Skip to content
رمضان المبارک؛ روزوں سے آگے؟
ترتیب: عبدالعزیز
ماہِ رمضان المبارک صرف بھوک اور پیاس کا نام نہیں، نہ ہی یہ محض سحری و افطاری کے اوقات کا مہینہ ہے بلکہ رمضان کا پورا مہینہ اور اس کی ہر ہر ساعت عبادت ہے اور اصل منزل جنت ہے۔ افسوس کہ ہم میں سے بہت سے لوگ رمضان کو صرف روزے رکھنے تک محدود سمجھ لیتے ہیں، حالانکہ رمضان ایک مکمل روحانی انقلاب، اخلاقی تربیت اور زندگی میں عملی تبدیلی کا مہینہ ہے۔ یہ وہ مہینہ ہے جو انسان کو ظاہری عبادت سے اٹھا کر باطنی اصلاح اور اجتماعی خیر تک لے جاتا ہے۔ پورا مہینہ مستقل روزے رکھنا ایک بہترین عبادت اور عظیم سعادت ہے، لیکن روزے کا مقصد صرف بھوکا پیاسا رہنا نہیں بلکہ تقویٰ حاصل کرنا ہے۔ جب انسان سارا دن اللہ کی رضا کے لیے اپنی خواہشات کو روکتا ہے تو اس کے اندر ضبط ِ نفس، صبر اور اطاعت الٰہی کی کیفیت پیدا ہوتی ہے۔ اگر روزہ انسان کے ذہنی شعور، اخلاق، زبان و کردار کو نہ بدلے تو اس کا مقصد ادھورا رہ جاتا ہے۔ رمضان نزول قرآن کا مہینہ ہے۔ اس لیے اس مہینے کی سب سے بڑی سرگرمی قرآن کریم سے تعلق مضبوط کرنا ہے۔ صرف تلاوت ہی نہیں بلکہ ترجمہ اور تدبر کے ساتھ پڑھنا ضروری ہے۔ قرآن کو سمجھنا، اس کے پیغام کو دل کی گہرائیوں میں اتارنا اور اپنی زندگی کے فیصلوں میں اسے معیار بنانا ہی اصل کامیابی ہے۔ تراویح کی نماز دراصل قرآن سننے اور اس سے تعلق جوڑنے کے لیے لازمی قرار دی گئی ہے۔
سحری کھانا اور افطار کرنا بھی عبادت ہے۔ سحری میں برکت رکھی گئی ہے۔ دراصل یہ وقت اللہ تعالیٰ سے قربت اور مغفرت کا ہے۔ اور افطار کے وقت دعا کی قبولیت کی بشارت دی گئی ہے مگر کیا افطار کے وقت ہماری توجہ دسترخوان پر سجے انواع و اقسام کے کھانوں کی طرف لگی ہوتی ہے یا اللہ کے حضور اخلاص سے ہاتھ بھی اٹھاتے ہیں؟ یہ مہینہ رحمت، مغفرت اور جہنم سے آزادی کا مہینہ ہے، لیکن مغفرت ان ہی لوگوں کو ملتی ہے جو توبہ کریں، اپنے گناہوں کا اعتراف کریں اور آئندہ کے لیے سچی نیت سے خود کو بدلنے کا عزم کریں۔ تزکیۂ نفس یعنی اپنے دل کو حسد، تکبر، کینہ اور دنیا پرستی سے پاک کرنا رمضان کا خصوصی ہدف ہے۔ شب قدر کی برکات رمضان کی عظیم ترین نعمت ہیں۔ ایک رات جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے، وہ ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ تھوڑی سی مخلصانہ عبادت بھی انسان کی تقدیر بدل سکتی ہے، لیکن شب قدر صرف جاگنے کا نام نہیں بلکہ جاگ کر دل کو للہیت کے ذریعے بیدار کرنے کا نام ہے۔ رمضان انسان کی مکمل اصلاح کا مہینہ ہے، خصوصاً زبان کی اصلاح غیبت، چغلی، جھوٹ اور بدگوئی سے بچنا روزے کی حفاظت ہے۔ اسی طرح آنکھوں، کانوں اور ہاتھوں کا بھی روزہ ہونا چاہیے۔
رمضان ہمدردی اور انفاق کا مہینہ ہے۔ افطار کرانا، غریبوں کو کھانا کھلانا، ضرورت مندوں کی مدد کرنا اور امدادی سرگرمیوں میں حصہ لینا دراصل روزے کی روح کو معاشرے تک پہنچانا ہے؛ تاکہ ایک غنی بھوک کا مزہ چکھے اور بھوکے اور غریب کی تکلیف کو محسوس کرے تو اس کے دل میں سخاوت پیدا ہو۔ رمضان صرف فرد کی اصلاح کا کورس نہیں بلکہ معاشرے پراس کے بڑے گہرے اثرات پڑتے ہیں۔ نماز، روزہ، تراویح قرآن اورتقویٰ کی چھاپ پورے ماحول پر پڑتی ہے۔ اس وجہ سے رمضان میں معاشرے کی سوچ اور عمل میں اسلامی رنگ نکھر کر سامنے آتا ہے۔ یہ مہینہ جنت کے شوق اور جہنم سے نجات کا ہے، لیکن جنت کا حصول صرف خواہش سے نہیں بلکہ عمل سے ہوتا ہے۔ رمضان ہمیں دعوت دیتا ہے کہ ہم اپنی فکر، اپنی ترجیحات اور اپنے طرزِ زندگی کا جائزہ لیں۔ کیا ہماری نماز، ہمارا کاروبار، ہمارے تعلقات اللہ اور رسولؐ کے احکامات کے مطابق ہیں؟ اصل سوال یہ ہے کہ کیا رمضان ہمارے اندر تبدیلی لاتا ہے؟ اگر رمضان گزرنے کے بعد بھی ہماری نماز، ہمارا اخلاق، ہماری دیانت اور ہمارا طرزِ زندگی وہی رہے تو ہمیں سوچنا چاہیے کہ ہم نے رمضان سے کیا پایا؟
رمضان دراصل ایک تربیتی کیمپ ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ انسان ایک مہینے کی مشق کے بعد سال کے گیارہ مہینے بھی اپنی خواہشات کو کنٹرول میں رکھے اور زندگی اللہ کی اطاعت میں گزارے۔ یہ مہینہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ کامیابی صرف دنیا کی آسائشوں میں نہیں بلکہ اللہ کی رضا، مغفرت اور جنت کے حصول میں ہے۔ لہٰذا رمضان کو صرف روزوں تک محدود نہ کریں۔ اسے اپنی زندگی کی اصلاح، اپنے معاشرے کی بہتری اور اپنی آخرت کی کامیابی کا ذریعہ بنائیں۔ جب ہم رمضان کو اللہ اور رسولؐ کے احکامات کے مطابق شعور اور اخلاص کے ساتھ گزاریں گے تو یہی مہینہ ہمارے لیے دنیا و آخرت کی کامیابی کا دروازہ بن جائے گا۔ رمضان کا مبارک مہینہ آگیا ہے۔آئیے! جنت کو اپنی حقیقی منزل بنائیں اور اس کی طرف دوڑ لگائیں۔ رضائے الٰہی اور عشق رسولؐ میں گم ہوکر رمضان کی ہر ساعت پالیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں قبول کر لے۔ آمین (محمد حسین محنتی)
Post Views: 3
Like this:
Like Loading...