبردار اور آپ کے ان جیالوں کے پائے استقامت میں بال برابر لڑکھڑاہٹ تک نہیں آئی ۔
اہل علم فرماتے ہیں طویل عرصہ تک دعوت دین کے مقابلہ میں باطل پرستوں کی جانب سے تکلیفوں کے دئے جانے کے باوجود صبر وتحمل اور استقامت کے نتیجہ میں محب یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب یعنی حضرت محمد ؐ کو سفر معراج پر بلا کے وہ عروج عطا فرمایا جس کی دنیا میں کوئی مثال نہیں ہے اور نہ ہی قیامت تک اس طرح کی مثال مل سکے گی ، سفر معراج کے متعلق علماء کرام ؒ فرماتے ہیں کہ سفر معراج نہ یہ کہ صرف آپ ؐ کا معجزہ ہے بلکہ اس سفر میں درحقیقت امت مسلمہ کے لئے عبرت ونصیحت ،دعوت فکر کے ساتھ ان لوگوں کے لئے ہمت وحوصلہ اور خوشخبری کا پیغام ہے جو باطل کے مقابلہ کرتے ہوئے حق پر ڈٹ جاتے ہیں اور باطل پرستوں کی جانب سے ناموافق حالات پیدا کرنے کے باوجود نہایت مضبوطی کے ساتھ دین متین پر قائم ودائم رہتے ہیں اور فانی زندگی کی خوشیوں کو قربان کرتے ہوئے آخرت کی دائمی زندگی کی خوشیوں کو پانے کی فکر کرتے ہیں ۔
ایک رات آپ ؐ حضرت ام ہانی کے مکان میں استراحت فرما رہے تھے کہ یکایک گھر کی چھت کھلی اور حضرت جبرئیل ؑ دیگر فرشتوں کے ساتھ نازل ہوئے ،آپ ؐکو جگایا اور مسجد حرام کی طرف لے آئے ،یہاں آکر آپ ؐ حطیم میں لیٹ گئے ،حطیم خانہ ٔ کعبہ ہی کا حصہ ہے جب سیلاب سے کعبۃ اللہ کی دیواریں منہدم ہوگئی تو قریش نے اسکو دوبارہ تعمیر کرنا چاہا مگر سرمایہ کی کمی کے باعث ایک طرف کی زمین چھوڑ کر دیوار کے طول کو کم کر دیا جس سے کعبۃ اللہ کی تھوڑی سی زمین باہر آگئی اسی کو حطیم کہا جاتا ہے ،نوجوانان قریش اور رؤسائے قریش اکثر رات کو یہاں آکر سویا کرتے تھے ،آپ ؐ بھی کبھی کبھار یہاں استراحت فرماتے تھے ،حضرت ام ہانی کے مکان سے نکل کر آپ ؐیہیں آکر لیٹ گئے ،حضرت جبرئیل ؑ اور حضرت میکائیل ؑ نے آپؐ کو جگایا اور زمزم کے کنویں پر لے گئے ،سینہ مبارک چاک کیا ،قلب ِمبارک کو زم زم سے دھویا ، ایمان وحکمت سے بھرا سونے کا طشت لاکر ایمان وحکمت کے اس خزانے کو آپ ؐ کے قلب میں منتقل کرکے اسے ٹھیک کر دیا ، اس کے بعد ایک متوسط قد کا براق نامی جانور لایا گیا جس کی تیز رفتاری کا عالم یہ تھا کہ اس کا ہر قدم حد نگاہ پر پڑتا تھا (مسند احمد) ،آپ ؐ اس سواری پر سوار ہوکر بیت المقدس پہنچے اور براق کو اس قلابہ میں باندھ دیا جس میں سابقہ انبیاء اپنی سواریاں باندھا کرتے تھے،آپ ؐ مسجد اقصیٰ میں تشریف لے گئے اور وہاں دورکعت نماز ادا فرمائی ،نماز سے فارغ ہوئے تو انبیاء سابقین جو پہلے ہی سے آپ ؐ کی تشریف آوری کے منتظر تھے ملاقات فرمائی ،اس موقع پر بعض اولوالعزم پیغمبروں نے مختصراً باری تعالیٰ کی حمد بیان کی اور پھر اپنا تعارف کروایا، اس موقع پر آپ ؐنے بھی باری تعالیٰ کی حمد وثنا بیان کی اور حق تعالیٰ کی طرف سے آپ کو عطا ہوئی نعمتوں کا تذکرہ کیا ، سب سے آخر میں حضرت ابراہیم ؑ نے حمد وثناء پیش کی اور پھر انبیاء سے مخاطب ہوکر فرمایا کہ انہی کمالات وفضائل کی وجہ سے تمام انبیاء کرام پر آپ ؐ کو فضیلت وبرتری عطا ہوئی ہے۔
جب آپ ؐ بیت المقدس کے امور سے فارغ ہوئے تو ایک سیڑھی لائی گئی ،یہ وہی سیڑھی ہے جس پر بنی آدم کی ارواح آسمان کی طرف چڑھتی ہیں اور آدمی مرتے وقت اس کی طرف نظر اٹھا کر دیکھتا ہے ،غرض حضرت جبرئیل ؑ کے ساتھ سیڑھی پر چڑھے یہاں تک کہ آسمان کے دروازہ پر پہنچے جس کا نام ’’باب الحفظہ ‘‘ ہے ،حافظ ابن کثیر ؒ فرماتے ہیں آپ ؐ اسی سیڑھی کے ذریعہ آسمان پر تشریف لے گئے اور بُراق بدستور مسجد اقصیٰ کے دروازہ پر بندھا رہا ،پھر جب آپ واپس ہوئے تو اسی براق کے ذریعہ مکہ مکرمہ تشریف لائے،پہلے آسمان پر پہنچے تو حضرت آدم ؑ سے ملاقات ہوئی ،انہوں نے آپ ؐکو مرحبا نبی صالح اور فرزند صالح کہہ کر استقبال کیا،دوسرے آسمان پر حضرت یحییٰ ؑ اور حضرت عیسیٰ ؑ جو دونوں خالہ زاد بھائی ہیں ملاقات ہوئی ،تیسرے آسمان پر حضرت یوسف ؑ سے مالاقات ہوئی ،چوتھے آسمان پر حضرت ادریس ؑ سے ملاقات ہوئی ،پانچویں آسمان پر حضرت ہارون ؑ سے ملاقات ہوئی ،چھٹے آسمان پر حضرت موسیٰ ؑ سے ملاقات ہوئی ،انہوں نے بھی مرحبا اے پیغمبر صالح اور برادر صالح کہہ کر استقبال کیا ،جب آپ ؐ آگے بڑھے تو وہ رونے لگے ،آواز آئی ائے موسیٰ اس وقت رونے کا سبب کیا ہے تو عرض کیا الٰہی میرے بعد آپ نے اس نوجوان کو مبعوث فرمایا ،مگر اس کی امت کے لوگ میری امت سے زیادہ جنت میں جائیں گے،ساتویں آسمان پر حضرت ابراہیم ؑ سے ملاقات ہوئی ،ابراہیم خلیل ؑ نے مرحبا ائے نبی صالح اور فرزند صالح کہہ کر آپ کا استقبال فرمایا ،حضرت جبرئیل ؑ نے تعارف کرواتے ہوئے فرمایا کہ یہ آپ کے باپ حضرت ابراہیم ؑ ہیں ، حضرت ابراہیم ؑ بیت المعمور (آباد گھر ) سے پیٹھ لگائے بیٹھے تھے ،بیت المعمور آسمانوں میں فرشتوں کا قبلہ ہے جو زمین کے قبلہ یعنی بیت اللہ شریف کے بالکل مقابل ہے ،روزانہ ستر ہزار فرشتے اس کا طواف کرتے ہیں جو ایک مرتبہ طواف کر لیتا ہے پھر دوبارہ اس کی باری نہیں آتی ،اس کے بعد آپ ؐ کو سدرۃ المنتہیٰ لے جایا گیا ،جو ساتویں آسمان پر ایک بیری کے درخت کی طرح ہے ،جس پرتجلیات ربانی کا ظہور ہوتا ہے ،،یہی وہ مقام ہے جہاں آپ ؐ نے حضرت جبرئیل ؑ کو ان کی اصلی صورت میں دیکھا ،اس کے بعد آپ ؐ کو جنت اور اس کے عجائبات اور جہنم اور اس کے عذابات کا مشاہدہ کروایا گیا،یہاں سے آپ ؐ کو مزید عروج عطا ہوا اور چلتے ہوئے آپ ایک ایسے مقام پر پہنچے جہاں سے صریف الاقلام(لکھتے وقت جو قلم کی آواز آتی ہے)سنائی دینے لگی ،اس جگہ قضاء وقدر کے قلم مشغول کتابت تھے ، بعض روایات میں ہے کہ یہاں سے آپ ؐ کو رفرف (سبز مخملی مسند ) کے ذریعہ بارگاہ اقدس تک پہنچایا گیا ،بارگاہ الٰہی میں پہنچ کر آپ ؐ کو حق تعالیٰ سے شرف تخاطب حاصل ہوا ،اس موقع پر بارگاہ الٰہی سے آپ ؐ کو تین تحفے عطا کئے گئے ،(۱)سورہ بقرہ کی آخری آیتیں ،(۲) شرک کے علاوہ دوسرے گناہوں کی معافی اور (۳) پانچ نمازیں، بارگاہ الٰہی سے آپ ؐ یہ تحفے لے کر آسمانوں سے اتر کر زمین پر تشریف لائے ، اور بیت المقدس سے براق کے ذریعہ صبح ہونے سے پہلے پہلے مکہ مکرمہ پہنچ گئے ،صبح ہونے پر واقعہ معراج کا جگہ جگہ تذکرہ ہونے لگا ، بیت اللہ شریف کے آس پاس سرداران ِقریش اپنی محفلیں منعقد کیا کرتے تھے ،آج جب ان کی نشستیں منعقد تھی توآپ ؐ بھی وہیں تشریف فرما تھے ،آپ ؐ نے ان سے سفر معراج کا ذکر فرمایا ،یہ سن کر سب سخت حیرت میں پڑ کر دانت میںا نگلیاں دبانے لگے ،ان میں سے بعضوں نے تالیاں بجاکر مذاق اُڑایا تو ان میں سے بعض نے تکذیب کی ،کسی نے بیت المقدس کے متعلق طرح طرح کے سوالات شروع کر دئیے کہ بیت المقدس کی عمارت کیسی ہے،اس کا نقشہ کیسا ہے ،اس میں دروازے کتنے ہیں وغیرہ وغیرہ ،اس پر آپ ؐ کو سخت بیقراری ہوئی ،لیکن اللہ تعالیٰ نے اس موقع پر اپنے محبوب ؐ کی مدد فرمائی اور بیت المقدس کی پوری عمارت کو آپ کے سامنے کر دیا گیا چنانچہ وہ سوال کرتے جاتے تھے اور آپ ؐ دیکھ کر جواب دیتے تھے ،ایک روایت میں ہے کہ چند کفار حضرت ابوبکر ؓ کے پاس آئے اور واقعہ معراج کا ذکرکرنے کے بعد ان سے رائے معلوم کی ،انہیں یقین تھا کہ ابوبکر ؓ اس واقعہ کی ضرور تکذیب کریں گے ،حضرت ابوبکر ؓ نے پوچھا کیا واقعی آپ ؐ نے ایسا فرمایا ہے ؟ لوگوں نے کہا ہاں ! اس پر حضرت ابوبکر ؓ نے فرمایا ’’جب میں اس بات پر یقین رکھتا ہوں کے آسمان سے روزانہ آپ ؐ کی خدمت میں فرشتے آتے جاتے رہتے ہیں تو اگر آج آپ ؐ خود چلے جائیں تو اس میں تعجب کی بات کیا ہے ،اسی دن سے حضرت ابوبکر ؓ کا لقب ’’صدیق ‘‘پڑ گیا(سیرت انبیاء بحوالہ الخصائص الکبریٰ :۱؍ ۱۷۶ )۔
Like this:
Like Loading...