Skip to content
جمعہ نامہ:
تلقین ِ مدافعت ، ترغیبِ مزاحمت اورگریزِ اکساہٹ
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
ارشادِ ربانی ہے:’’کیا تمہیں اُن قوموں کے حالات نہیں پہنچے جو تم سے پہلے گزر چکی ہیں؟ قوم نوحؑ، عاد، ثمود اور اُن کے بعد آنے والی بہت سی قومیں جن کا شمار اللہ ہی کو معلوم ہے؟‘‘ قرآن کریم میں ماضی کے واقعات بیان کیے گئے ہیں تاکہ اہل ایمان زمانۂ حال میں ان سے عبرت پکڑ کر اپنامستقبل سنواریں ۔ آگے فرمانِ خداوندی ہے:’’ اُن کے رسول جب اُن کے پاس صاف صاف باتیں اور کھلی کھلی نشانیاں لیے ہوئے آئے تو اُنہوں نے اپنے منہ میں ہاتھ دبا لیے اور کہا کہ "جس پیغام کے ساتھ تم بھیجے گئے ہو ہم اس کو نہیں مانتے اور جس چیز کی تم ہمیں دعوت دیتے ہو اُس کی طرف سے ہم سخت خلجان آمیز شک میں پڑے ہوئے ہیں ‘‘۔ انبیاء کی مخاطب قوم نے جب دعوت حق کے حوالے سے شکوک و شبہات کا اظہار کیا تو :’’ اُن کے رسولوں نے کہا "کیا خدا کے بارے میں شک ہے جو آسمانوں اور زمین کا خالق ہے؟ وہ تمہیں بلا ر ہا ہے تاکہ تمہارے قصور معاف کرے اور تم کو ایک مدت مقرر تک مہلت دے” ۔ قوم کی جانب سے انکار ِدعوت کے باوجود یہ اس محبت آمیز مشفقانہ جواب کا بھی ان کی قوم پر کوئی اثر نہیں ہوا اُنہوں نے جواب دیا :
"تم کچھ نہیں ہو مگر ویسے ہی انسان جیسے ہم ہیں تم ہمیں اُن ہستیوں کی بندگی سے روکنا چاہتے ہو جن کی بندگی باپ دادا سے ہوتی چلی آ رہی ہے اچھا تو لاؤ کوئی صریح سند‘‘۔ اس اشتعال انگیز جواب پر بھی :’’ ان کے رسولوں نے کہا "واقعی ہم کچھ نہیں ہیں مگر تم ہی جیسے انسان لیکن اللہ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے نوازتا ہے اور یہ ہمارے اختیار میں نہیں ہے کہ تمہیں کوئی سند لا دیں سند تو اللہ ہی کے اذن سے آسکتی ہے اور اللہ ہی پر اہل ایمان کو بھروسا کرنا چاہیے اور ہم کیوں نہ اللہ پر بھروسا کریں جبکہ ہماری زندگی کی راہوں میں اس نے ہماری رہنمائی کی ہے؟‘‘۔ اس کے بعد جب زبانی اعتراض ظلم و زیادتی میں تبدیل ہوگیا تو رسولِ وقت کا جواب تھا :’’ جو اذیتیں تم لوگ ہمیں دے رہے ہو اُن پر ہم صبر کریں گے اور بھروسا کرنے والوں کا بھروسا اللہ ہی پر ہونا چاہیے” ۔ اس نہایت معقول موقف کے جواب میں طاغوت دھونس دھمکی پر اتر آیا ۔ ارشادِ قرآنی ہے:’’آخر کار منکرین نے اپنے رسولوں سے کہہ دیا کہ "یا تو تمہیں ہماری ملت میں واپس آنا ہوگا ورنہ ہم تمہیں اپنے ملک سے نکال دیں گے”۔
وطن عزیز میں اہل ایمان دعوت و تبلیغ کے بغیر بھی مذکورہ بالا حالات کا شکار ہیں ۔ ان پر کہیں ہجومی تشدد ہوتا ہے تو کہیں مساجد ، دوکانوں اور گھروں پر حملہ کیا جاتا ہے ۔ مسلمانوں کو معاشی نقصان پہنچانے کے لیے کانوڑیا یاترا کے راستے میں ان کو دوکان پر اپنا نام لکھنے کا پابند کیا جاتا ہے تاکہ یاتری مسلمانوں سے کوئی چیز نہیں خریدیں ۔اس میں یا دلآزاری کا پہلو غالب ہے کیونکہ یاتریوں کی خریدو فروخت پر تجارت کا انحصار نہیں ہے۔ ایسے میں اہل ایمان کی انفرادی و اجتماعی ذمہ داری کی ادائیگی انبیائے کرام کے مندرجہ بالا اسوہ کی روشنی میں ہونی چاہیے۔ان سنگین حالات میں عام ردعمل جھنجھلاہٹ کا ہوتا ہے۔ ہمارا نزلہ دوسروں پر اترتا ہے کہ وہ ہمارے لیے کچھ بولتے کیوں نہیں؟ احسان فراموش کچھ کرتے کیوں نہیں؟ ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ جب دوسروں پر ظلم ہوتا ہے تو ہم کیا کرتے ہیں ؟ بدقسمتی سے اس ملک میں سبھی طبقات کو اپنی لڑائی ازخود لڑنی پڑتی ہے۔ اس لیے امت اگر اپنے مسائل کے حل کرنے کی خاطر میدان عمل میں اتر کر احتجاج نہیں کرے گی کوئی کچھ نہیں کرے گا لیکن جب ہم آگے بڑھیں گے تو دیگر لوگ ہماری حمایت میں ساتھ آئیں گے ۔ اس لیے پہلا قدم کوئی اور نہیں اٹھائے گابلکہ ہمیں خود اٹھانا پڑےگا۔
فرمانِ ربانی ہے :’’اے نبیؐ، برائی کو اس طریقہ سے دفع کرو جو بہترین ہو جو کچھ باتیں وہ تم پر بناتے ہیں وہ ہمیں خوب معلوم ہیں‘‘۔ اس آیت کی روشنی میں مدافعت اور مزاحمت امت کا فرض منصبی ہے ۔اس لیے اِدھر اُدھر کی باتیں بنانے سے کام نہیں چلے گا ۔ اس نازک ذمہ داری کو ادا کرتے وقت یہ دعا سکھائی گئی ہے کہ :’’پروردگار، میں شیاطین کی اکساہٹوں سے تیری پناہ مانگتا ہوں‘‘۔اکساہٹ یعنی اشتعال انگیزی کے حوالے سے یہ حدیثِ رسولﷺ پیش نظر رہنی چاہیے کہ :’’ تم یہ نہ کہو کہ اگر لوگ ہمارے ساتھ ظلم کریں گے تو ہم بھی ان کے ساتھ ظلم کریں گے بلکہ تم اپنے آپ کو اس امر پر قائم رکھو کہ اگر لوگ بھلائی کریں تو تم بھی بھلائی کرو، اور اگر لوگ برائی کریں تو تم ظلم نہ کرو‘‘۔ یعنی برابر کا انتقام تو لے سکتے ہو مگر حد سے تجاوز نہ ہو نیز اگر ممکن ہوتو عفو و درگزر کا معاملہ یا بدلے میں احسان کا سلوک بھی کیا جاسکتا ہے۔
دشمنانِ اسلام کی یہ کوشش ہوتی کہ امت مشتعل ہوکر ان کے پھیلائے ہوئےجال میں پھنس جائے لیکن اس سے بچ کر صورتحال کا قرار واقعی مقابلہ لازمی ہےمثلاً حملے کے دوران تو دو بدو مقابلہ آرائی ضروری ہے مگر بعد میں قانونی چارہ جوئی کے ذریعہ مجرمین کو سزا دلوانے کی بھرپور کوشش بھی ہونی چاہیے۔ اس کے علاوہ فساد زدگان کی باز آبادکاری سے بھی غفلت مناسب نہیں ہے ۔ اس طرح کے فرقہ وارانہ فسادات کا مقصد چونکہ سیاسی مفاد ہوتا ہے اس لیے دشمنانِ اسلام کے ناجائز منصوبوں کو ناکام کرنے کے لیے سماجی سطح پر بھی کام کرنے کی ضرورت ہے ۔ ایسا کرنے سے مختلف صوبوں میں فرقہ وارانہ تشدد پر لگام لگی ہے ۔یہ سب تو ہمارے کرنے کے کام ہیں مگر ابتدائی آیات کے میں انبیائے کرام کو یہ یقین دہانی بھی کرائی گئی :’’ تب اُن کے رب نے اُن پر وحی بھیجی کہ "ہم اِن ظالموں کو ہلا ک کر دیں گے اور اُن کے بعد تمہیں زمین میں آباد کریں گے یہ انعام ہے اُس کا جو میرے حضور جواب دہی کا خوف رکھتا ہو اور میری وعید سے ڈرتا ہو” ۔ اُنہوں نے فیصلہ چاہا تھا (تو یوں اُن کا فیصلہ ہوا) اور ہر جبار دشمن حق نے منہ کی کھائی پھر اس کے بعد آگے اس کے لیے جہنم ہے۰۰۰‘‘۔
Like this:
Like Loading...