Skip to content
یوپی اسمبلی ضمنی الیکشن میں بی جے پی نے بنایا گیم پلان.
مسلم حلقوں میں مسلم امیدوار اتارنے کا نسخہ آزمانے کے لیے تیار
لکھنؤ، 17جولائی (آئی این ایس انڈیا )
اترپردیش میں لوک سبھا الیکشن میں زبردست شکست نے بی جے پی کوصدمے میں ڈال دیا ہے۔ اس کا اثریوپی میں ہونے میں ہونے والے ضمنی الیکشن کی تیاریوں میں دکھنے لگا ہے۔ یوپی کے 10 سیٹوں پرہونے والے ضمنی الیکشن میں بی جے پی ان غلطیوں کودوہرانے کے موڈ میں نہیں ہے، جواس نے لوک سبھا الیکشن میں کی ہے۔ ضمنی الیکشن کے لئے حکمت عملی بنانے کے لئے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی قیادت میں ان کے لکھنوواقع سرکاری رہائش گاہ 5 کالی داس مارگ پرمیٹنگ ہوئی ہے۔ذرائع نے بتایا ہے کہ میٹنگ میں طے ہوا ہے کہ صرف جیتنے والے امیدوارہی میدان میں اتارے جائیں گے۔
سفارش کی بنیاد پرکسی کوٹکٹ نہیں دیا جائے گا۔ میٹنگ سے باہرآئے وزیرمملکت سوتیندردیوسنگھ سے جب میڈیا نے سوال کیا توانہوں نے کہا کہ میٹنگ میں ڈیولپمنٹ پروجیکٹس، سیلاب کے حالات سمیت کئی موضوعات پرتبادلہ خیال کیا گیا۔ سبھی 10 سیٹوں پرہم جیتنے والے ہیں، اس لئے میٹنگ میں اسمبلی ضمنی الیکشن سے متعلق بھی تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی قیادت میں ہوئی میٹنگ میں اس بات پربھی تبادلہ خیال کیا گیا کہ مسلم اکثریتی اسمبلی حلقہ میں مسلم امیدواراتار سکتے ہیں؟ موجودہ حالات کو سمجھنے سے متعلق بھی تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔
میٹنگ میں لیڈران نے اس بات پرغوروخوض کیا ہے کہ ان 10 اسمبلی حلقوں میں پسماندہ، دلت اوراقلیتی برادری کا کتنا اثرہے۔ مانا جا رہا ہے کہ اسی بنیاد پرامیدواروں کا انتخاب کیا جاسکتا ہے۔ ذات پات کی مساوات پربھی خصوصی توجہ دی جائے گی۔میٹنگ سے باہرآئے وزیرمملکت سوتنتردیوسنگھ سے جب میڈیا سے سوال کیا توانہوں نے کہا کہ میٹنگ میں ڈیولپمنٹ پروجیکٹس، سیلاب کے حالات سمیت کئی موضوعات پرتبادلہ خیال کیا گیا۔ سبھی 10 سیٹوں پرہم جیتنے والے ہیں، اس لئے میٹنگ میں اسمبلی ضمنی الیکشن سے متعلق بھی تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔ انہوں نے اس بات کی واضح طورپرجانکاری دی ہے کہ کیا میٹنگ میں تنظیم کا کوئی لیڈرموجود تھا یا نہیں۔ ابھی تک جوجانکاری ملی ہے، اس کے مطابق اس میں یوپی حکومت کے وزرا شامل ہوئے۔
Like this:
Like Loading...