Skip to content
حزب اللہ کی اسرائیل میں نئے اہداف کو نشانہ بنانے کی دھمکی
بیروت، 18جولائی (آئی این ایس انڈیا )
اسرائیلی فورسز نے بدھ کے روز جنوبی لبنان میں فضائی حملے کیے جو حزب اللہ کے عسکریت پسندوں کو ہدف بنا کرکئے جانے والے تازہ ترین حملے تھے۔اسرائیل کی فوج نے کہا کہ اس کے حملے حزب اللہ کے انفرا اسٹرکچر پر مرکوز تھے، اور اسرائیلی فورسز نے علاقے میں حزب اللہ کی دھمکیوں کے رد عمل میں توپوں سے گولہ باری بھی کی۔حزب اللہ نے اسرائیل کی طرف راکٹ فائر کیے۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے کچھ راکٹوں کو روک لیاگیا جبکہ دوسریکھلے علاقوں میں گرے اوران سے کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا۔
حزب اللہ کے رہنما سید حسن نصر اللہ نے بدھ کے روز ایک تقریر کے دوران کہا کہ اگر اسرائیلی فورسز نے شہریوں کی ہلاکت کا سلسلہ جاری رکھا تو عسکریت پسند گروپ اسرائیل کے نئے علاقوں کو نشانہ بنائے گا۔لبنانی عسکریت پسند تحریک حزب اللہ کے رہنما حسن نصراللہ کی ایک تصویر،ایک عمارت پر لٹکی ہوئی ہے جو اس ڈرون حملے کی جگہ کے قریب ہے جہاں حماس کے نائب رہنما صالح العروی کو نشانہ بنایا گیا تھا۔اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان سرحد پار جھڑپوں نے تنازعے کے پورے خطے میں پھیلاؤ کیخدشات کو جنم دیا ہے جب کہ اسرائیلی فورسز غزہ کی پٹی میں حماس سے بھی لڑ رہی ہیں۔
امریکی محکمہ دفاع نے کہا ہے کہ امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن اور اسرائیلی وزیر دفاع یوو گیلنٹ نے منگل کو ایک فون کال کے دوران اسرائیل-حزب اللہ تنازعے پر تبادلہ خیال کیا۔پنٹاگون کے پریس سکریٹری میجر جنرل پیٹ رائڈر نے ایک بیان میں کہا کہ دفاعی سر براہوں نے فلسطینی شہریوں کو انسانی ہمدردی کی امداد پہنچانے کے لیے کوئی دوسرا ذریعہ فراہم کرنے کے لیے غزہ کے ساحل پر امریکہ کے نصب کئے گئے عارضی گھاٹ کے بارے میں بھی بات کی۔
گھاٹ کو، سمندر کی طغیانی سمیت، متعدد مسائل پیش آئے تھے،جن کے باعث اسے ساحل سے الگ کردیا گیا، اور آسٹن نے گیلنٹ کو بتایا کہ یہ کوشش جلد ہی ختم کردی جائے گی۔رائڈر نے کہا وزیر دفاع نے تمام زمینی گزر گاہوں کے ذریعے انسانی ہمدردی کی امداد کی ترسیل میں اضافے اور غزہ میں مداد کی ترسیل میں معاونت کے لئے اسرائیل کی اشدود بند ر گاہ کو استعمال کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔
پینٹاگون نے کہا کہ آسٹن نے حماس کی مستقل شکست کو یقینی بنانے اور حماس کے پاس قید تمام یرغمالوں کی محفوظ رہائی کو یقینی بنانے کی مشترکہ خواہش کی بھی توثیق کی۔امریکہ، مصر اور قطر اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کرانے کی کوشش کر رہے ہیں جس میں غزہ میں ابھی تک قید یرغمالوں کی رہائی کے ساتھ ساتھ لڑائی کو روکنا اور فلسطینی شہریوں کے لیے انسانی امداد میں اضافہ شامل ہے۔
Like this:
Like Loading...