Skip to content
واقعۂ معراج قرب الٰہی اور ایمان افروز سفر
✍🏻خامہ بکف محمد عادل ارریاوی
____
محترم حضرت اسلامی تاریخ میں بعض واقعات ایسے ہیں جو ایمان کو جلا بخشتے دلوں کو نور عطا کرتے اور انسان کو ربِ کائنات کی قدرت و عظمت کا عملی مشاہدہ کراتے ہیں ان ہی عظیم اور بے مثال واقعات میں واقعۂ معراج کو ایک منفرد مقام حاصل ہے یہ وہ روح پرور سفر ہے جس میں اللہ ربّ العزت نے اپنے محبوب نبی حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو نہ صرف زمین سے آسمانوں کی سیر کرائی بلکہ اپنی خاص قربت اور بے شمار انعامات سے بھی نوازا یہ واقعہ محض ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ امت مسلمہ کے لیے ایمان عبادت اطاعت اور قربِ الٰہی کا لازوال پیغام ہے۔ پاک ہے وہ ذات جس نے اپنے محبوب بندے حضرت محمد مصطفٰی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو ایک ہی رات میں مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک سیر کرائی اس مسجد تک جس کے اطراف ہم نے برکتیں رکھی ہیں تاکہ ہم انہیں اپنی قدرت کی نشانیاں دکھائیں واقعۂ معراج اس وقت پیش آیا جب رسول اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم طائف کے سفر سے دل گرفتہ اور بظاہر ناکام ہو کر واپس تشریف لائے تقریباً تیس صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے اس عظیم واقعے کی روایات بیان کی ہیں ان روایات کا خلاصہ یہ ہے کہ حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم حضرت ام ہانی رضی اللہ عنہا کے گھر میں آرام فرما رہے تھے کہ حضرت جبرئیل علیہ السلام حاضر ہوئے اور آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو لے کر مقام حطیم پہنچے وہاں آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا سینۂ مبارک شق کیا گیا قلبِ اطہر کو آبِ زمزم سے غسل دیا گیا پھر سونے کا ایک طشت لایا گیا جو ایمان اور حکمت سے لبریز تھا اور وہ نورانی صفات حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے سینے میں بھر دی گئیں
اس کے بعد براق کو پیش کیا گیا جو سفید رنگ کا ایک نورانی جانور تھا اس کی رفتار اس قدر تیز تھی کہ جہاں تک نظر جاتی وہیں اس کا قدم پڑتا اسی براق کے ذریعے رسولِ اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو مسجد اقصیٰ لے جایا گیا وہاں تمام انبیائے کرام علیہم السلام نے حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی اقتدا میں دو رکعت نماز ادا کی نماز کے بعد حضرت جبرئیل علیہ السلام دو پیالے لائے ایک میں دودھ اور دوسرے میں شراب تھی رسول اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے دودھ والا پیالہ اختیار فرمایا اس پر حضرت جبرئیل علیہ السلام نے عرض کیا اے محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم آپ نے فطرتِ سلیمہ کو اختیار فرمایا پھر حضرت جبرئیل علیہ السلام حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو آسمانوں کی طرف لے چلے سب سے پہلے آسمان پر پہنچے حضرت جبرئیل نے آسمان کا دروازہ کھلوانا چاہا دربان فرشتے نے پوچھا کون ہے؟ جواب دیا گیا جبرئیل پھر پوچھا گیا آپ کے ساتھ کون ہے؟ فرمایا محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم دوبارہ سوال ہوا کیا انہیں بلایا گیا ہے؟ جواب ملا ہاں انہیں بلایا گیا ہے تب دروازہ کھولا گیا اور مرحبا و خوش آمدید کہا گیا۔
اسی طرح ایک ایک کر کے ہر آسمان پر کسی نہ کسی نبی سے ملاقات ہوتی رہی باہمی گفتگو ہوئی اور سوال و جواب کا سلسلہ جاری رہا اس سفر کے دوران رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو جنت اور دوزخ کا مشاہدہ بھی کرایا گیا اور اللہ تعالیٰ کی بے شمار حیرت انگیز نشانیاں دکھائی گئیں۔ صحیح مسلم کی روایت کے مطابق اللہ تعالیٰ نے معراج کے موقع پر رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو تین عظیم تحفے عطا فرمائے حدیث میں حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو معراج پر لے جایا گیا تو آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو سدرة المنتہیٰ تک پہنچایا گیا جو چھٹے آسمان پر واقع ہے زمین سے اوپر جانے والی اور آسمان سے نیچے آنے والی تمام چیزیں یہاں آ کر ٹھہر جاتی ہیں اللہ تعالیٰ نے فرمایا (اِذْ يَغْشَى السِّدْرَةَ مَا يَغْشَى) یعنی اس درخت کو ایسی چیزوں نے ڈھانپ لیا جن کا احاطہ بیان میں نہیں آ سکتا حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ وہ سونے کے پروانوں کی مانند تھیں
راوی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو تین تحفہ عطا کی گئیں
(1) پانچ وقت کی نمازیں
(2) سورۂ بقرہ کی آخری آیات
(3) اور یہ خوشخبری کہ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی امت کے ان افراد کی مغفرت کر دی جائے گی جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں اور کبیرہ گناہوں سے اجتناب کریں۔ (صحیح مسلم باب سدرة المنتهى كابيان (431)
آخر میں اتنا کہوں گا کہ واقعہ معراج ہمیں امید یقین اور عمل کا پیغام دیتی ہے اور یہ سکھاتی ہے کہ مومن اگر مشکلات میں بھی اللہ سے وابستہ رہے تو وہ دن ضرور آتا ہے جب اللہ اس کو اپنے خاص انعامات سے نوازتا ہے
اے اللہ ربّ العزت ہمیں نماز کی پابندی نصیب فرما ہمارے دلوں کو ایمان کی روشنی سے منور کر
ہمیں اپنے محبوب صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے طریقے پر چلنے کی توفیق دے اور ہمیں اپنی قربت اور رضا عطا فرما آمین یارب العالمین
Like this:
Like Loading...