Skip to content
رمضان المبارک کی فضیلت واہمیت قرآن وحدیث کےآئینہ میں
ازقلم:مفتی محمدظہیرصادق حسامی ندوی
استاذشعبۂ افتاءوقضاء
ڈائریکٹر عرش ایجوکیشنل اکیڈمی
اللہ تبارک وتعالیٰ نے انسان کی فطرت کوایسابنایاہےکہ اس کےاندر نیکی اور بدی، بھلائی اور برائی ، تابعداری وسرکشی اور خوبی وخامی دونوں ہی قسم کی صفات پائی جاتی ہیں،
ایک انسان سے حسنات بھی سرزدہوتےاور سیئات بھی، اگرکوئی سیئات ومعصیات سے بچتےہوئے اپنی زندگی کے قیمتی لمحات کو حسنات وطاعات سے مزین اور آراستہ کرلے تو یہ اس کی بڑی کامیابی ہےاور خالق ومخلوق کے نزدیک اشرف واکرم ہونے کی بڑی نشانی بھی ہے، اللہ کابہت بڑا احسان وکرم ہےکہ اللہ تعالی نےامت مسلمہ کے نصیب اوراس کی قسمت میں بعض لیل ونہاراورماہ ایسےمقررکردئےہیں کہ اللہ کے بندے ان ایام میں اپنی عبادات ومناجات کےذریعہ اللہ کی خوشنودی اورمغفرت وبخشش کوحاصل کرسکتےہیں، پورےسال میں ایک مکمل ماہِ رمضان جس کوماہ مبارک کہاجاتاہے اس قیمتی اورانمول ماہ مبارک میں جتنا چاہیں نیکیاں بٹور سکتےہیں اور نیکیاں سمیٹ کربلندئ مقام تک پہونچ سکتےہیں، رمضان المبارک بہت قیمتی اوربہت اہمیت کاحامل مہینہ ہے، اس ماہ مبارک میں اللہ تعالیٰ بیشمار لوگوں کی مغفرت فرماتےہیں، یہ مہینہ اپنے ساتھ بےشماررحمتیں اوربرکات اور بےحد خوشیاں لےکرآتاہے، اس ماہ مبارک کی وجہ سےاللہ تعالی جنت کےدروازےکھول دیتےہیں، جہنم کےدروازےبندکردیتےہیں اورسرکش شیاطین کوقیدکردیتےہیں، چناچہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سےایک حدیث یوں مروی ہے،
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:
إِذَا دَخَلَ رَمَضَانُ فُتِّحَتْ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ، وَغُلِّقَتْ أَبْوَابُ جَهَنَّمَ، وَسُلْسِلَتِ الشَّيَاطِينُ، (صحیح بخاری ح/ 1899)
جب رمضان آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دئے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دئے جاتے ہیں، اور شیاطین زنجیروں میں جکڑ دئے جاتے ہیں،
رمضان المبارک کی آمد آمد ہے، گویا یہ مہینہ نیکیوں اور طاعات وبندگی کے لیے موسمِ بہار کی طرح ہے، اسی لیے رمضان المبارک سال بھر کے اسلامی مہینوں میں سب سے زیادہ عظمتوں، فضیلتوں اور برکتوں والا مہینہ ہے۔ اس ماہ میں اللہ تعالیٰ اہلِ ایمان کو اپنی رضا، محبت وعطا، اپنی ضمانت واُلفت اور اپنے انوارات وبرکات سے نوازتے ہیں،اس مہینہ میں ہر نیک عمل کا اجروثواب کئی گنا بڑھا دیا جاتا ہے،اس ماہ میں جب ایمان اور احتساب کی شرط کے ساتھ روزہ رکھا جاتا ہے تو اس کی برکت سے پچھلی زندگی کے تمام صغیرہ گناہ معاف ہوجاتے ہیں اور جب رات کو قیام (تراویح) اسی شرط کے ساتھ کیا جاتا ہے تو اس سے بھی گزشتہ تمام گناہ معاف ہوجاتے ہیں،اس ماہ میں ایک نیکی فرض کے برابر اور فرض ستر فرائض کے برابر ہوجاتا ہے، اس ماہ کی ایک رات جسے شبِ قدر کہا جاتا ہے وہ ہزار مہینوں سے افضل قرار دی گئی ہے، رمضان المبارک کی اہمیت اوراس کی قدرومنزلت کواس حدیث سے بآسانی سمجھا جاسکتاہے، چنانچہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب ماہ رمضان کی پہلی رات ہوتی ہے توشیطانوں اور سرکش جنوں کو بیڑیاں پہنا دی جاتی ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور ان میں سے کوئی دروازہ کھولا نہیں جاتا، اور جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں پس ان میں سے کوئی دروازہ بند نہیں کیا جاتا،ایک ندا دینے والا پکارتا ہے: اے طالب خیر! آگے آ، اے شر کے متلاشی! رک جا، اور اللہ تعالیٰ بہت سےلوگوں کو جہنم سے آزاد کر دیتا ہے،یہاں تک کہ ماہ رمضان کی ہر رات یونہی ہوتا رہتا ہے،(ترمذی ح/۶۸۲) رمضان کےمتعلق
قرآن میں اللہ فرماتےہیں: شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَبَيِّنَاتٍ مِّنَ الْهُدَىٰ وَالْفُرْقَانِ،(البقرہ ۱۸۴) رمضان کامہینہ وہ ہےجس میں قرآن نازل کیاگیاجولوگوں کےلئےسراپاہدایت ہے،اورایسی روشن نشانیوں کاحامل ہےجوصحیح راستہ دکھاتی اورحق وباطل کےدرمیان دوٹوک فیصلہ کردیتی ہےہیں،(آسان ترجمۂ قرآن ص/۹۸)
حضرت ابومسعودرضی اللہ عنہ ایک موقع پر فرماتے ہیں،
عَنْ أَبِي مَسْعُوْدٍ الْغِفَارِيِّ رضی الله عنه قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ ﷲِ صلی الله علیهوسلم ذَاتَ یَوْمٍ وَأَهَلَّ رَمَضَانُ فَقَالَ: لَوْ یَعْلَمُ الْعِبَادُ مَا رَمَضَانُ لَتَمَنَّتْ أُمَّتِي أَنْ یَکُوْنَ السَّنَةَ کُلَّهَا.(شعب الایمان 313/3)
کہ رمضان کا مہینہ شروع ہوچکا تھا کہ ایک دن میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: اگر لوگوں کو رمضان کی رحمتوں اور برکتوں کا پتہ ہوتا تو وہ خواہش کرتے کہ پورا سال رمضان ہی ہو،
صحابئی رسول حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: عَنْ سَلْمَانَ رضی الله عنه قَالَ: خَطَبَنَا رَسُوْلُ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم فِي آخِرِ یَومٍ مِنْ شَعْبَانَ فَقَالَ: یَا أَیُّهَا النَّاسُ، قَدْ أَظَلَّکُمْ شَهْرٌ عَظِیْمٌ شَهْرٌ مُبَارَکٌ شَهْرٌ فِیْهِ لَیْلَةٌ خَیْرٌ مِنْ أَلْفِ شَهْرٍ جَعَلَ ﷲ صِیَامَهُ فَرِیْضَةً وَقِیَامَ لَیْلِهِ تَطَوُّعَا. مَنْ تَقَرَّبَ فِیْهِ بِخَصْلَةٍ مِنَ الْخَیْرِ کَانَ کَمَنْ أَدَّی فَرِیْضَةً فِیْمَا سِوَاهُ وَمَنْ أَدَّی فِیْهِ فَرِیْضَةً کَانَ کَمَنْ أَدَّی سَبْعِیْنَ فَرِیْضَةً فِیْمَا سِوَاهُ وَهُوَ شَهْرُ الصَّبْرِ. وَالصَّبْرُ ثَوَابُهُ الْجَنَّةُ، وَشَهْرُ الْمُوَاسَاةِ وَشَهْرٌ یَزَدَادُ فِیْهِ رِزْقُ الْمُؤْمِنِ. مَنْ فَطَّرَ فِیْهِ صَائِمًا کَانَ مَغْفِرَةً لِذُنُوْبِهِ وَعِتْقَ رَقَبَتِهِ مِنَ النَّارِ وَکَانَ لَهُ مِثْلَ أَجْرِهِ مِنْ غَیْرِ أَنْ یَنْقُصَ مِنْ أَجْرِهِ شَيْئٌ قَالُوْا: لَیْسَ کُلُّنَا نَجِدُ مَا یُفَطِّرُ الصَّائِمَ. فَقَالَ رَسُوْلُ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم: یُعْطِي ﷲ هَذَا الثَّوَابَ مَنْ فَطَّرَ صَائِمًا عَلَی تَمْرَةٍ أَوْ شَرْبَةِ مَاءِ أَوْ مَذْقَةِ لَبَنٍ وَهُوَ شَهْرٌ أَوَّلُهُ رَحْمَةٌ وَ أَوْسَطُهُ مَغْفِرَةٌ وَآخِرُهُ عِتْقٌ مِنَ النَّارِ. مَنْ خَفَّفَ عَنْ مَمْلُوْکِهِ غَفَرَ ﷲ لَهُ وَأَعْتَقَهُ مِنَ النَّارِ وَاسْتَکْثِرُوْا فِیْهِ مِنْ أَرْبَعِ خِصَالٍ خَصْلَتَیْنِ تُرْضَوْنَ بِهِمَا رَبَّکُمْ وَخَصْلَتَیْنِ لَا غِنَی بِکُمْ عَنْهُمَا. فَأَمَّا الْخَصْلَتَانِ اللَّتَانِ تُرْضَوْنَ بِهِمَا رَبَّکُمْ فَشَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا ﷲ وَتَسْتَغْفِرُوْنَهُ وَأَمَّا اللَّتَانِ لَا غِنَی بِکُمْ عَنْهُمَا فَتَسْأَلُوْنَ ﷲ الْجَنَّةَ. وَتَعُوْذُوْنَ بِهِ مِنَ النَّارِ وَمَنْ أَشْبَعَ فِیْهِ صَائِماً سَقَاهُ ﷲ مِنْ حَوْضِي شَرْبَةً لاَ یَظْمَأُ حَتَّی یَدْخُلَ الْجَنَّةَ.(شعب الإیمان 305/3)
‘‘کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شعبان کے آخری دن ہمیں خطاب کیا اور فرمایا: اے لوگو! تم پر ایک عظیم الشان اور بابرکت مہینہ سایہ فگن ہونےوالاہے،اس میں ایک ایسی رات ہے جو ہزار مہینے سے بہتر ہے،اللہ تعالیٰ نے اس کے روزوں کو فرض کیا ہے اور راتوں کے قیام کو نفل جو شخص اس میں قرب الٰہی کی نیت سے کوئی نیکی کرتا ہے اسے دیگر مہینوں میں ایک فرض ادا کرنے کے برابر سمجھا جاتا ہے اور جو شخص اس میں ایک فرض ادا کرتا ہے گویا اس نے باقی مہینوں میں ستر فرائض ادا کئے،یہ صبر کا مہینہ ہےاور صبر کا ثواب جنت ہی ہے، یہ غم خواری کا مہینہ ہے، اس مہینے میں مومن کا رزق بڑھا دیا جاتا ہے،جو شخص کسی روزہ دار کوافطارکراتا ہے اس کے گناہ معاف ہوجاتے ہیں اور اسے دوزخ سے آزاد کر دیا جاتا ہے،نیز اسے اس (روزہ دار) کے برابر ثواب ملتا ہے۔ اس سے اس کے ثواب میں کوئی کمی واقع نہیں ہوتی، صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم میں سے ہر ایک روزہ افطار کرانے کی طاقت نہیں رکھتا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ ثواب اللہ تعالیٰ ایک کھجور کھلانے یا پانی پلانے یا دودھ کا ایک گھونٹ پلا کر افطاری کرانے والے کو بھی دیتا ہے،اس مہینے کا ابتدائی حصہ رحمت ہے،درمیانہ حصہ مغفرت ہے اور آخری حصہ دوزخ سے آزادی ہے،جو شخص اس مہینے میں اپنے ملازم پر تخفیف کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے بخش دیتا ہے اور اسے دوزخ سے آزاد کر دیتا ہے،اس ماہ میں چار کام زیادہ سے زیادہ کرنے کی کوشش کرو! دو کاموں کے ذریعے تم اپنے رب کو راضی کرلوگےاور دو کاموں کے بغیر تمہارے لیے کوئی چارہ کار نہیں۔ جن دو کاموں کے ذریعے تم اپنے رب کو راضی کرلو گے، ان میں سے ایک لا الہ الا اللہ کی گواہی دینا ہے اور دوسرا اس سے بخشش طلب کرنا ہے۔ جن دو کاموں کے بغیر تمہارے لیے کوئی چارہ نہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ تم اللہ تعالیٰ سے جنت کا سوال کرو اور دوسرا یہ ہے کہ دوزخ سے پناہ مانگو۔ جو شخص روزہ دار کو پانی پلائے گا اللہ تعالیٰ اسے میرے حوض سے اس طرح پانی پلائے گاکہ اسے جنت میں داخل ہونے تک پیاس نہیں لگے گی،
اسی طرح ایک حدیث جوحضرت جابر بن عبداللہ سےمروی ہےجس کےالفاظ کچھ اس طرح ہیں،
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ ﷲِ رضي ﷲ عنهما: أَنَّ رَسُوْلَ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم قَالَ: أُعْطِیَتْ أُمَّتِي فِي شَهْرِ رَمَضَانَ خَمْسًا لَمْ یُعْطَهُنَّ نَبِيٌّ قَبْلِي: أَمَّا وَاحِدَةٌ فَإِنَّهٗ إِذَا کَانَ أَوَّلُ لَیْلَةٍ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ نَظَرَ ﷲ إِلَیْهِمْ وَمَنْ نَظَرَ ﷲ إِلَیْهِ لَمْ یُعَذِّبْهٗ أَبَدًا. وَأَمَّا الثَّانِیَةُ فَإِنَّ خُلُوْفَ أَفْوَاهِهِمْ حِیْنَ یُمْسُوْنَ أَطْیَبُ عِنْدَ ﷲِ مِنْ رِیْحِ الْمِسْکِ. وَأَمَّا الثَّالِثَةُ فَإِنَّ الْمَـلَائِکَةَ تَسْتَغْفِرُ لَهُمْ فِي کُلِّ یَوْمٍ وَلَیْلَةٍ. وَأَمَّا الرَّابِعَةُ فَإِنَّ ﷲ ل یَأْمُرُ جَنَّتَهٗ فَیَقُوْلُ لَهَا: اسْتَعِدِّيْ وَتَزَیَّنِيْ لِعِبَادِيْ أَوْشَکُوْا أَنْ یَسْتَرِیْحُوْا مِنْ تَعَبِ الدُّنْیَا إِلٰی دَارِي وَکَرَامَتِي. وَأَمَّا الْخَامِسَةُ فَإِنَّهٗ إِذَا کَانَ آخِرُ لَیْلَةٍ غُفِرَ لَهُمْ جَمِیْعًا. فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: أَهِيَ لَیْلَةُ الْقَدْرِ؟ فَقَالَ: لَا، أَلَمْ تَرَ إِلَی الْعُمَّالِ یَعْمَلُوْنَ فَإِذَا فَرَغُوْا مِنْ أَعْمَالِهِمْ وُفُّوْا أُجُوْرَهُمْ؟،(الترغیب والترهیب، 56/2)
حضرت جابر بن عبد ﷲ رضی ﷲ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری اُمت کو ماہ رمضان میں پانچ تحفے ملے ہیں جو اس سے پہلے کسی نبی کو نہیں ملے۔ پہلا یہ ہے کہ جب رمضان کی پہلی رات ہوتی ہے تو ﷲ تعالیٰ ان کی طرف نظرِ التفات فرماتا ہے اور جس پر اُس کی نظرِ رحمت پڑجائے اسے کبھی عذاب نہیں دے گا۔ دوسرا یہ ہے کہ شام کے وقت ان کے منہ کی بو ﷲ تعالیٰ کو کستوری کی خوشبو سے بھی زیادہ اچھی لگتی ہے۔ تیسرا یہ ہے کہ فرشتے ہر دن اور ہر رات ان کے لیے بخشش کی دعا کرتے رہتے ہیں۔ چوتھا یہ ہے کہ ﷲ اپنی جنت کو حکم دیتاہے کہ میرے بندوں کے لیے تیاری کرلے اور مزین ہو جا، تاکہ وہ دنیا کی تھکاوٹ سے میرے گھر اور میرے دارِ رحمت میں پہنچ کر آرام حاصل کریں۔ پانچواں یہ ہے کہ جب (رمضان کی) آخری رات ہوتی ہے ان سب کو بخش دیا جاتا ہے۔ ایک صحابی نے عرض کیا: کیا یہ شبِ قدر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں۔ کیا تم جانتے نہیں ہو کہ جب مزدور اپنے کام سے فارغ ہو جاتے ہیں تو انہیں پوری پوری مزدوری دی جاتی ہے؟‘‘
خلیفۂ ثانی حضرت عمربن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتےہیں:
عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم ذَاکِرُ ﷲِ فِي رَمَضَانَ مَغْفُوْرٌ لَهُ، وَسَائِلُ ﷲِ فِیْهِ لَا یَخِیْبُ،(المعجم الأوسط، 195/6)
کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ماہِ رمضان میں ﷲ تعالیٰ کا ذکر کرنے والا بخش دیا جاتا ہے اور اس ماہ میں ﷲ تعالیٰ سے مانگنے والے کو نامراد نہیں کیا جاتا۔‘‘
رمضان المبارک میں روزہ رکھنا فرض ہے بغیر کسی مجبوری کے روزہ چھوڑدینا گناہ ہے، اورجو پابندی سےروزہ رکھتےہیں، اللہ تعالیٰ ان کودو بڑی خوشی عطافرماتےہیں،ایک خوشی دنیاہی میں مل جاتی ہےاورایک خوشی آخرت میں عطاکی جائےگی، اس ضمن میں
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"للصائم فرحتان یفرحھما،إذا أفطر فرح وإذا لقي ربه فرح بصومه” (صحیح بخاری:1904 )
“روزہ دار کو دو خوشیاں حاصل ہوتی ہیں (ایک تو یہ ہےکہ جب) وہ افطار کرتا ہے تو خوش ہوتا ہے اور (دوسرے) جب وہ اپنے رب سے ملاقات کرے گا تو اپنے روزے کا ثواب پا کر خوش ہو گا۔ ”
رمضان المبارک میں ہرچیز کاثواب تو بڑھ ہی جاتاہےمگرجودوسخابہت بڑی چیزہے، اپنے اڑوس پڑوس کی خبرگیری رکھنا، غرباءومساکین پرخرچ کرنا، یتیم کےسر پرہاتھ رکھنا اور بیواؤں اوردیگر محتاجوں کی مددکرنااورمقروضوں کےبوجھ کواتاردینایہ ایسی نیکیاں ہیں جن سےخداملتاہےاورجن کوخدامل جائےتواس کوسب کچھ خودبخود مل جاتاہے،
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کواللہ تعالیٰ نےسب سےزیادہ سخی بنایاتھااورآپ سےزیادہ کوئی سخی ہو بھی نہیں سکتا، لیکن رمضان کےموقع سےآپ کی سخاوت میں بے انتہا اضافہ ہوجاتاتھا، بخاری شریف میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کےجودوسخاکوکچھ اس طرح ذکر کیاگیاہے،
كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَجْوَدَ النَّاسِ بِالْخَيْرِ، وَكَانَ أَجْوَدَ مَا يَكُونُ فِي رَمَضَانَ، حِينَ يَلْقَاهُ جِبْرِيلُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ جِبْرِيلُ يَلْقَاهُ فِي كُلِّ لَيْلَةٍ مِنْ رَمَضَانَ، يَعْرِضُ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقُرْآنَ، فَإِذَا لَقِيَهُ جِبْرِيلُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَجْوَدَ بِالْخَيْرِ مِنَ الرِّيحِ الْمُرْسَلَةِ،(بخاری ح/6)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سب لوگوں سے زیادہ سخی تھے اور دیگراوقات کےبالمقابل آپ کی سخاوت اس وقت سب سےزیادہ بڑھ جاتی تھی جب جبرئیل امین آپ سے رمضان میں ملاقات کرتےتھےاوررمضان کی ہر رات میں ملاقات کرتےتھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے قرآن کا دور فرماتےتھےاور جب جبرئیل آپ سے ملتے تو آپ تیز ہوا سے بھی زیادہ سخاوت کرتےتھے،
مذکورہ حدیث کی تشریح کرتےہوئےمحدثین لکھتےہیں، کہ اوپرحدیث میں(اجود )کالفظ آیاہے،عربی اعتبارسےیہ اجودکالفظ اسم تفضیل کا صیغہ ہےاور یہ لفظ جودسےبناہے، جس کےمعنی غالب ہونے کےہیں، چناچہ امام راغب رحمۃ اللہ علیہ نےجودکےمعنی کچھ اس طرح بیان کئے ہیں، اعطاءماینبغي لمن ینبغي، یعنی جو چیز جس کے مناسب ہواسےعطاکرنا، اورسخاوت کےمعنی ہیں، مالی تقسیم کرنا،اس اعتبارسے لفظ جوداپنےاندربہت عموم رکھتاہے، یعنی یہ صرف مال پرموقوف نہیں ہےبلکہ ہرشخص کواس کے مناسب چیزدیناجودکہلاتاہے، مثلا: بھوکےکوکھاناکھلادینا، ننگےکوکپڑاپہنادینا، فقیروں،ناداروں،مفلسوں کواموال تقسیم کرنا، تشنگان علوم کی علمی تشنگی دور کرنا اوراس کےعلم میں اضافہ کرنا،گم کردہ راہوں کےلئےہدایت کرنا،یعنی ہرکام کواپنے محل میں کرنےکا نام جُودہے، اس اعتبارسےدیکھاجائےتونبئ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کااجودالناس ہونا سورج سےزیادہ عیاں وبیاں ہے،(نصرالباری 146/1)
جود۔ دراصل ایک ملکہ واستعدادکانام ہےاور سخاوت اس کا ثمرہ وار اثرہے،نبئ کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنےملکات کےاعتبارسےتمام اہل کمال پرفوقیت رکھتےتھے،ایک موقع پرآپ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا: وعن أنس قال : قال رسول الله – صلى الله عليه وسلم – : ” ألا أخبركم عن الأجود الأجود ؟ الله الأجود الأجود ، وأنا أجود ولد آدم ، وأجودهم من بعدي رجل علم علما فنشر علمه ، يبعث يوم القيامة أمة وحده ، ورجل جاد بنفسه لله – عز وجل – حتى يقتل ” (مجمع الزوائد 166/1)
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“کیا میں تمہیں بتاؤں کہ سب سے بڑھ کر سخی کون ہے؟”
صحابہ نے کہا: جی ہاں، یا رسول اللہ!
آپ ﷺ نے فرمایا:
“اللہ تعالیٰ سب سے زیادہ سخی ہے، اور میں تمام انسانوں (اولادِ آدم) میں سب سے زیادہ سخی ہوں۔
میرے بعد تم میں سب سے زیادہ سخی وہ ہے جو علم حاصل کرے اور پھر اسے (لوگوں میں) پھیلائے — وہ قیامت کے دن اکیلا ہی ایک پوری امت کی شکل میں اٹھایا جائے گا۔
اور وہ شخص جو اللہ کی راہ میں اپنی جان قربان کر دے یہاں تک کہ شہید ہو جائے۔”
ایک صحابی حضرت کعب بن عجرۃ جن سے متعدد احادیث مروی ہیں، اوررمضان کےمتعلق بھی ایک حدیث مروی ہےاورجس میں تین باتوں کاذکرہےاورتینوں باتیں بہت اہمیت کی حامل ہیں، اس کےعلاوہ ایک بات جومیرےدل کولگی اوران صحابی کےبارےمیں مزیدکچھ ذکرکرناباعث شرف ہے، یہ وہ صحابی ہیں کہ ایک روز نبئ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے تو حضور کا چہرۂ مبارک (بھوک کی وجہ سے ) متغیر دیکھ کر جلدی سے واپس چلے گئے، راستہ میں ایک یہودی اونٹ کو پانی پلا رہا تھا انھوں نے فی ڈول ایک چھوہارے کے حساب سے کچھ دیر مزدوری کی اورکچھ چھوہارے جمع ہو گئے تو حضورکی خدمت اقدس میں لے کر حاضر ہوئے اور پیش کرکے اپنی بہترین محبت کااظہار کیا،(الاصابہ 304/5)
ایک موقع پروہ بیان فرماتےہیں :
قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ ﷲِ صلی الله علیه وسلم: احْضُرُوْا الْمِنْبَرَ فَحَضَرْنَا. فَلَمَّا ارْتَقَی دَرَجَةَ قَالَ: آمِیْنَ فَلَمَّا ارْتَقَی الدَّرْجَةَ الثَّانِیَةَ، قَالَ: آمِیْنَ فَلَمَّا ارْتَقَی الدَّرْجَةَ الثَّالِثةَ قَالَ: آمِیْنَ فَلَمَّا نَزَلَ، قُلْنَا: یَا رَسُوْلَ ﷲِ، سَمِعْنَا مِنْکَ الْیَوْمَ شَیْئًا مَا کُنَّا نَسْمَعُهُ، قَالَ: إِنَّ جِبْرِیْلَ عَرَضَ لِي فَقَالَ: بُعْدًا لِمَنْ أَدْرَکَ رَمَضَانَ فَلَمْ یُغْفَرْ لَهُ قُلْتُ آمِیْنَ. فَلَمَّا رَقِیْتُ الثَّانِیَّةَ قَالَ: بُعْدًا لِمَنْ ذُکِرْتَ عِنْدَهُ فَلَمْ یُصَلِّ عَلَیْکَ، قُلْتُ: آمِیْنَ، فَلَمَّا رَقِیْتُ الثَّالِثَةَ، قَالَ: بُعْدًا لِمَنْ أَدْرَکَ أَبَوَاهُ الْکِبَرَ عِنْدَهُ أَوْ أَحَدُهُمَا فَلَمْ یُدْخِلاَهُ الْجَنَّةَ. قُلْتُ: آمِیْنَ.(المعجم الاسط،(9/17)
کہ رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ فرمایا: منبر کے پاس آجاؤ، ہم آ گئے۔ جب پہلی سیڑھی پرآپ نےقدم رکھاتوکہا: ’’آمین‘‘ جب دوسری سیڑھی پرقدم رکھاتوکہا٫٫ آمین،، اورجب تیسری سیڑھی پرقدم رکھاتوکہا٫٫ آمین،، جب آپ منبر سے اترے تو ہم نے عرض کیا: یا رسول ﷲ! ہم نے آج آپ سے ایک ایسی چیز سنی ہے جوہم نےپہلےنہیں سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جبرئیل میرے پاس آئے اور کہا: کہ جسے رمضان کامہینہ ملا لیکن اسے بخشا نہ گیا وہ بدقسمت ہوگیا۔میں نے کہا: آمین۔ جب میں دوسری سیڑھی پرقدم رکھاتوجبرئیل نےکہا: جس کے سامنے آپ کا نام لیا گیا اور اس نے آپ پردرود نہ بھیجا وہ بھی بد قسمت ہوگیا۔ میں نے کہا: آمین ،، جب میں تیسری سیڑھی پرقدم رکھاتوجبرئیل نےکہا: کہ جس شخص کی زندگی میں اس کے ماں باپ دونوں یا ان میں سے ایک بوڑھا ہوگیا اور اس نےان کی خدمت کرکے جنت نہ پاسکا، وہ بھی بدقسمت ہوگیا۔ میں نے کہا: آمین
مذکورہ حدیث میں کتنی بڑی بات کہہ دی گئی ہےکہ جبرئیل علیہ السلام کہنا پھراس پرحضورکاآمین کہناکہ اب اس سےبڑی بدقسمتی کچھ اور نہیں ہوسکتی،
ہم امت مسلمہ کی بڑی اہم ذمہ داری ہےکہ رمضان المبارک کی مبارک ساعتوں سےبھرپورفائدہ اٹھانےکی کوشش کریں، سحری، روزہ رکھنےاورنمازتراویح کامکمل اہتمام کریں، اور تلاوت قرآن کابھی بھرپوراہتمام کریں، زکوۃ وصدقات نکالنےکےذریعہ سےبھی اللہ کاقرب حاصل کریں، اوردیگرنیکیوں کےذریعےبھی اللہ کی خوشنودی کوپانےکی کوشش کریں بالخصوص شب قدرکی عبادت کےذریعہ اپنی مغفرت وبخشش کراکےجنت کی لسٹ میں اپنانام ضروردرج کرائیں۔ اللہ ہم سب کی عبادتوں کوقبول فرمائےاوررمضان کی قدرکرنےکی توفیق عطافرمائے۔ آمین
Post Views: 52