Skip to content
تحریر کی بنیادی عناصر: الفاظ، جملے، پیراگراف اور اسلوب کا باہمی ربط
ازقلم:ڈاکٹر صدیقی نسرین فرحت ولی محی الدین۔۔لاتور
( اسسٹنٹ پروفیسرصدر شعبہ اردو) یوگیشوری کالج آمباجوگا ئی مہاراشٹر ۔
اُردو ادب کی بوقلموں دنیا میں فنِ افسانہ نویسی ایک ایسا گنجلک اور نازک فن ہے جس کی جڑیں انسانی نفسیات، سماجی رویوں، اور تہذیبی ارتقاء میں گہری پیوست ہیں۔ ایک کامیاب تحریر محض الفاظ کا مجموعہ نہیں ہوتی، بلکہ یہ مصنف کے مشاہدے، احساسات، اور فنی ہنرمندی کا نچوڑ ہوتی ہے۔ اس ہنرمندی کے حصول کے لیے تحریر کے بنیادی عناصر کی مکمل تفہیم اور ان کا متناسب استعمال ناگزیر ہے۔ جس طرح کسی عمارت کی مضبوطی اس کی بنیادوں پر منحصر ہوتی ہے، اسی طرح کسی بھی تحریر کی قدر و منزلت اس کے اجزائے ترکیبی، یعنی الفاظ، جملوں، پیراگراف اور اسلوب کی فنی ساخت پر منحصر ہے۔ آج کے تیز رفتار دور میں، جہاں توجہ کا دورانیہ (attention span) کم ہوتا جا رہا ہے، قاری کو اپنی تحریر سے جوڑے رکھنا ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔ اس چیلنج سے نبرد آزما ہونے کے لیے، کہانی نویس کو نہ صرف فنِ تحریر کے اصولوں سے مکمل آگاہی ہونی چاہیے، بلکہ اسے ان اصولوں کو جدید تناظر میں ڈھالنے کی صلاحیت بھی رکھنی چاہیے۔
الفاظ: تحریر کا پہلا اور بنیادی عنصر ‘الفاظ’ ہیں۔ الفاظ، مصنف کے جذبات، خیالات، اور تصورات کی ترسیل کا پہلا ذریعہ ہیں۔ معیاری اور دلکش الفاظ کا انتخاب ایک کہانی کو زندہ اور متحرک بنا دیتا ہے۔ الفاظ کا وسیع ذخیرہ ہونا محض خوبصورت لفظوں کا انبار لگا دینا نہیں، بلکہ یہ درست موقع پر درست لفظ کا استعمال کرنا ہے۔ نامور ادیب اور لسانیات کے ماہر، ڈاکٹر جمیل جالبی نے اپنی کتاب ‘پاکستانی کلچر: قومی تشخص کی تشکیل’ میں اس بات پر زور دیا ہے کہ کسی بھی زبان کی جان اس کے الفاظ کا درست استعمال ہوتا ہے۔ پیچیدہ اور بھاری بھرکم الفاظ کا بے جا استعمال تحریر کو بوجھل بنا دیتا ہے۔ معروف امریکی مصنف اور صحافی، جارج آرویل، نے اپنے مشہور مضمون "سیاست اور انگریزی زبان” (Politics and the English Language) میں سادہ اور واضح زبان کی اہمیت پر زور دیا ہے۔ آرویل کے بقول، "اچھے نثر کی پہلی علامت یہ ہے کہ وہ ایک شیشے کی کھڑکی کی مانند ہو، جس میں سے حقیقت صاف نظر آئے۔” یہ اصول اردو کہانی نویسی پر بھی صادق آتا ہے۔ ایک معیاری کہانی کے لیے ضروری ہے کہ اس کے الفاظ عام فہم اور سلیس ہوں، تاکہ قاری بغیر کسی ذہنی الجھن کے کہانی کی روانی میں خود کو بہا سکے۔ پیچیدہ الفاظ سے کہانی میں جو "پیچیدہ پن” پیدا ہوتا ہے، وہ قاری کو اکتاہٹ کا شکار کر دیتا ہے اور کہانی سے اس کا ربط ٹوٹ جاتا ہے۔ اس لیے، کہانی نویس کو چاہیے کہ وہ الفاظ کے انتخاب میں فنکارانہ احتیاط سے کام لے۔
جملے: الفاظ کے بعد، دوسرا اہم عنصر ‘جملے’ ہیں۔ جملے الفاظ کی وہ ترتیب ہیں جو ایک مکمل خیال کو جنم دیتی ہیں۔ معیاری جملوں کی تخلیق صرف الفاظ کو جوڑنے کا عمل نہیں، بلکہ یہ جملہ قواعد (syntax) اور لسانی حسن کا امتزاج ہے۔ اردو کے معروف نقاد اور ادیب، ڈاکٹر وزیر آغا، نے جملوں کی ساخت کو کسی بھی تحریر کی ریڑھ کی ہڈی قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق، جملوں کی ترتیب اور ان کا آہنگ (rhythm) کہانی میں تسلسل اور دلکشی پیدا کرتا ہے۔ ایک ہی طرح کے جملوں کا بار بار استعمال تحریر کو یکساں بنا دیتا ہے، جبکہ مختلف ساخت کے جملے، یعنی مختصر، طویل، اور درمیانے جملوں کا امتزاج تحریر میں ایک موسیقائی توازن پیدا کرتا ہے۔ مثلاً، کرداروں کی گفتگو میں مختصر جملے اور منظر نگاری میں طویل اور تفصیلی جملے کہانی کو زیادہ مؤثر بناتے ہیں۔ جملوں کی گرامر اور ان کے نحوی ربط کا خیال رکھنا بھی انتہائی ضروری ہے۔ ایک بے ربط جملہ نہ صرف کہانی کی روانی کو متاثر کرتا ہے، بلکہ قاری کے ذہن میں ابہام پیدا کر دیتا ہے۔ معیاری جملے کہانی کی "جان” ہوتے ہیں، کیونکہ وہ صرف معلومات فراہم نہیں کرتے، بلکہ احساسات اور جذبات کی ترجمانی بھی کرتے ہیں۔
پیراگراف: تحریر کا تیسرا اہم جزو ‘پیراگراف’ ہے۔ پیراگراف ایک خود مختار اکائی ہے جو ایک مکمل خیال، موضوع، یا دلیل کو پیش کرتی ہے۔ یہ جملوں کا مجموعہ ہوتا ہے جو ایک مرکزی خیال کے گرد گھومتا ہے۔ ممتاز ماہر تعلیم اور ادیب، ڈاکٹر سید عبداللہ نے پیراگراف کو تحریر کا "مختصر مضمون” قرار دیا ہے۔ ایک مؤثر پیراگراف میں وحدت (unity)، تسلسل (coherence)، اور زور (emphasis) کا ہونا لازمی ہے۔ وحدت کا مطلب یہ ہے کہ پیراگراف کے تمام جملے ایک ہی مرکزی خیال سے متعلق ہوں۔ تسلسل کا مطلب ہے کہ جملے منطقی ترتیب کے ساتھ ایک دوسرے سے مربوط ہوں اور زور کا مطلب یہ ہے کہ اہم ترین خیال کو نمایاں کیا جائے۔ پیراگراف کی طوالت بھی کہانی کی روانی کے لیے اہم ہے۔ بہت طویل پیراگراف قاری کو اکتا دیتا ہے اور بہت مختصر پیراگراف کہانی میں غیر ضروری توڑ پھوڑ پیدا کر دیتا ہے۔ پیراگراف کی ایک متوازن طوالت ہونی چاہیے تاکہ وہ ایک مکمل خیال کو پیش کر سکے اور اگلی اکائی کے لیے راہ ہموار کرے۔ کہانی نویسی میں پیراگراف کی ساخت ایک فنکارانہ عمل ہے۔ ہر پیراگراف کا تعلق پچھلے پیراگراف سے ہونا چاہیے اور ان کے درمیان ایک مضبوط ربط قائم رہنا چاہیے، جو کہانی کے مرکزی عنوان کی طرف لے جائے۔
اسلوب: آخر میں سب سے اہم عنصر ‘اسلوب’ ہے۔ اسلوب مصنف کی شخصیت اور اس کے اظہار کا عکس ہے۔ یہ وہ مخصوص طریقہ ہے جس میں ایک مصنف الفاظ، جملوں اور پیراگراف کا استعمال کرتے ہوئے اپنی تحریر کو ایک منفرد رنگ دیتا ہے۔ معروف فرانسیسی ادیب بوفن نے کہا تھا کہ "اسلوب ہی انسان ہے۔” یہ قول آج بھی اسلوب کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ ایک بہترین اسلوب نہ صرف تحریر میں دلکشی پیدا کرتا ہے بلکہ قاری کے ذہن پر دیرپا اثر بھی چھوڑتا ہے۔ یہ لفظ، جملے اور عبارت کے درمیان ایک گہرا تعلق قائم کرتا ہے اور کہانی کو ایک مخصوص آہنگ اور معیار عطا کرتا ہے۔ اسلوب کی مختلف اقسام ہیں، جیسے بیانیہ اسلوب (narrative style)، توضیحی اسلوب (descriptive style)، اور استدلالی اسلوب (argumentative style)۔ ایک کامیاب کہانی نویس ان اسالیب کو موقع کی مناسبت سے استعمال کرتا ہے۔ اسلوب کی ایک اہم علامت جملوں کے درمیان ربط کا ہونا ہے۔ ہر جملہ اگلے جملے کی طرف اشارہ کرے اور ایک ہموار بہاؤ پیدا کرے۔ اس تسلسل سے قاری کی دلچسپی نہ صرف برقرار رہتی ہے، بلکہ وہ کہانی کے ماحصل (theme) کو بھی آسانی سے سمجھ پاتا ہے۔ اسلوب ہی وہ جادو ہے جو ایک معمولی کہانی کو فن پارہ بنا دیتا ہے۔ مثلاً، کرشن چندر کا رومانی اسلوب یا منٹو کا حقیقت پسندانہ اسلوب ان کی تحریروں کو ایک خاص پہچان دیتا ہے۔
عالمی ادب میں، ہیمنگوے کا سادہ اور دو ٹوک اسلوب ہو یا ورجینیا وولف کا ‘شعور کی رو’ (stream of consciousness) کا اسلوب، ہر مصنف نے اپنے انفرادی اسلوب سے ادب میں نئی جہتیں پیدا کیں۔ اسی طرح، اردو میں قرۃ العین حیدر، انتظار حسین، اور اسد محمد خان جیسے بڑے ادیبوں نے اپنے منفرد اسالیب سے اردو کہانی کو عالمی سطح پر روشناس کرایا۔ کہانی نویس کو ان تمام عناصر سے نہ صرف آگاہ ہونا چاہیے بلکہ ان پر مکمل عبور بھی حاصل کرنا چاہیے تاکہ وہ ایک ایسی تحریر تخلیق کر سکے جو نہ صرف قاری کی توقعات پر پوری اترے بلکہ ادبی معیار پر بھی کھرے اترے۔ یہ فن، مسلسل مطالعہ، مشاہدہ، اور مشق سے ہی نکھرتا ہے۔
Like this:
Like Loading...