مخالفت سے میری شخصیت سنورتی ہے
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
وزیر اعظم نریندر مودی اپنے بہت سارے کارناموں کے لیے یاد رکھے جائیں گے ۔ان میں سے ایک پڑوسی ملک بنگلہ دیش کو دوسرے ہم سایہ پاکستان کا دوست بنا دینا ہے۔ کس نے سوچا بھی نہیں تھا کہ شیخ حسینہ واجد کو پناہ دینے کی اس قدر بڑی قیمت چکانی پڑے گی ؟ لیکن سفارتی امور میں تو یہ سب سوچنا پڑتا ہے۔ جذباتی سطح پر صرف آج کے معمولی فائدے کی خاطر کل کا بڑا نقصان کرلینا کہاں کی دانشمندی ہے؟ مودی جی نے مکر سنکرانتی کی پتنگ اڑاتے اڑاتے پاکستان پر یہ احسان کردیا ۔ پتنگ بازی اور ہوا بازی کو عام طور پر یکساں سمجھا جاتا ہے لیکن اگر جنگی جہاز اڑنے لگیں تومعاملہ سنگین ہو جاتا ہے ۔ کیا یہ بات کسی کے حاشیۂ خیال میں تھی کہ ایک دن پاکستان سے بنگلہ دیش جنگی جہاز خریدے گا اور وہ ہندوستان کی فضا سے گزر کر اپنی منزلِ مقصود پر پہنچیں گے؟ لیکن عنقریب یہ انہونی ہوجائے گی کیونکہ ’مودی ہے تو ممکن ہے‘ جی ہاں کچھ بھی ممکن ہے۔ یہ کسی چنڈو خانے کی خبر نہیں ہے جو گودی میڈیا نے پھیلائی ہوبلکہ بنگلہ دیش فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل حسن محمود خان نے چھ جنوری، 2026 کو اسلام آباد میں پاکستانی ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سے ملاقات کرکے جے ایف-17 تھنڈر طیاروں کی ممکنہ خریداری پر گفتگو کرچکےہیں ۔یہ ملاقات محض خریدو فروخت تک محدود نہیں تھی بلکہ اس میں آپریشنل تعاون، تربیت، استعداد کار میں اضافے اور ایرو اسپیس کے شعبے میں اشتراک پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
پاکستان نے بنگلہ دیش فضائیہ کے سربراہ کو گارڈ آف آنر پیش کرکے یہ پیغام دیا کہ وہ56سال پرانے ماضی کو بھلا کر مستقبل کے تعاون و اشتراک کی راہ پر چل پڑا ہے۔ اس کےبر عکس مودی سرکار نے تقسیم ہند منانے کا سلسلہ شروع کیا اور ہرسال اس 79 سال پرانے زخم کو تازہ کرکے ماتم کرنے میں مصروف ہوگئی۔ اب تو اس بھی آگے بڑھ کر ایک ہزار سال قبل سومنات کے مندر پر کیے جانے والے حملے کو یاد کرکے سیاست چمکا ئی جا رہی ہے یعنی دنیا آگے بڑھ رہی ہے تو وہ پیچھے کی جانب رواں دواں ہیں بلکہ ماضی کا انتقام لینے کی تیاری بھی کی جارہی ہے ۔ ڈوبھال جیسے لوگوں سے ترغیب لے کرسرکار کے ناپاک ارادوں کو عملی جامہ پہنانے کرنے کی خاطر جب شکن چودھری جیسے لوگ تلواریں تقسیم کرتے ہیں تو ان بیچاروں کو گرفتار کرلیا جاتا ہے۔ پچھلے نصف صدی میں ہندوستان کے بنگلہ دیش سے قریبی تعلقات رہے ہیں ۔ اس دوران اگر ہم لوگوں نے اس کو طاقتور بنایا ہوتا تو اسے پاکستانی فضائیہ کے سربراہ ظہیر احمد بابر سے ملاقات کرکے بنگلہ دیش فضائیہ کو بنیادی سے لے کر جدید سطح تک فلائنگ اور خصوصی کورسز پر مشتمل جامع تربیتی فریم ورک فراہم کرنے کی درخواست نہیں کرنی پڑتی ؟اس ملاقات کےموقع پر بنگلہ دیش کو سپر مشاق تربیتی طیاروں کی تیز رفتار فراہمی اور طویل المدتی تکنیکی معاونت کی یقین دہانی بھی کرائی گئی۔ دو ہم سایہ دشمنوں کا ایک دوسرے سے اس قدر قریب آجانا کوئی اچھا شگون نہیں ہے۔
پاکستان میں بنگلہ دیشی وفدکو نیشنل آئی ایس آر اینڈ انٹیگریٹڈ ایئر آپریشنز سینٹر، پی اے ایف سائبر کمانڈ اور نیشنل ایرو سپیس سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پارک کا دورہ کروا کر آئی ایس آر، سائبر، سپیس، الیکٹرانک وارفیئر اور بغیر پائلٹ نظاموں کی صلاحیتوں سے آگاہ کیا گیا۔آئی ایس پی آر نے اس دورے کوپاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تاریخی تعلقات اور دفاعی شعبے میں طویل المدتی اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا عکاس بتایا۔ اس دوران بنگلہ دیش فضائیہ کے سربراہ نے پاکستان فضائیہ کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور جنگی ریکارڈ کو سراہتے ہوئے اپنی فضائیہ کے پرانے بیڑے کی دیکھ بھال، فضائی دفاعی ریڈار سسٹمز کے انضمام اور فضائی نگرانی بہتر بنانے میں تعاون میں دلچسپی کا اظہار کیا۔ اس ملاقات میں جے ایف-17 تھنڈر طیاروں کی ممکنہ خریداری پر بھی گفتگو ہوئی۔ مودی جی ’آپدا میں اوسر ‘یعنی مشکل میں امکان کی بات تو بہت کہتے ہیں لیکن جے ایف-17کی تشکیل اس کی بہترین مثال ہے۔ امریکہ نے جب 1999 میں پاکستان کو ایف 16 طیارے دینے سے انکار کیا تو اس نے جے ایف 17 بنانے کا ارادہ کیا۔اسی موقع کے لیے بشیر بدر نے کہا ہے؎
مخالفت سے مری شخصیت سنورتی ہے میں دشمنوں کا بڑا احترام کرتا ہوں
ایک انجن کے ساتھ کام کرنے والا یہ کثیر المقاصد لڑاکا طیارہ جے ایف-17چین کے اشتراک سے تیارکیا گیا ۔ 2003 میں اس کی پہلی پرواز چین گئی، پھر اس طیارے میں مزید بہتری کے بعد 2006 میں دوبارہ تربیتی پرواز کرکے اس کی جانچ پڑتال کی گئی اور آگے چل کر مارچ 2007 میں پاکستان ایروناٹیکل کمپلیکس کامرہ نے دو طیارے پاک فضائیہ کے حوالے کیے۔ اس کے بعد فضائی مظاہرے کر کے طیارے کی کامیابی پر مہر لگا ئی گئی۔ 2010 میں جے ایف 17 تھنڈر کے کل 100 طیاروں پر مشتمل دو بلاکس مکمل ہو گئے ۔ ابتداء میں چینی ٹیکنالوجی اتنی اچھی نہیں تھی اس کی وجہ سے مسائل پیش آئے تو اس وقت روسی انجن کے انتخاب پر بھی غور کیا گیا مگر اب تو چین کافی آگے بڑھ گیا ہے۔ وہ ایک ایسا زمانہ تھا جب ہندوستان خود انحصاری کو چھوڑ کر غیر ملکی اسلحہ در آمد کرنے کی جانب قدم بڑھا رہا تھا اور پاکستان اپنے گھریلو طیارے بنانے کے منصوبے کو عملی جامہ پہنا رہا تھا ۔
پاکستان کو کسی معرکے میں اپنے جنگی طیارے استعمال کا پہلا موقع بھی مودی جی نے ہی دیا ۔پلوامہ دہشت گردانہ حملے کے بعد جس کی ہنوز تحقیقات نہیں ہوئیں حکومتِ ہند نے سرجیکل اسٹرائیک کرکے انتقام لینے کا فیصلہ کیا اور بالاکوٹ میں گھس کر بمباری کی۔ اس کے جواب میں چین کے تعاون سے تیار کردہ پاکستان فضائیہ کے لڑاکا طیارے جے ایف 17 تھنڈر کو پہلی مرتبہ 27 فروری 2019 کے دن حقیقی جنگ میں اپنا جوہر دکھانے کا موقع ملا ۔ اس وقت پاکستان نے دعویٰ کیا تھا کہ اولین تصادم میں اس نے 2ہندوستانی طیارے مار گرائے۔ پاکستانی ترجمان کے مطابق ان میں سے ایک کا ملبہ ہندوستان کی اپنی حدود میں گرا جبکہ دوسرا مگ 21 لڑاکا طیارہ پاکستان میں گر کر تباہ ہوا اور اس کے پائلٹ ونگ کمانڈر ابھینندن کو زندہ گرفتار کرلیا گیا ۔ سرجیکل اسٹرائیک کے بعد پاکستان فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے صحافیوں کو بتایا تھاکہ پاکستان نےہندوستان کی چھ اہم تنصیبات کو بطور ہدف نشانہ بنایا گیا۔ ان کے مطابق اس کارروائی کا مقصد ہندوستانی فوجی تنصیبات کو نقصان پہنچانا نہیں بلکہ اپنی صلاحیت کا سکہ منوانا تھا۔ وہ اس وقت تو نہیں مگر آپریشن سندور کے بعد یہ کام ہوگیا۔
پاکستان میں تیار شدہ جے ایف 17 تھنڈر ایک کم وزن یعنی 6411 کلوگرام کا ’ہر فن مولا‘ طیارہ ہے۔یہ آواز سے دو گنی رفتار میں 55 ہزار فٹ کی بلندی تک پرواز کرنے کی صلاحیت رکھتاہے۔ اس میں نصب دو عدد کمپیوٹر ریڈار زمین سے موصول ہونے والی معلومات کو ہواباز تک پہنچاتے ہیں۔طیارے میں دو عدد میزائل سے خبردار کرنے والے یونٹ بھی آگے اور پیچھے کی طرف لگے ہوئے ہیں تاکہ 60 کلومیٹر دورتک آنے والے میزائل کا پتہ لگا کر اپنی 23 ملی میٹر کی مشین گن سے اس پر حملہ کیا جاسکے۔ جے ایف-17 سمندری جہازوں کے خلاف ایکسوکٹ، سی-801 یا ہارپون میزائل بھی استعمال کر سکتا ہے۔ یہ ہوائی جہازوں کے خلاف ایس ڈی-10 اور پی ایل-9 میزائل اور جی پی ایس کی رہنمائی استعمال کرنے والے بم مثلا ایف ٹی، ایل ٹی اور ایل ایس بم بھی لے جاسکتا ہے۔ انہیں خوبیوں کی وجہ سے 2015 دبئی ائیر شو میں اس طیارے نے جب اپنے فن کا مظاہرہ کیا تو نائیجیریا نے 36 ملین ڈالر میں تین طیارے خریدنے کا معاہدہ کرلیا جسے بڑھاکر بعد میں دس کردیا گیا۔ مئی 2021 میں یہ طیارے نائیجیریا پہنچے تو اس وقت تک میانمار بھی انہیں خرید چکا تھا ۔ میانمار کی بودھ فوجی حکومت نے روہنگیا مسلمانوں پر مظالم ڈھا کر بہت بدنامی کمائی مگر اپنی فضائیہ کے لیے ہندوستان کے تیجس پر جے ایف کو ترجیح دی۔ نائجیریا کے بعد 12 دیگر ممالک نے ان طیاروں کی خرید میں دلچسپی ظاہر کی ۔
پاکستانی اسلحہ سازی کی پیش رفت میں ستمبر 2024 کے اندر آذربائیجان نےجے ایف 17 بلاک تھری لڑاکا طیارے خریدکر اہم کردار ادا کیا ۔ اس معاہدے کو دوست ممالک کے ساتھ دفاعی تعاون بڑھانے اور آذربائیجان کی فضائی طاقت کی صلاحیتوں میں اضافہ کے لیے اسلام آباد کی کوششوں کا حصہ بتایا گیا۔ اس کے بعد آذربائیجان کی راجدھانی باکو میں دفاعی نمائش کے لیے پاکستان نے فضائیہ کا ایک دستہ تعینات کیا ۔ فی الحال یہ جہاز پاکستان کے علاوہ چین، عراق، آذربائیجان، میانمار، اور نائیجیریا کی فضائیہ میں استعمال ہو رہا ہے۔ پاکستان پر سعودی عرب کےدو بلین ڈالر قرضوں کو جے ایف 17 جنگی طیاروں کے فروخت کے معاہدے میں تبدیل کرنے کی بات ہو رہی ہے۔ گزشتہ سال باہمی دفاعی معاہدے پر دستخط کے بعد سے فریقین میں فوجی تعاون بڑھتا جا رہا ہے۔ جے ایف 17 جنگی طیاروں کی خرید و فروخت سے متعلق یہ تازہ مذاکرات اس بات کو نمایاں کرتے ہیں کہ دونوں اتحادی ممالک دفاعی تعاون کو عملی شکل دینے کی جانب بڑھ رہے ہیں۔پاکستان کو وزیر اعظم نریندر مودی کا ممنو ن و مشکور ہونا چاہیے کیونکہ اگر وہ آپریشن سندور کے جواب میں پاکستان کو اپنے فضائیہ کی طاقت کا مظاہرہ کرنے کا موقع نہ دیتے تو اسے اپنی اسلحہ سازی کی صنعت کو فروغ دینے کا سنہری موقع نہیں ملتا ۔ فی الحال اس کے ایک درجن خریداروں میں سعودی عرب، بنگلہ دیش اور مشرقی لیبیا سرِ فہرست ہیں۔
عالمی سطح پر فی الحال مودی اور نتن یاہو کی دوستی مثالی مانی جاتی ہے ۔ ٹرمپ کا معاملہ دونوں کے سرپرست کا سا ہے جو کبھی مودی سے خوش تو کبھی ناراض ہوجاتے ہیں مگرنتن یاہو ہمیشہ ان کی آنکھوں کا تارہ بنا رہتا ہے۔ مودی اور یاہو کا سب سے بڑا دشمن پاکستان ہے مگر اول الذکر کی مانند قطر میں حماس کے دفتر پر حملہ کرکے نتن یاہو نے سعودی عرب اور پاکستان کو ایک دوسرے کا گہرا دوست بنادیا ۔ ویسے اس معاہدے کو صرف حملے کا ردعمل کہنا بھی درست نہیں ہے۔ 2019 میں ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے اسلام آباد کی سرزمین پر یہ کہہ کر ہر پاکستانی کا دل چھو لیا تھا کہ ’مجھے سعودی عرب میں پاکستان کا سفیر سمجھا جائے۔‘ ان غیر معمولی الفاظ میں دونوں ممالک کے تعلقات کی روح کو نہایت خوبصورتی کے ساتھ سمودیا گیا ہے۔ آپریشن سندور کے بعد طے پانے والے سعودی پاک معاہدے میں پاکستانی عوام کے لیےیہ یقین دہانی ہے کہ سعودی عرب اس کو کبھی تنہا نہیں چھوڑے گا اور سعودی عوام کے لیے یہ یاد دہانی ہے کہ پاکستان محض اتحادی نہیں بلکہ ان کافرد خانہ ہے اور وہ دونوں ایک خاندان کا حصہ ہیں ۔
شہزادہ محمد بن سلمان کی قیادت اور وژن نے مملکت سعودیہ کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کو نئی بلندی پر پہنچا دیا ہے۔ یہ معاہدہ دو قوموں کے درمیان غیر متزلزل اعتماد، بھائی چارے اور مشترکہ مستقبل کا مظہر بن چکا ہے۔ اس معاہدے میں دفاع کے ساتھ تعمیر و ترقی کی راہ بھی ہموار کی گئی ہے۔ محمد بن سلمان کے نزدیک پاکستان اپنی نوجوان آبادی، ماہرین اور کاروباری جذبے کے ساتھ ان کے سعودی وژن 2030 برائے صنعت، ٹیکنالوجی اور ثقافت میں فطری شراکت دار ہے۔ توانائی، سرمایہ کاری اور افرادی قوت میں بڑھتا ہوا تعاون دونوں ممالک کو خوشحال بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ویسے اس کی بنیاد صرف معاشی نہیں بلکہ مذہبی ہے ۔ پاکستانی عوام سعودی عرب کو اسلام کے مقدس مقامات کی سرزمین سمجھتے ہیں۔ سعودی عوام جوہری طاقت سے لیس پاکستان کو امت مسلمہ کی ڈھال مانتے ہیں۔ سعودی ورب اور پاکستان کا رشتہ بہت قدیم ہے اور یہ جذبات کسی مصلحت کا نتیجہ نہیں بلکہ نسل در نسل منتقل ہونے والی ایک حقیقت کا شاخسانہ ہے اسی لیے کبھی کمزور نہیں ہوتا۔ اس معاہدے کےبلا جھجک برضا و رغبت قبولیت کا یہی راز ہے۔معروف مبصر اورپاکستان میں سابق سعودی سفارتکار علی عواض العسیری کے الفاظ میں ’’ہمارا رشتہ معاہدوں میں نہیں بلکہ دلوں پر لکھا ہوا ہے۔ ریاض اور اسلام آباد امن کے محافظ ہی نہیں بلکہ ترقی کے انجن بھی بن سکتے ہیں۔ یہ معاہدہ کسی سفر کا اختتام نہیں بلکہ ایک نئے باب کا آغاز ہے۔ ایسا باب جس میں سعودی عرب اور پاکستان ایمان کے رشتے اور سٹریٹجک تعاون کے ساتھ مل کر مسلم دنیا کی یکجہتی کا مینار اور خطے کے امن کا ستون ہوں گے‘۔
ترکی شمولت کے بعد اس کا دائرہ اور بھی زیادہ وسیع ہوگیا ہے اور ساری دنیا میں ’اسلامی ناٹو‘ کی گونج سنائی دینے لگی ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان معاہدہ گذشتہ سال ستمبر کےمعاہدے میں جب یہ طے ہوگیا کہ کسی ایک ملک کے خلاف ’ہرجارحیت‘ کو دونوں رکن ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گاتو یہ شق نیٹو کے آرٹیکل پانچ سے مشابہ تھی۔ ایسے میں اگر نیٹو کے اندر امریکہ کے بعد سب سے بڑی فوجی طاقت رکھنے والا ترکی پالا بدل دے تو اس کی کمر ٹوٹ جائے گی اور اسلامی نیٹو سینہ تان کر کھڑا ہوجائے گا ۔ پاکستان کے وزیر برائے دفاعی پیداوار نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکی نے تقریباً ایک سال تک مذاکرات کر کے بعد ایک دفاعی معاہدے کا مسودہ تیار کر لیا ہے۔اس سے قبل ترکی کے وزیرِ خارجہ ہاکان فدان نے استنبول میں ایک پریس کانفرنس کے دوران سہ فریقی دفاعی اتحاد کے امکان سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں خطے کے اندر وسیع تر تعاون اور باہمی اعتماد کی ضرورت پر زور دیا تھا۔ ترک وزیر خارجہ نے یہ بھی کہا تھا کہ اگر متعلقہ ممالک ’ایک دوسرے پر اعتماد کریں‘ تو علاقائی مسائل حل ہو سکتے ہیں۔ پاکستان سعودی دفاعی معاہدے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے پاکستانی وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے گذشتہ سال 30 ستمبرکوانکشاف کیا تھا کہ ’دیگر ممالک بھی پاکستان کے ساتھ ایسے معاہدے کرنے میں دلچسپی لے رہے ہیں۔‘
امریکی نیوز ویب سائٹ بلوم برگ نے ترکی کے سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان دفاعی اتحاد میں شامل ہونے کی خواہش کا راز فاش کیا تھا۔ بلوم برگ نے ممکنہ معاہدے سے نئی سکیورٹی صف بندی کی راہ ہموار ہو نے اور اس کی وجہ سے نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ اس سے باہر بھی طاقت کے توازن میں تبدیلی کا اشارہ کیا تھا۔ پاکستان کےوزیر برائے دفاعی پیداوار نے یہ انکشاف کرچکے ہیں کہ’یہ سہ ملکی ممکنہ معاہدہ گذشتہ سال اعلان کیےجانے والے پاکستان، سعودی عرب دفاعی معاہدے سے الگ ہے اور اسے حتمی شکل دینے کے لیے تینوں ممالک کے درمیان مکمل اتفاقِ رائے ضروری ہے۔‘ ان کے مطابق اس معاہدے کا مسودہ تینوں ممالک کے پاس موجود ہے۔ تینوں فریق اس پر غور و خوض کر رہے ہیں، اور یہ معاہدہ گذشتہ دس ماہ سے زیرِ بحث ہے۔اس پر اگر دستخط ہوجائیں تو العسیری کے یہ الفاظ حقیقت بن جائیں گے کہ :’’ ہمارا ماضی ہمیں جوڑتا ہے، حال ہمیں متحد کرتا ہے اور مستقبل ہمیں مشترکہ فتوحات کی طرف بلاتا ہے‘‘۔ سچ تو یہ کہ نتین یاہو کی ایک حماقت نے مسلم ممالک کے اندر اتحاد و اتفاق کی ضرورت کو دو چند کردیا ہے اور ایسی صورتحال پر علامہ اقبال کا یہ اشعار ہندی کے بجائے پاکی( اور دونوں میں کوئی فرق بھی نہیں ہے) کی ترمیم کے ساتھ صادق آتے ہیں ؎
مسلماں کو مسلماں کر دیا طوفانِ مغرب نے
تلاطم ہائے دریا ہی سے ہے گوہر کی سیرابی
عطا مومن کو پھر درگاہِ حق سے ہونے والا ہے
شکوہِ ترکمانی، ذہنِ ہندی، نُطقِ اعرابی
