Skip to content
ووٹ کے بعد کیا؟
ازقلم: انجینئر قاضی غفران اکولہ
7744938137
تمام منتخب ہونے والے امیدواران کو دل کی گہرائیوں سے بہت بہت مبارکباد۔ آپ کی محنت اور شہریوں کی بھرپور حمایت رنگ لے آئی اور آپ کامیاب ہوئے۔
جمہوریت کی اصل خوبصورتی یہی ہے کہ شہریوں کا نمائندہ، شہریوں ہی کے ووٹوں سے منتخب ہوتا ہے۔ تاہم یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ شہریوں کی ذمہ داری صرف ووٹ ڈالنے تک محدود نہیں ہوتی، بلکہ ووٹ دینے کے بعد منتخب نمائندوں سے سوال کرنا، ان سے کارکردگی کی توقع رکھنا اور انہیں ان کی ذمہ داریوں کا احساس دلانا بھی ایک آئینی اور جمہوری فریضہ ہے۔
یہ انتخابات میونسپل کارپوریشن اور بی ایم سی کے ہیں۔ شہریوں نے ووٹ اس امید پر دیا ہے کہ گلی محلوں کی صفائی بہتر ہو، صاف اور شفاف پانی دستیاب ہو، صحت اور تعلیم کی بنیادی سہولیات میسر ہوں، خواتین اور بچوں کے مسائل کو ترجیح دی جائے، لڑکیوں اور نوجوانوں کو اسکل ڈیولپمنٹ پروگرامز کے مواقع فراہم کیے جائیں، غریب اور کمزور طبقات تک حکومت کی مختلف فلاحی اسکیمیں پہنچیں، علاقے میں انفراسٹرکچر کی ترقی ہو، بچوں کے لیے پارکس اور کھیل کے میدان قائم ہوں، اور خاص طور پر وہ مسلم اور پسماندہ علاقے جہاں آج تک لے آؤٹ موجود نہیں، وہاں رہائشی مکانات کو قانونی تحفظ فراہم کیا جائے تاکہ کسی کا گھر بلڈوزر کی زد میں نہ آئے۔
اس سے پہلے کہ نومنتخب نمائندے اپنی ذمہ داریوں سے غافل ہو جائیں، ہر گلی محلے کے بااثر افراد، تعلیم یافتہ نوجوانوں اور طلبہ پر مشتمل ایک وفد کو چاہیے کہ وہ اپنے نمائندے سے ملاقات کرے، انہیں مبارکباد دے، اور اس اہم سوال پر بات چیت کرے:
کیا آپ کے پاس ہمارے علاقے کی ترقی کے لیے کوئی واضح، تعمیری اور قابلِ عمل ایکشن پلان موجود ہے؟
یہ بھی توقع کی جاتی ہے کہ آئندہ تمام ترقیاتی کاموں میں شفافیت اختیار کی جائے گی، اور فنڈز کے استعمال سے متعلق تفصیلات شہریوں کے سامنے پیش کی جائیں گی۔ عوامی رابطے کو مضبوط بنانے کے لیے ماہانہ عوامی دربار، شکایات کے ازالے کے لیے آن لائن اور آف لائن نظام قائم کیا جائے گا، اور ایسا ماحول فراہم کیا جائے گا جہاں شہری بلا خوف و جھجھک اپنی بات رکھ سکیں۔
ریاست مہاراشٹر میں الیکشن کمیشن کی جانب سے جلد ہی SIR کے آغاز کے امکانات ہیں۔ اس تناظر میں شہریوں کو چاہیے کہ وہ اپنے نگر سیوک سے مطالبہ کریں کہ فوری طور پر مفت دستاویز درستی کیمپ منعقد کیے جائیں، شہریوں کو SIR کے طریقۂ کار سے آگاہ کیا جائے، اور کسی کو بھی لاعلمی کی وجہ سے غیر ضروری پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
نگر سیوک کا کام صرف اپنے گھر کے آس پاس صفائی کروانا، چند سڑکیں اور نالیاں بنوانا یا پانچ سال کے دوران ذاتی مفادات تک محدود رہنا نہیں ہے، بلکہ جن جن شہریوں نے آپ کو ووٹ دیا ہے، اُن تمام علاقوں کی یکساں ترقی کو یقینی بنانا آپ کی آئینی، اخلاقی اور عوامی ذمہ داری ہے۔
شہریوں کو یہ جاننے کا حق ہے کہ ترقیاتی فنڈز کہاں خرچ ہوں گے، کس بنیاد پر خرچ ہوں گے، اور ان کی نگرانی کا نظام کیا ہوگا۔ نگر سیوک کا منصب ذاتی فائدے کے لیے نہیں بلکہ شہریوں کی خدمت اور علاقے کی مجموعی ترقی کے لیے ہوتا ہے۔
شہری اب بیدار، باخبر اور باشعور ہیں۔ وہ صرف وعدے نہیں بلکہ عملی کارکردگی دیکھنا چاہتے ہیں۔ شہریوں نے موقع دیا ہے، اب کارکردگی ہی طے کرے گی کہ یہ اعتماد برقرار رہے گا یا نہیں۔
Like this:
Like Loading...