Skip to content
آسام میں بسوا سرما کی بے شرمی
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
آسام کے ریاستی انتخاب میں ہار اور پھر بدعنوانی کے معاملے میں جیل جانے کے خوف نے وزیر اعلیٰ ہیمنتا بسوا سرما کو پاگل کردیا ہے اور مسلمانوں کے خلاف کچھ زیادہ ہی بھونکنےلگے ہیں۔ انہیں شکایت ہے کہ راہل گاندھی ملاقات کے دوران انہیں نظر انداز کرکے کتے کو بسکٹ کھِلا رہے تھے ۔ اپنے بیانات سے سرما نے راہل کو حق بجانب ثابت کردیا ۔ آسام میں 2026 کے اسمبلی انتخابات سے قبل ووٹر لسٹ کی خصوصی جامع نظرثانی (ایس آئی آر) کی مشق پر وزیر اعلیٰ ہمنتا بسوا سرما نے دعویٰ کردیا کہ اس عمل کے دوران 4 سے 5 لاکھ ’ِمیاں‘ ووٹروں کے نام فہرست سے خارج کیے جائیں گے۔ اسے کہتے ہیں ’چور مچائے شور‘ یہ قابل فخر کارِ خیر نہیں بلکہ شرمناک حرکت ہے لیکن سرما کا معاملہ انتخابی ’ہار کے لیے کچھ بھی کرے گا‘ کا ہے۔ آسام کے سڑک چھاپ لوگ بنگلہ نژاد مسلمانوں کے لیے’میاں‘ نامی متنازع اور توہین آمیز اصطلاح استعمال کرتے ہیں انہیں کی دلجوئی کے لیے اوباش وزیر اعلیٰ وہ زبان استعمال کررہا ہے۔ اس بے حیائی کا یہ جوا ز پیش کیا گیا کہ’’مقامی آسامی عوام کے تحفظ‘‘ کے لیے انہوں نے خود اقلیتی ’میاں‘ ووٹروں کے خلاف کارروائی کی ہدایات دی ہیں ۔
ہیمنتا بسوا سرما میں اگر دم ہوتا تو گزشتہ ایس آئی آر میں سے ہندووں کا نام نکال کر مسلمانوں کا نام رکھتے مگر وہاں تو ایک مقابلے تین بنگلہ دیشی ہندو نکل آئے ۔ اس لیےاب نیا شوشا چھوڑ دیا گیا۔ سرما کے بقول زیادہ سے زیادہ بی جے پی کارکنان کو شکایات درج کرنے کی ہدایت کرکے آسامی برادری کو ’’زندہ اور چوکس‘‘ ثابت کیا گیا۔ سرما اور ان کی پارٹی کے کارکنان عوامی فلاح و بہبود کا ٹھوس کام کرنے کے بجائے نفرت کاجھنجھنا پکڑا کر عوام کا ووٹ جھٹکنا چاہتے ہیں۔ ان بیانات کے بعد کانگریس و دیگر جماعتوں نے بی جے پی پر سرکاری مشینری استعمال کر کے اقلیتی شہریوں کے ووٹنگ حقوق متاثر کرنے کا الزام عائد کیا اورمتعدد ایف آئی آرز درج کرائیں۔ ہیمنتا بسوا سرما کی ا س ’نفرت انگیز شرانگیزی‘ کے خلاف جمعیۃ علماء ہند نے سپریم کورٹ کے دروازے پر دستک دی مگر حکومت کے اشارے پر یوجی سی معاملے از خود نوٹس لینے والی عدالت عالیہ نے عرضی گزاروں کو متعلقہ ہائی کورٹ سے رجوع کرکے اپنا پلہ جھاڑ لیا۔ مولانا مدنی نے اس پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوے اسے انصاف پسند حلقوں کے لیے مایوس کن طرز عمل قرار دیا ۔
مولانا کے مطابق دستور ہند کی دفعہ 32جسے ڈاکٹر بی آر امبیڈکر نے آئین کا ’دل اور روح‘ قرار دیا تھا، شہریوں کو اپنے بنیادی حقوق کے تحفظ کی خاطر براہ راست سپریم کورٹ سے رجوع کا حق دیتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ایسے معاملات، جن کا تعلق نفرت انگیزی، فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور کسی طبقے کے جینے کے حق سے ہو، عدالت عظمیٰ سے مضبوط اور واضح قدم اٹھانے بلکہ از خود نوٹس لے کر کارروائی کرنے کی توقع کی جاتی ہے ،لیکن افسوس کہ سرکار کے آگے دُم ہلانے والی عدلیہ نے پھر ایک بار اپنے فرضِ منصبی سے چشم پوشی کی ۔ سپریم کورٹ نے امن عامہ کو برقرار رکھنے کی خاطر نفرت انگیز تقاریر کے خلاف لمبی چوڑی ہدایات تودے رکھی ہیں لیکن جب ان پر عملدر آمد کروانے کا موقع آتا ہے تو اس کی نانی مرجاتی ہے۔ کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ) اور کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کے رہنما نے بھی ہیمنت بسوا سرما کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ سی پی ایم (مارکسسٹ) کی عرضی میں سرما کی کئی مواقع عوامی تقریروں اور بیانات کا حوالہ دیاگیا جو ریاست کے اندر اور باہر دئیے گئے اور جو پرنٹ، الیکٹرانک اور ڈیجیٹل میڈیا پلیٹ فارمز کی زینت بنتے رہے۔درخواست میں کہا گیا کہ یہ بیانات نفرت انگیزی کے ساتھ اقلیتی برادری کی تذلیل کرتے ہیں۔ ان کے بارے میں غلط اور توہین آمیز دقیانوسی تصورات پھیلاکر سماجی اور معاشی بائیکاٹ کو اکساتے ہیں اس کے لیے اقلیتوں کے خلاف تشدد اور بیگانگی کی فضا کو فروغ دیاجاتاہے۔
سی پی ایم کےایڈووکیٹ نظام پاشا نے جب چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی والی بنچ کے سامنے اس حوالے سے جلد سماعت کی درخواست کرتے ہوئے ویڈیو کا بھی حوالہ دیا تو چیف جسٹس نے بولے مسئلہ یہ ہے کہ جیسے جیسے انتخابات قریب آتے ہیں الیکشن کا ایک حصہ سپریم کورٹ کے اندر لڑا جاتا ہے۔ یہ بات درست ہے اور الیکشن کمیشن کی مانند عدالت بھی اس انتخابی مہم میں سرکار کے شانہ بشانہ کھڑی نظر آتی ہے۔وزیر اعلیٰ کے ذریعہ نفرت انگیزی کے معاملے کوسپریم کورٹ کا انتخابی سیاست سے جوڑ کر کمزور نوعیت کا معاملہ بتانا عدالتی نظام کاحکومت کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مولانا محمود مدنی کی شکایت بجا معلوم ہوتی ہے۔ وزیر اعلی ٰکے مفاد کو انصاف پر ترجیح دینا نہ صرف مایوسی کو فروغ دیتا ہے بلکہ عدالت کے عوامی احترام اور اس کی ساکھ پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔مولانا مدنی نے یہ وضاحت کی کہ جمعیۃ علماء ہند عدلیہ کے ادارہ جاتی احترام پر یقین رکھتی ہے، لیکن ساتھ ہی یہ بھی سمجھتی ہے کہ نفرت انگیز تقاریر اور فرقہ وارانہ اشتعال انگیزی کے معاملات میں غیر معمولی سنجیدگی، غیر جانبداری اور تیز رفتار انصاف ناگزیر ہے۔ ریاست کے وزیر اعلیٰ کا معاملہ ہو تو اسے براہ راست سپریم کورٹ میں سنا جانا چاہیے، تاکہ ملک کے وقار اور آئینی بالادستی کو چیلنج کرنے والوں کو واضح پیغام مل سکے لیکن جس عدلیہ کو خود اپنی عزت کا خیال نہ ہو اس سے یہ توقع کرنا بجا نہیں ہے۔
جمعیۃ علماء ہند نے ہائی کورٹ سے رجوع کر کے گی امن و انصاف پر یقین رکھنے والی اکثریت کو مایوسی سے بچانے اور ملک میں انصاف و مساوات کا نظام مضبوط اور مستحکم رکھنے کے عزم کا اظہار تو کیا ہے مگر عدالتِ عالیہ کو اوپر سے اشارہ مل چکا ہے کہ ٹال مٹول کرکے وزیر اعلیٰ کو نفرت کی تپش میں سیاسی روٹیاں سینکنے کا موقع دیا جائے ۔عدالت سے براہِ راست رجوع کرنے کے بجائے آسام سول سوسائٹی کے صدر حافظ رشید احمد چودھری، ایگزیکٹیو صدر پروفیسر عبدالمنان اور ایگزیکٹیو ممبر عبدالرحیم سکدار نے گوہاٹی کے لتاسل پولیس اسٹیشن میں وزیر اعلیٰ کے خلاف ایف آئی آر درج کرائی اور افسر انچارج نے شکایت قبول بھی کر لی ۔ شکایت کے ساتھ 18 صفحات پر مشتمل حلف نامہ، اخباری مضامین اور ایک پین ڈرائیو منسلک کی گئی ہے جس میں متنازع ویڈیو کلپس شامل ہیں۔ شکایت میں کہا گیا ہے کہ 24 اور 29 جنوری کے درمیان وزیر اعلیٰ سرما نے میڈیا کے سامنے بنگالی مسلمانوں کے خلاف جان بوجھ کر فرقہ وارانہ اور اشتعال انگیز تبصرہ کرکے ایک مخصوص کمیونٹی کے خلاف نفرت اور عداوت پھیلانے کے ارادے سے "میاں” کی اصطلاح استعمال کی۔اس کے علاوہ ریاست کے مختلف حصوں میں مسلمانوں کے خلاف وزیر اعلیٰ کی نفرت انگیز تقریر سے بھڑکنے والے دھمکی اور تشدد کے واقعات پہلے ہی پیش آچکے ہیں۔ شکایت کنندہ کے مطابق وزیر اعلیٰ نے عوامی امن اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو درہم برہم کرکے تعزیرات ہند کی دفعہ 192، 196، 197، 299، 302 اور 353 کے تحت قابل سزا جرم کا ارتکاب کیا ہے۔
نفرت کی اس آگ میں تیل ڈالنے کے لیے 7 فروری 2026 کو بی جے پی آسام کے آفیشل ‘X’ (ٹوئٹر) ہینڈل سے ایک ویڈیو پوسٹ کیا گیا ۔ اس میں وزیر اعلیٰ کو دو مسلم نظر آنے والے مردوں پر بندوق کا نشانہ سادھتے ہوئے ان پر ایک اور گولی چلا تے دکھایا گیا۔ ویڈیو میں کچھ مقامات پر "پوائنٹ بلینک شاٹ” اور "کوئی رحم نہیں” جیسے الفاظ بھی شامل تھے ۔عوام و خواص کا سخت رد عمل اور احتجاج سامنے آیا تو بی جے پی والے ڈر گئے اور ریاستی یونٹ کے آفیشل ہینڈل سے اسے ہٹا دیا گیا مگر اس وقت تک یہ مواد کئی دوسرے اکاؤنٹس اور پلیٹ فارمز پر پھیل چکا تھا ۔ ویڈیو اپ لوڈ کرنے کے معاملے میں بی جے پی سوشل میڈیا ٹیم کے ایک معاون کنوینر رون وکاش گورو کو عہدے سے ہٹا کر یہ صفائی دی گئی کہ یہ ویڈیو مناسب جانچ پڑتال اور اجازت کے بغیر اپ لوڈ کی گئی تھی۔ یہ کہا گیا کہ ایسے حساس نوعیت کے معاملات میں سوشل میڈیا انچارج، پارٹی صدر یا اگر معاملہ وزیر اعلیٰ سے متعلق ہو تو ان کے دفتر کی اجازت ضروری تھی ۔
ریاستی کانگریس صدر گورو گوگوئی نے وزیر اعلیٰ پر مسلمانوں کے خلاف "نسل کشی پر اکسانے” کا الزام عائد کرتے ہوئے پولیس سے از خود نوٹس لینے کا مطالبہ کیا تھا۔ آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے صدر اسدالدین اویسی نے بھی حیدرآباد پولیس میں شکایت درج کرا کے وزیر اعلیٰ کے خلاف فوجداری کارروائی کا مطالبہ کیا مگر ان الزامات پر ردعمل دیتے ہوئے سرما نے کہا تھاکہ "اگر میرے خلاف کوئی مقدمہ درج ہوا ہے تو مجھے گرفتار کر لیا جائے، مجھے کوئی اعتراض نہیں۔ میں جیل جانے کے لیے تیار ہوں۔ میں بنگلہ دیشی دراندازوں کے خلاف تھا اور ہمیشہ رہوں گا۔” اس کو کہتے ہیں چوری اور اوپر سے سینہ زوری لیکن اب ان کے پاپ کا گھڑا بھر چکا ہے اور بعید نہیں کہ الیکشن کے بعد بیچ چوراہے پر پھوٹ جائے۔ تاریخ گواہ ہے کہ ایسے ظالموں کو مشیت الٰہی ایک حدتک چھوٹ دینے کے بعد بالآخر انہیں ذلیل ورسواکردیتی ہے۔ اس کی تازہ ترین مثال شیخ حسینہ کا عبرتناک انجام ہے۔
Like this:
Like Loading...