Skip to content
ممتا بنرجی بنام امیت شاہ :
شکار کرنے کو آئے شکار ہوکے چلے
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
مرکزکی مودی حکومت اور ریاستِ بنگال کی ممتا سرکار فی الحال سڑکوں سے عدالت تک ایک دوسرے سے برسرِ پیکار ہیں ۔ آئی پیک کے سربراہ پرتیک جین کے گھر اور دفتر پر ای ڈی کی تلاشی مہم کے واقعات پر کولکاتہ ہائی کورٹ میں دو مفاد عامہ کی عرضیاں دائر کی گئیں۔ ان میں سے پہلی عرضی ترنمول نے دائر کی۔ اس کا موقف ہے کہ ای ڈی نے غیر قانونی طور پر تلاشی لی ہے اور اس کا مقصد انتخابی دستاویزات اور حکمت عملی چوری کرنا تھا۔ دوسری طرف، ای ڈی نے سرکاری کام میں رکاوٹ ڈالنے کا الزام لگاتے ہوئے مقدمہ دائر کیا گیا۔ مرکزی تحقیقاتی ایجنسی کا دعویٰ ہے کہ کوئلہ اسمگلنگ کیس کی معلومات اور دستاویزات ‘چوری’ کی گئی ہیں اور ای ڈی افسران کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ ای ڈی نے عدالت سے اس معاملے کو خارج کرنے اور ممتا بنرجی کو فریق بنانے کی درخواست کی ۔ اس معاملے میں سماعت شروع ہوئی تو ای ڈی نے یہ کہہ کر ہتھیار ڈال دئیے کہ اس نے تو کوئی دستاویز لیے ہی نہیں۔ سوال یہ ہے کہ وہ وہاں گئے کیوں تھے؟ ان کے ہاتھ سے ممتا بنرجی کاغذات و فائل چھین کر لے گئیں تو وہ بے یارو مددگار دیکھتے کیوں رہ گئے ۔ ان کی ہتھیلی پر مہندی لگی تھی یا ہاتھوں میں چوڑیاں تھیں جن کے ٹوٹنے کے ڈر سے ان لوگوں نے سب کچھ ممتا کے قدموں میں رکھ دیا۔ اس مطلب تو یہ ہے کہ ڈرانے والے ڈر گئے یا امیت شاہ نے جن کو ممتا کا شکار کرنے کے لیے بھیجا تھا وہ خود شکار ہوکے لوٹے آئے۔
امیت شاہ نے کولکاتہ میں ای ڈی بھیج کراپنا پیرایسی کلہاڑی پر مارلیا کہ خود لہو لہان ہوگئی۔ بی جے پی کاایک پرانا حربہ ہے اس بار الٹا پڑگیا۔ یہ لوگ علاقائی جماعت کے کندھے پر سوار ہوکر کسی بھی صوبے میں داخل ہوتےہیں اور پھر اسی کا گلا گھونٹ دیتے ہیں۔ ملک میں اس سازش کی شکار کئی مثالیں موجود ہیں ۔ اڑیشہ کے اندر یہ لوگ نوین پٹنائک کی سیڑھی پر چڑھ کر اقتدار کے گلیاروں میں پہنچے اور اسے لات مار کر قدموں تلے روند دیا۔ بہار میں نتیش کمار کی بیساکھی پر داخل ہوئے اور انہیں اپنے جھانسے میں لے کر معذور کردیا۔ مہاراشٹر میں تو ان لوگوں نے کمال نمک حرامی دکھائی ۔ شیوسینا کی پیٹھ میں چھرا گھونپ کر پہلے اسے توڑا اور اب ایک ایک کرکے نگلنے کے فراق میں ہے۔ ممتا بنرجی کے معاملے میں دو مرتبہ کی شکست کے بعد جب مودی اور شاہ کو احساس ہوگیا کہ ان کو سیدھے سیدھے ہرا نہیں کرسکتے تو ای ڈی کا چھاپہ مار کر ڈرانے کی کوشش کی گئی۔ انہیں توقع رہی ہوگی کہ یا تو ممتا بنرجی ڈر کر مصالحت پر آمادہ ہوجائیں گی یا اس کے ڈرپوک سے ٹی ایم سی میں بغاوت ہوجائے گی اوروہ بی جے پی کی پناہ میں آجائیں گے لیکن ایسا نہیں ہوا بلکہ بازی ہی الٹ گئی اور بی جے پی کو لینے کے دینے پڑگئے۔ ممتا بنرجی نے گھسی پٹی چال چلنے والے امیت شاہ کو باصر کاظمی کے الفاظ میں یہ جواب دےدیا کہ ؎
کرنا ہے گر مجھے شکار لا کوئی جال مختلف
شاطر ہے تو اگر تو اب چل کوئی چال مختلف
بی جے پی کو اس بات کا یقین ہے کہ وہ ممتا بنرجی کو گرفتار کرنے کا خطرہ نہیں مول لے سکتی ۔ ممتا تو دور ان کے بھتیجے ابھیشیک بنرجی جن کے خلاف مرکزی حکومت نے کئی مقدمات درج کررکھے ہیں مثلاً گائے چوری وغیرہ ۔ وہ کھلم کھلا چیلنج کرتے ہیں کہ اگر ہمت ہے تو گرفتار کرکے دِکھاو لیکن بی جے پی جانتی ہے کہ ایسا کرنا ان کی مقبولیت میں غیر معمولی اضافے کا سبب بنے گا۔ وہ ٹی ایم سی کے دفتر کی جانب بھی آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھ سکتی کیونکہ اس کے کارکنان ہلہ بول دیں گے اس لیے نرم چارہ کے طور پر کولکاتہ میں واقع سالٹ لیک سیکٹر فائیو کے سیاسی کنسلٹنسی فرم انڈین پولیٹکل ایکشن کمیٹی عرف آئی پیک دفترپر چھاپہ مار کر تلاشی کی مذموم سازش رچی گئی۔ یہ ادارہ ٹی ایم سی کا صلاح کار ہے۔ اس کے لیے سروے کرنا اور عوامی رحجان کی روشنی میں سیاسی حکمت عملی بنانا اسی کی ذمہ داری ہے۔ ٹی ایم سی کی تشہیری مہم بھی یہی ادارہ چلاتا ہے ایسے میں اس کے دفتر سمیت سربراہ پرتیک جین کے گھر پر ای ڈی کا چھاپہ کوئی معمولی واردات نہیں تھی۔ اس چھاپہ ماری کے ذریعہ پورے مغربی بنگال میں دہلی کی دہشت پھیلانا بہت آسان تھا مگر اس پر ماتم کرنے یا خاموش تماشائی بنے رہنے کے بجائے ترنمول سپریمو ممتا بنرجی نے میدان میں اتر کر بی جے پی کے ہوش اڑا دئیے۔
ممتا کے ہائی پروفائل ڈرامہ کا یہ اثر ہوا کہ اس کے بعد انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کو ایک باضابطہ بیان جاری کرکے ممتا کے الزامات کو مسترد کرنا پڑا جو اس پڑنے والے دباو کا اعتراف ہے۔ اس کی وجہ وزیراعلیٰ کے ذریعہ ای ڈی افسران کے خلاف الیکٹرانک کمپلیکس اور شیکسپیئر سرانی تھانے میں شکایات درج کرانا تھا۔ پولیس کے ڈر نے مرکزی ایجنسی کو عدالت سے رجوع کرنے پر مجبور کردیا ۔ وہاں پر اس نے دعویٰ کیا کہ ممتا بنرجی نے ای ڈی افسر پرشانت چانڈیلا سے زبردستی ڈیجیٹل دستاویزات چھین لیں۔ اس واقعہ کی تفصیلی رپورٹ دہلی ہیڈ کوارٹر بھیج دی گئی ہے، جہاں سے اسے وزارت داخلہ بھیجا جا سکتا ہے۔ ای ڈی نے عدالت میں یہ مؤقف اختیار کیا کہ جانچ کے دوران دانستہ طور پر ایسی کارروائیاں کی گئیں جن سے تفتیشی عمل متاثر ہوا اور سرکاری کام میں رکاوٹ پیداڈالی جائے۔ ایجنسی نے معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے سی بی آئی جانچ کی اجازت مانگی اور فوری سماعت کی درخواست بھی دی۔ ہائی کورٹ کی جسٹس سوورا گھوش نے ابتدائی سماعت کے دوران ای ڈی کو مقدمہ درج کرنے کی اجازت دے دی اور دوپہر 2:30 بجے کا وقت تفصیلی سماعت کے لیے مقرر کیا۔
ہائی کورٹ میں کو ای ڈی کے وکیل نے گہار لگائی کہ چھاپہ کے دوران وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے مبینہ طور پر کچھ اہم فائلیں اور الیکٹرانک دستاویزات اپنے قبضہ میں لے لئے، جس سے جانچ میں براہ راست خلل پڑا۔ ایجنسی کا کہنا ہے کہ یہ اقدام تفتیشی عمل کو متاثر کرنے کے مترادف ہے اور اس پر سنجیدگی سے غور کیا جانا چاہیے۔ ای ڈی نے یہ بھی استدعا کی کہ اسی معاملے سے متعلق ترنمول کانگریس کی درخواست کو پہلے سے زیر سماعت تمام متعلقہ درخواستوں کے ساتھ جوڑ کر مشترکہ سماعت کی جائے تاکہ حقائق کا جامع جائزہ لیا جا سکے۔ ای ڈی کی درخواست میں وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کو بھی فریق بنایا گیا ہے۔ عدالت میں یہ مؤقف رکھا گیا کہ دو مختلف مقامات پر جاری تلاشی اور ضبطی کے دوران مرکزی ایجنسی کے اہلکاروں کے کام میں رکاوٹ ڈالناآئینی منصب کا مبینہ غلط استعمال ہے۔ اس کے برعکس ترنمول نے بھی جوابی الزامات لگائے ۔اگلے دن اس کیس میں ترنمول کی جانب سے وکیل کلیان بنرجی کو بحث کرنی تھی۔ کمرہ عدالت میں ریاستی وزیر چندریما بھٹاچاریہ بھی موجود تھیں۔ جسٹس شبھرا گھوش بھی مقررہ وقت پر پہنچ گئیں، لیکن وہاں اس قدر ہجوم اور ہنگامہ تھا کہ جج نے کمرہ خالی کرنے کا حکم دیا۔ انہوں نے کچھ وقت بھی دیا، لیکن جب کمرہ خالی نہیں ہوا تو جسٹس گھوش اٹھ کر چلی گئیں اور سماعت کے لیے 14 جنوری کی تاریخ مقرر کردی۔
حزب اختلاف کے رہنما شبھیندو ادھیکاری نے الزام لگایا کہ یہ پورا واقعہ ترنمول کی ایک سوچی سمجھی منصوبہ بندی کا حصہ تھا اور ثبوت کے طور پر سوشل میڈیا کے ترنمول کے ایک واٹس ایپ گروپ کی چیٹ کا اسکرین شاٹ پیش کیا جس میں لکھا تھا، "سب لوگ کورٹ نمبر 5 میں آ جائیں۔” شبھیندو کا الزام ہے کہ اس طرح سب کو بلا کر کمرہ عدالت بھرا گیا تاکہ سماعت میں رکاوٹ ڈالی جا سکے۔ ترنمول کانگریس نے اس الزام کے جواب میں کہا کہ یہ ان کے معمول کا طریقہ ہے اور وہ اسی طرح کیس کی تاریخ پر تمام وکلاءکو مطلع کیا جاتاہے۔ ترنمول لیگل سیل کے کنوینر انیت داس نے کہا، "ہم 2019 سے یہی کر رہے ہیں۔ سب کو اسی طرح مطلع کیا جاتا ہے۔ بی جے پی اور سی پی ایم ہمارے اندرونی معاملات کو لے کر ہماری شبیہ خراب کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ ترنمول کانگریس کے اس زبردست پلٹ وار کے بعد جب کوئی امیت شاہ کے اس دعویٰ کو یاد کرتا ہے کہ ’لکھ کر رکھ لو ، اس بار بنگال میں ہماری سرکارضرور بنے گی‘‘، تو ہنسی آتی ہے اور مکر سنکراتی کے دن ان کے ہاتھوں سے کٹی ہوئی پتنگ یاد آتی ہے کیونکہ احمد آباد میں تو صرف ہوا میں اڑنے والی ایک پتنگ کی ڈور کٹ گئی مگر کولکاتہ میں تو ای ڈی کی ناک کٹ گئی۔ ای کا اس طرح خوفزدہ دراصل بی جے پی سمیت امیت شاہ کی رسوائی ہے۔ اس کو دیکھ کر مشہور فلمی نغمہ کا ایک مصرع ’شکار کرنے کو آئے شکار ہوکے چلے ‘ یاد آتا ہے۔
Like this:
Like Loading...