Skip to content
فنِ کہانی نویسی
از قلم : ڈاکٹر صدیقی ۔نسرین فرحت
صدر شعبہ اردو یو گیشوری کالج آمباجوگا ئی مہاراشٹر ۔
تمہید: داستان سے افسانے تک کا تخلیقی سفر
قصہ گوئی انسانی فطرت کا ایک جبلی تقاضا اور تہذیب کا ایک لازمی جزو ہے۔ قدیم ادوار میں، جب انسانی زندگی کی رفتار سست اور فرصت کے لمحات میسر تھے، داستان طرازی کا فن اپنے عروج پر تھا، جہاں تخیل حقیقت کی سرحدوں سے ماورا ہو کر فوق الفطرت عناصر، جن و پری، اور دیو مالائی کرداروں پر مبنی ایسی کہانیاں تخلیق کرتا تھا جو ذہنوں کو مسحور کر دیتیں۔
وقت کے ساتھ ساتھ صنعتی انقلاب اور عقلیت پسندی کے فروغ نے زندگی کی رفتار اور انسانی سوچ کے زاویے بدل دیے۔ انسان کی توجہ ماورائی دنیاؤں سے ہٹ کر اپنی ٹھوس، حقیقی زندگی اور اس کے مسائل پر مرکوز ہوگئی۔ اسی سماجی اور فکری تبدیلی کے بطن سے اردو میں "مختصر افسانے” کی توانا صنف نے جنم لیا۔ اس صنف کی بنیاد پریم چند کے حقیقت پسند اور اصلاحی بیانیے نے رکھی، اور اس کے فلک کو سعادت حسن منٹو کی نفسیاتی گہرائی، راجندر سنگھ بیدی کے متوسط طبقے کے کرداروں کی نبض شناسی، عصمت چغتائی کی جرأت مندانہ نسائی آواز اور قرۃ العین حیدر کی شعور کی رو اور تہذیبی منظرناموں نے کہکشاں بنا دیا۔ افسانہ، زندگی کے کسی ایک پہلو یا لمحے کو فنی اختصار اور وحدتِ تاثر کے ساتھ پیش کرنے کا نام ہے۔ آئیے ان فنی لوازمات کا جائزہ لیں جو ایک عام قصے کو لافانی ادب پارے میں تبدیل کرتے ہیں۔
کہانی کے اجزائے ترکیبی: ایک فنی جائزہ
ایک کامیاب افسانہ محض واقعات کا مجموعہ نہیں ہوتا، بلکہ ایک ایسا نامیاتی کل (Organic Whole) ہے جس کے تمام اجزا ایک دوسرے سے مربوط ہو کر ایک واحد، گہرے تاثر کو جنم دیتے ہیں۔
1- موضوع (Theme):
موضوع افسانے کی روح اور اس کا فکری مرکز ہوتا ہے۔ یہ وہ مرکزی خیال ہے جس کے گرد کہانی کا تانا بانا بُنا جاتا ہے۔ یہ سماجی، نفسیاتی، سیاسی یا فلسفیانہ ہو سکتا ہے، لیکن اس کا دلچسپ اور فکر انگیز ہونا لازمی ہے تاکہ قاری کے ذہن و دل کو متاثر کر سکے۔
2- پلاٹ (Plot):
اگر موضوع روح ہے تو پلاٹ اس کا وہ ڈھانچہ ہے جس پر کہانی کی عمارت کھڑی ہوتی ہے۔ یہ واقعات کی منطقی، مربوط اور فنکارانہ ترتیب ہے جو سبب اور نتیجے (Cause and Effect) کے رشتے سے جڑی ہوتی ہے۔ منٹو کا افسانہ "نیا قانون” ایک سادہ اور مربوط پلاٹ کی بہترین مثال ہے، جہاں ہر واقعہ منگو کوچوان کی امیدوں کو منطقی طور پر عروج تک پہنچاتا ہے تاکہ اس کا انجام اور بھی المناک اور پُر اثر ہو سکے۔ پلاٹ کی کئی اقسام ہو سکتی ہیں، جیسے سادہ خطی (Linear)، مرکب (Complex) یا غیر مربوط (Episodic)، جنہیں فنکار اپنے موضوع کی مناسبت سے برتتا ہے۔
3- کردار نگاری (Characterization):
کردار افسانے کے متحرک ستون ہیں جن کے عمل اور ردِعمل سے کہانی آگے بڑھتی ہے۔ ایک کامیاب فنکار جامد یا سپاٹ (Flat) کرداروں کے بجائے متحرک اور ارتقائی (Round) کردار تخلیق کرتا ہے جو حالات کے ساتھ تبدیل ہوتے ہیں اور انسانی فطرت کی طرح پیچیدہ اور کثیرالجہتی ہوتے ہیں۔ پریم چند کے شہرہ آفاق افسانے "کفن” کے کردار گھیسو اور مادھو اس کی بہترین مثال ہیں۔ وہ محض منفی کردار نہیں، بلکہ غربت اور سماجی بے حسی کے ہاتھوں اپنی انسانیت سے محروم ہو جانے والے پیچیدہ نفسیات کے حامل جیتے جاگتے انسان ہیں، جن کا عمل قاری کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتا ہے۔
4- مکالمہ نگاری (Dialogue):
مکالمہ کہانی میں حقیقت کا رنگ بھرتا ہے۔ اس کے دو بنیادی مقاصد ہیں: اول، کرداروں کی شخصیت، ان کے طبقے، تعلیم اور ذہنی کیفیت کو آشکار کرنا؛ دوم، بیانیے کو آگے بڑھانا۔ راجندر سنگھ بیدی کے افسانوں کے مکالمے اتنے فطری اور برجستہ ہوتے ہیں کہ گویا ہم حقیقی زندگی کی گفتگو سن رہے ہوں، لیکن ان کا ہر جملہ کہانی کے مقصد اور کردار کی نفسیات کو عیاں کرتا جاتا ہے۔
5- منظر نگاری و فضا (Setting and Atmosphere):
منظر نگاری محض زمان و مکان کے تعین کا نام نہیں، بلکہ اس کا اصل مقصد ایک مخصوص فضا (Atmosphere) تخلیق کرنا ہے جو کہانی کے مجموعی تاثر کو گہرا کرے۔ عصمت چغتائی کا افسانہ "لحاف” فضا آفرینی کا ایک شاہکار ہے۔ اس میں کبھی بھی اصل واقعہ بیان نہیں ہوتا، لیکن بند، گھٹن زدہ حویلی، پراسرار خاموشی اور لحاف کی عجیب و غریب حرکتوں کی منظر کشی سے مصنفہ خوف، تجسس اور ممنوع خواہشات کی ایک ایسی ناقابلِ فراموش فضا تخلیق کرتی ہیں جو قاری کے اعصاب پر سوار ہو جاتی ہے۔
6- اسلوبِ بیاں (Style):
اسلوب ادیب کی انفرادیت کا نشان اور اس کا لسانی آہنگ ہے۔ یہ الفاظ کے انتخاب، جملوں کی ساخت اور بیانیے کے مجموعی تاثر سے تشکیل پاتا ہے۔ منٹو کا اسلوب اس کی بہترین مثال ہے۔ ان کے جملے اکثر چھوٹے، چبھتے ہوئے اور نشتر کی طرح تیز ہوتے ہیں، جو تقسیم ہند جیسے موضوع کی چیر پھاڑ اور انسانی نفسیات کے تجزیے کے لیے بالکل موزوں ہیں۔
7- وحدتِ تاثر (Unity of Effect):
مختصر افسانے کا یہ سب سے امتیازی اور لازمی جزو ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ کہانی کے تمام اجزا—پلاٹ، کردار، فضا، اسلوب—ایک مرکز پر جمع ہو کر قاری پر ایک واحد، گہرا اور دیرپا تاثر قائم کریں۔ اس کی سب سے عظیم مثال منٹو کا افسانہ "ٹوبہ ٹیک سنگھ” ہے۔ پاگل خانے کا ماحول، بے ربط گفتگو، بشن سنگھ کا المیہ اور لایعنیت سے بھرپور اختتام، سب کچھ مل کر تقسیم کے المیے کی بے معنویت اور انسانیت کی تذلیل کا ایک ایسا واحد اور قیامت خیز تاثر پیدا کرتا ہے جسے الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے۔
8- نقطۂ نظر (Point of View):
اس سے مراد یہ ہے کہ کہانی کس کی زبانی بیان کی جا رہی ہے۔ اس کے انتخاب سے کہانی کے تاثر میں بنیادی تبدیلی آ جاتی ہے۔ اس کی اہم اقسام یہ ہیں:
* صیغۂ متکلم (First Person): کہانی کا کوئی کردار "میں” کہہ کر اپنی کہانی سناتا ہے۔ اس سے کہانی میں قربت اور ذاتی تاثر پیدا ہوتا ہے۔
* صیغۂ غائبِ محدود (Third Person Limited): کہانی "وہ” یا کسی نام سے بیان کی جاتی ہے، لیکن بیانیہ کسی ایک کردار کے خیالات اور محسوسات تک محدود رہتا ہے۔
* صیغۂ غائبِ کُل (Third Person Omniscient): مصنف ایک دانائے کُل کی طرح تمام کرداروں کے ذہنوں میں جھانک سکتا ہے اور جو چاہے بیان کر سکتا ہے۔
اصولوں سے انحراف: ایک تخلیقی عمل
یہاں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ مذکورہ بالا اصول فن پارے کو جانچنے کے پیمانے تو ہیں، لیکن یہ کوئی آہنی شکنجہ نہیں۔ عظیم فنکار اکثر نئے تخلیقی امکانات کی تلاش میں ان اصولوں سے شعوری انحراف بھی کرتے ہیں۔ جدید اور مابعد جدید افسانہ نگاروں، مثلاً انتظار حسین اور سریندر پرکاش، نے روایتی پلاٹ اور کردار نگاری کو توڑا اور علامتی و تجریدی انداز اپنا کر کہانی کو نئی معنویت اور وسعت عطا کی۔
اختتامیہ
فنِ کہانی نویسی ایک بحرِ بے کراں ہے۔ یہ گہرے مشاہدے، انسانی نفسیات کے عمیق شعور اور زبان و بیان پر غیر معمولی دسترس کا تقاضا کرتا ہے۔ ایک کامیاب کہانی وہ ہے جس کے تمام اجزا ایک نامیاتی وحدت میں ڈھل کر قاری کو ایک ایسے تجربے سے گزاریں جو اسے بیک وقت مسرت، بصیرت اور ایک گہری سوچ عطا کرے۔ بہترین کہانیاں وہ ہیں جو کاغذ پر ختم ہونے کے بعد قاری کے ذہن میں شروع ہوتی ہیں اور اس کی روح کا حصہ بن جاتی ہیں۔
Like this:
Like Loading...