Skip to content
نیم برہنہ مظاہرے کےخلاف بی جے پی کا ننگا ناچ
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ کے دوران احتجاج کرنے کے الزام میں دہلی پولیس نے انڈین یوتھ کانگریس کے قومی صدر اودے بھانو چِب کو گرفتار کر لیا۔ امیت شاہ کے اشارے پر کام کرنے والی یہ وہی بدنامِ زمانہ پولیس محکمہ ہے جس نےعمر خالد پر الزام لگایا تھا کہ وہ ڈونلڈ ٹرمپ کی دہلی آمد کے موقع پر مظاہرہکرکے ملک کو بدنام کرنے کی سازش کررہے تھے ۔ عمر خالد اور ان کے ساتھیوں کو پانچ سالوں تک بلا ضمانت جیل میں رکھنے کے بعد بی جے پی اس خوش فہمی کا شکار ہوگئی تھی کہ اب ملک میں کوئی احتجاج کرنے کی جرأت نہیں کرے گا مگر یوتھ کانگریس نے اسے دورکردیا ۔ بی جے پی اس اس ناکامی پر قدر بوکھلائی کہ گرفتاری کے بعد ایک ہفتے کا ریمانڈ طلب کیا اور ۴؍ دن پر اکتفاء کرکے الزامات طے کرنے میں جٹ گئی ۔ اس احتجاج کی تصاویر میں ایک فرد کے سوا سب نے بنیان پہن رکھی ہے۔ ان کے ہاتھوں میں بینر کی مانند ٹی شرٹ ہے جبکہ ماضی میں کانگریس کے خلاف ہریانہ کے سابق وزیر انلِ وج اپنے ساتھیوں کے ساتھ بلا بنیان صرف کچھے پر احتجاج کرچکے ہیں ۔ اس وقت ملک کا نام بدنام نہیں بلکہ روشن کیاجارہا تھا ۔ سوال یہ ہے کہ ایک معمولی احتجاج پر ہنگامہ کھڑا کرکے بی جے پی نے حزب اختلاف کو مخالفت کا اتنا موثر ہتھیار کیوں تھما دیا ؟ اس کی بنیادی وجہ غالب کے اس شعر میں ہے؎
ہزاروں خواہشیں ایسی کے ہر خواہش پہ دم نکلے
بہت نکلے میرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے
وزیر اعظم نریندر مودی یہ نعرہ لگا کر احمد آباد سےدہلی آئے تھے کہ ’ان کو 60 سال دئیے مجھے 60 مہینے دے دو‘ اور یہ بھی کہا تھا ’میرا کیا ہے میں جھولا اٹھا کر چل دوں گا ‘ لیکن جب 75 سال کی عمر ہوجانے پر خود ساختہ ’مارگ درشک منڈل‘ میں جانے کا وقت آیا تو بچوں سے من کی بات میں کہہ دیا’لوگ مجھ سے کہتے ہیں 75 سال ہوگئے میں کہتا ہوں 25 باقی ہیں‘۔ یہی 100 بر سوں تک اقتدار سے چپکے رہنے خواہش اور اس سے محرومی کے خطرات نے انہیں خوفزدہ کردیا ہے۔ گردشِ زمانہ نے ’ڈر کا گھر بدل دیا ہے‘۔ ایک زمانے میں سارا ملک بی جے پی سے خوفزدہتھا ۔ اس ڈر کو ختم کرنے کی خاطر راہل گاندھی نے ملک کے طول و عرض میں دو پیدل مارچ کیے ۔ پہلے جنرل نرونے کی کتاب نے پانسا پلٹ کرمودی کی بزدلی کو بے نقاب کیا پھر اڈانی کے خلاف امریکی سمن نے وزیر اعظم کو تجارتی معاہدے پر راضی ہوکر ہندوستانی کسانوں کے مفادات کا سودہ کرنے پر مجبور کردیا۔ ایپسٹِن فائل سے اس قدر بلیک میل ہوئے کہ ٹرمپ کے ہر دباو میں جھکتے چلے گئے یہاں تک کہ ملک کی خود مختاری داوں پر لگا دی اور اب اپنے ہی ملک کے نوجوانوں کو ڈرا دھمکا کر سینہ پھلایا جارہا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ ایپسٹِن سے رابطے نے وزیر اعظم کو اندر سے توڑ کر رکھ دیا اور اب ان پر یہ شعر صادق آتا ہے ؎
تم سے جاناں ملا ہوں جس دن سے
بے طرح خود سے ڈرگیا ہوں میں
انسان جب خوفزدہ ہوجاتا ہے تو اس سے یکے بعد دیگر غلطیاں سرزد ہونے لگتی ہیں ۔ وہ چھوٹی چھوٹی باتوں کا بتنگڑ بناکر خود کو مصیبت میں ڈالنے لگتا ہے۔ رائی کا ایسا پہاڑ بناتا ہے کہ خود اس کے نیچے اونٹ کی مانند بونا لگنے لگتا ہے۔ جس انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ میں بدنامی کا ڈھنڈورا پیٹا جارہا ہے اس میں پارکنگ کی بدانتظامی سے لے کر گلگوتیا یونیورسٹی کے ذریعہ چینی کتے کے گلے میں ہندوستانی پٹہ ڈال کر اپنی ایجاد بتانے سے عزت کی مٹی پلید ہوچکی تھی۔ وہاں پر دنیا کے بڑے بڑے مہمانوں کی موجودگی کا دعویٰ کرنے والوں کو بتانا چاہیے کہ ایپسٹِن فائلس کا نمایاں نام بل گیٹس وہاں کیا کررہا تھا ؟ اسے کیوں بلایا گیا اور تقریر کیوں نہیں کرائی گئی؟
سچ تو یہ ہے کہ وزیر اعظم امریکہ کی ساری شرائط کو قبول کرکے تجارتی معاہدہ نہیں کرتے یا امریکی سپریم کورٹ کے ذریعہ اسے غیر قانونی قرار دینے کے بعد ازخودکالعدم ٹھہرا دیتے تو احتجاج کی نوبت ہی نہیں آتی لیکن اس کی تو ہمت نہیں ہے۔ اس لیے اپنی ناکامیوں کی پردہ پوشی کے لیے مظاہرین کو گرفتارکیا جارہا ہے۔
مودی سرکار نے جب میڈیا سمیت سارے سرکاری اداروں پر قبضہ کرلیا تو لوگ کہنے لگے تھے کہ اب یہ اقتدار سے کیسے جائیں گے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ڈر کے مارے غلط سلط فیصلے کرکے یہ ایسے جائیں گے۔ مودی جی بار بار ’قبر کھودنے ‘ کا ذکر کرکے ہمدردیاں سمیٹنے کی کوشش کرتے ہیں مگر اب ڈر کے پھاوڑے سے یہ کارِ خیر خود ان کی سرکار کررہی ہے ۔اُودے بھانو کی ماں کیمرے کے سامنے اپنے بیٹے کی گرفتاری کے بعد فخر جتاتے ہوئے کہا وہ بھگت سنگھ کے راستے پر گامزن ہے اور انہیں اس پر ناز ہے۔ اس کو بے خوفی کہتے ہیں ۔ راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پرلکھا کہ پرامن احتجاج ہندوستان کی تاریخی روایت اور ہر شہری کا آئینی حق ہے۔ انہوں نے یوتھ کانگریس کارکنوں کو شیر ببر کے خطاب سے نوازتے ہوئےسراہااوربولے ملک کے مفاد میں آواز اٹھانا جرم نہیں بلکہ حب الوطنی ہے۔ راہل گاندھی نے اس احتجاج کو امریکہ کے ساتھ تجارتی معاہدے سے جوڑ دیا جس میں ملک کے مفادات، کسانوں اور ٹیکسٹائل صنعت کے ساتھ ساتھ ملکی ڈیٹا کے تحفظ سے سمجھوتہ کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق سچ سامنے لانے پر گرفتاری آمرانہ ذہنیت کی علامت ہے۔ بی جے پی کی اس حماقت نے کانگریس کےصدر ملکارجن کھڑگے کو اس سخت تنقید کانادرموقع عطا کردیا ۔ وہ بولے نوجوان روزگار کے لیے پریشان اور بے چین ہیں ۔ ان کے مطابق وزیر اعظم نریندر مودی نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی ساری شرائط قبول کر کے ملک کو شرمندہ کیا اور کسانوں کے مفادات کو نقصان پہنچایا ہے۔ کھڑگے نے گرفتاری سے ڈرنے کے بجائے جمہوریت اور آئین کے تحفظ کی خاطر ہر سطح پر جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ۔کانگریس پارٹی نے اودے بھانو چِب کی گرفتاری کو غیر آئینی قرار دے کر اسے احتجاج کا حق سلب کرنے کی کوشش بتایا۔ اس کے مطابق یہ جمہوری اقدار کے خلاف ہےاور پارٹی عوامی مسائل پر آواز اٹھانے والے اپنے کارکنوں کے ساتھ مضبوطی سے کھڑی ہے اور آگے بھی رہے گی۔ گزشتہ ہفتے بھارت منڈپم میں منعقدہ انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ کے دوران یوتھ کانگریس کے کارکنوں کا بغیر شرٹ احتجاج کرکے مرکزی حکومت کی پالیسیوں، بے روزگاری اور مصنوعی ذہانت سے متعلق امور پر نعرے بازی کرنا ان کا حق تھا ۔ اس احتجاج کے بعد پولیس کا مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کرکے آٹھ افراد کو گرفتار کرلینا حیرت انگیز ہے۔
دہلی پولیس کے ارادے خطرناک ہیں ۔ وہ اپنی تفتیش کے دوران مختلف ریاستوں سے تعلق رکھنے والے افراد سے پوچھ گچھ کر رہی ہے یعنی مزید گرفتاریاں متوقع ہیں ۔ اس طرح ملک میں نافذ غیر اعلانیہ تشدد کی تصدیق ہوتی ہے۔کانگریس کے نزدیک اے آئی سمٹ میں احتجاج کوئی خلل اندازی نہیں بلکہ ایک بامقصد مظاہرہ تھا جس میں یوتھ کانگریس کے اراکین نے کروڑوں نوجوانوں کی آواز بلند کی تھی ۔کانگریسی رہنما ششی کانت سینتھل نے احتجاج کا یہ جواز پیش کیا کہ گزشتہ چند برسوں میں کسی فورم پر پیش کردہ خدشات کو سنجیدگی سے نہیں سنا گیا۔ پارلیمنٹ میں ان مسائل پر بحث کا مطالبہ کو مودی حکومت نے خاموشی سے ٹال دیا۔ان کے مطابق ہند-امریکہ تجارتی معاہدے میں ملک کا ڈاٹا کی فروخت سے نوجوان بھی پریشان ہے۔ وہایک ’کمپرومائزڈ‘ وزیر اعظم کے رہتے اپنےمستقبل کو تاریک سمجھتے ہیں۔ایسے میں نوجوانوں کا احتجاج جمہوری، پُرامن، مختصر اور مکمل طور پر عالمی معیارات کے مطابق تھا۔وزیر اعظم کے ننگے اور گندے والے بیان کا جواب دیتے ہوئے وہبولے حقیقی معنوں میں شرم کی بات یہ ہے کہ مودی حکومت نے انہیں دبانے کے لیے اپنی پوری مشینری جھونک دی ہے۔ دہلی یوتھ کانگریس کے 4 لوگوں پر سنگین دفعات عائد کرنےکے بعد مدھیہ پردیش میں اور اترپردیش میں 3 ایسے لوگوں کو حراست میں لیا گیا جو وہاں موجود ہی نہیں تھے۔ دہلی میں یوتھ 300 پولیس اہلکار وں نے گھیر – کانگریس کے دفتر میں قومی انتظامیہ کے دورانِ اجلاس تقریباً 200
بندی کردی ۔ ہماچل سدن سمیت کئی مقامات پر محض ایک جملہ ’’ پی ایم کمپرومائزڈ ہے ‘‘ کے سبب چھاپے مارے گئے ۔ یہ چور کی داڑھی میں تنکہ والی بات ہے ورنہ اس میں کوئی قابلِ اعتراض بات نہیں ہے۔ ضلع یوتھ کانگریس صدور کو ان الفاظ والے پوسٹر دکھانے پر حراست میں لیا گیااور نوبت ان نوجوانوں کے والدین کو اٹھانے تک پہنچ گئی ۔ ایسے میں فطری طور پر مودی حکومت کی اس معمولی نعرے خوفزدگی سوالات پیدا کرتی ہے۔ یوتھ کانگریس کا دعویٰ ہے کہ اس میں ایک ناگوار سچائی پوشیدہ ہے جسے یوتھ کانگریس اٹھانا چاہتی تھی۔ بی جے پی کی حالتِ زار پر محسن نقوی کا یہ شعر صادق آتا ہے؎
اتنے خائف کیوں رہتے ہو ؟
ہر آہٹ سے ڈر جاتے ہو
Post Views: 1
Like this:
Like Loading...