Skip to content
جان محمد: آدمی کو صاحبِ کردار ہونا چاہیے
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
مثل مشہور ہے’جھکتی ہے دنیا جھکانے والا چاہیے‘ ۔ متھرا ضلع کے نوجھیل علاقے میں واقع ایک سرکاری پرائمری اسکول کے ہیڈماسٹرجان محمد نے یہ ثابت کردیا کہ ’ ڈرتی ہے دنیا ڈرانے والا چاہیے‘۔ انہوں نے یہ کام ڈنڈے کے زور سے نہیں کیا کیونکہ اترپردیش میں فی الحال لٹھ بازی کا ٹھیکہ یوگی ٹھاکر نے لے رکھا ہے۔ جان محمد نے اپنے حسن اخلاق و کردار سے ثابت کردیا کہ ’ دبتی ہے دنیا دبانے والا چاہیے‘۔ ہوا یہ کہ اسکول سے 6؍کلومیٹر دور کے گاوں دجانا میں رہنے والے بی جے پی رہنما درگیش پردھان نے30؍ جنوری کوجان محمد کی شکایت کرکے چند بے بنیاد الزامات لگائے۔ یہ معاملہ دو آتشہ ہوگیا کیونکہ الزام لگانے والا برسرِ اقتدار جماعت سےاورشکایت مسلمان صدرِ مدرس کے خلاف تھی۔ اس لیے ایجوکیشن آفیسر نے اسی دن تفتیشی رپورٹ پیش کر کے31؍ جنوری کومعطل کیااور جانچ شروع کردی ۔ عام طور پر پہلے تفتیش اور پھر کارروائی ہوتی ہے مگر یوگی راج کی اندھیر نگری میں ترتیب الٹ جاتی ہے یعنی گاڑی آگے اور گھوڑا پیچھے ہوتا ہے۔ اس کی لگام اور چابک کسی اور کے ہاتھ میں ہوتی ہے مگر اس بار کوڑا الٹا چل گیا ۔ جان محمد کے لیے دیگر اساتذہ سمیت یونین، طلباء ، والدین اور پورا گاوں حمایت میں سڑکوں پر آگیا ۔ بلا محنت وہ میڈیا پر ایسے چھا گئے کہ سرکاری تفتیش دو دن کے اندر مکمل ہوگئی اور انہیں بے قصور بے قصورقرار دے دیا گیا بنیادی تعلیم کی اہلکار متھرا رتن کیرتی نے بحالی کا اعلان کیا تو ان سے پوچھا گیا کہ غلط شکایت کرنے والوں کو سزا کون دے گا؟ تو وہ اسے دوسرے شعبے کا کام بتاکر وہاں بھاگ کھڑی ہوئیں یہ ثابت ہوگیا ؎
آسمان کو دھرتی پہ لانے والا چاہیے
جھکتی ہے دنیا جھکانے والا چاہیے
متھرا ضلع کے نوجھیل سرکاری پرائمری اسکول میں کل ۸؍ اساتذہ میں جان محمد کے سوا ۷؍ ہندو ہیں۔ وہاں جملہ 235؍ زیر تعلیم طلبا میں سے 89؍ مسلمانوں کی تعداد سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ گاوں کی اکثریت ہندو ہے۔ ایسے میں بھارتیہ جنتا پارٹی کا دعویٰ کرنا کہ پرنسپل طلبہ کو زبردستی نماز پڑھنے کے لیے کہتے ہیں اور اسکول میں قومی ترانہ نہیں گایا جاتانیز غیر مسلم طلبہ کی ’’ذہن سازی‘‘، اس طرح کی جاتی ہے کہ ہندو دھرم کے مقابلے میں اسلام کو بہتر بتایا جائے مضحکہ خیز ہے۔ اس تبلیغی جماعت کا اجتماع منعقد کرنے کے الزام نے انہیں معطل کروا دیا۔ اس کے بعد جان محمدکے دفاع میں گاؤں کے غیر مسلم افراد، طلبہ اور ساتھی ٹیچر میدان میں آگئے اور ۲؍ درجن سے زائد افراد نے ضلع مجسٹریٹ سی پی سنگھ سےملاقات کرکے معطلی واپس لینے کا مطالبہ کیا۔ طلبہ کے سرپرستوں اورسنجے پاٹھک، وجے کمار، سنتوش بھاردواج، پورن پاٹھک، دیارام، عمران، شمشاد اور مسلم قریشی سمیت گاؤں کے درجنوں افراد نے ڈی ایم کو میمورنڈم دےکران الزامات کو بے بنیاد قرار دیا ۔سابق اساتذہ کی یونین نے یک طرفہ کارروائی اور جانچ کے بغیر ہی معطلی کی مذمت کی۔ گاوں نے دھمکی دی ہے کہ اگر ایک دن میں ہیڈ ماسٹر کو بحال کرکے شرپسند عناصر کے خلاف کارروائی نہیں کی احتجاج کیا جائے گانیز بحالی کے باوجود معافی کا مطالبہ کرتے ہوئے بصورتِ دیگر ہتک عزت کا دعویٰ کے ساتھ عدالتِ عظمیٰ سے رجوع کرنے کی دھمکی دی ۔
جان محمد کو دراصل ووٹر لسٹ کی ایس آئی آر کارروائی میں ووٹ نہ کاٹنے کے سبب نشانہ بنایا گیا ۔انہوں نے جب بوتھ نمبر 121؍ سے131؍کےمسلم ووٹرس کا نام کاٹنے سے انکار کیا تو بی جے پہ دشمن بن گئی اور غیر حاضر، منتقل شدہ اور متوفی ووٹرس کی لسٹ میں جان بوجھ ہندو ووٹروں کو شامل کرنے کا الزام لگا۔ بی جے پی کے عہدیداروں نےمسلم ووٹرس کا نام کاٹنے کے لیےتقریباً100؍ فارم جمع کیے تو انہوں نے صرف 36؍ فارم جمع کیے، کیونکہ ایک دن میں صرف 10؍ ’’فارم-۷‘‘ لینے کا حکم تھا۔ جان محمد کے معاملے میں میڈیا کا کردار بہت مثبت تھا خاص طور ہندی کا بڑ اخبار دینک بھاسکر اور اجیت انجم نے اپنے یوٹیوب چینل پر دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کردیا ۔ بھاسکر کے ترجمان نے الزامات جانچ پڑتال کے لیے اسکول میں ۵؍ ویں کی طالبہ پریانشی سے گفتگو کی تو اس نے بتایا کہ ’’سر نے کبھی کچھ غلط نہیں پڑھایا۔ وہ بہت اچھا پڑھاتے ہیں۔ یہاں ہندو مسلم جیسی کوئی بات نہیں ہوتی تھی۔ ہر روز قومی ترانہ بھی ہوتا ہے۔‘‘ کیمرے کے سامنے قومی ترانہ سنا گواہی دی کہ یہ اسے اسکول میں یاد کرایاگیاہے۔
اسکول کے بغل میں رہنے والے پروین کمار نے اس معاملے کو سیاسی قرار دے کر الزامات کی تردید کی ۔ وہ بولے میرے ۲؍بیٹے یہاں پڑھتے ہیں۔ میں روزانہ ان کو چھوڑنے آتا ہوں۔ یہاں قومی ترانہ بھی ہوتا ہے، روزانہ کلاس بھی ہوتی ہے۔گاؤں میں رہنےوالے کسان اندرپال نے بتایا کہ’’ ماسٹر صاحب کا رویہ بہت اچھا ہے۔ میری بیٹی اور بیٹا بی ایس سی کر رہے ہیں۔ دونوں یہیں سے پڑھے ہیں۔ جوالزامات لگے ہیں ان کا اسکول سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ وہ ہندو مسلم کی بات نہیں کرتے۔ سرپرستوں نے بچوں سے جبراً نماز پڑھوانے کی بھی تردید کی۔ اسکول کے دیگر اساتذہ نے بھی نامہ نگار کے سامنے اپنے کھل کر ہیڈ ماسٹر کا دفاع کیا ہے۔ اجیت انجم کے ساتھ بات کرتے ہوئے ایک طالبہ نے کہا کہ اگر ان کے استاد جان محمد واپس نہیں آئے تو وہ اسکول سے نام کٹوا لے گی کیونکہ وہ بہت اچھے تھے ۔ گاوں کی خواتین نے بتایا وہ بچوں سے بہت محبت کرتے تھے ۔ ان کا منہ دھلا دیتے تھے انہیں اپنی گود میں اٹھا لیتے تھے ۔ وہ کہتے تھے کہ جب تک یہ طلبا اسکول میں ہیں ان کے بچےہیں اور جب گھر جاتے ہیں تو ان کے ماں باپ کے ہوجاتے ہیں ۔
کسی استاد کے دل میں اپنے طلبا کے تئیں اتنی شفقت کا جذبہ ہوتو وہ اور ان کے والدین استاد کا احترام نہ کریں تو کیاکریں ؟ ایک طالبہ کی والدہ نے بتایا کہ ایک بچی اسکول میں بیمار ہوگئی تو وہ اس کو اسکوٹر سےپہلے اسپتال لے کر گئے پھر گھرپر اطلاع دی ۔ اس نے الٹا سوال کیا کہ ایک ہندو اکثریتی گاوں میں کوئی اپنے طلبا کو زبردستی نماز کیسے پڑھا سکتا ہے؟ گاوں کی ایک خاتون بولی ان کا اصلی نام تو میڈیا والوں کی آمد پتہ چلا ۔ ہم تو انہیں پیار سے داڑھی والی ماسٹر کہتے تھے اور وہ کبھی اس احترام کے لقب کا برا نہیں مانتے ۔ اجیت انجم نے اس پر کہا کہ داڑھی ٹوپی سے پریشان ہونے والے بی جے پی کے لوگوں اس سے سبق سیکھنا چاہیے۔ اکتوبر 2022 میں بھی آگرہ کی ایک پرنسپل نے اسکول میں اقلیتی سماج کے بچوں کی اکثریت کے سبب خود کو مذہبی استحصال کی شکار ظاہر کرنے کی شرمناک کوشش کی تھی مگر ضلع کے ڈی آئی او ایس افسر کی جانچ میں پایا گیا ہے کہ مذکورہ پرنسپل نے اسکول کی دوسری خاتون اساتذہ کی رنجش میں نفرت کی کہانی تیار کی اور مسلم خاتون اساتذہ اور بچوں کو قصوروار ٹھہرانے والی ویڈیو وائرل کی ۔ ممتا دیکشت کا کہنا تھا کہ اسکول کی مسلم خاتون اساتذہ لڑکیوں کو حجاب پہننے کے لیے اکساتی ہیں اور انھیں پرنسپل کے عہدہ سے ہٹانا چاہتے ہیں ۔ مسلم طبقہ کی سبھی طالبات اور اساتذہ مل کر اس کے خلاف سازش کر رہے ہیں۔ انہیں پریشان کرتے ہیں تاکہ وہ واپس چلی جائیں۔
ممتا دیکشت نے ویڈیو میں یہ بھی بتایا تھا کہ اسکول کی مسلم خاتون اساتذہ نے گروپ بنا لیا ہے اور وہ ان کے خلاف طالبات کو بھڑکا رہی ہیں۔ اسکول میں حجاب اور برقع پہن کر آنے کے لیے مسلم لڑکیوں کو اکسایا جا رہا ہے تاکہ کالج کا ماحول بگڑے۔ جب حجاب کی مخالفت کی جاتی ہے تو دھمکایا جاتا ہے۔ حتیٰ کہ دفتر میں موجود سرسوتی ماں کی تصویر بھی ہٹانے کے لیے کہا گیا۔ پرنسپل کا الزام تھا کہ کالج کے باہر صبح میں اور چھٹی کے وقت مسلم لڑکوں کی بھیڑ جمع رہتی ہے ایسے میں انھیں گھر جانے سے بھی ڈر لگتا ہے۔ انھوں نے الزام عائد کیا تھاکہ کالج کی ایک سینئر ٹیچر پرنسپل عہدہ کی کرسی حاصل کرنے کے لیے یہ سب کچھ کروا رہی ہیں۔اس ویڈیو کے سوشل میڈیا کے بعد ہندوتوا تنظیموں کے لوگ پرنسپل کی حمایت میں مگر پوچھ تاچھ کے دوران پرنسپل کی آپسی رنجش کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ اسکول کی ایک خاتون ٹیچر گلفشاں کے مطابق یہ پورا معاملہ غیر قانونی طور سے فیس وصولی کی شکایت سے دھیان بھٹکانے کا تھا ۔ پرنسپل بچوں سے زیادہ فیس وصولنے کا دباؤ بنا رہی تھی۔ جب اساتذہ نے منع کیا تو انھوں نے ویڈیو وائرل کر ماحول بگاڑنے کی کوشش کی ہے۔ ایک طرف جان محمد ہے اور دوسری جانب ممتا دیکشت یہی فرق اہل ایمان کا امتیاز ہے۔ نوجھل گاوں کی خواتین اور دیگر اساتذہ نے جب کہا تھا کہ پچھلے تیس سالوں میں انہوں نے جان محمد کی کوئی شکایت نہیں سنی ؟ تو اجیت انجم حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس طویل عرصے میں کسی نہ کسی کو شکایت ہوجانا فطری ہے لیکن جان محمد کا معاملہ بالکل منفرد تھا۔جان محمد نے کوئی کمال نہیں کیا بلکہ اپنی دینی ذمہ داریوں ادا کیا اور وہی جادو سر چڑھ کر بولا۔ اس طرح کا غیر معمولی کردار ، عوام کی حمایت اور اللہ کی مدد نے جان محمد کو سرخ رو کیا ۔ اس تنازع کا سبق ظفر اقبال کے مشہور شعر میں معمولی ترمیم کے ساتھ ادا کیا جاسکتا ہے؎
دین حق کی راہ پر قائم رہو ہر دم ظفر
آدمی کو صاحبِ کردار ہونا چاہیے
Like this:
Like Loading...