Skip to content
روزہ ہمارے لئے نفع بخش کیوں نہیں بن رہا؟
ازقلم:مفتی محمد سلمان قاسمی کریم نگری
اللہ رب العزت نے انسان کی فطرت میں جو روحانیت کا پہلو رکھا ہے روزہ اس میں ترقی اور اضافے کا ایک خاص ذریعہ ہے،اسی طرح تطہیر نفس،قناعت،صبرو تقوی اور تعلق مع اللہ جیسی روحانی اور ملکوتی صفات کے نشو نما میں روزے کو بڑا دخل ہے،یہی وجہ ہے کہ ماہ رمضان میں روزے کے ذریعے سے اور تمام مادی اور بہیمی تقاضوں سے بے تعلق ہو کر ایمان میں تازگی اور روح میں بالیدگی پیدا ہو جاتی ہےاور انسان ایمانی و روحانی تقاضوں کی تابعداری وفرمانبرداری کا خوگر بن جاتا ہے۔
روزے کے مقاصد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے آئے قران پاک میں فرمایا گیا یا کہ
ياأيها الذين آمنوا كتب عليكم الصيام كما كتب على الذين من قبلكم لعلكم تتقون؛
"اے ایمان والو تم پر روزے فرض کئے گئے ہیں جس طرح تم سے پہلے والوں پر فرض کئے گئے تھے(روزوں کا یہ حکم تم کو اس لئے دیا گیا یا) تاکہ تم میں نیکی اور پرہیزگاری پیدا ہو جائے،اس آیت سے معلوم ہوا کہ روزے کا بنیادی مقصد تقوی و پرہیز گاری ہے کیونکہ نفس کو بھوکا پیاسا رکھ کر شہوانی اور مادی تقاضوں کو دبایا جاتا ہے اور اللہ کی محبت دل میں پیدا کی جاتی ہے ہے تقریبا اسی بات کو حدیث میں بھی فرمایا گیاچنانچہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا”لكل شيء زكوة وكوة الجسد الصوم”(إبن ماجة ص ١٢٥)
ہر چیز کے لئے کوئی نہ کوئی ستھرائی کا ذریعہ ہے اور بدن کی صفائی ستھرائی کا ذریعہ "روزہ” ہے،بہرحال روزے کا حقیقی مقصد تقوی ہے اسی مقصد کے حصول کے لیے اس امت پر سال میں ایک مہینے کے روزے فرض کیے گئے۔
لیکن اس وقت قابل غور بات یہ ہے کہ ہم ہر سال روزے کے مقاصد اسکے برکات اور اس کی اہمیت و فضیلت کو سنتے آ رہے ہیں ہیں مگر ہمیں روزے کا مقصد کیوں حاصل نہیں ہو رہا ہے؟روزہ ہمارے لئے مقبول اور نفع بخش کیوں نہیں بن رہا ہے؟ہمارے قلوب روزے کی برکات سے تہی کیوں ہیں؟ہماری زندگی میں کئی بار رمضان المبارک کے مقدس مہینے کی آمد ہوئی لیکن ہمارے اندر تبدیلی کیوں نہیں آرہی ہے؟ان سب کی بنیادی وجہ اس کے علاوہ اور کیا ہو سکتی ہے کہ ہم روزے کو اس کے شرائط و آداب کا لحاظ کئے بغیر رکھتے ہیں اور ہم نے رمضان کو جس طریقے سے گزارنا چاہیے تھا ویسا نہیں گزارا،یہ ہمارے لئے ایک المیہ ہے کہ رمضان جیسے مقدس مہینے میں ہم نے غفلت والی زندگی گزاری اور روزہ جیسی عبادت کو اس کے اصول و آداب کی رعایت کے بغیر رکھا۔
دین اور شریعت کا ایک اہم اصول یہ ہے کہ کسی بھی عبادت کو اس کے شرائط و آداب کے ساتھ کیا جائے تو تب جاکر اس کے مقاصد حاصل ہوں گے اور اس سے انسان کو دنیاوی و اخروی اعتبار سے سرخروئی حاصل ہوگی،اسی لیے روزے کو بھی اس کے آداب و شرائط کے ساتھ رکھنا چاہیے کیونکہ اگر روزے کو عبادت والی فکر کے بغیر رکھیں گے
اور ان تمام باتوں سے پرہیز نہیں کریں گے جو روزے کے مقاصد کو حاصل کرنے کے منافی ہیں جس میں سب سے اہم اجتناب معاصی اور زبان کی حفاظت ہیں تو پھر ہمیں روزے کے روحانی نتائج اور پاکیزہ صفات ہرگز حاصل نہیں ہوں گے بلکہ ہمارا صبح سے شام تک بھوکا پیاسا رہنا ضائع ہو جائے گا چنانچہ حدیث میں
اسی طرف اشارہ ہیکہ” من لم يدع قول الزور والعمل به فليس لله حاجة أن يدع صيامه وشرابه”کہ جو شخص روزے میں بھی جھوٹ بولنا اور غلط دھوکہ فریب کے کام کرنا نہ چھوڑے تو اللہ کو اس کی کوئی حاجت نہیں ہے کہ وہ کھانا پینا چھوڑ کر بھوکا پیاسا رہے،ایک دوسری حدیث میں مذکور ہے کہ "رب صائم حظه من صيامه الجوع والعطش” (طبرانى)
بہت سے روزے دار ایسے بھی ہوتے ہیں کہ ان کو روزے سے سوائے بھوکے پیاسے رہنے کے کچھ حاصل نہیں ہوتا،
مذکورہ بالا احادیث کی روشنی میں اگر ہم اپنے روزوں پر نظر دوڑائیں تو معلوم ہوگا کہ ہم روزہ تو رکھ لیتے ہیں لیکن ہماری زبان سے جھوٹ بھی نکلتا ہے،ہم روزہ رکھتے ہیں لیکن ہماری زبانیں غیبتوں سے باز نہیں آتی، ہم روزہ رکھ کر بھی اپنی نگاہوں کی حفاظت نہیں کر پاتے جس کی وجہ سے ہر سال رمضان کی آمد ہوتی ہے مگر ہمارے اندر تقوی پیدا نہیں ہوتا ہے تعلق مع اللہ میں اضافہ نہیں ہوتا ہے نیز رمضان ہماری عملی زندگی پر اثر انداز نہیں ہوتا ہے۔
لہذا ضرورت اس بات کی ہے کہ فکر و اہتمام سے ایسے روزے رکھے جائیں جس سے ہمارے اندر پاکیزگی اور تقوی پیدا ہوجائے،روزے کے مقاصد اور اس کے برکات کو حاصل کرنے کے لئے سب سے پہلے گناہوں سے بچنا ناگزیر ہے خصوصا زبان اور منہ سے ہونے والے گناہوں سے بچنا انتہائی ضروری اور امرلابدی ہے، حضرت مولانا منظور نعمانی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ”
سحر و افطار میں کم کھانے سے روزے کی نورانیت باقی رہتی ہے،بسیارخوری روزے میں ظلمت اور کدورت پیدا کرتی ہے اور اس کی تاثیر جاتی رہتی ہے،
اللہ تعالی سے دعا ہےکہ صحابہ کرام تابعین تبع تابعین اور سلف صالحین نے جس طرح آپ نے رمضان کو گزارا ہے ہمیں بھی اسی طرح گزارنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہم سب کو ایسےروزے رکھنے والا بنائیں کہ جس سے ہمیں روزے کے مقاصد اور اس کے برکات حاصل ہوجائیں،آمین
Like this:
Like Loading...