Skip to content
مہاراشٹر کے مقامی انتخابات مجلس اتحاد المسلمین کی زبردست جیت.
جیت کا جشن منائیں لیکن چیلینجز سے نمٹنے لائحہ عمل بھی ناگزیر
ازقلم:ع۔و شیخ۔ ممبئی
مہاراشٹر کے سیاسی سانتخابات کے نتائج دلچسپ رہے۔ ایک طرف بی جے پی سپنی روش پر قائم رہتے ہوئے اپنے سابقہ ہمنوا پارٹیوں کا کیا حشر کرتی ہے اس جانب سب کی نظریں تھیں تو دوسری جانب تقسیم شدہ شیوسینا اور نینشلسٹ کانگریس پارٹیوں کی ریاستی انتخابات میں کمزوری کے بعد کا حشر بھی آنکھوں کے سامنے تھا ۔ انجام ہوا بھی عین امیدوں کے مطابق ۔ بی جے پی نے ۲۹ میونسپل کارپوریشن سنتخابات میں 1 ہزار 425 نشستوں پر کامیابی حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ ممبئی سمیت 29 کارپوریشن پر اپنا قبضہ جمالیا جس سے ’ترقی پسند ’ کہے جانے والی ریاست کا مستقبل ’ وائبرنٹ گجرات’ کی طرح کیا ہوگا یہ واضح ہے۔ ان انتخابات میں ایک اور دلچسپ پہلو مجلس اتحاد المسلمین یعنی ایم آئی ایم کی بھی طاقت کا مظاہر ہوا۔ مہاراشٹر میں ناندیڑ سے سیاسی سفر شروع ہو کر وہاں ختم ہونے کی دہلیز پر پہنچنے تک اورنگ آباد مجلس کا گڑھ بن چکا تھا۔ اورنگ آباد میں مجلس نے اب کی بار 33 نشستوں پر زور دار کامیابی حاصل کی جبکہ اس سے قبل وہ یہاں 25 سیٹیں جیتی تھی۔ مجموعی طور پر مجلس نے ریاست بھر میں 126 سیٹ جیت کر شاندار کامیابی کا مظاہرہ کیا ہے۔ ہر چند کہ اس انتخابات میں اب تک کا پارٹی کا بہترین رزلٹ ہے لیکن اس جیت میں بھی مجلس کے لئے کئی پیغام موجود ہیں جو مجلس کی دیر پا قیادت کےلئے لازمی ہیں۔چونکہ میدان سیاسی ہے اس لیے اسی نہج پر پرکاھا بھی جانا چاہیے۔ ریاستی صدر امتیاز جلیل پر عین انتخابات سے قبل ٹکٹ فراہمی کو لے کر کئی قسم کے الزامات عائد ہوئے۔ اپنے سابقہ کارپوریٹرس کا ’ پتہ’ کاٹ کر پارٹی نے ایک بڑا سیاسی داؤ کھیلا جو کامیاب بھی ہوا۔ پارٹی نے ایسے مقامی لیڈروں کو سائڈ لائن کیا جن کی ووٹرس میں شناخت پارٹی میں الگ اور عوام میں ‘مختلف’ تھی۔ مجلس نے خطرہ کو بھانپتے ہوئے ایسے افراد کو کنارہ کشی کرتے ہوئے بے شمار نئے چہروں کو موقع فراہم کیا جس سے عوام میں پیغام ملا کہ لیڈرشپ کےلئےمجلس کو ایسے افراد کی ضرورت نہیں بلکہ مجلس ان کی ضرورت ہے۔ ہر چند کہ سیاست میں معاشی سطح کا بڑا عمل دخل ہوتا ہے اس جانب بھی دھیان رکھتے ہوئی معاشی مستحکم افراد کو ٹکٹ دیا گیا جس سے پارٹی کی پرانی شناخت میں بڑے پیمانے پر تبدیلی آئی لیکن گیہوں کے ساتھ ساتھ چند کیڑے بھی رگڑے گئے۔ اب مجموعی طور پر بھلے ہی مجلس کے پاس قومی و ریاستی سطح پر نمائندگی کا تناسب کم ہوں لیکن مقامی سطح سے ابھر کر کانگریس کا متبادل اور بی جے پی مخالف کے طور پر پروجیکٹ ہوئی ہے جس سے اس کے مستقبل کے لائحہ عمل میں فکری عناصر پر مزید توجہ مرکوز ہوگی اور سیاسی سمت کا تعین بھی ہوگا۔
بات مجلس کے سابقہ کارکردگی کی ہوں تو سیاسی جنگ ایک طرف، جیت ایک طرف ، انتخابی مراحل ایک طرف اور زمینی سطح پر تبدیلی ایک طرف! مجلس کی شناخت اقیلتی بنیاد پر رہی ہے۔ گزشتہ ایک دہائی میں مجلس نے علاقائی سیاست کی حدوں سے نکل کر قومی سطح پر اپنی موجودگی درج کرانے کی کوشش کی ہے۔ اس سفر میں اسے پذیرائی بھی ملی اور شدید تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ سوال یہ نہیں کہ AIMIM نے کیا کہا، اصل سوال یہ ہے کہ اس نے کہاں اثر ڈالا اور کہاں محض شور بن کر رہ گئی۔ اورنگ آباد جس نے مجلس کو ایک ریاست سے نکل کر بین الاقوامی سطح پر تک متعارف کروایا ہے ، یہاں کارپوریشن ہی کیا ریاست اور قومی اسمبلی میں بھی نمائندگی کا موقع دیا ہے اس کے حالات کی بھی عکاسی ہونی چاہیے۔ پارٹی کے سیاسی مقاصد سے ہٹ کر عوامی خدمت اور اصولوں کے تناظر میں جانچ اور تجزیہ ہوں تو اورنگ آباد میں مجلس کی کارکردگی سے باشعور طبقہ کو بعض دفعہ حیرانی کے ساتھ ساتھ نا امیدی بھی ہوئی ہے۔ معاملہ سب سے پہلے اورنگ آباد کی شناخت یعنی شہر کا نام تبدیل کرنے کا ہوں یا اقلیتی ووٹرس کے مسائل کے حل کا ۔ ریاستی صدر کی تقاریر بلا شبہ دیگر کسی بھی پارٹی لیڈران سے ہمیشہ بہتر رہی ہے لیکن مقامی سطح پر شہری اور ملی مسائل کا انبار دن بدن بڑھتا ہی رہا۔
ہندوستان کی آبادی کا بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ یہ طبقہ نہ صرف سوال پوچھتا ہے بلکہ سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے بیانیہ بھی تشکیل دیتا ہے۔ مجلس کے لیے یہ ایک بڑا موقع ہے، بشرطیکہ وہ نوجوانوں سے محض جذباتی اپیل کے بجائے واضح پالیسی وژن کے ساتھ مخاطب ہو۔ اسکل ڈیولپمنٹ، جدید تعلیم، دستاویزات کی تصحیحی کیمپس، شہری سہولتیں اور معاشی شمولیت جیسے موضوعات پر سنجیدہ گفتگو اب ناگزیر ہو چکی ہے۔مستقبل کی سیاست مستقل کیڈر، مقامی قیادت، خواتین اور نوجوانوں کی منظم شمولیت مانگتی ہے۔ بغیر مضبوط تنظیم کے، الیکشن جیتنا ممکن ہو سکتا ہے، مگر اقتدار اور پالیسی پر اثر ڈالنا مشکل ہو جاتا ہے۔ مجلس کو اب یہ طے کرنا ہوگا کہ وہ محض ایک احتجاجی آواز بن کررہنا چاہتی ہے یا واقعی اقتدار کے ایوانوں میں مؤثر شرکت کی خواہاں ہے۔ احتجاج سیاست کا حصہ ہے، مگر مستقل حل اقتدار میں شراکت کے بغیر ممکن نہیں۔یہی وہ موڑ ہے جہاں مجلس کے مستقبل کا فیصلہ ہوگا۔ مستقبل کی سیاست صرف لیڈروں کی نہیں بلکہ تنظیموں کی ہوتی ہے۔مجلس کو چاہیے کہ: ہر ریاست میں مستقل پارٹی دفاترتربیت یافتہ کیڈرنوجوان ونگ، خواتین ونگ اور پالیسی سیل قائم کرے۔ بغیر مضبوط تنظیم کے، انتخابی کامیابی وقتی ثابت ہوتی ہے۔ . قیادت میں وسعت اور ادارہ جاتی نظام مجلس کی پہچان مضبوط قیادت سے جڑی ہے، لیکن مستقبل کے لیے ضروری ہے کہ: پارٹی ون مین سینٹرک تاثر سے باہر آئے۔’ انتخابات میں جیت کے بعد ‘‘باپ، باپ ہوتا ہے’’ جیسے نعروں سے گریز کیا جائے۔ آپ کی جیت ہی مخالفین کےلئے کئی پیغام دے چکی ہے۔ نئی قیادت کو آگے لایا جائے ادارہ جاتی فیصلوں کو ترجیح دی جائے۔ یہ عمل پارٹی کو طویل مدتی استحکام فراہم کرے گا۔ اس کے علاوہ پارٹی کے منتب نمائندوں پر سب سے بڑی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس جیت کو پانچ سال تک ہی محدود سمجھیں۔ ہر چند کہ ’انویسٹمنٹ’ کی بھرپائی تو ہوگی ہی لیکن سنجیدہ کوششوں سے ہی آپ کا بھی مستقبل طئے ہوگا ورنہ گذشتہ کارپوریٹرس جنہیں ٹکٹ نہیں ملا اب ہاتھ ملتے رہ جائیں گے اور بحیثیت ووٹرس و ملت سمندر کے جھاگ کی طرح بے وقعت ہو کر رہ جائیں گے۔
Like this:
Like Loading...