Skip to content
محمد دیپک کی روشنی کے مقابلے پنکی چودھری کا اندھیرا
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
ہندو سرکشا دل کے رہنما پنکی چودھری جیسے لوگوں کو ذلت رسوائی اوڑھ لینے کاشوق ہوتا ہے۔ پچھلے دنوں اس نے غازی آباد میں تلواریں بانٹنے کے سبب فرار ہوکر گرفتار ہونے والے ہسٹری شیٹر(عادی مجرم) کے خلاف کئی مقدمات درج ہیں۔ اس کے باوجود چونکہ یوگی کی پولیس اسے گرفتار نہیں کرتی یا اگر کربھی لے تو بہ آسانی ضمانت مل جاتی ہے۔ عمر خالد یا شرجیل امام کا سا سلوک نہیں ہوتا اس لیے وہ ہوا میں اڑتے پھرتےہیں۔ غازی آباد میں گھر گھر جاکر تلوار تقسیم کرنے والے کے ٹھکانوں پر جب پولس نے چھاپہ مارا تو وہ خوف کے مارے بھاگ کھڑا ہوا۔ اس کے بعد ضمانت ملی تو محمد دیپک کو پریشان کرنے اتر کھنڈ پہنچ گیا اور انھیں دھمکیاں دینے لگا۔ ہندو رکشا دل کی رہنما پنکی چودھری نےدیپک کو دھمکی دیتے ہوئے کئی ویڈیوز پوسٹ کیں اور اپنے حامیوں سے دیپک کی ورزش گاہ کے سامنے جمع ہونے کی اپیل کردی۔ حد تو یہ ہے کہ ایک ویڈیو میں وہ پولیس کے پاس کھڑے ہو کر دیپک کو سبق سکھانے کی دھمکی دیتانظر آیا۔ اس نے کہا’’ ہمیں ا تراکھنڈ حکومت جانے سے روک دیا گیاہے لیکن میرے حامی وہاں جا رہے ہیں۔ ہم اسے سبق سکھائیں گے۔ اگر کوئی سناتن جذبات کو ٹھیس پہنچاتا ہے، تو ہم اسے درست کریں گے۔‘‘
ان ویڈیوز کے بعد پاؤڑی گڑھوال پولیس نے کہا کہ سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں اور ضلع میں داخل ہونے اور باہر جانے والی گاڑیوں کی چیکنگ بڑھا دی گئی ۔ پولیس کے بیان میں کہا گیا ’’مشکوک افراد کی شناخت اور تصدیق کی جا رہی ہے۔ شہر کی اہم سڑکوں، چوراہوں، حساس مقامات، بازاروں اور عوامی جگہوں پر مناسب پولیس فورس تعینات ہے۔پولیس ٹیمیں پیدل گشت کر رہی ہیں۔ کوٹدوار میں امن و امان خراب کرنے یا کسی بھی طرح بدامنی پھیلانے کی کوشش کرنے والے بیرونی افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔‘‘ پولیس کو اس قدر زحمت اٹھانے کی ضرورت بھی نہیں پڑتی۔ پنکی کو اندرکردو اس کے سارے شیر ڈر کے مارے اپنے اپنے بل میں گھس جاتے۔یہ لوگ سرکار کی شئے پر دنگا فساد میں ملوث ہوتے ہیں اور جب پولیس کا سایہ سر سے اٹھ جائے تو یہ ازخود ٹھنڈے ہوجاتے ہیں۔ ان بدمعاشوں کی دھمکیوں کا یہ منفی اثر ضرور ہوا کیونکہ دیپک کمار کے جِم میں پہلے 150 ممبران تھے اب روزانہ صرف 15 افراد آتے ہیں۔ اس بیچارے کا قصور یہ ہے کوٹ دوار کے دیپک کارکی نے ایک مسلمان کی دکان کا نام تبدیل کرنے کے تنازع میں بزرگ دکاندار وکیل احمد کی حمایت میں اپنا نام تبدیل کرکے محمد دیپک رکھ لیا اور بجرنگ دل کے غنڈوں سے کہا جو کرنا ہے کرلو؟ بس پھر کیا تھا سوشل میڈیا پر ان کی ویڈیو وائرل ہوگئی ۔
دیپک کا کہناتھا کہ”میں نے جان بوجھ کر اپنا نام محمد دیپک رکھا ہے۔ ایک انسان سب سے بڑا ہوتا ہے، چاہے ہندو ہو یا مسلمان۔ میرا احتجاج مذہب کے خلاف نہیں تھا، بلکہ اس سوچ کے خلاف تھا جو ایک بزرگ شخص کو ڈرانے کی کوشش کر رہی تھی۔” یہ معاملہ پہلے تو ملک گیر پیمانے پر بحث کا موضوع بنا پھر اس کی بازگشت پارلیمنٹ کے گلیاروں میں جاپہنچی ۔ صدر جمہوریہ کے خطاب پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوےعمران پرتاپ گڑھی نے کوٹ دوار میں بابا شاپ کا واقعہ اور انکیتا کیس کو اٹھاتے ہوئے کہا، ’’ایک طرف وزیر اعظم عزت مآب کی تقریر کے دوران پارلیمنٹ کی میز کو تھپتھپا رہے تھے تو دوسری طرف اتراکھنڈ کی بدقسمت بیٹی انکیتا بھنڈاری کے لیے انصاف مانگنے والی آوازیں مدھم پڑ رہی تھیں، جو آج بھی یہ پوچھ رہی ہیں کہ آخر وہ آئی پی کون تھا؟ جس کو بچانے کے لیے انکیتا کو قتل کر دیا گیا۔”
عمران پرتاپ گڑھی نے ایوانِ پارلیمان میں اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ ، "جب سماجی انصاف کی بات ہو رہی تھی، کوٹ دوار، اتراکھنڈ میں، دیپک نفرت انگیز لوگوں کے خلاف ایک بزرگ کا دفاع کرنے کے لیے آگے آیا، محبت کی روشنی کے ساتھ غیر جانبدارانہ مقام پر فائز ہوا تو کوٹ دوار پولیس نے اسی دیپک کے خلاف سنگین الزامات کے تحت ایف آئی آر درج کر لی۔” یہ کس قدر افسوسناک بات ہے کہ ملک بھر میں جس روز یوم جمہوریہ منایا جارہا ہو اور آئین ہند کی دہائی دی جارہی ہو ڈبل انجن سرکار دستور کو پامال کرنے میں مڈروف عمل ہوجائے ۔ عمران پرتاپ گڑھی نےیاد دلایا کہ یہ سب اس دن ہو رہا تھا جب اتراکھنڈ کے وزیر اعلیٰ کوٹ دوار میں موجود تھے۔ اس کا مطلب تو یہی نکلتا ہے کہ موصوف کے ایماء پر یہ وارادت کی گئی اور وہ اس کی سرپرستی کے لیے وہاں گئے۔ عمر ان نے کہا، "یہ نیا ہندوستان ہے، جہاں فسادیوں کے خلاف مقدمات درج نہیں کیے جاتے، بلکہ امن کی وکالت کرنے والوں کے خلاف مقدمات درج کیے جاتے ہیں۔” کانگریس کے راجیہ سبھا ایم پی عمران پرتاپ گڑھی نےمظفر وارثی کے ان ا شعار پر اپنی بات پوری کی کہ ؎
ہم کریں بات دلیلوں سے رد ہوتی ہے ان کے ہونٹوں کی خاموشی بھی سند ہوتی ہے
کچھ نہیں کہنے سے بھی چھن جاتا ہے اعجاز سخن ظلم سہنے سے بھی ظالم کی مدد ہوتی ہے
کانگریس رہنما راہل گاندھی نے اس واقعے کے بعد دیپک کی کھل کر تعریف کرتےہوے کہا کہ دیپک نفرت کے ماحول میں آئین اور انسانیت کے ساتھ کھڑے نظر آئے اور وہ سیکولر اقدار کی علامت ہیں۔ ان کے مطابق ایسے نوجوانوں کی ضرورت ہے جو دباؤ کے سامنے جھکنے کے بجائے اصولی موقف اختیار کریں۔اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اسد الدین اویسی نے بھی دیپک کمار کے عزم و حوصلےکی تعریف کی مگر ڈبل انجن سرکار میں مسلم دکاندار کا ساتھ دینے والے نوجوان دیپک کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ 31 جنوری کو بجرنگ دل کے ارکان کوٹ دوار پہنچے اور دیپک کے خلاف نعرے لگائے۔اس سے پورے شہر کا ماحول خراب ہوگیا۔ دیپک کا کہنا ہے کہ وہ کوئی سیاسی یا مذہبی جنگ نہیں لڑ رہے تھے بلکہ ایک انسانی فریضہ ادا کر رہے تھے ۔ ایک عام شہری ہونے کے ناطے وہ بزرگ دکاندار کی حفاظت کے لیے آگے بڑھے تھے لیکن یہ کوشش اب ان کے اور اہل خانہ کے لیے خوف کا باعث بن گئی ہے۔ دیپک اور ان کا خاندان اب خوفزدہ ماحول میں رہنے پر مجبور ہے۔ ان کی چھوٹی بیٹی نے اسکول جانا چھوڑ دیا ہے۔ خاندان کسی ناخوشگوار واقعے کےڈر میں مبتلا ہے۔
دیپک کی روزی روٹی کا اہم ذریعہ یعنی ورزش گاہ 26 جنوری سے بند ہوگئی تھی مگر انہوں نے مالی و ذہنی دباؤ کے باوجود ایک ہفتے بعد ہمت کرکے دوبارہ کھولا۔ان کاموقف ہے کہ خوف کے آگے سرِ تسلیم خم کردینا حل نہیں ہے، اس لیے انھوں نے معمول کی زندگی میں واپس آنے کی کوشش کی ہے۔ دیپک نے واضح طور پر کہا کہ بغیر کسی تنازعہ کے پچھلے 35 سالوں سے چل رہی دکان کا نام اچانک تبدیل کرنے کا مطالبہ سمجھ سے باہر ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس نام سے کسی کمیونٹی یا فرد کے جذبات کو ٹھیس نہیں پہنچتی۔ انہوں نے سوال کیا کہ اگر برسوں سے کبھی کوئی اعتراض نہیں ہوا تو اب اسے اچانک کیوں تنازع کھڑاکیا جا رہا ہے؟ وہ سماجی مسائل پر ہمیشہ سرگرم رہے ہیں۔ ضرورت مندوں کی مدد کرنا اور ظلم کے خلاف آواز اٹھانا ان کی عادت رہی ہے۔ ان کے مطابق باہر کے لوگ کوٹ دوار پہنچ کر ماحول کو خراب کر رہے ہیں، جس سے شہر کا امن اور ہم آہنگی متاثر ہو رہی ہے۔ خاندان میں خوف کا ماحول ہے اس کے باوجود ہر قیمت پر انسانیت اور سچائی کے راستے سے پیچھے نہیں ہٹنے کا عزم مصمم قابلِ تعریف ہے۔
انسان کے اندر ضمیر ہوتا ہے ۔ وہ اسے ظلم کرنے پر کچوکے دیتا ہے۔ مظلوم کی مدد کرنے کے لیے ابھارتا ہے اور اس میں کوتاہی پر کوستا ہے۔ اپنے ضمیر کا گلا گھونٹنے والے کو مردہ ضمیر کہا جاتا ہےاور وہ کھانے پینےیا اپنی نسل جاری رکھنے والاحیوان ،انسان نہیں کہلاتا ۔وہ ایسے مواقع ک بہتی گنگا میں ہاتھ دھوکرسیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتاہے۔ وطن عزیز میں ایسے بہت سارے لوگ ہیں جو ظلم کے خلاف اٹھنا تو چاہتے ہیں مگر سرکار کا خوف ان کے پیروں کی بیڑی بن جاتا ہے۔ اس لیے وہ خاموش رہتےہیں یا علامتی احتجاج درج کرکے مطمئن ہوجاتے ہیں۔ سوشل میڈیا میں بحث و مباحثہ کرکے یہ سمجھ لیا جاتا ہے کہ موجودہ حالات میں یہی ممکن ہے۔ دیپک کارکی نے چونکہ بے حسی اور خوف کی دیوار کو اپنے عمل پاش پاش کر دی اسی لیے اسے غیر معمولی حمایت حاصل ہوئی۔ انسان جب خطرات سے کھیل کر عدل و مساوات کا چراغ جلاتا ہے تو اس کی روشنی سےخوف کا اندھیراچھٹ جاتاہے ۔ تاریکی سے نجات کا واحد طریقہ چراغ سے چراغ جلانا ہی ہے ۔ یہ کام بجلی قمقموں سے ممکن نہیں اور اس کی پہلی شرط بے خوفی ہے۔ راہُل گاندھی ’نفرت کے بازار میں محبت کو دکان لگانے سے قبل’ ڈرو مت ‘ کی تلقین کرتے ہیں کیونکہ ڈرپوک محبت نہیں کرسکتے اورجو محبت نہیں کرتا وہ نفرت کے اندھیرے کو دور بھی نہیں کرسکتا۔ محبت کی اگلی منزل بغاوت ہے اور وطن عزیز میں محبت کے پھول کھلانے کی خاطر بے خوف بغاوت ضروری ہے ۔ اس لیے دیپک کارکی عرف دیپک محمد کی اس قابلِ تحسین سعی پر احمد فراز کا یہ شعر صادق آتا ہے ؎
شکوۂ ظلمتِ شب سے تو کہیں بہتر ہے اپنے حصے کی کوئی شمع جلاتے جاتے
Like this:
Like Loading...