Skip to content
جمعہ نامہ : دستِ طلب بڑھاو کے رمضان آگیا
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
ارشادِ ربانی ہے:’’رمضان وہ مہینہ ہے، جس میں قرآن نازل کیا گیا ‘‘۔ دیکھتے دیکھتے امسال بھی رمضان آہی گیا اور اہل ایمان نے روزے رکھنے شروع کردئیے۔ اسی طرح اچانک قیامت آجائے گی اور اگر وہ کسی کی حیات میں نہیں آتی تو موت کو آناہی ہے۔ انسان کے لیے وہی قیامت ہے کیونکہ اس کے بعد مہلتِ عمل اور توبہ و استغفار کا دروازہ بند ہوجاتا ہے۔ مندرجہ بالا آیت میں رمضان کے تعارف نزولِ قرآن کے حوالے سے کرایا گیا اس لیے قرآن کریم کے تعارف کی بھی ضرورت آن پڑی ۔ ویسے یہ بات سبھی جانتے ہیں کہ قرآن کریم یکمشت نہیں بلکہ جستہ جستہ حسبِ موقع نبیٔ کریم ﷺ پر نازل ہوتارہا لیکن لوحِ محفوظ سے اسی ماہ کی شب قدر کو عالم الغیب نے اسے نظام الاوقات کے ساتھ فرشتوں کے حوالے کردیا ۔ فرمانِ قرآنی ہے :’’ہم نے اِس (قرآن) کو شب قدر میں نازل کیا ہے‘‘۔ سورۂ دخان میں یہی بات اس طرح بیان کی گئی کہ:’’ قسم ہے اِس کتاب مبین کی کہ ہم نے اِسے ایک بڑی خیر و برکت والی رات میں نازل کیا ہے، کیونکہ ہم لوگوں کو متنبہ کرنے کا ارادہ رکھتے تھے‘‘۔ یہاں قرآن مجید کے نازل کرنے کی ایک غرض و غایت تنبیہ و استحضار کا ذکر کیا گیا ہے۔
اول الذکر آیت میں قرآن کےحوالے سے بتایا گیا کہ :’’یہ انسانوں کے لیے سراسر ہدایت ہے اور ایسی واضح تعلیمات پر مشتمل ہے، جو راہ راست دکھانے والی اور حق و باطل کا فرق کھول کر رکھ دینے والی ہیں ‘‘۔ قرآن مجید کی یوں تو بے شمار خصائص ہیں جن کا ذکرکلام الٰہی میں مختلف مقامات پرپایا جاتا ہے مگر یہاں پر تین باتیں بیان کی گئی ہیں۔ پہلی یہ کہ قرآنی ہدایت کسی ایک قوم ، علاقہ یا زمانہ تک محدود نہیں ہے۔ یہ آفاقی ہدایت نامہ بلا تفریق مذہب و ملت اور علاقہ و زمانہ تا قیامت تمام انسانوں کو مخاطب کرتا ہے۔ اس کی تعلیمات بنی نوعِ انسان کی سیدھے راستے کی جانب رہنمائی کرنے والی ہیں۔ اس حقیقت سے ہر کوئی واقف ہے کہ دو نکات کے درمیان سب سے شارٹ کٹ خط مستقیم ہی ہوتا ہے، دیگر راستے نہ صرف طول طویل ہوتے ہیں بلکہ ان کے پیچ و خم میں انسانوں کے بھٹک جانے کے اندیشہ بھی ہوتا ہے۔ قرآن مجید کی تیسری صفت یہ ہے کہ اس کی واضح تعلیمات نہ صرف ہر لحظہ صراطِ مستقیم کی جانب رہنمائی کرتی ہیں بلکہ اگر کہیں کنفیوزن پیدا ہوجائے تو حق وباطل کے فرق کو واضح کر دیتی ہیں تاکہ اہل ایمان شرحِ صدر اور یکسوئی کے ساتھ آخری سانس تک راہِ حق پر گامزن رہے۔
مذکورہ بالا تمہید کے بعد فرمانِ خداوندی ہے :’’ لہٰذا اب سے جو شخص اس مہینے کو پائے، اُس کو لازم ہے کہ اِس پورے مہینے کے روزے رکھے‘‘۔ روزوں کے فضائل و برکات سے پوری طرح استفادہ کرنے میں مندرجہ بالا تمہید بہت ہی معاون و مفید ہے۔ ’’اسلام کی بنیاد مندرجہ ذیل پانچ چیزوں پر ہے۔ واحدمعبودِ برحق کی گواہی دینا اور محمدﷺ کو اللہ کا بندہ اور رسول تسلیم کرنا۔ اس کے بعد نماز قائم کرنا اور زکوٰۃ دینا اور حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا۔ روزہ ایک انفرادی اور روحانی عمل ہے مگر چونکہ ساری امت ایک ساتھ ماہِ رمضان میں یہ عبادت کرتی ہے اس لیے ایک جشن و تقویٰ کا ملا جلا سماں بن جاتا ہے۔ رمضان میں چہار جانب صبر و مواساۃ کی فضا ہوتی ہے۔ روزے کی جسمانی مشقت یعنی سحری سے لے کر غروب آفتاب تک عبادت کی نیت سے کھانے، پینے اور جنسی خواہشات سے اجتناب کے عوض نبیٔ کریم ﷺ نے اللہ تبارک و تعالیٰ کے بے شمار انعامات و برکات کی بشارت دی ہے، مثلاً رزق میں اضافہ ، گناہوں سے مغفرت، جہنم سے آزادی، جنت کا حصول، روزے دار کی منہ کی بُو کا اللہ تعالیٰ کے نزدیک مشک وعنبر سے زیادہ پسندیدہ ہونا، سارا دن مچھلیوں کا ان کے لیے استغفار کرنا، جنت کا ان کے لیے سجایا جانا، سرکش شیاطین کا مقید ہونا، رمضان کی آخری رات میں روزہ داروں کی مغفرت روزے دار کی طرف متوجہ ہوکر کیا جانا، اللہ تبارک وتعالیٰ کا اپنی رحمت خاصہ سے نوازنا وغیرہ ۔
اللہ تعالیٰ اس ماہ میں روزوں کی برکت سے مومنین کی خطاؤں کو معاف فرما کر ان کی دعاؤں کا قبول فرماتا ہے۔ رمضان میں ایک نفل کا ثواب فرض کے برابر کردیا جاتا ہے اور ایک فرض کا ثواب عام دنوں کے اعتبار سے ستر فرائض کے برابر ہوجاتا۔ عام عبادات کے معاملے میں ایک عمل کا ثواب دس گنا سے لے کر سات سو تک اور شب قدر کی عبادت کا ثواب تو ہزار مہینوں سے افضل ہوتا ہے ۔روزہ ایک ایسی روحانی عبادت ہے، جو آخرت میں انسان کی غذا بن جائےگا ۔ اس لیے دنیا میں روزے نہیں رکھنے والے بروزِ قیامت روحانی افلاس کا شکار ہوجائیں گے۔ اللہ تبارک و تعالی یوں تو اپنے روزے دار بندوں کی وجہ سے ملائکہ پر فخر فرماتا ہے لیکن اس کے باوجود کسی مجبوری کے سبب روزہ رکھنے سے معذور لوگوں کو چھوٹ بھی دی گئی ہے۔ ارشادِ فرقانی ہے:’’ جو کوئی مریض ہو یا سفر پر ہو، تو وہ دوسرے دنوں میں روزوں کی تعداد پوری کرے اللہ تمہارے ساتھ نرمی کرنا چاہتا ہے، سختی کرنا نہیں چاہتا اس لیے یہ طریقہ تمہیں بتایا جا رہا ہے تاکہ تم روزوں کی تعداد پوری کرسکو‘‘۔
مذکورہ بالا آیت کے اختتام میں کمال اپنائیت اور محبت کے ساتھ روزے کی غرض و غایت خدائے برحق کی بلندی و برتری کا اعتراف اور جذبۂ شکر کا اظہار بتایا گیا ۔ ارشادِ ربانی ہے:’’ اللہ نے تمہیں جس ہدایت سے سرفراز کیا ، اُس پر اللہ کی کبریا ئی کا اظہار و اعتراف کرو اور شکر گزار بنو‘‘۔ اعتراف و شکر لازم و ملزوم ہیں ۔ روزے کی روح اللہ تعالیٰ کی محبت ہے۔ محبت میں سرشار ہوکر عاشقِ صادق نہ صرف کھانا پینا چھوڑ دیتا ہے بلکہ جنسی تعلقات سے بھی غافل ہو جاتاہے ۔ اللہ تعالیٰ کی محبت میں روزے کے دوران اہل ایمان اسی کیفیت سے گزرتے ہیں ۔ حدیث قدسی میں بشارت دی گئی ہے کہ : ’’انسان کا ہر عمل اس کے لیے ہے سوائے روزے کے کہ وہ صرف میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا‘۔ اللہ تبارک و تعالیٰ تمام روزے داروں کو ماہِ رمضان کے جسمانی و روحانی فائدوں سے مالا مال فرمائے۔
بخشش بھی، مغفرت بھی ، جہنم سے بھی نجات
دستِ طلب بڑھاو کہ رمضان آگیا
Like this:
Like Loading...