Skip to content
ممبئی9فروری(محمدطفیل ندوی)قرآن کریم اللہ تعالیٰ کی وہ مقدس کتاب ہے جو قیامت تک کیلئے رشد و ہدایت کا سرچشمہ ہے،اس عظیم نعمت کی حفاظت کا شرف جس طبقہ کو حاصل ہواوہ حفاظ کرام ہیں،خصوصاوہ کم عمرنونہالان جو اپنی زندگی کے قیمتی ایام قرآن کریم کو یاد کرنے اور ایک نشست میں سنانے جیسی عظیم سعادت حاصل کرنے میں صرف کرتے ہیں،
وہ پوری امت کیلئےباعث فخروقابل مبارکباد ہیں،اسی احساس ذمہ داری اور دینی حمیت کے پیش نظر امام الہند فاؤنڈیشن ممبئی نے یہ قابل تحسین فیصلہ کیا ہے کہ ایسےحفاظ کرام جن کی عمر ۱۵ سال سے کم ہے اور جنہوں نے ایک نشست میں قرآن کریم سنانے کی سعادت حاصل کی ہے،انہیں خصوصی اعزازات واسناد سے نوازا جائیگا
یہ اعزازمحض ایک اعزاز نہیں ہوگابلکہ یہ قرآن سے وابستگی، محنت و استقامت اور اساتذہ ووالدین کی قربانیوں کا اعتراف ہوگااس موقع پر حفاظ کرام کی ہمت افزائی کیساتھ ساتھ ان کے اساتذہ اور سرپرستوں کو بھی خراج تحسین پیش کیا جائے گا، جن کی مسلسل محنت، دعا اور نگرانی کے نتیجے میں یہ نونہالان سپاہی قرآن کریم کے محافظ بنے،یہ اقدام دراصل نوخیز حفاظ کرام کی حوصلہ افزائی، ان کے اندر اعتماد پیدا کرنے اور قرآن سے عملی تعلق کو مضبوط کرنے کی ایک سنجیدہ اور بامقصد کوشش ہے،
امام الہند فاؤنڈیشن نے اس حقیقت کو پیش نظر رکھا ہے کہ ایک حافظ قرآن کی کامیابی کے پیچھے اس کے استاد کی شب و روز کی محنت، اخلاص اور تربیت کارفرما ہوتی ہے،اسی لئے ان اساتذۂ کرام کوباوقار انداز میں شال پوشی کیساتھ’’ محمودیہ ایجوکیشن ایوارڈ‘‘پیش کیاجائیگادرحقیقت یہ ایوارڈ اساتذہ کی علمی و تربیتی خدمات کے اعتراف کے طور پر پیش کیا جائیگاجبکہ شال پوشی ان کے مقام احترام اور قدر شناسی کی علامت ہوگی،
امام الہند فاؤنڈیشن کا یہ جامع اور بامقصد پروگرام درحقیقت قرآن اور اہل قرآن دونوں کی تکریم کا عملی نمونہ ہے،امید ہے کہ اس سے نوجوان نسل میں حفظ قرآن کا شوق بڑھے گا اور اساتذہ کرام مزید جذبۂ اخلاص کیساتھ اس مقدس خدمت میں مصروف رہیں گے،حفاظ کا اس طورپراعزازکیاجائیگادستار بندی (عامہ)اس موقع پر حافظ قرآن کی باوقار دستار بندی کی جائیگی، جو اس کے اعزاز، شرف اور دینی مقام کی علامت ہوگی یہ دستار دراصل علم قرآن کی عظمت اور اس کے حامل کی تکریم کا اعلان ہوگی،ٹرالی (سفری بیگ)ایک خوبصورت اور معیاری ٹرالی بطور تحفہ پیش کی جائیگی،
تاکہ حافظ قرآن آئندہ تعلیمی و دعوتی اسفار میں اسے استعمال کر سکیںیہ عملی نوعیت کا تحفہ اس کے روشن مستقبل کی علامت بھی ہوگاسند فریم کیساتھ علمائے کرام کے دستخط سے مزین کامیابی کی باضابطہ سندمعزز علمائے کرام کے دستخطوں کے ساتھ فریم میں پیش کی جائیگی تاکہ یہ یادگار ہمیشہ اس کے علمی سفر کی نمائندگی کرتی رہے اور اس کیلئے باعث فخر بنے،خصوصی بنام’’ طیبہ ایجوکیشن ایوارڈ‘‘ایک خوبصورت یادگارطورپرپیش کیا جائیگا جو اس کی محنت، استقامت اور غیر معمولی کارنامے کی علامت ہوگا۔
Like this:
Like Loading...