Skip to content
سنبھل کے چیف جوڈیشل مجسٹریٹ کے تبادلے کو روٹین ٹرانسفر سمجھنا بڑی غلطی ہوگی!
ازقلم: (حافظ)افتخاراحمدقادری
یہ دور جسے ہم جمہوریت، آئین اور قانون کی بالادستی کا دور کہتے نہیں تھکتے درحقیقت سوالات، خدشات اور اندیشوں سے بھرا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ سیاست اور اقتدار کے اس عہد میں سب سے زیادہ اگر کسی ادارے کی ساکھ داؤ پر لگی ہے تو وہ عدلیہ ہے جو کمزور کے لیے آخری امید اور طاقت کے سامنے واحد دیوار سمجھی جاتی ہے۔ لیکن جب یہی دیوار دباؤ، تبادلوں اور اشاروں کنایوں سے لرزنے لگے تو پورا سماج عدمِ تحفظ کا شکار ہو جاتا ہے۔ آج کا ہندوستان اسی نازک موڑ پر کھڑا محسوس ہوتا ہے جہاں فیصلے قانون کی زبان میں تو ہوتے ہیں مگر ان کے سائے میں سیاست کی پرچھائیاں صاف دیکھی جا سکتی ہیں۔ اترپردیش کے سنبھل تشدد معاملے نے ایک بار پھر یہ سوال کھڑا کر دیا کہ کیا انصاف واقعی آزاد ہے یا طاقتور کی مرضی کے مطابق اس کا رخ موڑا جا رہا ہے؟ مسلم نوجوانوں پر فائرنگ کے حکم سے جڑا یہ واقعہ ایک فوجداری مقدمہ نہیں بلکہ ریاستی طرزِ عمل، پولیس کی جوابدہی اور عدالتی وقار کا امتحان بن چکا ہے۔ چیف جوڈیشل مجسٹریٹ وبھانشو سدھیر کا وہ حکم جس میں انہوں نے سرکل افسر انوج چودھری سمیت بارہ پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی ہدایت دی تھی دراصل قانون کی اسی روح کی ترجمانی کرتا تھا جس کے مطابق کوئی بھی شخص یا ادارہ قانون سے بالاتر نہیں۔ یہی وہ لمحہ تھا جب انصاف کی امید رکھنے والے متاثرین کو لگا کہ شاید ان کی فریاد سنی جا رہی ہے۔ لیکن اس امید پر اس وقت کاری ضرب لگی جب عدالتی حکم کے باوجود پولیس کپتان نے مقدمہ درج کرنے سے انکار کر دیا۔ بلا شبہ یہ انکار ایک انتظامی سرکشی نہیں بلکہ عدلیہ کے اختیار کو کھلے عام چیلنج کرنے کے مترادف تھا۔ سوال یہ ہے کہ جب عدالت کے واضح حکم کی تعمیل نہ ہو اور اس کے باوجود ذمہ دار افسران پر کوئی فوری کارروائی نہ کی جائے تو عام شہری کس دروازے پر دستک دے؟ ایسے حالات میں عدالت ہی وہ فورم ہوتی ہے جہاں سے اصلاح کی توقع کی جاتی ہے مگر یہاں معاملہ اس کے برعکس ہوتا دکھائی دیا۔ 9 جنوری کو جاری ہونے والا حکم اور 22 جنوری کو متوقع سماعت، متاثرین کے لیے انصاف کے قریب پہنچنے کا استعارہ بن چکے تھے مگر سماعت سے عین قبل سی جے ایم وبھانشو سدھیر کا راتوں رات تبادلہ اور وہ بھی ایسے عہدے پر جسے عدالتی درجہ بندی میں کم تر سمجھا جاتا ہے محض ایک اتفاق قرار دینا عوامی شعور کی توہین کے سوا کچھ نہیں۔ اگرچہ حکومت اسے روٹین ٹرانسفر قرار دے رہی ہے مگر وقت، پس منظر اور نتائج سب کچھ ایک گہری سازش کی طرف اشارہ کرتے محسوس ہوتے ہیں۔
یہ حقیقت اپنی جگہ مسلم ہے کہ عدالتی افسران کے تبادلے کوئی نئی بات نہیں لیکن ہر تبادلہ معمول کا نہیں ہوتا۔ کچھ فیصلے ایسے ہوتے ہیں جو اپنے اثرات، پیغامات اور سیاسی معنی رکھتے ہیں۔ سنبھل کے سی جے ایم کا تبادلہ بھی ایسا ہی ایک فیصلہ ہے جس نے پورے اترپردیش میں سیاسی اور سماجی ہلچل پیدا کر دی۔ سماجوادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو کی جانب سے سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ سے از خود نوٹس لینے کی اپیل دراصل اسی عوامی بے چینی کی عکاس ہے جو اس اقدام کے بعد دیکھنے میں آئی۔ اس تبادلے نے ایک اور پہلو کو بھی نمایاں کیا اور وہ ہے عدلیہ کے اندرونی معاملات میں مبینہ مداخلت کا خدشہ۔ جامع مسجد کے سروے کا حکم دینے والے سابق سی جے ایم آدتیہ سنگھ کو دوبارہ سنبھل میں تعینات کرنا اور اسی وقت وبھانشو سدھیر کو ہٹانا اس تاثر کو مزید مضبوط کرتا ہے کہ فیصلے محض انتظامی نہیں بلکہ نظریاتی اور سیاسی بنیادوں پر کیے جا رہے ہیں۔ یہ وہ مقام ہے جہاں انصاف کا ترازو ہلتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ ایسے میں وکلاء کا احتجاج، عدالت کے احاطے میں نعرے بازی اور ایک ایماندار جج کے حق میں بلند ہونے والی آوازیں محض پیشہ ورانہ ردِ عمل نہیں بلکہ عدالتی نظام کے تحفظ کی ایک سنجیدہ کوشش ہیں۔ وکلاء کا یہ کہنا کہ انصاف کرنے کی سزا نہیں دی جانی چاہیے ایک سادہ جملہ ضرور ہے مگر اس کے اندر ایک پوری تہذیب، ایک پورا آئینی فلسفہ اور اجتماعی خوف پوشیدہ ہے۔ اگر آج ایک جج کو قانون کے مطابق فیصلہ کرنے پر حاشیے پر ڈال دیا گیا تو کل کون سا جج دباؤ کے بغیر فیصلہ کر پائے گا؟ یاد رکھیں کہ یہ معاملہ سنبھل یا اترپردیش تک محدود نہیں بلکہ پورے ملک کے لیے ایک آئینہ ہے اور یہ آئینہ ہمیں دکھاتا ہے کہ اگر ادارے کمزور ہوں، فیصلے متنازع بن جائیں اور طاقتور جوابدہی سے بچ نکلے تو جمہوریت صرف کتابوں میں رہ جاتی ہے۔ عدلیہ کا وقار اسی وقت قائم رہ سکتا ہے جب اس کے فیصلے بے خوف ہوں اور جج یہ یقین رکھیں کہ قانون کے مطابق فیصلہ کرنے کی قیمت انہیں اپنے عہدے سے ہاتھ دھو کر ادا نہیں کرنی پڑے گی۔ آج سنبھل تشدد کے متاثرین صرف اپنے زخموں کا انصاف نہیں مانگ رہے بلکہ وہ اس سوال کا جواب چاہتے ہیں کہ کیا ان کا ملک واقعی سب کے لیے برابر ہے؟ کیا قانون کی نظر میں مظلوم اور طاقتور ایک ہی صف میں کھڑے ہیں؟ سی جے ایم وبھانشو سدھیر کا تبادلہ ان سوالوں کو اور گہرا کر گیا ہے۔ یہ واقعہ تاریخ کے صفحات میں ایک مثال کے طور پر درج ہوگا کہ کس طرح ایک عدالتی حکم نے پورے سیاسی نظام کو بے چین کر دیا۔ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ اگر عدلیہ کو آزاد، غیر جانبدار اور بے خوف نہ رکھا گیا تو اس کا خمیازہ صرف ایک طبقہ نہیں بلکہ پورا معاشرہ بھگتے گا۔ کیوں کہ سنبھل کا معاملہ ایک کیس نہیں بلکہ انصاف کے مستقبل کا امتحان ہے۔ اب یہ ملک کے اداروں، سیاسی قیادت اور سماج پر منحصر ہے کہ وہ اس امتحان میں سرخرو ہوتے ہیں یا تاریخ کے کٹہرے میں کھڑے ہو جاتے ہیں۔
آج یہ سوال ذہن میں آتا ہے کہ کیا ہم واقعی اس ہندوستان میں جی رہے ہیں جس کا خواب آئین سازوں نے دیکھا تھا؟ یا پھر ہم آہستہ آہستہ ایک ایسے دور میں داخل ہو چکے ہیں جہاں انصاف اپنی آنکھوں پر بندھی پٹی ہٹانے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ سنبھل تشدد کا معاملہ ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ جب ریاست کی طاقت، پولیس کی بندوق اور سیاست کی مصلحت ایک ہی سمت میں کھڑی ہو جائیں تو سب سے پہلا امتحان عدلیہ کا ہوتا ہے۔ یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جہاں تاریخ یہ طے کرتی ہے کہ عدالتیں طاقت کا سایہ بنیں گی یا مظلوم کی ڈھال۔ چیف جوڈیشل مجسٹریٹ وبھانشو سدھیر کا حکم محض ایک قانونی کارروائی نہیں تھا بلکہ یہ اس یقین کا اظہار تھا کہ قانون اب بھی طاقت سے بلند ہے۔ لیکن اس یقین کو جس بے رحمی سے کمزور کرنے کی کوشش کی گئی وہ اس بات کی علامت ہے کہ مسئلہ ایک جج یا ایک مقدمے تک محدود نہیں رہا بلکہ پورے نظام کے کردار پر سوالیہ نشان بن چکا ہے۔ یہ ایک اتفاق نہیں ہو سکتا کہ جس جج نے پولیس کی جوابدہی طے کرنے کی جرات کی اسے اسی جرات کی قیمت چکانی پڑی۔ یہ بھی اتفاق نہیں کہ عدالتی حکم کی نافرمانی کرنے والوں کو فوری سزا کے بجائے خاموش تحفظ نصیب ہوا اور یہ تو بالکل بھی اتفاق نہیں کہ انصاف کی امید باندھنے والے متاثرین ایک بار پھر انتظار کی اذیت میں دھکیل دیے گئے۔ ایسے واقعات مل کر ایک خاموش پیغام دیتے ہیں وہ پیغام جو عدالتی کمروں کی دیواروں سے ٹکرا کر پورے سماج میں سرگوشی بن کر پھیل جاتا ہے کہ حد سے آگے نہ بڑھو، سوال زیادہ نہ کرو، اور طاقت کے خلاف کھڑے ہونے کی قیمت ادا کرنے کے لیے تیار رہو۔ مگر اگر یہی پیغام ہمارے نظام کا مستقل لہجہ بن گیا تو پھر انصاف ایک لفظ رہ جائے گا، ایک خواب، جس کا ذکر صرف کتابوں اور تقاریر میں ہوگا۔ آج وکلاء کی آوازیں، عدالت کے احاطے میں اٹھنے والا احتجاج اور ایک جج کے حق میں کھڑا ہونا دراصل کسی فرد کی حمایت نہیں بلکہ اس اصول کا دفاع ہے جس پر پورا عدالتی ڈھانچہ قائم ہے۔ یہ وہ لمحہ ہے جہاں خاموشی جرم اور سوال کرنا ذمہ داری بن جاتا ہے۔ اگر آج ایک ایماندار عدالتی افسر کو تنہا چھوڑ دیا گیا تو کل ہر وہ جج تنہا ہوگا جو طاقت کے مقابل قانون کو ترجیح دینے کی جرات کرے گا۔ اس کے بعد فیصلے قانون کے مطابق نہیں بلکہ حالات کو دیکھ کر ہوں گے اور یہی وہ مقام ہے جہاں جمہوریت اندر سے کھوکھلی ہونا شروع ہو جاتی ہے۔
سنبھل کے متاثرین کے لیے یہ لڑائی اپنے زخموں کا انصاف نہیں بلکہ اس یقین کی جنگ ہے کہ ان کا ملک ان کے ساتھ کھڑا ہے۔ وہ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ کیا ان کی شناخت، ان کی کمزوری اور ان کی بے بسی انہیں انصاف کے دروازے سے باہر تو نہیں کر دیتی۔ وہ یہ پوچھ رہے ہیں کہ کیا قانون واقعی سب کے لیے برابر ہے یا کچھ ہاتھ ایسے ہیں جو قانون کی گرفت سے ہمیشہ باہر رہتے ہیں۔ ان کے سوالات کا جواب کسی پریس نوٹ یا سیاسی بیان میں نہیں بلکہ عدلیہ کے عمل، اس کی جرات اور اس کی آزادی میں پوشیدہ ہے۔ یہ وقت تاریخ کے صفحات پر خاموشی سے گزر جانے کا نہیں بلکہ اپنی موجودگی درج کرانے کا ہے۔ آج جو کچھ سنبھل میں ہوا وہ کل کسی اور شہر، کسی اور نام اور کسی اور چہرے کے ساتھ دہرایا جا سکتا ہے۔ اگر آج ہم نے یہ مان لیا کہ عدالتی فیصلوں کی قیمت تبادلہ ہے تو پھر کل انصاف کی قیمت کیا ہوگی؟ شاید خوف، شاید خاموشی اور شاید مکمل بے حسی۔ یہی وجہ ہے کہ سنبھل کا معاملہ ایک کیس نہیں بلکہ ایک انتباہ ہے، ایک ایسا آئینہ جس میں پورا ملک اپنا چہرہ دیکھ سکتا ہے۔ یاد رکھیں کہ انصاف تبھی زندہ رہتا ہے جب اسے بے خوف رکھا جائے اور جمہوریت تبھی سانس لیتی ہے جب عدلیہ آزاد ہو۔ اگر ہم نے اس سچ کو نظر انداز کیا تو آنے والی نسلیں ہم سے یہ نہیں پوچھیں گی کہ فیصلہ کس کے حق میں آیا تھا؟ وہ صرف یہ پوچھیں گی کہ جب انصاف کو دبایا جا رہا تھا تو آپ کہاں کھڑے تھے؟ سنبھل کا معاملہ ہمیں اسی سوال کے ساتھ چھوڑ جاتا ہے، ایک ایسا سوال جس کا جواب وقت نہیں بلکہ ہمارا اجتماعی ضمیر دے گا اور شاید یہی اس تحریر کے آخری الفاظ ہونے چاہئیں کہ انصاف کا امتحان ابھی ختم نہیں ہوا اصل فیصلہ ابھی باقی ہے۔
کریم گنج،پورن پور،پیلی بھیت یوپی
(مضمون نگار معروف صحافی و تجزیہ نگار ہیں)
iftikharahmadquadri@gmail.com
Like this:
Like Loading...