Skip to content
یورپ میں اسلام تیزی سے پھیلنے کی وجہ
تحریر: محمد جمیل احمد خان
ترتیب: عبدالعزیز
یورپ میں اسلام کا تیزی سے پھیلاؤ ایک ایسا سماجی، فکری اور روحانی رجحان ہے جس نے جدید دور کے مفکرین، محققین اور میڈیا کی توجہ اپنی جانب مبذول کر رکھی ہے، یہ پھیلاؤ محض ہجرت یا آبادی میں اضافے کا نتیجہ نہیں بلکہ اس کے پیچھے گہرے فکری، اخلاقی اور تاریخی اسباب کارفرما ہیں جنہیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، بیسویں اور اکیسویں صدی میں جب یورپ نے دو عالمی جنگوں، سرمایہ دارانہ نظام کی شدت، خاندانی نظام کے بکھراؤ اور روحانی خلا کا سامنا کیا تو بہت سے افراد نے ایک ایسے نظامِ حیات کی تلاش شروع کی جو انہیں مقصد ِ حیات، اخلاقی توازن اور قلبی سکون فراہم کر سکے، ایسے میں اسلام اپنی سادہ، واضح اور ہمہ گیر تعلیمات کے ساتھ ایک مضبوط متبادل کے طور پر سامنے آیا، تاریخ گواہ ہے کہ اسلام کا پیغام ہمیشہ تلوار سے نہیں بلکہ اخلاق، کردار اور عدل سے پھیلا، اندلس کی مثال یورپ کی تاریخ کا ایک روشن باب ہے جہاں مسلمانوں کے آٹھ سو سالہ دور میں علم، فلسفہ، طب اور رواداری نے یورپ کی فکری بنیادیں استوار کیں، مؤرخ گوستاو لی بان اپنی کتاب”The Civilization of the Arabs” میں لکھتا ہے کہ یورپ نے علم و حکمت کی روشنی مسلمانوں ہی سے حاصل کی، جدید یورپ میں بھی یہی اخلاقی کشش اسلام کے پھیلاؤ کا سبب بن رہی ہے۔ فرانس، جرمنی، برطانیہ اور سویڈن جیسے ممالک میں ہونے والی تحقیقاتی رپورٹوں کے مطابق ہر سال ہزاروں افراد اسلام قبول کر رہے ہیں، برطانوی اخبار دی انڈیپیڈنٹ اور بی بی سی کی رپورٹوں میں متعدد ایسے واقعات ملتے ہیں جہاں تعلیم یافتہ نوجوانوں، پروفیسرز اور فنکاروں نے اسلام قبول کرنے کے بعد اس بات کا اعتراف کیا کہ انہیں اسلام میں وہ فکری وضاحت اور روحانی سکون ملا جو انہیں کسی اور مذہب یا فلسفے میں میسر نہ ہو سکا۔
اسلام کی توحید پر مبنی تعلیم انسان کو ایک خدا کے سامنے جواب دہی کا احساس دلاتی ہے جو اخلاقی زندگی کی بنیاد بنتا ہے، یورپ میں خاندانی نظام کے بحران، بڑھتی ہوئی تنہائی اور ذہنی دباؤ کے ماحول میں اسلام کا مضبوط خاندانی تصور، والدین کے احترام اور سماجی ذمے داری کا شعور لوگوں کو متاثر کر رہا ہے، سویڈن میں اسلام قبول کرنے والی ایک معروف خاتون اسکالر این میری شمل کے مطابق اسلام نے انہیں زندگی کو بامقصد انداز میں جینے کا ہنر سکھایا، اسی طرح سابق برطانوی سفارت کار سر ہیملٹن گیب نے بھی اعتراف کیا کہ اسلام محض عبادات کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک مکمل سماجی نظام ہے، یورپ میں مسلمانوں کے اخلاقی کردار، دیانت داری اور معاشرتی خدمت نے بھی اسلام کے مثبت تعارف میں اہم کردار ادا کیا ہے، جرمنی اور نیدر لینڈز میں مسلم فلاحی تنظیموں کی جانب سے پناہ گزینوں، غریبوں اور بیماروں کی مدد کے واقعات مقامی میڈیا میں نمایاں ہوئے جنہوں نے غیر مسلموں کے دلوں میں اسلام کے بارے میں مثبت تاثر قائم کیا۔ 11 ستمبر 2001ء کے واقعات کے بعد اگرچہ اسلاموفوبیا میں اضافہ ہوا لیکن اسی دور میں اسلام کے بارے میں تجسس بھی بڑھا، بہت سے لوگوں نے قرآن کا مطالعہ محض تنقید کی نیت سے شروع کیا مگر اس کے پیغام سے متاثر ہو کر اسلام قبول کر لیا، امریکی صحافی جیفری لینگ کا واقعہ مشہور ہے جس نے قرآن کو غلط ثابت کرنے کے لیے پڑھا مگر بالآخر مسلمان ہو گیا اور اپنی کتاب”Even Angels Ask” میں اس سفر کا ذکر کیا، یورپ میں آزادیِ مذہب کا قانون بھی اسلام کے پھیلاؤ میں معاون ثابت ہوا جہاں ہر فرد کو اپنے عقیدے کے انتخاب کی آزادی حاصل ہے، جدید ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا نے بھی اسلام کے پیغام کو عام کرنے میں اہم کردار ادا کیا، یوٹیوب، پوڈکاسٹ اور آن لائن لیکچرز کے ذریعے ڈاکٹر ذاکر نائیک، حمزہ یوسف اور دیگر اسکالرز کی تقاریر نے یورپی نوجوانوں کو اسلام کے عقلی اور سائنسی پہلوؤں سے روشناس کرایا۔
اسلام کی سادہ عبادات، نماز کی روحانی کیفیت، روزے کی تربیت اور زکوٰۃ کا سماجی نظام ایک ایسے معاشرے میں کشش رکھتا ہے جہاں مادیت نے انسان کو تھکا دیا ہے، قرآن کا یہ اعلان کہ ’’الا بذکر اللہ تطمئن القلوب‘‘ بہت سے یورپی افراد کے ذاتی تجربات سے مطابقت رکھتا ہے، یورپ میں اسلام قبول کرنے والوں میں خواتین کی تعداد بھی قابل ِ ذکر ہے جو اسلام کے پردے، عزت اور حقوق کے تصور سے متاثر ہو کر اسے قبول کر رہی ہیں، فرانسیسی مصنفہ راجر گاروڈی نے اسلام قبول کرنے کے بعد لکھا کہ اسلام نے عورت کو صارف نہیں بلکہ باوقار انسان کے طور پر متعارف کرایا۔ ان تمام وجوہات اور واقعات کی روشنی میں یہ بات واضح ہوتی ہے کہ یورپ میں اسلام کا تیزی سے پھیلاؤ کسی وقتی رجحان کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک گہرے فکری، اخلاقی اور روحانی انقلاب کی علامت ہے جو مستقبل میں بھی اپنی رفتار برقرار رکھے گا کیونکہ سچائی کی کشش کو نہ سرحدیں روک سکتی ہیں اور نہ ہی منفی پروپیگنڈا۔
میں نے بہت سے ملکوں کا دورہ کیا، کئی کانفرنسوں، سیمیناروں، ورکشاپ میں شرکت کا موقع ملا اور لوگوں سے ملاقاتوں کا میں دل کی گہرائیوں کے ساتھ کہہ رہا ہوں کہ لوگ اسلام کی طرف متوجہ ہیں۔ ہم مسلمانوں کو ضروت ہے کہ اپنے عملی کردار سے ثابت کریں کہ ہم مسلمان ہیں اور اسلام کی خیر و برکتوں کا نزول ہو رہا ہے۔ گزشتہ دنوں امریکا کے دورے سے واپسی پر ارادہ کیا کہ ضرور کچھ لکھوں گا۔
Post Views: 1
Like this:
Like Loading...