Skip to content
نسیم الدین صدیقی اور سماجوادی پارٹی کا اتحاد!
ازقلم:(حافظ)افتخاراحمدقادری
iftikharahmadquadri@gmail.com
اترپردیش کی سیاست میں موسم اچانک نہیں بدلتا بلکہ اس کے آثار پہلے سے فضا میں تیرنے لگتے ہیں۔ کبھی کسی ملاقات کی خبر، کبھی کسی استعفے کی گونج اور کبھی کسی بڑے لیڈر کی خاموشی آئندہ منظرنامے کا پتہ دے دیتی ہے۔ حالیہ دنوں میں جو پیش رفت سب سے زیادہ موضوع بحث بنی وہ یہ ہے کہ نسیم الدین صدیقی نے سماج وادی پارٹی کا دامن تھام لیا۔ ایک ایسا نام جو طویل عرصے تک بہوجن سیاست کا مضبوط ستون سمجھا جاتا رہا اب سماج وادی خیمے میں نظر آ رہا ہے۔ اس تبدیلی کو ایک شخص کی سیاسی نقل مکانی سمجھ لینا شاید حالات کی سادہ لوحی ہوگی کیونکہ اترپردیش میں چہروں کی تبدیلی اکثر وسیع تر سیاسی بساط کا حصہ ہوتی ہے۔
نسیم الدین صدیقی کا شمار ان سیاست دانوں میں ہوتا ہے جنہوں نے تنظیم سازی، انتخابی حکمت عملی اور اقتدار کے ایوانوں میں عملی کردار، تینوں سطحوں پر اپنی موجودگی درج کرائی۔ ان کی سیاسی زندگی کا بڑا حصہ بہوجن سماج پارٹی کے ساتھ وابستہ رہا اور وہ طویل مدت تک مایاوتی کے انتہائی معتمد ساتھیوں میں شمار کیے جاتے تھے۔ 1990 کی دہائی میں جب بہوجن سیاست اپنے عروج کی طرف بڑھ رہی تھی اور کانشی رام کی قیادت میں نئی سماجی صف بندیاں تشکیل پا رہی تھیں اسی دور میں نسیم الدین صدیقی نے اپنی شناخت مستحکم کی۔ 1991 میں باندہ سے کامیابی حاصل کر کے وہ نہ صرف اسمبلی پہنچے بلکہ پارٹی کے اندر ایک مؤثر آواز کے طور پر ابھرے۔ بعد کے برسوں میں مختلف وزارتوں کی ذمہ داریاں ان کے سپرد کی گئیں اور 2007 سے 2012 کے درمیان جب بی ایس پی کو مکمل اکثریت حاصل ہوئی تو اقتدار کے انتظامی ڈھانچے میں ان کا کردار غیر معمولی طور پر نمایاں رہا۔ مگر سیاست میں وفاداریاں مستقل نہیں ہوتیں۔ 2017 کے بعد حالات نے کروٹ لی اور وہ اپنی پرانی جماعت سے الگ ہو گئے۔ اس کے بعد انہوں نے کانگریس کا رخ کیا۔ کانگریس میں ان کی شمولیت کو اس وقت ایک بڑی پیش رفت کے طور پر دیکھا گیا تھا کیونکہ اترپردیش میں پارٹی اپنی کھوئی ہوئی زمین واپس حاصل کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔ یہ خیال کیا گیا کہ ایک تجربہ کار مسلم چہرہ پارٹی کو نہ صرف اقلیتی ووٹروں کے قریب لا سکتا ہے بلکہ تنظیمی سطح پر بھی نئی توانائی پیدا کر سکتا ہے۔ تاہم وقت کے ساتھ یہ تاثر مضبوط ہوتا گیا کہ کانگریس کے اندر انہیں وہ وسعت اور فیصلہ کن کردار حاصل نہیں ہو سکا جس کی توقع کی جا رہی تھی۔ پارٹی کے اندر پہلے سے موجود سرکردہ شخصیات، علاقائی طاقت کے مراکز اور محدود سیاسی امکانات نے ان کے دائرہ اثر کو محدود رکھا۔
اتر پردیش کی سیاست میں اس وقت سب سے اہم سوال 2027 کے اسمبلی انتخابات کا ہے۔ 2024 کے پارلیمانی انتخابات کے بعد جس طرح سیاسی صف بندیاں تیز ہوئی ہیں اس نے یہ واضح کر دیا ہے کہ حکمراں جماعت کے مقابل اگر کوئی مضبوط اور زمینی ڈھانچے کی حامل قوت موجود ہے تو وہ سماج وادی پارٹی ہے۔ اکھلیش یادو گزشتہ چند برسوں میں اپنی جماعت کو ایک نئی شناخت دینے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ ایک طرف وہ پسماندہ طبقات اور نوجوانوں کو متحرک کرنے کی حکمت عملی اختیار کر رہے ہیں تو دوسری طرف اقلیتی نمائندگی کے خلا کو پُر کرنے کی ضرورت بھی محسوس کی جا رہی تھی۔ خاص طور پر اس پس منظر میں کہ اعظم خان کی طویل غیر فعالیت نے پارٹی کے اندر ایک نمایاں خلا پیدا کر دیا تھا۔ ایسے میں نسیم الدین صدیقی کی شمولیت کو کئی زاویوں سے دیکھا جا رہا ہے۔ ایک زاویہ یہ ہے کہ سماج وادی پارٹی کو ایک ایسا چہرہ مل گیا ہے جو نہ صرف مسلم سیاست کی باریکیوں سے واقف ہے بلکہ ریاستی سطح پر انتخابی مشینری کو چلانے کا تجربہ بھی رکھتا ہے۔ دوسرا زاویہ یہ ہے کہ صدیقی خود بھی ایک ایسے پلیٹ فارم کی تلاش میں تھے جہاں ان کا تجربہ محض علامتی نہ رہے بلکہ عملی سیاست میں استعمال ہو سکے۔ انہوں نے اپنی شمولیت کے موقع پر جس طرح خاکساری کا اظہار کرتے ہوئے خود کو سب سے جونیئر قرار دیا، اسے بعض حلقوں نے سیاسی دانائی سے تعبیر کیا ہے۔ یہ انداز نہ صرف پارٹی کے اندرونی توازن کو برقرار رکھنے کا ذریعہ بن سکتا ہے بلکہ انہیں نئی صف بندی میں آسانی سے جگہ بنانے میں بھی مدد دے سکتا ہے۔
یہ بھی قابلِ غور ہے کہ انہوں نے کانگریس سے علیحدگی اختیار کرتے وقت کسی قسم کی تلخی کا اظہار نہیں کیا۔ سیاسی حلقوں میں اسے ایک محتاط حکمت عملی سمجھا جا رہا ہے کیونکہ اترپردیش میں سماج وادی پارٹی اور کانگریس کے درمیان انتخابی تال میل کا امکان ہمیشہ موجود رہتا ہے۔ اگر مستقبل میں دونوں جماعتیں کسی مشترکہ محاذ پر آتی ہیں تو نسیم الدین صدیقی کے لیے کوئی نظریاتی یا بیانیاتی مشکل پیدا نہیں ہوگی۔ اس طرزِ عمل سے ان کی سیاسی پختگی کا اندازہ بھی ہوتا ہے کہ انہوں نے دروازے بند کرنے کے بجائے راستے کھلے رکھے۔ سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ کیا سماج وادی پارٹی میں انہیں وہی اثر و رسوخ حاصل ہو سکے گا جو کبھی بہوجن سماج پارٹی میں تھا؟ اس کا جواب فوری طور پر دینا مشکل ہے کیونکہ ہر جماعت کا اپنا داخلی ڈھانچہ، طاقت کا توازن اور قیادت کا انداز ہوتا ہے۔ بہوجن سماج پارٹی میں وہ طویل عرصے تک تنظیمی اور مالی معاملات سمیت کئی اہم فیصلوں میں شریک رہے مگر سماج وادی پارٹی کی ساخت مختلف ہے۔ یہاں اکھلیش یادو کی قیادت میں ایک نیا سیاسی کلچر تشکیل پا رہا ہے جس میں نوجوان قیادت اور اجتماعی فیصلوں پر زور دیا جا رہا ہے۔ اس ماحول میں نسیم الدین صدیقی کا کردار کس حد تک وسیع ہوتا ہے یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا۔ البتہ اتنا طے ہے کہ ان کی شمولیت نے سیاسی مباحث کو نئی سمت دی ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب اترپردیش کی سیاست ذات، برادری اور علاقائی اثرات کے نازک توازن پر کھڑی ہے۔ ایک تجربہ کار لیڈر کا خیمہ بدلنا معمولی واقعہ نہیں ہوتا۔ اس سے نہ صرف کارکنوں کا حوصلہ متاثر ہوتا ہے بلکہ مخالفین کی حکمت عملی بھی بدلتی ہے۔ سماج وادی پارٹی کے لیے یہ موقع ہے کہ وہ اس تجربے کو منظم انداز میں استعمال کرے اور 2027 کی تیاریوں میں اسے شامل کرے۔ دوسری جانب نسیم الدین صدیقی کے لیے یہ مرحلہ اپنی سیاسی ساکھ کو نئے سرے سے مستحکم کرنے کا ہے۔ اتر پردیش کی سیاست میں یادداشت کمزور نہیں ہوتی۔ عوام یہ بھی یاد رکھتے ہیں کہ کون کب کس کے ساتھ تھا اور کیوں تھا۔ اس لیے نئی شمولیت کے بعد اصل امتحان میدانِ عمل میں ہوگا۔ اگر وہ پارٹی کے لیے ووٹوں کی صورت میں فائدہ پہنچانے میں کامیاب ہوتے ہیں تو یہ فیصلہ دانشمندانہ قرار پائے گا ورنہ اسے محض ایک اور سیاسی تجربہ سمجھا جائے گا۔ فی الحال منظرنامہ یہی بتا رہا ہے کہ سماج وادی پارٹی نے ایک ایسا مہرہ اپنی بساط پر رکھا ہے جو کھیل کا رخ موڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور نسیم الدین صدیقی نے بھی اپنی طویل سیاسی اننگ کو ایک نئے موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔ آنے والے مہینے اس فیصلے کی اصل معنویت کو آشکار کریں گے اور تب اندازہ ہوگا کہ یہ قدم وقتی حکمت عملی تھا یا ایک دور رس سیاسی منصوبہ۔
الغرض سیاسی منظرنامے کو سامنے رکھا جائے تو یہ سوال اپنی جگہ اہم ہے کہ کیا نسیم الدین صدیقی کی شمولیت واقعی سماج وادی پارٹی کے لیے انتخابی فائدے کا سبب بنے گی یا یہ علامتی تقویت ثابت ہوگی۔ اس کا حتمی جواب وقت ہی دے گا تاہم چند اشارے ضرور موجود ہیں۔ اترپردیش کی سیاست میں شخصیات کا وزن صرف ان کے عہدوں سے نہیں بلکہ ان کے زمینی نیٹ ورک، برادریوں میں رسوخ اور تنظیمی مہارت سے ناپا جاتا ہے۔ اگر نسیم الدین صدیقی اپنی سابقہ سیاسی تجربہ کاری کو نئی جماعت کے ڈھانچے میں مؤثر طور پر ضم کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں، اگر وہ کارکنوں کے درمیان اعتماد پیدا کر لیتے ہیں اور اگر وہ اقلیتی ووٹ کے ساتھ ساتھ دیگر طبقات میں بھی سماج وادی پارٹی کے بیانیے کو وسعت دینے میں کردار ادا کرتے ہیں تو یقیناً یہ قدم پارٹی کے لیے سود مند ثابت ہوسکتا ہے۔ لیکن یاد رکھیں کہ سیاست میں محض نام کافی نہیں ہوتا بلکہ نتائج درکار ہوتے ہیں۔ سماج وادی پارٹی کو 2027 کے معرکے میں مضبوط حکمت عملی، متحد صف بندی اور زمینی سرگرمیوں کی ضرورت ہوگی۔ ایسے میں نسیم الدین صدیقی کا کردار تب ہی معنیٰ خیز ہوگا جب وہ پارٹی کے اجتماعی ہدف کا حصہ بن کر عملی میدان میں اپنی افادیت ثابت کریں گے۔ بصورت دیگر یہ تبدیلی سیاسی سرخیوں تک محدود بھی رہ سکتی ہے۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ یہ فیصلہ امکانات سے بھرپور ضرور ہے مگر اس کی کامیابی کا دار و مدار آنے والے دنوں کی سیاسی حرکیات، انتخابی تیاریوں اور عوامی ردِعمل پر منحصر ہوگا۔ اتر پردیش کی سیاست میں فیصلوں کی اصل قدر بیلٹ باکس طے کرتا ہے اور وہی بتائے گا کہ یہ قدم وقتی چال تھا یا واقعی سماج وادی پارٹی کے لیے ایک فائدہ مند اضافہ۔
*کریم گنج پورن پور پیلی بھیت یوپی
(مضمون نگار معروف صحافی و تجزیہ نگار ہیں)
iftikharahmadquadri@gmail.com
Like this:
Like Loading...