Skip to content
"ایران کا عالمی معیشت پر کاری ضرب لگانے کا فیصلہ: آبنائے ہرمز مکمل طور پر بند، عالمی منڈی میں تیل کے بحران کا خدشہ”
دبئی،یکم مارچ(ایجنسیز)
سپاہِ پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کی جانب سے دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہ، آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کو بند کرنے کا اعلان عالمی معیشت اور توانائی کی ترسیل کے لیے کسی ایٹمی دھماکے سے کم نہیں ہے۔ ایران پر امریکی و اسرائیلی حملوں اور سپریم لیڈر کی شہادت کے دعویٰ کے بعد یہ تہران کا سب سے سخت اور بڑا جوابی اقدام ہے۔
اس اہم ترین پیش رفت کی تفصیلات درج ذیل ہیں:
عالمی معیشت پر اثرات
تیل کی سپلائی: دنیا کی کل خام تیل کی تجارت کا تقریباً 20% سے 30% حصہ اسی 21 میل چوڑی گزرگاہ سے گزرتا ہے۔ اس کی بندش سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 200 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرنے کا خدشہ ہے۔
ایل این جی (LNG): قطر کی جانب سے سپلائی کی جانے والی قدرتی گیس کا بڑا حصہ اسی راستے سے دنیا تک پہنچتا ہے، جس کی بندش سے یورپ اور ایشیا میں توانائی کا بحران پیدا ہو سکتا ہے۔
ایران کا مؤقف
سپاہِ پاسداران کے کمانڈروں کے مطابق:
یہ اقدام ایران کے دفاعی تنصیبات اور شہریوں پر ہونے والے حملوں کا براہِ راست جواب ہے۔
ایران کا کہنا ہے کہ "اگر ہم اپنا تیل برآمد نہیں کر سکیں گے، تو خطے کا کوئی بھی ملک اس گزرگاہ سے تیل برآمد نہیں کر سکے گا۔”
عسکری تناظر
سمندری بارودی سرنگیں: اطلاعات کے مطابق ایران نے آبنائے ہرمز میں جدید بحری بارودی سرنگیں (Sea Mines) بچھا دی ہیں اور اپنی تیز رفتار کشتیوں کو تعینات کر دیا ہے۔
میزائل بیٹریاں: ساحلی علاقوں میں اینٹی شپ میزائل سسٹم فعال کر دیے گئے ہیں تاکہ کسی بھی امریکی بحری بیڑے کو گزرنے سے روکا جا سکے۔
ممکنہ اگلا قدم:
کیا آپ چاہتے ہیں کہ میں اس بندش کے نتیجے میں امریکی بحریہ (US Navy) کے متوقع ردِعمل یا عالمی اسٹاک مارکیٹس کی تازہ صورتحال پر روشنی ڈالوں؟
Like this:
Like Loading...