Skip to content
نفرت کا پھیلاؤ اور جمہوریت کی کمزور ہوتی بنیادیں
از : عبدالحلیم منصور
ہندوستان میں نفرت اب کسی وقتی اشتعال، کسی ہجوم کے اچانک بپھر جانے یا کسی ایک واقعے تک محدود نہیں رہی۔ یہ ایک منظم، بتدریج اور باقاعدہ تشکیل پانے والے رویّے کی صورت اختیار کر چکی ہے، جو اقتدار کی زبان، ریاستی اداروں کے طرزِ عمل، میڈیا کے بیانیے اور عوامی شعور کو خاموشی سے متاثر کر رہا ہے۔ یہ نفرت شور نہیں مچاتی، نعرے نہیں لگاتی، بلکہ آہستہ آہستہ روزمرہ زندگی کا حصہ بن جاتی ہے۔ سب سے تشویشناک مرحلہ وہ ہوتا ہے جب ظلم غیر معمولی نہیں رہتا، بلکہ “قابلِ فہم”، “قابلِ جواز” اور بعض اوقات “ناگزیر” سمجھا جانے لگتا ہے۔
یہ تبدیلی کسی ایک دن میں نہیں آئی۔ برسوں پر محیط سیاسی ترجیحات، ادارہ جاتی خاموشی، منتخب قانونی رویّے اور سماجی بے حسی نے مل کر ایک ایسا ماحول پیدا کیا ہے جس میں تعصب غیر محسوس طریقے سے معمول بنتا چلا گیا۔ آج مسئلہ یہ نہیں کہ نفرت انگیز واقعات ہو رہے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ وہ اب اجتماعی ضمیر کو جھنجھوڑتے نہیں۔ خبر آتی ہے، اسکرین پر چلتی ہے، بحث ہوتی ہے اور پھر اگلے دن سب کچھ معمول پر آ جاتا ہے—جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔
اس رجحان کو محض تاثر یا جذباتی بیانیہ کہہ کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ اب اس کے شواہد منظم تحقیق اور اعداد و شمار میں سامنے آ چکے ہیں۔ امریکہ میں قائم تحقیقی ادارے انڈیا ہیٹ لیب کے مطابق، صرف سال 2025 میں ہندوستان میں 1,318 نفرت انگیز واقعات ریکارڈ کیے گئے، جو 2024 میں درج 1,165 اور 2023 کے 668 واقعات کے مقابلے میں واضح اضافہ ظاہر کرتے ہیں۔ یہ محض عددی فرق نہیں بلکہ ایک گہرے سماجی رجحان کی نشاندہی ہے۔ رپورٹ یہ بھی بتاتی ہے کہ ان واقعات کی بڑی تعداد ان ریاستوں میں پیش آئی جہاں نظریاتی سیاست کا غلبہ ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ نفرت کسی ایک جماعت کی ایجاد ہے، لیکن یہ ضرور ظاہر ہوتا ہے کہ موجودہ سیاسی فضا نے اس کے تدارک کے بجائے اکثر چشم پوشی اختیار کی ہے۔
نفرت کا یہ بڑھتا ہوا رجحان صرف سڑکوں، بازاروں یا ہجوم تک محدود نہیں رہا بلکہ ثقافت، فن اور تخلیقی اظہار میں بھی سرایت کر چکا ہے۔ اسی تناظر میں عالمی شہرت یافتہ موسیقار اے آر رحمان کا یہ بیان غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے کہ دہائیوں پر محیط خدمات، آسکر ایوارڈ اور بے شمار کامیاب فلموں کے باوجود انہیں بالی ووڈ میں آج بھی “باہر کا آدمی” محسوس ہوتا ہے۔ یہ محض ایک فرد کا تجربہ نہیں بلکہ اس ذہنیت کی علامت ہے جو زبان، ثقافت اور شناخت کی بنیاد پر نظر نہ آنے والی سرحدیں قائم کرتی ہے۔
رحمان نے اس طرف اشارہ کیا کہ گزشتہ چند برسوں میں تخلیقی افراد کے ہاتھ سے اختیار نکلتا جا رہا ہے اور نظریاتی تنگ نظری فن کے دائرے کو بھی متاثر کر رہی ہے۔ یہ بیان نہ الزام ہے اور نہ شکایت، بلکہ ایک سنجیدہ سوال ہے: اگر ایک عالمی سطح کا فنکار خود کو غیر متعلق محسوس کرے، تو عام شہری، کمزور طبقے یا اختلاف رکھنے والے فرد کے لیے فضا کتنی تنگ ہو چکی ہوگی، اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔
یہاں سیاست اور ثقافت الگ الگ دائرے نہیں رہتیں۔ جب معاشرہ تنوع کو طاقت کے بجائے خطرہ سمجھنے لگے تو اس کا اثر صرف تشدد تک محدود نہیں رہتا، بلکہ زبان، ادب، موسیقی اور سوال کرنے کے حق پر بھی پڑتا ہے۔ نفرت تخلیقی ذہنوں کو سکیڑ دیتی ہے اور مکالمے کی جگہ خاموشی کو فروغ دیتی ہے۔
اس پورے عمل کا سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ نفرت کو اکثر قانون، نظم و ضبط یا قومی سلامتی کے نام پر جواز دیا جاتا ہے۔ لیکن جب قانون کا اطلاق جرم کی نوعیت کے بجائے شناخت کی بنیاد پر ہونے لگے، جب متاثرہ فرد ہی سب سے پہلے مشکوک ٹھہرے، اور جب انصاف کا عمل اس قدر طویل ہو جائے کہ وہ خود سزا کی صورت اختیار کر لے، تو یہ محض انتظامی ناکامی نہیں بلکہ ایک سنگین اخلاقی بحران بن جاتا ہے۔ نفرت اس وقت سب سے زیادہ طاقتور ہو جاتی ہے جب وہ خود کو “معمول” کے طور پر پیش کرنے لگے۔
میڈیا کا کردار اس پورے منظرنامے میں فیصلہ کن ہے۔ بدقسمتی سے، ٹی وی مباحث اور سوشل میڈیا بیانیے اکثر اصل مسائل سے توجہ ہٹا کر شناختی تنازعات میں الجھ جاتے ہیں۔ بے روزگاری، مہنگائی، تعلیم، صحت اور معاشی ناہمواری جیسے بنیادی سوال پس منظر میں چلے جاتے ہیں، جبکہ یہ بحث مرکزی بن جاتی ہے کہ کون “اصل شہری” ہے اور کون نہیں۔ قتل “تصادم” کہلاتا ہے، منظم بائیکاٹ “مقامی کشیدگی” بن جاتا ہے، اور نفرت انگیز تقاریر کو “دلیرانہ رائے” کا نام دے دیا جاتا ہے۔ یوں تشدد ایک اخلاقی صدمہ نہیں رہتا بلکہ روزمرہ خبر بن جاتا ہے—دیکھا، سنا اور بھلا دیا گیا۔
یہ بھی سچ ہے کہ اس صورتِ حال کی ذمہ داری صرف حکمرانوں پر نہیں ڈالی جا سکتی۔ سماج کی خاموشی، متوسط طبقے کی بے حسی اور سیاسی مخالفین کی کمزور مزاحمت بھی اسی فضا کو مضبوط بناتی ہے۔ جب نفرت کو “انتخابی حقیقت” سمجھ کر قبول کر لیا جائے اور مساوات کو “عملی سیاست” کے نام پر مؤخر کر دیا جائے، تو دراصل اسی نفرت کو دوام ملتا ہے۔
تاریخ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ نفرت کبھی ایک حد پر نہیں رکتی۔ ابتدا میں اس کا ہدف کوئی ایک گروہ بنتا ہے، مگر وقت کے ساتھ اس کا دائرہ پھیلتا جاتا ہے۔ آج اقلیتیں نشانے پر ہیں، کل اختلاف رکھنے والے، صحافی، فنکار اور طلبہ بھی اسی منطق کے تحت سوالیہ نشان بن سکتے ہیں۔ “دوسروں” کے لیے بنائے گئے اصول آخرکار سب پر لاگو ہونے لگتے ہیں۔
اسی لیے آج ہندوستان کے سامنے اصل سوال یہ نہیں کہ نفرت موجود ہے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ کیا اسے اقتدار کی زبان کے طور پر قبول کر لیا جائے یا اسے آئینی اقدار، انسانی وقار اور سماجی ہم آہنگی کے منافی سمجھ کر روکا جائے۔ اس مرحلے پر خاموشی غیر جانبداری نہیں رہتی بلکہ عملی شراکت بن جاتی ہے۔
نفرت کا تدارک کسی ایک قانون، ایک تقریر یا ایک انتخاب سے ممکن نہیں۔ اس کے لیے ایسی سیاست درکار ہے جو شہریوں کو بانٹنے کے بجائے جوڑے، ایسی صحافت جو طاقت سے سوال کرے، ایسا تعلیمی نظام جو تنوع کو خطرہ نہیں بلکہ حقیقت سمجھے، اور سب سے بڑھ کر ایسا سماجی رویّہ جو اختلاف کو دشمنی میں بدلنے سے انکار کرے۔ بھائی چارہ کوئی کمزوری نہیں بلکہ کسی بھی جمہوری معاشرے کی اصل طاقت ہے۔
سب چراغوں کو ہوا دے کے بجھایا کس نے
یہ دیا پوچھ رہا ہے کہ اندھیرا کیا ہے
haleemmansoor@gmail.com
Like this:
Like Loading...