Skip to content
تحریکِ آزادی: مسلم خواتین کی تاریخی خدمات و لازوال کردار
ازقلم :ڈاکٹر صدیقی نسرین فرحت ولی محی الدین
اسسٹنٹ پروفیسر صدر شعبہ اردو یو گیشوری کالج آمباجوگای مہاراشٹر
جب تاریخ کے اوراق کو پلٹا جاتا ہے تو بھارت کی جنگِ آزادی کی شاندار داستان میں اکثر ایسے کرداروں کی بازگشت سنائی دیتی ہے جو مردانہ تسلط کے زیر سایہ نمایاں ہوئے۔ تاہم، اگر اس عظیم جدوجہد کی روح اور اس کی حقیقی قوت کا کھوج لگایا جائے تو یہ حقیقت آشکار ہوتی ہے کہ اس کی بنیاد میں خواتین کی ایسی قربانیاں اور ایثار شامل ہیں جنہیں تاریخ نے شاذ و نادر ہی پوری شان و شوکت سے تسلیم کیا ہے۔ اس ضمن میں مسلم خواتین کا کردار ایک ایسا گمشدہ باب ہے جو نہ صرف گمنامی کی دھند میں لپٹا ہوا ہے، بلکہ جس کا تذکرہ بھی رسمی اور سرسری نوعیت کا رہا ہے۔ یہ مضمون محض ان فراموش شدہ کرداروں کی فہرست سازی نہیں، بلکہ ان کے غیر متزلزل حوصلے، بے لوث ایثار اور تاریخی اہمیت کو عالمی تحقیقی معیار اور نفیس اردو اسلوب کے سانچے میں ڈھال کر ایک جامع اور بصیرت افروز تجزیہ پیش کرنے کی ایک سعی ہے۔
برصغیر کی پہلی منظم بغاوت، سن 1857 کی جنگِ آزادی، جس نے برطانوی سامراج کی بنیادیں ہلا دیں، کے پس منظر میں خواتین کا کردار محض ناظرین یا متاثرین کا نہیں تھا۔ وہ اس انقلابی طوفان کی فعال حصہ دار اور قیادت کرنے والی تھیں۔ بیگم حضرت محل، جنہیں اودھ کی ملکہ بھی کہا جاتا ہے، اس دور کی ایک ایسی روشن مثال ہیں جن کا نام عزم و ہمت اور بے خوف قیادت کا مترادف بن چکا ہے۔ اودھ پر برطانوی قبضے کے بعد جب اکثر مردانہ قیادت ہتھیار ڈال چکی تھی، یہ بیگم ہی تھیں جنہوں نے اپنے نابالغ بیٹے برجیس قدر کو تخت پر بٹھا کر لکھنؤ کی اینٹ اینٹ میں مزاحمت کی روح پھونک دی۔ معروف مورخ روسیل ڈیگینن (Roselle D’Agnesi) اپنی تصنیف میں بیگم حضرت محل کی عسکری صلاحیتوں اور سیاسی بصیرت کو سراہتے ہوئے لکھتی ہیں کہ وہ صرف ایک رانی نہیں تھیں بلکہ ایک شاطر strategist اور ایک بے باک سپاہی تھیں۔ 1858 میں لکھنؤ کے مشہور محاصرے کے دوران انہوں نے جس حکمت عملی سے برطانوی فوج کا مقابلہ کیا، وہ آج بھی عسکری تاریخ کا ایک حیران کن باب ہے۔ شکست کے بعد بھی انہوں نے ہتھیار ڈالنے سے انکار کر دیا اور نیپال میں جلاوطنی کی زندگی کو ترجیح دی، مگر سامراج کے آگے سر تسلیم خم نہیں کیا۔ ان کی یہ بے مثال ثابت قدمی جنوبی ایشیا میں نسائی قیادت کی ایک ایسی نظیر بن گئی جو آنے والی صدیوں تک خواتین کو متاثر کرتی رہی۔
اسی طرح دہلی کے افق پر بیگم زینت محل کا کردار بھی تاریخ کے جلی حروف میں لکھا جانا چاہیے۔ وہ صرف بہادر شاہ ظفر کی بیوی نہیں تھیں، بلکہ مغلیہ سلطنت کے زوال پذیر دور میں ایک سیاسی اور ثقافتی ستون کی حیثیت رکھتی تھیں۔ ولیم ڈالریمپل (William Dalrymple) کی مشہور کتاب ‘The Last Mughal’ میں ان کے کردار کا تفصیلی ذکر ملتا ہے جہاں انہیں ایک ایسی بااثر شخصیت کے طور پر پیش کیا گیا ہے جو سیاسی سازشوں اور برطانوی دباؤ کے بیچ نہ صرف دربار کی سیاست کو سمجھتی تھیں بلکہ وقار کے ساتھ اپنے موقف پر قائم بھی رہیں۔ ان کی کوشش تھی کہ کسی طرح سلطنت کے وقار اور مسلم امہ کی میراث کو بچایا جا سکے۔ ان کا یہ کردار محض جذباتی نہیں بلکہ گہرے سیاسی شعور اور دور اندیشی کا مظہر تھا۔
1900 کے بعد جب سیاسی شعور نے نئی کروٹ لی اور تحریکِ آزادی ایک منظم شکل اختیار کرنے لگی تو مسلم خواتین نے نئے محاذ کھولے۔ عبادی بانو بیگم، جنہیں محبت سے "بی اماں” کہا جاتا ہے، اس دور کی ایک ایسی روشن علامت بن کر ابھریں جنہوں نے خاندان کی چہار دیواری سے نکل کر پورے ملک کی ماؤں کو تحریک کا حصہ بنایا۔ وہ صرف محمد علی جوہر اور شوکت علی کی والدہ نہیں تھیں، بلکہ وہ ایک ایسی معلمہ اور رہنما تھیں جنہوں نے تحریکِ خلافت اور عدم تعاون کی تحریک کو گھر گھر تک پہنچایا۔ ان کی تقریریں، جو اکثر پردے میں رہ کر کی جاتی تھیں، نہ صرف مردوں کو متاثر کرتی تھیں بلکہ ہزاروں خواتین کو بھی قومی جدوجہد میں شامل ہونے کی ترغیب دیتی تھیں۔ گاندھی جی ان کی عظمت کے قائل تھے اور ان کی خدمات کو سراہتے ہوئے انہیں "Mother of the Nation” جیسے القاب سے نوازتے تھے۔ 1917 میں آل انڈیا مسلم لیگ کے اجلاس میں ان کی با پردہ تقریر نے اس تاثر کو باطل ثابت کر دیا کہ مسلم خواتین محض گھریلو کاموں تک محدود ہیں۔ انہوں نے اپنے بیٹے کی گرفتاری کے بعد بھی حوصلہ نہیں ہارا اور تحریک کی شمع کو روشن رکھا۔
ان گمنام ہیروئنز کی فہرست محض چند ناموں تک محدود نہیں ہے۔ امجدی بیگم، مولانا محمد علی جوہر کی اہلیہ، نے اپنے شوہر کی غیر موجودگی میں نہ صرف خاندان کا نظم سنبھالا بلکہ مسلم خواتین کی تنظیم سازی میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ نشاط النساء موہانی، حسرت موہانی کی اہلیہ، نے سودیشی تحریک کو فروغ دینے کے لیے اپنے زیورات فروخت کر کے سودیشی اسٹورز قائم کیے اور خواتین کو غیر ملکی اشیاء کے بائیکاٹ کی ترغیب دی۔ ہاجرہ بیگم نے صحافتی میدان میں قدم رکھا اور اپنی تحریروں کے ذریعے قومی بیداری پیدا کی۔ بی بی امت السلام گاندھی جی کی قریبی ساتھی تھیں اور انہوں نے عدم تشدد کے اصولوں کو اپناتے ہوئے خواتین کے حقوق اور قومی اتحاد کے لیے کام کیا۔ ان خواتین کا کردار یہ ثابت کرتا ہے کہ تحریکِ آزادی صرف سیاست دانوں اور سپاہیوں کی جنگ نہیں تھی بلکہ یہ ایک جامع عوامی تحریک تھی جس میں ہر طبقے اور ہر شعبے کی خواتین نے اپنا حصہ ڈالا۔
جن خواتین کا ذکر ہوا ان میں سے کئی ایسی تھیں جنہیں مولانا ابوالکلام آزاد اور دیگر بڑے رہنماؤں کی شریکِ حیات ہونے کا شرف حاصل تھا۔ زلیخا بیگم، مولانا ابوالکلام آزاد کی اہلیہ، ایک خاموش اور باوقار رہنما تھیں۔ انہوں نے اپنے شوہر کی طویل قید کے دوران نہ صرف خاندان کو سنبھالا بلکہ ان کے نظریات اور مقصد کو زندہ رکھا۔ ان کی فکری سرپرستی اور اخلاقی تربیت نے مولانا کی جدوجہد کو تقویت دی۔ ان خواتین نے گھروں سے نکل کر جلوسوں میں شرکت کی، مالی اعانت فراہم کی اور اپنے زیورات اور قیمتی اثاثے قومی فنڈز میں جمع کرائے۔ یہ صرف ایک مالی قربانی نہیں تھی بلکہ یہ اپنے آرام و آسائش اور ذاتی خوشیوں کو قومی مقصد پر قربان کرنے کا ایک علامتی اظہار تھا۔ ان کی اس جدوجہد نے نہ صرف تحریک کو مضبوط کیا بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے سماجی اصلاحات اور خواتین کے حقوق کی تحریک کی بنیاد بھی رکھی۔
آزادی کی ہر بڑی تحریک میں مسلم خواتین کی شرکت کے شواہد موجود ہیں۔ 1930 کی نمک ستیہ گرہ ہو یا 1942 کی بھارت چھوڑو تحریک، مسلم خواتین نے احتجاجی جلوسوں میں شمولیت اختیار کی، برطانوی دفاتر کے سامنے مظاہرے کیے اور جیل کی صعوبتیں برداشت کیں۔ ڈاکٹر عابدہ سمیع الدین اور ڈاکٹر جانیت جارج جیسے ماہرین کی تحقیقی رپورٹیں اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ ہزاروں مسلم خواتین نے نام نہاد سماجی و ثقافتی پابندیوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے قومی جدوجہد میں حصہ لیا۔ ان خواتین نے صرف سیاست ہی نہیں بلکہ صحافت اور تعلیم کے میدان میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ ان کی یہ خدمات اس وقت کے سماجی ڈھانچے اور دستیاب تعلیمی وسائل کی کمی کے پیش نظر غیر معمولی اہمیت کی حامل ہیں۔ انہوں نے اپنی بے لوث حب الوطنی اور ایمان کی قوت سے یہ ثابت کر دیا کہ قوم کی تقدیر لکھنے میں خواتین کا کردار مردوں سے کسی صورت کم نہیں۔
آج جب ہم اپنی نئی نسلوں کو آزادی، جمہوریت اور انسانی حقوق کا درس دیتے ہیں تو یہ ناگزیر ہے کہ ہم ان گمنام خواتین کے کردار کو بھی ان کے شایانِ شان خراج تحسین پیش کریں۔ یہ محض ان کی قربانیوں کا ایک رسمی اعتراف نہیں بلکہ ان کی خاموشی، ایثار اور حوصلے کو ایک زبردست جذبے اور معیاری تخلیقی اسلوب میں اجاگر کرنا ہے۔ بیگم حضرت محل کی بے خوف قیادت، بی اماں کا قومی شعور، ہاجرہ بیگم کی صحافتی جدوجہد، اور ہزاروں بے نام و نشان خواتین کا ایثار ہماری اجتماعی یادداشت اور قومی شعور کا ایک اہم حصہ بننا چاہیے۔ ان کے بغیر آزادی کی داستان ادھوری ہے اور معاشرتی فہم نامکمل۔ ان خواتین کی داستانوں کو صرف کتابوں تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ انہیں ادبی، تحقیقی اور عملی میدان میں بھی تسلیم کیا جانا چاہیے۔ ان کی محنتیں، آنسو، دعائیں اور مسکراتی قربانیاں ہمارے سماجی ضمیر میں چراغ بن کر جلنی چاہییں، تاکہ آنے والی نسلیں جان سکیں کہ عورت صرف گھر کی نگہبان نہیں، وہ قوم کی تقدیر بھی لکھنے والے ہاتھوں کی وارث ہے۔
Post Views: 54