Skip to content
منڈل نامہ :شبیر انصاری کے حصے کی روشن شمع
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
شبیر احمد انصاری صاحب کی سوانح عمری ’منڈل نامہ ‘ کو پہلے مراٹھی میں دلیپ واگھمارے نے بڑی محنت سے قلمبند کیا اور پھر اس کا نہایت سلیس اور رواں ترجمہ ملک اکبر کے ہاتھوں ہوا۔اسی ترتیب میں پہلے مراٹھی کتاب کا اجراء ریاستی وزیر چھگن بھجبل کے ہاتھوں عمل میں آیا اور اردو ترجمہ کی تقریب پدم شری ظہیر قاضی کی زیر صدارت خلافت ہاوس میں منعقد ہوئی ۔اس کتاب کی ابتدا میں موصوف اپنا حالِ دل یوں بیان کرتے ہیں: ’نوجوانی کے دور میں کئی مسائل سوال بن کر کھڑے ہوئے‘۔ سابق رکن پارلیمان اور ممبئی یونیورسٹی کے وائس چانسلرڈاکٹر بھالچندر منگےکر نے کتاب کی پشت پر ان میں سے ایک سوال کا ذکر اس طرح کیا ہے کہ :’مذہب اسلام میں ذات پات کا نظام نہ ہونے کے باوجود۱۹۶۷ میں شائع ہونے والی منڈل کمیشن کی رپورٹ کے اندراو بی سی کی فہرست میں مسلم سماج کے کچھ گروہ کیوں شامل ہیں؟ اس سوال کے جواب نے شبیر احمد انصاری کو او بی سی تحریک کاحصہ بنادیا‘۔ اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ تاریخ کا حصہ ہے ۔ اس بابت خود شبیر انصاری اس طرح رقمطراز ہیں:
’ ان مسائل سے لڑتے ہوئے میں کس طرح او بی سی جدو جہد میں کود پڑا مجھے پتہ ہی نہیں چلا ‘ لیکن ڈاکٹر مونگے کر کے مطابق منڈل کمیشن کی رپورٹ میں مسلمانوں کے تذکرہ نےانہیں ’ چودھری برہم پرکاش ، کرپوری ٹھاکر، رام ولاس پاسوان، شرد یادو، کانشی رام ،ویر منی ، شانتی نائک اور ایڈو کیٹ جناردن پاٹل کی قیادت میں منڈل کمیشن کی سفارشات کو نافذ کرانے کی جدو جہد میں منہمک کردیا ‘۔ شبیر انصاری نے بڑی کشادہ دلی سے کتاب کے پہلے صفحہ پر اپنے استاد جناردن پاٹل کو خراجِ عقیدت پیش کیا ہے۔ انصاری صاحب کی داستانِ حیات کے اس خوشگوار موڑ پر یہ ضرب المثل صادق آتی ہے’آگ لینے کو جائیں پیمبری مِل جائے‘۔ مشیت کا فیصلوں پر کسی کو کوئی اختیار نہیں ہوتا وہ ازخود نافذ ہوکر رہتے ہیں ۔ شبیر انصاری کے ساتھ یہ نہ ہوتا تو وہ سب نہ ہوتا جو منڈل نامہ میں درج ہے بقول مضطر خیر آبادی ؎
خدا کی دین کا موسیٰ سے پوچھئے احوال
کہ آگ لینے کو جائیں پیمبری مل جائے
ارشادِ ربانی ہے:’جو لوگ ہماری خاطر مجاہدہ کریں گے انہیں ہم اپنے راستے دکھائیں گے‘۔ اللہ تبارک و تعالیٰ جذبۂ عمل سے لبریز جدوجہد کرنے کی خاطر میدان میں اترنے والے بندوں کو راستہ دکھاتا ہے ۔ اللہ کے راستے میں مجاہدہ کے ساتھ اخلاص بھی لازمی ہے کیونکہ آگے فرمایا گیا :’اور یقیناً اللہ نیکو کاروں کے ساتھ ہے‘۔ معلوم ہوا کہ رضائے الٰہی کے لیےکوشش اور اخلاص کے بغیر راہِ حق سجھائی نہیں جاتی یعنی راستہ نظروں کے سامنے موجود ہونے کے باوجود انہیں لوگوں کو نظر آتا ہے جن کی خالق کائنات رہنمائی فرماتا ہے۔ مثلاً ذات اور طبقہ کا فرق عام لوگوں کی سمجھ میں نہیں آیا لیکن شبیر انصاری صاحب نے اس کا ادراک کرلیا اور اس بنیاد پر او بی سی مسلمانوں کے لیے ریزرویشن کی تحریک چھیڑ دی ۔ یہ بہت مہین فرق ہے اس لیے جب مہاراشٹر میں مسلم او بی سی کے حوالے سے حکمنامہ نکالا گیا تو اس پر مراٹھی زبان میں ذات کے بجائے ورگ یعنی طبقہ درج تھا ۔
بھارتیہ جنتا پارٹی مذہب کی بنیاد پر ریزرویشن کو خلافِ دستور بتاتی ہے۔ آئین ہند اگر صرف ذات پات کی بنیاد پر ریزرویشن دیتا ہے تو مودی سرکار کا غریب ترین لوگوں کو دس فیصد ریزرویشن دینا بھی غیر آئینی ٹھہرتا ہے لیکن اگر غربت کی بنیاد پر کسی طبقہ کی ترقی کے لیے اسے ضروری سمجھا گیا تو مسلم طبقہ کی پسماندگی کو دور کرنے کے لیے انہیں ریزرویشن کیوں نہ دیا جائے؟ ہندوستان کے اندر ریزرویشن کی اہمیت کو سمجھنے کے لیے اس کے تاریخی تناظر کو سمجھنا ضروری ہے۔ سرزمین ہند پر وسط ِ ایشیا سےمٹھی بھر نام نہاد اونچی ذاتوں کے لوگ آئے اور انہوں نے یہاں کے مقامی باشندوں کو جنوبِ ہند میں ڈھکیل کر ان کی زرخیز زمینوں کو ہتھیا لیا ۔ جن لوگوں نے جانے سے انکار کیا انہیں اچھوت بنادیا گیا۔ذات پات کے ظالمانہ نظام کو مذہبی تقدس عطا کیا گیا۔ ہندوستان دنیا کا واحد ملک ہے جہاں خود اس کے اپنے ماننے والوں پر عبادتگاہوں کے دروازے بند کردئیے گئے۔ شودروں پر تعلیم کا دروازہ بند کرکے تفریق و امتیاز کا ایسا ظالمانہ قانون وضع کیا گیا جس کی دنیا میں کوئی مثال نہیں ملتی ۔ یہی وجہ ہے کہ آگے چل کر جب باہر سے مسلمان اور عیسائی حکمراں آئے تو عوام نے ان کا استقبال کیا۔
یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ انگریزوں کے زمانے میں پونے کے برہمن پیشواوں نے یہاں کے دلت سماج پر وہی قدیم ظلم و جبر مسلط کردیا تھا۔ ان کو گلے میں لوٹا لٹکانا پڑتا تھا تاکہ تھوک زمین پر گر کر اسے ناپاک نہ کرے اور پیٹھ پر جھاڑو بندھا رہتا تھا تاکہ اپنے قدموں سے لگی مٹی کو وہ خود صاف کرتےجائیں ۔اسی لیے انگریزوں کی فوج میں شامل ہوکر مہار رجمنٹ نے پیشواوں کے خلاف جنگ کی تھی جس کی صد سالہ تقریبات چند سال قبل بھیما کورے گاوں میں منائی گئی۔آج بھی ملک میں ہزاروں کنووں سےدلتوں کو پانی بھرنے نہیں دیا جاتا اورعام شمشان میں ان کی لاش نہیں جلتی۔ دلتوں کو مونچھیں رکھنے اور گھوڑی چڑھنے کی بھی اجازت نہیں ہے۔ انگریزوں سےآزادی کے بعد اس گھناونے نظام کے لوٹنے کا خطرہ تھا اس لیے ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر نے کھلے عام منو سمرتی کو جلانے کے بعد ہندو مذہب چھوڑ کر بودھ دھرم قبول کیا ۔ دلتوں کے تحفظ کی خاطر ایٹروسٹی مخالف قانون بنایا گیا نیز ترقی کے لیے ریزرویشن دیا گیا۔
ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکرنے پسماندہ طبقات کی پسماندگی کا جائزہ لینے کے بعد انہیں بھی ریزرویشن دینے کی گنجائش رکھی۔ اس کے لیے منڈل کمیشن بنا تو اس نے پیشے کی بنیاد مسلماو بی سی کے لیے ریزرویشن کی تجویز پیش کی ۔ اس وقت بالعموم مسلم رہنما اور دانشورذات اور طبقہ کا فرق نہیں سمجھ پا ئے اس لیے شبیر احمد انصاری کی تحریک کے خلاف محاذ چھیڑ دیا۔ مذکورہ بالا آیت میں درج بشارت کہ ’اللہ نیکوں کاروں کے ساتھ ہے‘ کا مطلب اسی وقت سمجھ میں آتا ہے جب دیگر بندگانِ خدا مخالفت کرنے لگتے ہیں ۔ اللہ کے بندے ساتھ چھوڑ دیتے ہیں تو خدائے برحق کے ساتھ کی قدروقیمت محسوس ہوتی ہے ۔اس حقیقت کا ادراک کم لوگوں کو ہوتاہے کہ مخالفت کی واحد وجہ دشمنی یا مفاد نہیں ہوتی مگر شبیر احمد انصاری یہ بات سمجھ گئے کہ اس کا بنیادی سبب غلط فہمی ہے۔ اس لیے وہ اپنی مخالفت سے ناراض ہونے کے بجائے غلط فہمی کے ازالہ میں لگ گئے اور اس مشکل امتحان میں سرخ رو ہوکر نکلے۔
مخالفت کامقابلہ کرنا چونکہ نہایت مشکل کام ہےاس لیے ایسے مواقع پرانبیائے کرام ؑ کی زبان سے الفاظ ادا ہوتے ہیں کہ :’اور ہم کیوں نہ اللہ پر بھروسہ کریں جبکہ ہماری زندگی کی راہوں میں اس نے ہماری رہنمائی کی ہے؟ جو اذیتیں تم لوگ ہمیں دے رہے ہو اُن پر ہم صبر کریں گے اور بھروسا کرنے والوں کا بھروسا اللہ ہی پر ہونا چاہیے‘۔ اس لحاظ سے شبیر انصاری کے صبرو تحمل نے مسلمانوں کی سوچ کا انداز بدل دیا جسے انگریزی میں پیراڈائم شفٹ کہاجاتاہے ۔شبیر انصاری کا منڈل نامہ صرف ایک آپ بیتی ہی نہیں جگ بیتی بھی ہے۔ یہ ریاست مہاراشٹر کے اس دور کی ترجمان ہے جس میں نہ صرف شرد پوار اور ولاس راو دیشمکھ سے تعاون حاصل کیا گیا بلکہ ہندو توا نواز برہمن وزیر اعلیٰ منوہر جوشی اور دیویندر فڈنویس کو بھی معاون بنایا گیا۔ اس تحریک کی ندرت کا یہ عالم تھا کہ دلیپ کمار سے لے کر جانی واکر تک کئی فلمی ہستیاں اس جدو جہد میں شامل ہو گئیں ۔ شبیر انصاری نے جس طرح ریزرویشن تحریک کی قیادت کو اس دیکھ کر علامہ اقبال کا یہ شعر یاد آتا ہے ؎
نگہہ بلند سخن دلنواز جاں پرسوز
یہی ہے رخت سفر میر کارواں کے لیے
قائدِ تحریک کےلیے بلند نگاہی کی اس لیے ضرورت ہوتی ہے تاکہ دور تک دیکھے یعنی ذات اور طبقہ کا فرق کرکے ریزرویشن کو سمجھے ۔ جہادِ مسلسل کے دوران اگر اس کا سخن دلنواز نہ ہوتووہ اس کے دل کی بات مخاطب کےدل میں نہیں اترتی ۔ قائد کی جاں سوز ی نہ صرف اسے آمادۂ تحریک رکھتی ہے بلکہ پیروکاروں کو بھی ایثارو قربانی کی ترغیب دیتی ہے ۔یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ موجودہ دور میں فتنۂ فسطائیت کے کمنڈل کا اصلی توڑ منڈل ہی ہے اسی لیے جب ذات پات کی بنیاد پر مردم شماری کے مطالبہ سے زعفرانیوں کی نانی مرجاتی ہے۔ ابتدا میں شبیر انصاری کے حال دل کا جو اقتباس پیش کیا گیا اس کےآگے کی چند سطور بھی ملاحظہ فرمائیں۔ موصوف رقمطراز ہیں:’عمر کے ا س پڑاو پر جب زندگی کا سورج غروب کی طرف بڑھا جارہا ہےاپنی کارکردگی پر نظر ڈالتا ہوں تو اطمینان کا احساس ہوتا ہے کہ ریزرویشن کی جدو جہد میں تھوڑا بہت کام کرکے مسلم او بی سی کی زندگی میں خوشیوں کے چند لمحات انڈیل سکا ۔ان کے لیے کچھ کرنے کے مواقع میسر آئے‘۔رب ذوالجلال سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی جدوجہد کو قبول فرمائے اور اجر عظیم سے نوازے۔
Like this:
Like Loading...