Skip to content
سنیترا پوار: اتنی جلدی کیا تھی ڈپٹی سی ایم بن جانے کی ؟
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
2014میں مہاراشٹر کو بی جےپی کا وزیر اعلیٰ تو مل گیا مگر ممبئی میونسپل کارپوریشن پر اپنا میئر بٹھانے کا خواب 12؍ سال بعد شرمندۂ تعبیر ہوا۔ یہ ایک طویل جدوجہد اور مختلف سازشوں کا نتیجہ ہے۔ ریاست میں برپا ہونے والی اس غیر معمولی سیاسی تبدیلی کی راہ میں پچھلے قومی انتخابات کے بعد ایک بڑا جھٹکا لگا تھا جب بی جے پی دوہندسوں تک پہنچنے میں ناکام رہی تھی۔ اس ناکامی نے بی جے پی کو چار سو کے خواب کو چکنا چور کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا ۔ اس کے پانچ ماہ بعد مہاراشٹر قانون ساز اسمبلی کا الیکشن 20 نومبر 2024 کو منعقد ہوا۔ ریاست کے288؍ اسمبلی نشستوں کی ووٹنگ کا تناسب 66.05 فیصد تھا یعنی 1995؍کے بعد سب سے زیادہ ووٹرز نے اپنا حقِ رائے دہی استعمال کیا ۔ بی جے پی کی قیادت میں قائم مہا یوتی اتحاد نے شاندار کامیابی حاصل کرتے ہوئے 288 میں سے 235 نشستیں اپنے نام کرلیں۔ اس کے برعکس پارلیمانی انتخابات میں زبردست کامیابی حاصل کرنے والی مہا وکاس آگاڑی اتحاد کی کوئی بھی جماعت اتنی نشستیں بھی حاصل نہیں کر سکی کہ حزب اختلاف کا عہدہ حاصل کر پاتی۔ ایسا تو گزشتہ 60 برسوں میں پہلی بار ہوگیا ۔ اکیلی بی جے پی 244کے جادوئی عدد سے صرف 12 کے فاصلے پر یعنی 232 نشستیں جیت چکی تھی ۔ یہ خود اس کے خواب و خیال کے پرے تھی اس کے باوجود نیا وزیر اعلیٰ بنانے میں انتخابی نتائج کے بعد خاصہ طویل وقت لگ گیا۔
4؍ دسمبر 2024 کو بی جے پی قیادت نے دیویندر فڈنویس کو وزیرِ اعلیٰ کے طور پر منتخب کیا اور انہوں نے 5 دسمبر 2024 کو تیسری مرتبہ مہاراشٹر کے وزیرِ اعلیٰ کے عہدے کا حلف اٹھایا۔ اس وقت لوگ تاخیر سے متعلق سوال کیا جاتا تو جواب ملتا ’ ایسی بھی کیا جلدی ہے؟ ‘ اسی لیے اب یہ پوچھا جارہا ہے کہ :’’اتنی جلدی کیا تھی ڈپٹی سی ایم بن جانے کی ؟‘مذکورہ بالا سیاسی صورتحال کو’ آج تک‘ چینل پر بحث کی سرخی میں ایک سوال کے اندر نہایت خوبصورتی سے اس طرح سمو دیا گیا کہ ’ستاّ(اقتدار) کی مجبوری یا شردپوار سے دوری؟‘ سچ تو یہ ہے ’یا ‘ کی جگہ ’اور‘ بھی ہوسکتا تھا کیونکہ دونوں وجوہات بیک وقت کارفرما ہیں ۔ انگریزی کا ایک محاورہ ہے’وِن وِن سچویشن ‘ یعنی ’ہماری بھی جئے جئے ، تمہاری بھی جئے جئے نہ ہم جیتے نہ تم ہارے ‘۔ یعنی اس میں نہ صرف بی جے پی اور این سی پی کے پٹیل اور تٹکرے جیسے لوگوں کا بلکہ سنیترا پوار کا بھی فائدہ ہوگیا ۔ یہاں یہ بات سمجھنے جیسی ہے کہ ان تینوں کے مفادات مختلف ہیں مگر اس ایک فیصلے نے مشترکہ طور پر سبھی کا بھلا کردیا ۔
یہ جلد بازی بی جے پی کی سب سے بڑی ضرورت تھی کیونکہ این سی پی کے دونوں دھڑوں کے درمیان انضمام کی کوشش بہت آگے بڑھ چکی تھی اور جلد ہی اعلان ہونے والا تھا ۔ اجیت پوار کی حیات میں اس کی قیادت کا کوئی مسئلہ نہیں تھا کیونکہ وہ خود نائب وزیر اعلیٰ کے عہدے پر فائز تھے اور اپنے رسوخ استعمال کرکے سپریا سولے کو مرکز ی وزیر بناسکتے تھے لیکن ان کے انتقال نے سارا حساب کتاب بگاڑ دیا ۔اجیت پوار کی موت کے بعد متحدہ این سی پی کی قیادت شرد پوار کے ہاتھوں میں چلے جانے کے امکانات روشن ہو گئے۔ بی جے پی والے شرد پوار پر اس طرح اعتماد نہیں کرسکتے جیسے اجیت پوار اور ان سے بھی بڑھ سنیترا پوار پر ممکن ہے۔ شرد پوار ایک مرتبہ مہاراشٹر قانون ساز اسمبلی میں سب سے بڑی پارٹی ہونے کے باوجود بی جے پی کے جبڑوں سے اقتدار چھین چکے ہیں۔ ان کے بارے میں کچھ بھی کہنا مشکل ہے مگر اجیت پوار یا سنیترا سے یہ خطرہ نہیں ہے۔ ان دونوں کو بلیک میل کرکے ساتھ رکھنا بہت آسان ہے۔
اس حوالے سے دیکھا جائے تو سنیترا کے سامنے بھی سب سے بڑا چیلنج اجیت کی وراثت میں ملنے والی دھن دولت کو سرکاری عتاب سے محفوظ کرکے اپنے خاندان میں رکھنا ہے۔ ایسے میں ان کا اقتدار حاصل کرلینا دونوں فریقوں کے لیے نہایت مفید ہے۔ اب تیسرا فریق اجیت پوار کی پارٹی میں شامل دیگر رہنما ہیں ۔ ان کے سامنے سب سے بڑا چیلنج پارٹی کو متحد رکھنا ہے ورنہ اس بات کا قوی امکان ہے کہ اقتدار کی حریص یہ بدعنوان پارٹی بکھر جائے۔ ان کی بہت بڑی تعداد کو بی جے پی نگل کر ڈکار لے اور بچے کھچے ایکناتھ شندے کا دامن تھام کر اپنی سیاسی جمع پونجی کے تحفظ کا سامان کریں ۔ اسی لیے پرفل پٹیل اور سنیل تٹکرے جیسے رہنماوں نے سنیترا کی چھتری میں سب کو متحد کرلیا۔ ان لوگوں کو اگر بی جے پی میں جانا بھی ہو تو یہ بڑی تعداد میں ارکانِ اسمبلی کے ساتھ اچھا مول بھاو کرسکتے ہیں ۔ مذکورہ بالا قیاس آرائیوں سے قطع نظر سوال یہ ہے کہ 85.6% نشستوں پر قابض مہا یوتی کو اجیت پوار کی این سی پی کے شرد پوار کے ساتھ چلے جانے سے اس قدر فکر مندی کیوں ہے؟ کیونکہ ان کے خلاف مہا وکاس اگھاڑی کے پاس تو صرف 17.36%نشستیں ہیں ۔ وہ اس کا کیا بگاڑ لے گی؟
ان چمکتے دمکتے اعدادو شمار کے پسِ پشت زمینی حقیقت یہ ہے کہ مہایوتی کے مشترکہ ووٹ تناسب اب بھی صرف 49.3% ہی ہے اور یہ بات بی جے پی اچھی طرح جانتی ہے کہ اس میں چرائے ہوئے ووٹ بھی شامل ہیں ۔ اس کے مقابلے گئی گزری حالت میں بھی مہاوکاس اگھاڑی کے پاس35.2%ووٹ ہیں ۔ 15.5%ووٹ جودیگر لوگوں کو ملے ہیں ان رائے دہندگان کی اقتدار سے ناراضی انہیں حزب اختلاف کی جانب ڈھکیل سکتی ہے۔ اس لیے بی جے پی کا یہ ناقابلِ تسخیر نظر آنے والا قلعہ نہایت کمزور بنیادوں پر کھڑا ہے۔ بی جے پی جانتی ہے کہ مہاراشٹر کے مراٹھا سماج ک کی خاطر فڈنویس جیسے رہنما کو قبول کرنا مشکل کام ہے ۔وہ مراٹھوں سے ڈرا کر کسی طرح او بی سی کو اپنے جھانسے میں لے لیتی ہے لیکن مراٹھا سماج کو متاثر نہیں کرپاتی ۔ یہی وجہ ہے کہ مراٹھوں کو ساتھ رکھنے کی خاطربی جے پی کو ایکناتھ شندے یا اجیت پوار جیسے لوگوں کی ضرورت پڑتی ہے۔ اسی لیے کہ اپنی تمام تر رعونت کے باوجود وزیر اعلیٰ دیویندر فڈنویس کو ان کے آگے ہاتھ پسارنے پڑتے ہیں اور نخرے اٹھانا پڑتا ہے۔
مہاراشٹر کی سیاست کے اس پہلو سے کوئی انکار نہیں کرسکتا ہے کہ وزیر اعلیٰ دیویندر فڈنویس اور ایکناتھ شندے کی کیمسٹری میل نہیں کھاتی ۔ اس کی دو وجوہات تھیں اول تو جب شیوسینا کو توڑ کر سرکار بنائی گئی تو بی جے پی نشستیں اس کے دوگنا سے بھی زیادہ تھیں اور اپنے سابقہ تجربے کی بنیاد پر دیویندر فڈنویس خود کو وزارتِ اعلیٰ کی کرسی کا سب سے زیادہ حقدار سمجھتے تھے لیکن ا ن کے خیال میں ایکناتھ شندے نے ان کا حق مارلیا تھا ۔ فڈنویس اس فیصلے سے اس قدر دل برداشتہ ہوئے تھے کہ انہوں نے سرکار بنانے کے جشن میں بھی شرکت نہیں کی ۔ اس کے بعد جب بی جے پی نے گوں ناگوں وجوہات کے سبب زبردست انتخابی کامیابی درج کرالی اور دیویندر فڈنویس نے دوبارہ اپنا دعویٰ پیش کیا تو یہ بات دیویندر فڈنویس کو ناگوار گزری اور انہوں نے ناٹک شروع کردیا۔ انہیں وزارت اعلیٰ کی کرسی کا چسکا لگ چکا تھا اور اسے گنوانے کا قلق اندر سے کو س رہا تھا ۔ ایسے میں دہلی سے رابطہ کیا گیا اور آبائی وطن کی جانب جانا پڑا مگر یہ تماشے کسی کام نہیں آئے ۔یہاں تک کہا گیا کہ کم ازکم ممبئی کے بلدیاتی انتخاب تک رکھا جائے لیکن ایک نہیں چلی ۔
اجیت پوار اس موقع کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے دیویندر فڈنویس اور ایکناتھ شندے کے درمیان دیوار بن کر کھڑے ہوگئے ۔ دیویندر فڈنویس نے شندے کو قابو میں رکھنے کی خاطر بارہا اجیت پوار کا بھر پور استعمال کیا ۔ بی جے پی کو فکر تھی کہ اگر این سی پی میں کوئی ایسا رہنما آجاتا ہے جو شندے کی آرزومندی کا استعمال کرکے انہیں بی جے پی سے بدظن کردے تو اس سے مشکل ہوسکتی ہے۔ اس لیے بی جے پی کو ایک کمزور رہنما کی ضرورت تھی اور اس کو سنیترا نے پورا کردیا ۔ ان کا کمزوری کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے وہ وزارت خزانہ گنوا کر وزیر محصول بننے پر راضی ہوگئیں۔ جھارکھنڈ میں ہیمنت سورین کی گرفتاری کے بعد چمپئی سورین کو وزیر اعلیٰ بنائے گئے لیکن وہ ایک کمزور رہنما نکلے۔ ہیمنت سورین کی رہائی کے بعد انہوں نے عہدہ چھوڑنے میں آنا کانی کی اور بالآخر پارٹی سے بغاوت کرکے الگ ہوگئے۔ آگے چل کر انہوں نے بی جے پی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑا اور اپنے روایتی حلقۂ انتخاب میں ہار گئے۔ بہار میں جتن رام مانجھی کے ساتھ بھی یہی ہوا۔ بی جے پی علاقائی جماعتوں کو کمزور کرنے کے لیے ایسے کمزور رہنماوں کو استعمال کرتی رہی ہے اور مہاراشٹر میں اسی حکمت عملی کو جاری رکھنا چاہتی ہے۔
Like this:
Like Loading...