Skip to content
سپریم کورٹ کے اعتراض کے بعد جسٹس ریڈی کو دینا پڑا استعفیٰ
حیدرآباد، 17جولائی (آئی این ایس انڈیا )
تلنگانہ حکومت کی جانب سے توانائی کے شعبے میں بے ضابطگیوں کی تحقیقات جسٹس ایل نرسمہا ریڈی کی قیادت میں کی جارہی تھیں۔لیکن حال ہی میں ریڈی کے بیان کی وجہ سے یہ معاملہ گرم ہوگیا۔ بڑھتے ہوئے معاملہ کو دیکھتے ہوئے سپریم کورٹ نے جسٹس ریڈی کو پھٹکار لگائی۔ سپریم کورٹ نے ریڈی پر غیر جانبداری کے اصولوں کی خلاف ورزی کا الزام لگایا تھا۔ جس کے بعد جسٹس ریڈی نے کمیشن کے چیئرمین کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔
اس وقت تلنگانہ میں ریونت ریڈی کی قیادت میں کانگریس کی حکومت ہے۔ جبکہ اس سے پہلے بی آر ایس سربراہ کے چندر شیکھر راؤ تلنگانہ کے چیف منسٹر تھے۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنے دور حکومت میں پاور سیکٹر میں بے ضابطگیاں کر کے سرکاری خزانے کو نقصان پہنچایا۔ اس حوالے سے تفتیش جاری ہے۔ایڈوکیٹ مکل روہتگی جو کے سی آر کے کیس کو ہینڈل کررہے ہیں، نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ جسٹس ریڈی انکوائری کمیشن کے چیئرمین ہیں۔
انہوں نے 16 جون کو ایک پریس کانفرنس میں سرکاری خزانے کو پہنچنے والے نقصان پر تبصرہ کیا تھا۔ جس سے اس کا متعصبانہ رویہ ظاہر ہوا۔ اس معاملے کو لیکر سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ، جسٹس جے بی پارڈی والا اور جسٹس منوج مشرا کی بنچ نے جسٹس ریڈی کے ریمارکس پر اعتراض کیا۔
Like this:
Like Loading...