Skip to content
رؤیت ہلال سے متعلق کچھ اہم باتیں
از: مفتی احمد عبدالحسیب تنویر قاسمی
اسلام نے مسلمانوں کی ہر موڑ پر رہنمائی فرمائی ہے کس وقت میں کیا کرنا چاہیے اور کس وقت میں کیا نہیں کرنا چاہیے وضاحت کے ساتھ بیان فرما دیا گیا ۔۔۔۔۔
اللہ تعالی بندوں کا کبھی بھی برا نہیں چاہتے چونکہ اللہ تعالی نے کائنات کی ہر چیز انسانوں کے لیے بنائی ہے کس چیز میں فائدہ ہے کس چیز میں فائدہ نہیں ہے کون سی چیز کیسے کرنا چاہیے کس چیز سے بچنا چاہیے ساری باتوں کی اللہ تعالی نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے رہنمائی فرمائی ہے ۔۔۔۔۔
اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انتہائی دیانت اور امانت داری کے ساتھ اللہ تعالی کا پیغام بندوں تک پہنچایا ۔۔۔۔۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم اخری نبی ہیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اب کوئی نبی انے والے نہیں ۔۔۔۔
دین کی بنیاد قران اور حدیث پر رکھی گئی ہے جو شخص قران اور حدیث کو مضبوطی سے پکڑے رکھے اس کو کوئی چیز گمراہ نہیں کر سکتی ۔۔۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا
عن ابن عباس رضي الله تعالى عنهما عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال: يا أيها الناس؛ إني قد تركت فيكم ما إن اعتصمتم به فلن تضلوا أبدا، كتاب الله، وسنة نبيه.
ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اے لوگو میں تمہارے درمیان دو چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں اگر تم ان دونوں کو مضبوطی سے پکڑے رکھو تو کوئی چیز کبھی بھی تم کو گمراہ نہیں کر سکتی اور وہ دو چیزیں کتاب اللہ اور نبی کا طریقہ ہے ۔۔۔۔
بہت سارے مسائل وہ ہیں جس کی قران کریم یا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات مبارکہ میں وضاحت نہیں ملتی اس کے حل کے لیے حضرات فقہاء کرام نے قران اور احادیث مبارکہ کی روشنی میں اجماع امت اور قیاس کا سہارا لیا ہے ۔۔۔۔۔واضح رہے کہ اجماع امت ہو یا قیاس ہو قران اور حدیث کے خلاف نہیں ہونا چاہیے ۔۔۔۔
جس مسئلے میں قران کریم کی ایتیں یا احادیث مبارکہ واضح طریقے پر یا اشاروں میں موجود ہوں اس کے لیے اجماع امت یا قیاس سے مسئلہ حل نہیں کیا جا سکتا ۔۔۔اور جس مسئلے میں قران کریم کی کوئی ایت یا احادیث مبارکہ میں سے کوئی حدیث صراحتا یا اشارتا نہ ملتی ہو اس کے حل کے لیے اجماع امت اور قیاس کا سہارا لیا جا سکتا ہے ۔۔۔۔۔اور اج پوری دنیا کے علماء کرام کا یہی طریقہ ہے مسائل کو حل کرنے میں ۔۔۔۔۔۔
اسلام میں نظام عید اور تہوار اور خصوصی مواقع پر منائے جانے والے مذہبی پروگرامس چاند کی تاریخ سے طۓ پاتے ہیں جیسے بقر عید دس ذی الحج کومنائی جاتی ہے ۔۔۔۔اسی طرح رمضان المبارک کی عید جس کو عید الفطر کہا جاتا ہے یکم شوال کو منائی جاتی ہے عاشور کا روزہ محرم کی 10 تاریخ کو رکھا جاتا ہے ُ۔ ۔۔۔اسلامی سال محرم کی پہلی تاریخ سے شروع ہوتا ہے اور اسلامی سال ذی الحج کی اخری تاریخ پر ختم ہوتا ہے وغیرہ ۔۔۔۔کسی بھی مہینے میں 29 ویں رات میں اگر چاند نکل ائے تو اگلے دن پہلی تاریخ شمار ہوگی اور اگر 29 ویں رات میں چاند نہ دکھائی دے تو 30 دن پورے کیے جائیں گے ۔۔۔۔۔
پوری دنیا میں رمضان المبارک کی ابتدا اور رمضان المبارک کے اختتام پر تاریخ کے معاملے میں اکثر اختلاف ہوتا رہتا ہے ۔۔۔۔۔
کچھ لوگ وہ ہیں جو کیلکولیشن والوں کی اتباع کرتے ہیں ۔۔۔۔اور کیلکولیشن والوں کے پاس ان کا اپناکیلنڈر بنا ہوا ہے اج کا کل کا نہیں بلکہ ائندہ 50 سال کے بعد رمضان کس دن، سرکاری تاریخ کے اعتبار سے کس تاریخ کو شروع ہوگا اور رمضان کس دن اور سرکاری اعتبار سے کس تاریخ کو ختم ہوگا سب کچھ بنا ہوا ہے کیلکولیشن والے اس کیلنڈر کو فالو کرتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔اور کچھ لوگ وہ ہیں جو عرب ممالک کو فالو کرنا چاہتے ہیں کہ سعودی عرب میں یا عرب ممالک میں چاند دکھائی دیا لہذا ہم بھی اسی کو فالو کرتے ہیں(ہندوستان میں رہنے والوں کا سعودی عرب کی رویت کو معیار بنانا زیادہ مناسب نہیں معلوم ہوتا ) ۔۔۔۔۔اور کچھ لوگ وہ ہیں جو چاند کو دیکھ کر یا شرعی رویت کی اطلاع پر رمضان شروع کرنا اور عید منانا چاہتے ہیں ایسے لوگ چاند دیکھ کر ہی رمضان کی ابتدا کرتے ہیں اور چاند دیکھ کر ہی رمضان ختم کرنا چاہتے ہیں ۔ُ۔ ۔(اور یہ لوگ شرعی حکم پر عمل کے عین مطابق معلوم ہوتے ہیں )
اس سلسلے میں احادیث مبارکہ میں واضح ترین حدیث موجود ہے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا
صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ وأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ، فإنْ غُبِّيَ علَيْكُم فأكْمِلُوا عِدَّةَ شَعْبَانَ ثَلَاثِينَ.
: صحيح البخاري
الرقم: 1909
چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند دیکھ کر افطار یعنی عید کیا کرو پھر اگر تم پر چاند پوشیدہ کر دیا جائے بادل کی وجہ سے یا اور کسی وجہ سے تو 30 دن شعبان کے مہینے کے پورے کر لیا کرو ۔۔۔۔
ایک اور حدیث میں مزید وضاحت کے ساتھ موجود ہے
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:” الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ لَيْلَةً، فَلَا تَصُومُوا حَتَّى تَرَوْهُ، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَأَكْمِلُوا الْعِدَّةَ ثَلَاثِينَ”.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مہینہ کبھی انتیس راتوں کا بھی ہوتا ہے اس لیے (انتیس پورے ہو جانے پر) جب تک چاند نہ دیکھ لو روزہ نہ شروع کرو اور اگر بادل ہو جائے تو تیس دن کا شمار پورا کر لو۔ [صحيح البخاري/كتاب الصوم/حدیث: 1907]
رمضان کی ابتدا کے لیے اور رمضان کے اختتام کے لیے انتہائی واضح ترین احادیث مبارکہ موجود ہیں کہ چاند اگر دیکھ لو تو چاند کے حساب سے عمل کرو اور اگر چاند نہ دیکھ سکو تو پھر 30 دن پورے کر لیا کرو ۔۔۔۔
اس طرح کی احادیث کی تشریح میں محدثین کرام نے لکھا ہے کہ
جعَلَ اللهُ الأهِلَّةَ لحِسابِ الشُّهورِ والسِّنينَ؛ فبِرُؤْيةِ الهِلالِ يَبدَأُ شَهْرٌ ويَنْتَهي آخَرُ، وعلى تلك الرُّؤْيةِ تَتَحدَّدُ فَرائضُ كَثيرةٌ، كالصِّيامِ، والحَجِّ.
وفي هذا الحديثِ يَأمُرُنا النَّبيُّ صلَّى اللهُ عليه وسلَّمَ أنْ نَصومَ رمَضانَ عندَ رُؤيةِ الهلالِ بعْدَ غُروبِ شَمسِ اليومِ التَّاسعِ والعِشرينَ مِن شَعبانَ، ونُفطِرَ عندَ رُؤيةِ هِلالِ شوَّالٍ بعْدَ غُروبِ شَمسِ اليومِ التَّاسعِ والعِشرينَ مِن رَمضانَ؛ فالشَّهرُ يكونُ أحيانًا تِسعةً وعشرينَ يَومًا، وأحيانًا ثلاثينَ، والكلُّ جائزٌ وواقعٌ، والاعتمادُ في الصِّيامِ والإفطارِ على رُؤيةِ الهلالِ.
فإنْ خَفِيَ علينا هِلالُ رَمضانَ لأيِّ سَببٍ مِن الأسبابِ، كغَيمٍ ونحْوِه، فلْنُكمِلْ عِدَّةَ شَهرِ شَعبانَ ثلاثينَ يَومًا، وكذلك إنْ خَفِيَ هِلالُ شَوَّالٍ نُكمِلْ رمَضانَ ثَلاثينَ يَومًا.
اللہ تعالیٰ نے نئے چاند کو مہینوں اور سالوں کے حساب کے لیے مقرر کیا ہے۔ نیا
چاند نظر آنے سے ایک مہینے کا آغاز اور دوسرے مہینے کا اختتام ہوتا ہے۔ بہت سے مذہبی فرائض، جیسے روزہ اور حج وغیرہ ، اس نظریہ سے طۓ ہوتے ہیں۔
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں حکم دیتے ہیں کہ 29 شعبان کو غروب آفتاب کے بعد نیا چاند نظر آنے پر رمضان کے روزے شروع کریں اور 29 رمضان کو غروب آفتاب کے بعد شوال کا نیا چاند دیکھ کر افطار کریں۔ مہینہ کبھی انتیس دن اور کبھی تیس دن کا ہوتا ہے اور دونوں طریقے صحیح ہیں۔ رمضان المبارک کا آغاز اور اختتام چاند کی رویت پر منحصر ہے۔
اگر کسی وجہ سے رمضان کا نیا چاند نظر نہ آئے مثلاً بادل چھا جائیں تو ہم شعبان کے مہینے کے تیس دن مکمل کرتے ہیں۔ اسی طرح اگر شوال کا چاند نظر نہ آئے تو ہم رمضان کے تیس دن پورے کرتے ہیں۔۔۔۔۔ویسے ہر مہینے کی 29 ویں کو چاند دیکھنے کا اہتمام کرنا چاہیے اور خاص طور پر شعبان اور رمضان المبارک کی 29 ویں کو تو ضرور دیکھنا چاہیے
اگر شعبان کی 29 ویں کو چاند دکھائی دیتا ہے تو تراویح بھی شروع ہو جائے گی اور صبح سے روزے بھی شروع ہو جائیں گے اور اگر چاند دکھائی نہیں دیتا ہے تو 30 دن شعبان کے مکمل کیے جائیں گے پھر تراویح اور روزوں کے شروع کرنے کا اہتمام کیا جائے گا ۔۔۔۔
ہم میں سے ہر ایک کو چاند دیکھنے کا اہتمام کرنا چاہیے ۔۔۔۔
ویسے پوری دنیا میں رویت ہلال کی کمیٹیاں باضابطہ بنی ہوئی ہیں جس میں حضرات علماء کرام بھی اہتمام کے ساتھ شریک ہوتے ہیں اور پورے اہتمام کے ساتھ ہر مہینے کی 29 ویں کی مغرب سے ہی چاند دیکھنے کی فکر میں لگ جاتے ہیں ۔۔۔۔۔اور چاند دکھائی دینے پر یا چاند دکھائی نہ دینے پر شرعی گواہیوں پر غور و فکر کرنے کے بعد ذرائع ابلاغ یعنی سوشیل میڈیا واٹس ایپ اور اخبارات کے ذریعے یہ نیوز پھیلا دی جاتی ہے ۔۔۔۔۔
چاند کے معاملے میں ابتدائی دور سے ہی اختلاف چلا ارہا ہے۔۔۔۔۔
"عن كريب، أن أم الفضل بنت الحارث، بعثته إلى معاوية بالشام، قال: فقدمت الشام، فقضيت حاجتها، واستهل علي رمضان وأنا بالشام، فرأيت الهلال ليلة الجمعة، ثم قدمت المدينة في آخر الشهر، فسألني عبد الله بن عباس رضي الله عنهما، ثم ذكر الهلال فقال: متى رأيتم الهلال؟ فقلت: رأيناه ليلة الجمعة، فقال: أنت رأيته؟ فقلت: نعم، ورآه الناس، وصاموا وصام معاوية، فقال: ” لكنا رأيناه ليلة السبت، فلا نزال نصوم حتى نكمل ثلاثين، أو نراه، فقلت: أو لا تكتفي برؤية معاوية وصيامه؟ فقال: لا، هكذا أمرنا رسول الله صلى الله عليه وسلم”
(صحيح مسلم، كتاب الصيام،باب بيان أن لكل بلد رؤتهم وأنهم إذا رأوا الهلال ببلد لا يثبت حكمه لما بعد عنهم، الرقم: 1087، 2: 765، دار إحياء التراث العربي)
کریب روایت کرتے ہیں کہ ام الفضل بنت الحارث نے انہیں حضرت معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کي خدمت میں شام بھیجا،فرماتے ہیں: جب میں شام پہنچ كر اپنا کام کرچکا تو وہیں رمضان شروع ہوگيا، جمعہ کی شب میں نے چاند دیکھا، پھر مہینے کے آخر میں مدینہ منورہ آیا، تب عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہمانے مجھ سے سفر کے احوال دریافت فرماتے ہوئےچاند کا ذکر کیا، اور کہا کہ تم نے چاند کب دیکھاتھا؟میں نے عرض کیا: جمعہ کی شب! فرمایا: آپ نے خود دیکھا تھا! میں نے عرض کیا: جی ہاں! (اسی طرح )اور لوگوں نے بھی دیکھا، اور سب نے حضرت معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کے ساتھ روزہ رکھا، آپ نے فرمایا: لیکن ہم نے ہفتہ کی رات چاند دیکھا ہے، ہم پورے تیس روزے رکھیں گے، میں نے عرض کیا !کیاحضرت معاویہ رضی اللہ تعالی کاچاند ديكھنااور روزہ رکھنا کافی نہیں؟ آپ نے فرمایا: نہیں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اسی طرح حکم فرمایا ہے۔ ۔۔۔۔
اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ چاند کے معاملے میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث مبارکہ واضح ہونے کی وجہ سے کہ "چاند دیکھو تو روزہ رکھو چاند دیکھو تو افطار کرو” پر عمل کرتے ہوئے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ نے ارشاد فرمایا کہ چونکہ ہمارے علاقے میں چاند کی رویت نہیں ہوئی اس لیے ہم لوگوں نے ایک دن بعد رمضان شروع کیا ۔۔۔۔۔۔
اس واقعہ سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اختلاف مطالع کا اعتبار کیا جائے گا ۔۔۔۔۔۔
ائمہ کرام ، حضرات محدثین اور حضرات فقہاء کرام میں شروع زمانے سے اس معاملے میں اختلاف رہا ہے ۔۔۔۔۔زیادہ صحیح اور مناسب بات یہی معلوم ہوتی ہے کہ پورے ملک کے کسی بھی علاقہ میں چاند دکھائی دے اور رویت کی شرعی شہادت حاصل ہو جائے تو وہ رویت شرعی حجت ہوگی یعنی کسی ایک جگہ کے چند لوگوں کے چاند دیکھنے کی وجہ سے اورقاضئ شریعت یا علماء کرام کی طرف سے شرعی شہادت کے قبول کرنے کی وجہ سے پورے ملک والے اس چاند پر عمل کرنے کے پابند ہوں گے ۔۔۔۔۔اور پورے ملک کا مطلع ایک مطلع مانا جائے گا ۔۔۔۔یعنی پورے ملک میں کسی بھی جگہ چاند کی رویت نہ ہو تو ایسی صورت میں شعبان کے 30 دن مکمل کیے جائیں گے اور 30 دن شعبان کے مکمل ہو جانے کے بعد پہلی رمضان قرار دی جائے گی ۔۔۔۔۔اسی طرح سے 29 رمضان کو پورے ملک میں کسی بھی جگہ رویت شرعی نہ ہو تو ایسی صورت میں رمضان المبارک اس پورے ملک میں 30 دن کا سمجھا جائے گا اور سارے لوگ تیسواں روزہ رکھنے کے پابند ہوں گے اور تیسواں روزہ مکمل ہونے کے بعد اگلے دن عید منائی جائے گی ۔۔۔۔۔
بہت اعلی درجے کی بات یہ ہے کہ پورے ملک کے سارے مسلمان ایک جٹ ہو کر ایک ساتھ عید منائیں اس میں شرعی حکم کی اتباع تو ہوتی ہی ہے ساتھ میں مسلمانوں کے اتحاد اور اتفاق کی علامت بھی ظاہر ہوتی ہے
ضرورت اس بات کی ہے کہ لوگوں کی دیکھا دیکھی میں نہیں جانا چاہیے قران اور حدیث کیا کہتا ہے اس کی اتباع کرنا چاہیے۔۔۔۔ اس لیے کہ قران اور حدیث ہی اصل ہے ہمارے لیے۔۔۔۔ کامیابی کا راز اللہ تعالی نے قران پاک اور حدیثوں کی اتباع میں رکھا ہے ۔۔۔
اللہ تعالی انے والے ماہ مبارک کو ہمارے لیے مغفرت کا اور خیر اور سعادت کے حصول کا ذریعہ بنائے ہم سب کو رمضان المبارک کی ڈھیر ساری نعمتوں سے مالا مال فرمائے اوراس ماہ مبارک میں کی جانے والی عبادتوں کو اپنے فضل سے قبول فرمائے
Like this:
Like Loading...