Skip to content
ہندوستان سے فرانس و امریکہ تک جمہوری تشدد
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
ایک انتخابی ریلی کے دوران سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر قاتلانہ حملہ ہوا مگروہ حملہ آور کا نشانہ چوکنے کی وجہ سے بچ گئے ۔ آگے چل کر حملہ آور کے دوست جیمسن مائرز نے اس کے بچپن سے ہی کچا نشانے بازہونے کی تصدیق کردی ۔ اس کے مطابق 20 سالہ تھامس کروکس کو نہ صرف اسکول ٹیم میں نہیں لیا گیا، بلکہ اسے خراب نشانے کے سبب خطرناک سمجھا جانے لگا اور بالآخر اسےایک اسنائپرکی گولی نے موت کے گھاٹ اتاردیا۔ مسیسپی ریاست سے تعلق رکھنے والی ڈیمو کریٹک پارٹی کی رکنِ کانگریس بینی تھامسن کی معاون جیکلین مارسو کو نہ تو ٹرمپ کے زخمی کا رنج ہےاور نہ کروکس کی موت پر افسوس ۔ اس لیے انہوں نے فیس پر لکھا کہ "میں تشدد کی حامی نہیں مگر بہتر ہو گا کہ حملہ آور نشانے کے تربیتی اسباق لے تا کہ ا گلی مرتبہ اس کا نشانہ نہ چُوکے”۔وزیراعظم نریندر مودی نےڈونلڈ ٹرمپ سے دوستی نبھاتے ہوئے حملے پر فکر مندی اور واقعہ کی شدید مذمت کا اظہار کیا۔ مودی نے ٹرمپ کی صحت یابی کی خواہش کرتے ہوئے مرنے والوں کے اہل خانہ اور تمام امریکی عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔ مرنے والا حملہ آور ہے تو مودی کی اس سے ہمدردی ہے؟
ویسے تو راہل گاندھی نے بھی ٹرمپ پر حملے سے پریشانی کا اظہار کرکے جلد صحتیابی کی دعا کی مگر بی جے پی آئی ٹی سیل نے راہل پر مودی کے خلاف تشدد بھڑکانے کا الزام لگا کر کھلبلی مچا دی۔ اے آر 15 طرز کی رائفل سے صرف 140 میٹر کی دوری سے ٹرمپ پر گولی چلائی گئی پھر بھی ان کا بال تو بیکا نہیں ہوا ہاں کان میں چھیدضرور ہوگیا۔ اب تو اگر ٹرمپ کو ریپبلکن پارٹی کا ٹکٹ نہ ملے تب بھی وہ کان میں جھمکاپہن کر انتخاب جیت جائیں گے۔کروکس کلیئرٹن اسپورٹس مینز کلب نامی مقامی شوٹنگ کلب میں ”خاموش“ اور ”بہت ہوشیار“ رکن تھا۔ کروکس کے دوست اسے گوشہ نشین،غیر سیاسی اسٹار وار کے پرستار اچھے اور پیارےآدمی کے طور پر یاد کرتے ہیں۔ امریکی ایف بی آئی کروکس کو ذہین طالب علم کہتی ہے تو آخر اس سے ایسی زبردست حماقت کیسے سرزد ہوئی؟ یہ بھی ایک معمہ ہے کہ 17 سال کی عمر میں بائیں بازو کی جمہوریت نواز ایکٹ بلیونامی تنظیم کو 15 ڈالر کا عطیہ دینے والا کروکس آگے چل کر ریپبلکن پارٹی میں کیسے شال ہوگیا؟ کروکس کی گاڑی اور گھر میں دھماکا خیز مواد کا ملنا اور ہندوستان وفرانس میں بعد از تشدد کی لہر جمہوری نظام سیاست میں پر امن تبدیلیٔ اقتدار کے دعویٰ کا پول کھولتی ہے۔ حالیہ انتخابی نتائج کے خلاف ہندوستان اور فرانس نیز امریکہ میں تشدد علامہ اقبال کے اس شعر کی یاد تازہ کردی ہے؎
تُو نے کیا دیکھا نہیں مغرب کا جمہُوری نظام
چہرہ روشن، اندرُوں چنگیز سے تاریک تر!
فرانس اور ہندوستان کے اندروقوع پذیر ہونے والے حالیہ انتخابات میں جہاں بے شمار مشابہت ہے وہیں دو بڑے فرق ہیں ۔ اول تو فرانس کے اندر لی پین کی انتہائی دائیں بازو والی سیاسی جماعت این آر اے اقتدار میں نہیں آسکی ۔ اس کے دیگر جماعتوں کے ساتھ مل کر مخلوط بنانے کا امکان بھی نہیں ہے ۔ وہاں پر تمام سیاسی جماعتیں تین خیموں میں منقسم ہیں ۔ سب سے زیادہ نشستوں پر کامیابی حاصل کرنے والے بائیں محاذ کے لیے یہ ناممکن ہے کہ وہ اپنے شدید نظریاتی حلیف کے ساتھ ہاتھ ملائے ۔ معتدل دکھائی دینے والی ایمونیل میکخواں کی پارٹی بھی ایسی غلطی نہیں کرے گی اس کا اشارہ شکست خوردہ وزیر اعظم گیریل اٹل کے بیان سے ہوتا ہے۔ اس میں انہوں نے لی پین کی شکست فاش پر مسرت کا اظہار کر نے کے بعد لاکھوں مخالف رائے دہندگان کی تئیں کشادہ دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہاکہ: ’میں آپ میں سے ہر ایک کا احترام کرتا ہوں، کیونکہ فرانسیسی لوگوں کی ایسی کوئی قسم نہیں ہے جو صحیح اور غلط ووٹ دیتے ہیں۔‘ وہیں وزیر اعظم نریندر مودی سے اس کی توقع بھی ممکن نہیں جبکہ این ڈی اے میں شامل جے ڈی یو کے رکن پارلیمان دیویش چندر نے تو کھلے عام اعلان کردیا کہ جن کہ وہ مسلمانوں اور یادووں کا کام نہیں کریں گےکیونکہ ان لوگوں نے انہیں ووٹ نہیں دیا ۔ مودی کی نظریاتی بہن لی پین شکست کو خوش دلی سے تسلیم کرنے کے بجائے فساد کروا دیا۔
بی جے پی کی ہم مشرب این آر اے کو اقتدار میں آنے سے روکنے کی خاطر فرانس کے اندر بھی انڈیا لائنس کی مانند نیو پاپولر فرنٹ کا قیام عمل میں آیا۔ فرانسیسی بائیں بازو کی جماعتوں کےاس سیاسی اتحاد میں سوشلسٹ، کمیونسٹ، ماہرین ماحولیات (گرین پارٹی) اور لا فرانس انسومیس کے لوگ شامل ہیں۔یہ سیاسی اتحاد فرانسیسی صدر ایمانوئل میکخواں کی جانب سے قبل از وقت انتخابات سے صرف ایک ماہ پہلے تشکیل دیا گیا تھا۔ انڈیا محاذ میں شامل جماعتوں کی طرح پہلے یہ بھی ایک دوسرے پر تنقید کرتی رہی ہیں۔ اپنے نظریاتی اور طریقۂ کارکے اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر ان لوگوں نے محض انتہائی دائیں بازو کی جماعت کو اقتدار میں آنے سےروکنے کی خاطر یہ محاذ تشکیل دیا تھا ۔ اس نیو پاپولر فرنٹ کا موجودہ حکومت کی پنشن اور امیگریشن اصلاحات پر بھی اعتراض ہے ۔اس نے غیر دستاویزی تارکین وطن کے لیے ایک ریسکیو ایجنسی بنانے اور ویزا درخواستوں میں سہولت فراہم کرنے کا وعدہ بھی کیا ہے۔ یہ دونوں باتیں نقل مکانی کرکے فرانس میں آنے والے مسلمان تارکین وطن کے لیے پر کشش ہیں۔
فرانسیسی رائے دہندگان فی الحال ایک طرح کے تذبذب کا شکار ہیں۔ انہوں نے یورپی انتخابات اور پارلیمانی الیکشن کے پہلے راؤنڈ میں تو انتہائی دائیں بازو کی جماعت کو بڑی کامیابی سے نوازہ مگر پارلیمانی الیکشن میں صدارتی انتخابات کی طرح منہ پھیر لیا ۔ ہندوستان کے اندر میڈیا جس طرح اپنے جائزوں کے ذریعہ بی جے پی اتحاد کو چارسو پار یا قریب پہنچا رہا تھا اسی طرح نیشنل ریلی کی تقریباً 300 سیٹوں پر فتح یاب ہونے کی پیشن گوئی کی جارہی تھی لیکن اب وہ بی جے پی کی مانند نصف پر سمٹ چکی ہے۔ آر این اے کو اقتدار میں آنے سے روکنے کے لیے بڑی تعداد میں رائے دہندگان نے ووٹ دینے کے عمل میں حصہ لیا۔ اسی لیے لی پین کے حامی اپنی شکست کے لیے حزب اختلاف کے اتحاد کو ذمہ دار ٹھہراتے ہیں اور اس کا نزلہ مسلمانوں پر اتارتے ہیں ۔ اس صورتحال پر پاکستان کے مشہور شاعر حبیب جالب کی یہ رباعی صادق آتی ہے؎
ہم فقیروں کی جو کہتے ہیں رہائی ہو گی
یہ ہوائی کسی دشمن نے اڑائی ہو گی
ہم فقیروں کا امیروں پہ ابھی تکیہ ہے
ہم فقیروں کی ابھی اور پٹائی ہو گی
این آر اےکے رہنما وں کا کہنا ہے کہ بائیں بازو کی مختلف جماعتوں کے ساتھ میکخواں کے لوگوں نے بھی اپنے اختلافات کو بھول کر اتحاد کرلیا ۔ سینٹر رائٹ کے ایڈورڈ فلپ سے لے کر بائیں بازو والے فلپ پوٹاؤ تک کا ان کی مخالفت میں متحد ہونے کو وہ مستقبل کے لیے اچھا شگون نہیں مانتے لیکن وہ اس حقیقت کو تسلیم کرنے سے گریز کرتے ہیں کہ فرانس میں زیادہ تر لوگ انتہائی دائیں بازو کو اقتدار میں دیکھنا نہیں چاہتے۔ اس کی بنیادی وجہ نہ صرف نظریاتی مخالفت ہے بلکہ انہیں این آر اے کے اقتدار میں آجانے سے بدامنی کا بھی اندیشہ ہے۔ عوام کے ان اندیشوں کو این آر اے کے حامیوں نے اپنی شکست کے فوراً بعد درست ثابت کردیا ۔ انتخابی نتائج کے بعد فرانس کی سڑکوں پر تشدد جس کے کئی پریشان کن ویڈیوز سامنے آئے۔ ان میں نقاب پوش مظاہرین کو سڑکوں پر ہنگامہ کرتے اور آگ لگاتے دیکھا جا سکتا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق سیاسی کشیدگی میں اضافے کے خدشے سے ملک بھر میں 30 ہزار دنگا پولیس تعینات کرنےکی نوبت آگئی۔
یہ کوئی نئی بات نہیں امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ کی شکست کے بعد بھی سفید فام انتہا پسندوں نے قصرِ ابیض پر چڑھائی کردی تھی اور نائب صدر کو حمام کے راستے بھاگنا پڑا تھا۔ سابق صدر ٹرمپ نے اس پر افسوس کا اظہار کرنے کے کے بجائے اپنے حامیوں کی حوصلہ افزائی کی تھی مگر ایسی کوئی بات ایران یا برطانیہ میں نہیں ہوئی ۔ ہندوستان کے اندر بھی اقلیتوں اور خاص طور مسلمانوں کے خلاف تشدد کی نئی لہر چل پڑی ہے اور آئے دن سرکار پشت پناہی میں ہجومی تشدد ودیگرانتقامی کارروائی کے واقعات رونما ہورہے ہیں ۔ یہ حسنِ اتفاق ہے نہ صرف رشی سونک اورمیکخواں اسرائیل کے حا می ہیں مگر میرین لی پین کی نسل پرست ’نیشنل ریلی‘ تو یہودیوں کی بھی دشمن ہے اور اس کی مسلم دشنی زبان زدِ عام ہے۔ اس لیے مودی سمیت ان چاروں کی مسلمانوں نے جم کر مخالفت کی اور انہیں زبردست جھٹکے دئیے۔ اہل ایمان کی سعیٔ جمیل کو بارآور ہوتے ہوئے دیکھ کر قرآن مجید کی یہ آیت یاد آتی ہے:’’ان سے لڑو، اللہ تمہارے ہاتھوں سے ان کو سزا دلوائے گا اور انہیں ذلیل و خوار کرے گا اور ان کے مقابلہ میں تمہاری مدد کرے گا اور بہت سے مومنوں کے دل ٹھنڈے کرے گا‘‘۔ ہندوستان، برطانیہ، فرانس اور ایران کے انتخابی نتائج علامہ اقبال کے اس شعر کی مدد سے ملت اسلامیہ سے کہہ رہے ہیں ؎
اُٹھ کہ اب بزمِ جہاں کا اور ہی انداز ہے
مشرق و مغرب میں تیرے دَور کا آغاز ہے
Like this:
Like Loading...