Skip to content
ممبئی میونسپل کارپوریشن BMC کے نتیجوں کا مختصر جائزہ
ازقلم: شیخ سلیم ( ویلفیئر پارٹی آف انڈیا)
کل 227 سیٹیں
بھاجپا 85
شیو سینا اُدھو ٹھاکرے 72
شیو سینا شِندے 26
کانگریس 21
منسے 11
این سی پی اجیت پَوار 2
این سی پی شرد پَوار 1
مجلس اتحاد المسلمین ….
حالانکہ بھارتیہ جنتا پارٹی سب سے بڑی پارٹی بن گئی ہے شیو سینا شِندے کے ساتھ مل کر اپنا میئر بھی بنا سکتی ہے۔ اسمبلی انتخابات کے مقابلے میں اپوزیشن کی بہتر کارکردگی ہے۔ شیو سینا اُدھو ٹھاکرے دوسری بڑی پارٹی بن گئی ہے اب وہ راج ٹھاکرے کی منسے اور کانگریس کے ساتھ مل کر ایک مضبوط حزب اختلاف بن کر اپنا رول ادا کر سکتی ہے۔ یعنی شیو سینا کو بمبئی سے بالکل ختم کرنے کا منصوبہ کامیاب نہیں ہو سکا۔ شیو سینا کی شروعات بھی ایک مضبوط حزب اختلاف کے طور پر ہوئی تھی اور 1966 میں پارٹی بننے کے 25 سال بعد ان کا قبضہ BMC پر ہوا تھا وہ حالات الگ تھے اور یہ حالات الگ ہیں شہری علاقوں میں بہت ساری تبدیلیاں آ گئی ہیں اس وقت مزدوروں کی اکثریت ہوا کرتی تھی مل مزدور ہوتے تھے رفتہ رفتہ سب بدل گیا ہے اب مزدور بمبئی میں گھر نہیں خرید سکتے مزدور اور غریب طبقہ بمبئی سے باہر رہنے پر مجبور ہے۔ شیو سینا کا روایتی ووٹ بھی لگتا ہے کھسک گیا ہے۔ اس الیکشن میں دونوں این سی پی کا بھی تقریباً کام تمام ہو گیا ہے۔
ابھی ہمیں یہ پتہ نہیں چلا سماج وادی اور مجلس اتحاد المسلمین کو بمبئی میں کتنا ووٹ حاصل ہوا۔
اورنگ آباد میں مجلس اتحاد المسلمین کو 33 سیٹیں مالیگاؤں میں 22 سیٹیں ناندیڑ میں 15 سیٹیں حاصل ہوئی ہیں اور مجلس اتحاد المسلمین ایک مضبوط پارٹی بن کر ابھری ہے ۔تقریباً مہاراشٹر کے سبھی بڑے شہروں پر بھاجپا کا قبضہ ہو گیا ہے این سی پی اور شِندے کے بغیر بھی اب بھاجپا تن تنہا سبھی شہروں میں اپنا میئر بنا لے گی ٹرپل انجن کی سرکار سے سماج میں کیا تبدیلیاں واقع ہونے والی ہیں اس پر فوری طور پر بیٹھ کر فکر کرنے کی ضرورت ہے
Like this:
Like Loading...