Skip to content
آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے
از قلم : مفتی محمد ابراھیم قاسمی حُسّامی
مدرسہ اِسلامیہ صُفّہ لِلبنات وقارآباد تلنگانہ
11/محرم الحرام 1446ھ مطابق 18/ جولائی 2024ء بروز جمعرات، دعوت و تبلیغ کے قدیم ذمہ دار ساتھی حافظ مُحمد ذاکر صاحب امام و خطیب مسجد محمدیہ راجو نگر وقارآباد بعمر 44 وفات پاگئے، إنا للّٰہ وإنا إلیہ راجعون۔ اللہ رب العزت مرحوم کی مغفرت فرمائے اور اُن کے اعمال حسنہ کو قبول فرمائے۔ آمین!
صبح کی اولین ساعتوں میں قلب پر حملہ کی وجہ سے انتقال کر گئے اس اندوہ ناک خبر سے پورے ضلع وقارآباد میں صفِ ماتم بچھ گئی اور رنج و الم کی لہر دوڑ گئی،
ان کا انتقال پرملال مسلمانانِ وقارآباد ہی نہیں بلکہ پورے ضلع کے ملت اسلامیہ کا زبردست اور ناقابل تلافی نقصان ہے، مرحوم سنجیدہ اور محنتی داعی تھے موصوف کو دعوت الحق سے اور حضرت محی السنہ صاحب رحمہ اللہ تعالٰی سے بڑی محبت تھی اس لئے سر پر ہمیشہ پنچ کلی کی ٹوپی پہنتے تھے
آپ گزشتہ تقریبًا 24 سال سے مسجد محمدیہ راجو نگر میں پورے جذبۂ خدمت کے ساتھ امامت وخطابت کے فرائض انجام دے رہے تھے آپ جہاں ایک سنجیدہ خطیب تھے وہیں موصوف بہترین نعت خواں بھی تھے راقم الحروف کو موصوف سے کئی مرتبہ آپسی لین دین کا واسطہ پڑا ہمیشہ معاملات کی صفائی کا خاص خیال رکھتے تھے اسی کے ساتھ آپ انتہائی رقیق القلب شہر وقارآباد اور ضلع وقارآباد کے ذمہ دار ساتھیوں میں ایک ممتاز شخصیت کے حامل تھے دعوت و تبلیغ کے تقاضوں کو جان ومال کی قربانی اور ملت کے درد کے ساتھ انجام دیتے تھے
مرحوم کو قدرت نے بڑا نرم اور قابل مزاج عطا کیا تھا۔ ان کا لہجہ بھی نرم تھا اور مزاج بھی۔ کسی کی دل آزاری وہ نہیں کرتے تھے۔ یک سوئی سے اپنے کام میں لگے رہتے تھے۔ اپناکام حتی الامکان خود کرنے کے عادی تھے، سادہ زندگی گذارتے تھے، لباس میں بھی سادگی نمایاں تھی، ساتھیوں پر مشفق ومہربان تھے، اسی لیے ساتھی اُن سے مانوس رہتے اور آسانی سے استفادہ کرسکتے تھے
نیز موصوف رازداری سےخدمت خلق میں بھی حصہ لیا کرتے تھے امامت وخطابت کے ساتھ اپنا ذاتی کاروبار بھی کرتے تھے بڑے مہمان نواز شفیق و سخی آدمی تھے حافظ محمد یاسر سلمہ کے اطلاع کے مطابق
بروز جمعرات بتاریخ 18 جولائی 2024 عین نماز فجر کے وقت بحالتِ وضو داعی اجل کو لبیک کہ گئے انا للہ وانا الیہ راجعون اس موقع پر
اسلامی تنظیموں اور اداروں کے سربراہ، مدارس اسلامیہ کے ذمہ داران اور وقارآباد کے علمائے کرام نے اپنے دلی تأثرات اور رنج و غم کے جذبات کا اظہار فرمایا، وقارآباد اور ضلع وقارآباد بھر کے ، دینی اداروں اور مساجد کے أئمہ کرام نے میں دعائے مغفرت اور ایصالثواب کی اپیل کی ، یہ موصوف کی مقبولیت کی علامت تھی کہ ضلع بھر کے کونے کونےسے ہزاروں لوگ نماز جنازہ میں شرکت فرمائی
پسماندگان میں والدہ ماجدہ واھلیہ کے علاوہ 4 بھائی دو لڑکے اور دو لڑکیاں ہیں
عید گاہ راجو نگر میں بعد نماز عصر نمازِ جنازہ ادا کی گئی
آپ کے بڑے فرزند حافظ مُحمد یاسِر سلمہٗ نے نماز جنازہ ادا کروائی تدفین عید گاہ راجو نگر سے متصل قبرستان میں عمل میں آئی
شہرِ وقارآباد اور ضلع وقارآباد کے علماء حفاظ وأئمہ ودانشوران نے بھی شرکت کی
زندگی تھی تری مہتاب سے تابندہ تر
خوب تر تھا صبح کے تارے سے بھی تیرا سفر
مثل ایوان سحر مرقد فروزاں ہو تیرا
نور سے معمور یہ خاکی شبستاں ہو تیرا
آسمان تیری لحد پر شبنم افشانی کرے
سبزہ نور ستہ اِس گھر کی نگہبانی کرے
Like this:
Like Loading...