Skip to content
اکھلیش یادو: بی جے پی ہٹاوسناتن بچاو
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
اتر پردیش کا کریلا نیم چڑھا ہے۔ مودی جی کا گجرات چھوڑ کر وارانسی سے الیکشن لڑکر بنارسی بابو بن جانا کیا کم تھا کہ یوگی ادیتیہ ناتھ کو وزیر اعلیٰ بنادیا گیا۔ اس کے بعد نظم و نسق کے حوالے سے بڑے بڑے دعوے تو ہوے مگر زمینی حالت کا اندازہ الہٰ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ بنچ کے ایک تبصرے سے کیا جاسکتا ہے۔ بہرائچ میں گائے کے ذبح کا ایک معاملہ میں پولیس نے ایف آئی آر درج کی تو اس کو جسٹس عبدالمعین اور پی۔ کے۔ شریواستو کی دو رکنی بنچ نے "فلمی اسکرپٹ” جیسا قرار دے کر سخت ناراضگی کا اظہار کردیا۔ و ہ ایسا کیوں نہ کرتے ، اس میں صبح 10:45 بجے پیش آنے والے واقعے کی بابت "اب اجالا ہونے والا ہے” اور "تم لوگ پولیس سے گھر چکے ہو” جیسے فلمی ڈائیلاگ تھے۔ بعید نہیں کہ سہل پسند پولس والوں نے اے آئی جعلی ذہانت) سے درخواست کی ہو تو اس نے کسی فلمی منظر نامہ سے مکالمے چرا کر لکھ دئیے ہوں ۔ اس لیے مشین بھی جانتی ہے یہ سرکار اور اس کے الزامات فرضی ہیں۔ عدالت کو یہ حقیقت سے دور اور خیالی معلوم ہوا تو اس میں غلط کیا ہے؟
شنکر آچاریہ اویمکتیشور آنند کے خلاف الزامات اور ایف آئی آر کو دیکھیں تو پورا تنازع ہی فلمی یعنی خیالی لگتا ہے۔ یوگی کے اشارے پر یہ گھناونا کھیل اتنے بھونڈے انداز میں کھیلا جارہا ہے کہ بی جے پی کی عقل پر ہنسی آتی ہے۔ سنگھ سربراہ نے پچھلے دنوں یوگی سے ملاقات کرکے یہی سبق سکھایا ہوگا۔ یوگی اور شنکر آچاریہ کے بیچ ماگھ میلے میں سنگم پر غسل کو لے کر جو تنازع پیدا ہوا تھا اس کا سب سے حساس نکتہ جلوس میں شامل بچوں ( برہمن بٹک) کو ان کی چرکی پکڑ کر ذلیل و رسوا کرنا تھا ۔ گرو کُل کے طلبہ نے اسی دن کیمرے کے سامنے یہ الزام لگا دیا تھا۔ پولیس تھانے میں ایک بزرگ سادھو کے ساتھ مارپیٹ کی ویڈیو بھی منظرِ عام پر آئی ۔ پولس کے ظلم و جبر کا کوڑا پہلی مرتبہ ان مذہبی ہندووں پر برسا تھا جو یوگی سرکار پر تنقید کرنے والے شنکرآچاریہ کے ساتھ تھے۔ اس معاملے کو معافی تلافی کے ذریعہ سلجھا نے کے بجائے جھوٹی خدائی کے دعویدار یوگی نے اسے انا کا سوال بنا کر الجھا دیا اور خود اپنے بنائے جال میں پھنستے چلے گئے ۔ یوگی بابا اگر اپنے برہمن نائب وزیر اعلیٰ برجیش پا ٹھک کو معافی منگوا دیتے توبہ آسانی معاملہ رفع دفع ہوجاتا ۔ الٹا یوگی جی کا مان سماّن بڑھ جاتا مگر دماغ میں گھمنڈ سما جائے تو عقل ماری جاتی ہے ۔
یوگی نے دباو بنانے کے لیے نوٹس کے ذریعہ شنکرآچاریہ کو نقلی قرار دے کر اصلی ہونے کاثبوت مانگ لیا۔ اس کے جواب میں ڈرنے یا دبنے کے بجائے شنکر آچاریہ نے یوگی سے خود کو ہندو ثابت کرنے کے شواہد طلب کیے۔ اس سے یوگی بابا چاروں خانے چت ہوگئے۔یوگی جی نے اکڑ کر کہا کہ ہر بھگوا دھاری سنت نہیں ہوتا تو شنکرآچاریہ بولے سنسار کا تیاگ کرکے یوگی بننے کے بعد پھر سے سیاست میں لوٹ آ نا پیشاب پاخانہ کھانے جیسا ہے۔ یوگی نے شنکر آچاریہ کو سنت کا بھیس بدلنے والے راون کے شیطان بھائی کال نیمی کا خطاب دے کر عوام کوخبردار کرکے دور رہنے کی تلقین کی تو شنکر آچاریہ نے کہہ دیا یوگی چار اشلوک ٹھیک سے پڑھ نہیں سکتے اور چرس کا دم لگا کر ایوان اسمبلی میں جھوٹ بولتے ہیں ۔ ان ترکی بہ ترکی حملوں سے بے چین ہوکر یوگی نے سرکاری جگت گرو رام بھدرا چاریہ کو ان پر چھوڑ دیا تو اویمکتیشور آنندنے سناتن تعلیمات کے مطابق نابینا معذور کے سنیاسی بننے کو ہی غلط ٹھہرادیا۔
یوگی نے ہر محاذ پرشکست کے بعد رام بھدرا چاریہ کے شاگر اشوتوش پانڈے عرف برہماچاری کی مدد سے ایک بھیانک چل چلی اور اس کے نافذالعمل ہونے کا مہورت نکال کر خود غیر ملکی دورے پر رفو چکر ہو گئے جو ان کی بزدلی کا کھلا مظہر ہے۔ ماگھ میلے کے اندر جب شنکرآچاریہ کے رتھ کو روکا گیا تو پہلے اشوتوش نے گلا دبا کر ہلاک کرنے کی کوشش اور کوئی وزنی شئے پھینک کر جان لینے کا بہتان تراش دیا۔ اس الزام کے خلاف چہار جانب ٹیلیویژن کیمروں کے فوٹیج موجود تھے اس لیے بات نہیں بنی ۔ اب کہا جارہا ہے کہ ہزاروں کی بھیڑ میں شنکر آچاریہ اور ان کے نائب نے دولڑکوں کے ساتھ جنسی بدسلوکی کی جو ناممکن ہے کیونکہ سارا وقت موصوف میڈیا والوں کے سامنے رہے ۔ دعویٰ ہے کہ پولس نے ابتداء میں ان لڑکوں کی شکایت کو نظر انداز کیا ۔ اس کے بعد ہردوئی کے رہنے والے وہ لڑکے ہسٹری شیٹراشوتوش پانڈے کے ہتھے چڑھ گئے جو اکیسّ مقدمات میں ماخود ہے۔ اس مجرم پیشہ شخص نے ان لڑکوں کی ویڈیو بناکر عدالت میں پیش کردی ۔ پوسکو عدالت نے اس پر اپنے طول طویل حکمنامہ میں شنکر آچاریہ کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دے دیا۔ یہاں کئی سوال پیدا ہوتے ہیں ۔ اول تو وہ لڑکے اپنے والدین کے ساتھ پولس تھانے میں کیوں نہیں گئے؟ پولس نے اتنے سنگین الزامات کی شکایت کیوں نہیں لکھی؟ ان بچوں کو نہ جوئینیل کورٹ میں بھیجا گیا اور نہ میڈیا میں لایا گیا۔ اب پولس کے پھر سے بیان لینے اوران کے اپنے موقف پر جمے رہنے کا انکشاف کیا۔ میڈیکل ٹیسٹ کا دعویٰ بھی کیا گیا لیکن اتنے دنوں کے بعد اس سےکیا حاصل ؟ زیادتی ثابت بھی ہوجائے تو شنکر آچاریہ یا ان کے نائب سے ان کا تعلق جوڑنا ناممکن ہے؟
وقت کا پہیہ گھومتا رہا اور اب اس معاملے میں اور بھی دلچسپ حقائق سامنے آرہے ہیں مثلاً تفتیش کرنے والے افسر کی اشوتوش پانڈے کے ساتھ جشنِ سالگرہ منانے کی تصویر جو دونوں کی قربت کا مظہر ہے ۔ سوال یہ ہے کہ ایک ہسٹری شیٹر کے ساتھ پولس افسر کا یہ رشتہ کیا کہلاتا ہے؟ یوگی سرکار نے اسی بدنامِ زمانہ افسر کو تفتیش کا کام کیوں سونپا ؟ کیا یہ سب ایک بڑی ملی بھگت کا حصہ نہیں معلوم ہوتا؟ اس کہانی میں ایک زبردست ٹویسٹ اس وقت آگیا جب شاہجہاں پور کے ایک نامہ نگار نے کھلے عام کیمرے کے سامنے یہ انکشاف کیا کہ اشوتوش پانڈے کے چند لوگوں نے اس کے ساتھ رابطہ کرکے کہا کہ وہ اپنی بیٹیوں کے ذریعہ شنکر آچاریہ پر گھناونےالزام لگوائیں ۔ اس خدمت کے بدلے انعام کے طور پر بچوں کی تعلیم وتربیت کا مفت انتظام کرنے کا لالچ دیا گیا۔ اس باضمیر نوجوان نے جب یہ کہہ کرانکار کردیا کہ اس کی بچیاں چھوٹی ہیں اور وہ ایسا نہیں کرسکتا تو اسے عبرتناک انجام کی دھمکی دی گئی۔ یہ پیش رفت یوگی جی کے دماغ میں کمال درجہ غرور کی جانب اشارہ کرتا ہے اور نہایت بھونڈے طریقے پر کینہ پروری کی چغلی کھاتا ہے۔
شنکر آچاریہ تنازع دیکھتے ہوئے مہابھارت کا گمان ہوتا ہے۔ اس میں سازش کا شکار ہونے والا اویمکتیشور آنند اور شکاری یوگی ادیتیہ ناتھ، دونوں سنت و مہنت ہیں ۔ اس سازش کو پہلا آلۂ کار رام بھدرا چاریہ بہت بڑاسرکاری انعام یافتہ جگت گرو سادھو ہے ۔ اس کے لیے کام کرنے والا اشوتوش پانڈے برہماچاری بھی مٹھا دھیش (اپنے مٹھ کاسربراہ ) ہے۔ سارے ہندو سماج کو متحد کرنے کا دعویٰ کرنے والوں نے سناتنی سادھو سنتوں کو دوخیموں میں بانٹ دیا ہے۔ان میں بیشتر یوگی پیچھے یا شنکراچاریہ کے آگے سناتن دھرم کا نام روشن کرنے میں منہمک ہیں ۔ ایسے میں سماجوادی پارٹی جیسی نیم اشتراکی جماعت کے رہنما اکھلیش یادو کو’ بی جے پی ہٹاو ، سناتن بچاو‘ کانعرہ لگانے کا موقع مل گیا ۔ اس معجزے کا تصور محال تھا کیونکہ کل تک تو سناتنی ہندووں کا ٹولہ اکھلیش کے والد ملائم سنگھ کو کارسیوکوں کا قاتل اور ہندووں کا سب سے بڑا دشمن کہتا تھا ۔
یوپی کے موجودہ تناظر میں مولانا توقیر رضا خان اور اعظم خان صاحب اطمینان کا سانس لے رہے ہوں گے اور بعید نہیں کہ یوگی کا شکریہ ادا کردیں ۔ اس لیے کہ ان کے خلاف بے شماربے بنیاد مقدمات تو لگائے گئے لیکن ایسی گردار کشی نہیں کی گئی۔ ان کی بابت ہندو مسلم ہر کوئی جانتا تھا کہ یہ یوگی سرکار کے ذریعہ سیاست چمکانے کی مذموم کوشش ہے اس لیے دونوں کا انفرادی نقصان تو ہوا مگر قدرو منزلت میں اضافہ بھی ہوا مگر امت یا اسلام کی کوئی بدنامی نہیں ہوئی کیونکہ اس وقت مخالف خیمے کے لوگ ایک دوسرے کے مد مقابل تھے۔ اس کے برعکس شنکر آچاریہ کے معاملے چونکہ خانہ جنگی برپا ہے اس لیے عام لوگوں کے اندر سناتن دھرم سے بیزاری پیدا ہونا فطر ی عمل ہے۔ گزشتہ کئی سالوں تک محنت کرنے کے بعد مدرسوں کو اتنا بدنام نہیں کیا جاسکا جتنا دو دن کے اندر گروکُل کی بدنامی ہوگئی۔ اس ظلم و جبر کے خلاف بلا تفریق مذہب و ملت تمام مذہبی رہنماوں کو متحد ہوکرمیدانِ عمل میں آنا چاہیے۔ ملک کے سارے انصاف پسند لوگوں کو ان کا ساتھ دینا چاہیے ورنہ اگر لوگ اپنی اپنی عافیت میں دبکے رہے تو یکے بعد دیگرے سب کی باری آئے گی بقول نواز دیوبندی ؎
اس کے قتل پہ میں بھی چُپ تھا میرا نمبر اب آیا
میرے قتل پہ آپ بھی چُپ ہیں اگلا نمبر آپ کا ہے
Post Views: 3
Like this:
Like Loading...