Skip to content
روزہ: روحانی فیوض و طبی حقائق کی روشنی میں
ازقلم: حافظ افتخاراحمدقادری
انسان جو کچھ کھاتا اور پیتا ہے اس کا اثر لازماً اس کے جسم، ذہن اور مزاج پر ظاہر ہوتا ہے۔ متوازن، پاکیزہ اور معتدل غذا صحت، توانائی اور شادابی کا سبب بنتی ہے جبکہ بے اعتدالی، کثرتِ طعام اور غیر صحت بخش عادات مختلف جسمانی و ذہنی بیماریوں کو جنم دیتی ہیں۔ اسی اصول کے تحت معالجین کبھی مکمل پرہیز کا مشورہ دیتے ہیں، کبھی کسی خاص مدت تک چند اشیاء سے روک دیتے ہیں اور کبھی مقدار میں کمی کی تلقین کرتے ہیں تاکہ جسم کو سنبھلنے، زہریلے مادّوں کے اخراج اور اندرونی نظام کی بحالی کا موقع مل سکے۔ اسلام نے صدیوں پہلے اعتدال، ضبط نفس اور باقاعدہ وقفہ طعام کا جو جامع اور متوازن نظام عطا کیا اُس کی روشن ترین مثال روزہ ہے۔ روزہ بھوک اور پیاس کا نام نہیں بلکہ یہ ایک ہمہ گیر عبادت ہے جو انسان کے ظاہر و باطن دونوں کی اصلاح کرتی ہے۔ یہ عبادت انسان کو حیوانی خواہشات سے اوپر اٹھا کر روحانی بلندیوں کی طرف لے جاتی ہے۔ سرکارِ دو عالم، رحمۃ للعالمین ﷺ کا ارشادِ مبارک ہے: ”روزہ رکھو صحت مند ہو جاؤ گے“۔ (المعجم الاوسط للطبرانی) اس فرمان میں جسمانی اور روحانی دونوں جہات کی طرف لطیف اشارہ موجود ہے۔ شارحِ حدیث حضرت علامہ عبدالروف مناوی رحمۃ الله علیہ اس حدیث کی شرح میں تحریر فرماتے ہیں کہ روزہ روح کی غذا ہے جس طرح کھانا جسم کی غذا ہے اور روزہ رکھنے سے دنیا میں صحت و تندرستی اور رزق میں وسعت نصیب ہوتی ہے جبکہ آخرت میں عظیم اجر و ثواب عطا کیا جاتا ہے۔ (فیض القدیر: 280)
اسلام میں ہر نیک عمل کی بنیاد نیت پر ہے۔ اگر کوئی شخص محض جسمانی فائدے یا علاج کی غرض سے روزہ رکھے اور رضائے الٰہی مقصود نہ ہو تو وہ اجرِ آخرت سے محروم رہ سکتا ہے۔ حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ الله علیہ فرماتے ہیں کہ جو شخص صرف بیماری کے علاج کے لیے روزہ رکھے نہ کہ طلب ثواب کے لیے تو اسے ثواب حاصل نہ ہوگا۔ (مراٰۃ المناجیح؛ 134) اس سے واضح ہوتا ہے کہ روزہ سب سے پہلے عبادت ہے، طبی فوائد اس کے ضمنی انعامات اور اضافی برکات ہیں جو اخلاص کے ساتھ ادا کرنے پر نصیب ہوتے ہیں۔
اگر طبی نقطہ نظر سے روزے کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ مسلسل کھاتے رہنے سے نظامِ ہضم کو مطلوبہ آرام نہیں ملتا۔ معدہ اور جگر ہر وقت مصروفِ عمل رہتے ہیں جس کے نتیجے میں تھکن، تیزابیت، بدہضمی اور دیگر عوارض پیدا ہو سکتے ہیں۔ روزہ اس تسلسل کو توڑتا ہے اور معدے کو وقفہ فراہم کرتا ہے۔ جب انسان کئی گھنٹوں تک کھانے پینے سے رُکتا ہے تو جسم ذخیرہ شدہ توانائی استعمال کرنا شروع کرتا ہے، جس سے اضافی چربی گھلنے لگتی ہے اور وزن میں توازن آتا ہے۔ خون میں شوگر کی سطح معتدل ہوتی ہے، کولیسٹرول میں کمی واقع ہو سکتی ہے اور بلڈ پریشر متوازن رہتا ہے۔ یہی عوامل دل کے امراض کے خطرے کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔
جدید طبی تحقیقات میں” انٹرمیٹنٹ فاسٹنگ“ کو صحت بخش طریقہ زندگی کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے جس کا بنیادی اصول یہی ہے کہ مخصوص وقفوں کے ساتھ کھانا کھایا جائے تاکہ جسم کو بحالی کا وقت مل سکے۔ یہ تصور دراصل اسلامی روزے کے نظام سے ہم آہنگ نظر آتا ہے۔ روزہ جسم میں موجود سوزش پیدا کرنے والے مرکبات کی مقدار کم کرنے میں معاون ہو سکتا ہے، قوتِ مدافعت کو مضبوط کرتا ہے اور جسم کے خلیات کو از سرِ نو منظم ہونے کا موقع دیتا ہے۔ یوں گویا رمضان المبارک کا مہینہ جسمانی تطہیر اور داخلی صفائی کا ایک سالانہ موقع فراہم کرتا ہے۔ ذہنی اور نفسیاتی پہلو سے روزہ بے حد مؤثر ہے۔ بھوک اور پیاس برداشت کرنے والا شخص صبر، تحمل اور خود احتسابی کی دولت سے مالا مال ہوتا ہے۔ وہ اپنی خواہشات کو قابو میں رکھنے کی مشق کرتا ہے، جس کے نتیجے میں غصہ، بے صبری اور اضطراب میں کمی آتی ہے۔ روحانی سکون اور قلبی اطمینان پیدا ہوتا ہے کیونکہ بندہ یہ سب کچھ اپنے رب کی رضا کے لیے انجام دے رہا ہوتا ہے۔ یہی احساسِ بندگی ذہنی تناؤ، ڈپریشن اور نفسیاتی دباؤ میں کمی کا سبب بن سکتا ہے۔ روزہ انسان کو اندر سے مضبوط بناتا ہے اور اسے یہ شعور دیتا ہے کہ وہ خواہشات کا غلام نہیں بلکہ اپنے نفس کا حاکم بن سکتا ہے۔
جگر انسانی جسم کا ایک نہایت اہم عضو ہے جو غذا کو قابلِ استعمال توانائی میں تبدیل کرنے اور مضر مادّوں کو خارج کرنے میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ عام حالات میں جب انسان وقفے وقفے سے کچھ نہ کچھ کھاتا رہتا ہے تو جگر کو مسلسل کام کرنا پڑتا ہے۔ روزے کے دوران طویل وقفہ ملنے سے جگر کو آرام میسر آتا ہے، اُس کے گرد جمع شدہ چربی میں کمی واقع ہو سکتی ہے اور وہ بہتر انداز میں اپنے افعال سر انجام دیتا ہے۔ اسی طرح نظامِ ہضم کو بھی متوازن ہونے کا موقع ملتا ہے اور معدے کی کئی شکایات میں بہتری آ سکتی ہے۔
سحری کے بارے میں حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”سحری کیا کرو کیونکہ سحری میں برکت ہے“۔ (صحیح بخاری:1923) سحری نہ صرف روحانی برکت کا ذریعہ ہے بلکہ جسمانی توانائی کے لیے بھی ضروری ہے۔ مناسب اور متوازن سحری روزہ دار کو دن بھر کی مشقت برداشت کرنے کے قابل بناتی ہے۔ بغیر سحری روزہ رکھنے سے کمزوری اور تھکن پیدا ہو سکتی ہے۔ اسی طرح سحری کے فوراً بعد سو جانا مناسب نہیں، کچھ دیر بیدار رہنا یا ہلکی چہل قدمی کرنا مفید ہے تاکہ نظامِ ہضم بہتر طور پر کام کر سکے۔
افطار میں بھی اعتدال مطلوب ہے۔ اچانک زیادہ اور بھاری غذا معدے پر بوجھ ڈال سکتی ہے اور وہ طبی فوائد متاثر ہو سکتے ہیں جو روزے کے ذریعے حاصل ہوتے ہیں۔ سنت کے مطابق کھجور اور پانی سے افطار کرنا نہ صرف روحانی اعتبار سے باعثِ برکت ہے بلکہ جسمانی لحاظ سے بھی مفید ہے کیونکہ یہ معدے کو نرمی سے فعال کرتا ہے۔ مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ نے افطار کے متعلق تحریر فرمایا کہ بہتر ہے آگ سے پکی چیز سے فوراً افطار نہ کیا جائے بلکہ موسم کے لحاظ سے پانی یا کھجور سے افطار کیا جائے۔ (مراٰۃ المناجیح: 155)
جہاں تک مریضوں کا تعلق ہے تو شریعتِ مطہرہ نے آسانی اور سہولت کو پیشِ نظر رکھا ہے۔ اگر کسی مریض کو غالب گمان ہو کہ روزہ رکھنے سے بیماری بڑھ جائے گی یا شفا میں تاخیر ہوگی تو اُسے رخصت حاصل ہے کہ وہ روزہ مؤخر کرے، مگر بعد میں قضا لازم ہوگی۔ شیخِ طریقت امیرِ اہلِ سنت دامت برکاتہم العالیہ فرماتے ہیں کہ اگر معتبر ڈاکٹر روزہ رکھنے کو صحت کے لیے نقصان دہ قرار دے اور مریض بھی اپنے حالات دیکھ کر یہی گمانِ غالب رکھتا ہو تو اُس پر روزہ ترک کرنے میں گناہ نہیں، البتہ بعد میں قضا کرنا ضروری ہے۔ (فیضانِ رمضان: 146)
آج دنیا کے مختلف ممالک میں ”فاسٹنگ تھراپی“ کے نام سے علاج کے طریقے رائج ہیں جن میں مریض کو مخصوص اوقات تک بھوکا رکھا جاتا ہے تاکہ جسم خود کو بہتر کر سکے۔ غیر مسلم اطباء بھی اس طریقے کی افادیت کا اعتراف کرتے ہیں لیکن مسلمان کے لیے یہ کوئی نئی دریافت نہیں۔ وہ صدیوں سے رمضان المبارک کے روزوں کے ذریعے نہ صرف روحانی قرب الٰہی حاصل کرتا آ رہا ہے بلکہ جسمانی صحت کے فوائد بھی سمیٹ رہا ہے۔
الغرض روزہ ایک ایسی جامع عبادت ہے جو انسان کو تقویٰ، نظم و ضبط، اعتدال اور خود احتسابی کی راہ پر گامزن کرتی ہے۔ یہ جسم کو صحت، دل کو نرمی، ذہن کو سکون اور روح کو تازگی عطا کرتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم روزے کو محض رسمی عبادت نہ سمجھیں بلکہ اخلاصِ نیت، سنت کی پیروی اور میانہ روی کے ساتھ ادا کریں تاکہ اس کے روحانی و طبی ثمرات پوری طرح حاصل ہو سکیں۔ اللہ کریم ہمیں صحیح معنوں میں روزہ رکھنے، اس کی قدر کرنے اور اس کے فیوض و برکات سے بہرہ مند ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔
*کریم گنج،پورن پور،پیلی بھیت
Like this:
Like Loading...