Skip to content
سید اقبال سید خواجہ مہاراشٹر میں پہلے مسلم میئر
ازقلم:شیخ سلیم،ممبئی
پربھنی میں سید اقبال سید خواجہ کو شہر کی میونسپل کارپوریشن کا پہلا مسلم میئر منتخب کیا گیا ہے۔ سید اقبال خواجہ شیوسینا (ادھو بالا صاحب ٹھاکرے) کے کارپوریٹر ہیں اور انہوں نے 65 رکنی ایوان میں اتحادی جماعتوں کی حمایت سے 39 ووٹ حاصل کر کے کامیابی حاصل کی۔ یہ مقامی سیاست میں ایک اہم سنگِ میل سمجھا جا رہا ہے۔ اس طرح وہ مہاراشٹر میں پہلے مسلم میئر بن گئے ہیں۔ پربھنی میں مسلمانوں نے بڑی تعداد میں شیوسینا (ادھو ٹھاکرے) کو ووٹ دیا تھا اور شیوسینا کے متعدد کارپوریٹر منتخب ہوئے تھے۔ کمال کی بات یہ ہے کہ ادھو ٹھاکرے نے کانگریس کی طرح تنگ نظری کا ثبوت نہیں دیا اور ایک مسلمان کو پربھنی کا میئر بنا دیا۔ پربھنی میونسپل کارپوریشن کے نتائج مہاراشٹر کی شہری سیاست میں ایک بڑی تبدیلی کی عکاسی کرتے ہیں۔ جنوری 2026 کے بلدیاتی انتخابات میں آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (AIMIM) نے ریاست میں اپنی اب تک کی بہترین کارکردگی دکھائی اور تقریباً 29 میونسپل اداروں میں 125 وارڈز میں کامیابی حاصل کی، جو 2017 کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے۔ اس کامیابی میں چھترپتی سمبھاجی نگر (اورنگ آباد)، مالیگاؤں، نانڈیڑ اور دیگر شہری مراکز میں مضبوط کارکردگی شامل ہے، جہاں AIMIM کے امیدوار بااثر بن کر ابھرے ہیں۔ یعنی جہاں جہاں مسلمانوں کو موقع ملا، انہوں نے کانگریس اور این سی پی کے علاوہ دوسری جماعتوں کو ووٹ دیا۔
ملک کی سب سے بڑی میونسپل کارپوریشن برہن ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) میں 2026 کے انتخابات کے دوران مسلم نمائندگی میں معمولی اضافہ دیکھا گیا۔ اطلاعات کے مطابق تقریباً 30 مسلم امیدوار کامیاب ہوئے، جو پچھلے انتخابات کے مقابلے میں تھوڑا اضافہ ہے۔ یہ کارپوریٹر مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھتے ہیں، جن میں کانگریس، AIMIM اور دیگر پارٹیاں شامل ہیں، جو مسلم قیادت کی سیاسی وابستگی کے تنوع کو ظاہر کرتا ہے۔ ممبئی کے علاوہ، 84 رکنی مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن میں بھی مسلمانوں کی نمایاں نمائندگی موجود ہے۔ 2026 کے انتخابات میں انڈین سیکولر لارجسٹ اسمبلی آف مہاراشٹر (ISLAM) پارٹی نے 35 نشستیں حاصل کیں جبکہ AIMIM نے 21 نشستیں جیتیں، اس کے بعد دیگر جماعتوں کی کامیابی رہی۔
سیاسی مبصرین کے مطابق یہ نتائج مہاراشٹر میں اقلیتی ووٹرز کے رجحانات میں تبدیلی کا حصہ ہیں۔ جہاں روایتی طور پر کانگریس اور این سی پی کو مضبوط حمایت حاصل رہی، وہیں اب ووٹرز کی ترجیحات میں تبدیلی آ گئی ہے۔ کچھ ووٹرز مضبوط اور جارحانہ نمائندگی کے لیے AIMIM کا انتخاب کر رہے ہیں جبکہ کچھ مقامی قیادت کی بنیاد پر شیوسینا (یو بی ٹی) کی حمایت کر رہے ہیں۔ ان رجحانات کے نتیجے میں ریاست کے مختلف شہری مراکز میں مسلم کارپوریٹروں کی تعداد اور سیاسی اثر و رسوخ میں اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ پربھنی میں میئر کا عہدہ کسی مسلمان کو ملنا، اور ممبئی، مالیگاؤں، اورنگ آباد سمیت دیگر شہروں میں مسلم منتخب نمائندوں کی بڑھتی ہوئی موجودگی، اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ مہاراشٹر کی مقامی سیاست میں مسلم نمائندگی کا دائرہ وسیع ہو رہا ہے اور بلدیاتی حکمرانی کے منظرنامے میں نئی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ مسلم ووٹرز روایتی طریقوں سے ہٹ کر ووٹنگ کر رہے ہیں۔
Like this:
Like Loading...